پیر, 20 مئی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
406
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
324834

 

واضح رہے کہ ماہ رجب , شعبان اور رمضان بڑی عظمت اور بلندی کے حامل ہیں اور بہت سی روایات میں ان کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ جیساکہ حضرت محمد (ص)کا ارشاد پاک ہے کہ ماہ رجب خداکے نزدیک بزرگی کا حامل ہے۔ کوئی بھی مہینہ حرمت وفضیلت میں اس کا ہم پلہ نہیں اور اس مہینے میں کافروں سے جنگ و جدال کرنا حرام ہے۔نیز یہ کہ رجب خدا کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔ رجب میں ایک روزہ رکھنے والے کو خدا کی عظیم خوشنودی حاصل ہوتی ہے‘ غضب الہی اس سے دور ہوجاتا ہے‘ اور جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ اس پر بند ہوجاتا ہے۔ امام موسٰی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ماہ رجب میں ایک روزہ رکنے سے جہنم کی آگ ایک سال کی مسافت تک دور ہوجاتی ہے اورجو شخص اس ماہ میں تین دن کے روزے رکھے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ نیز حضرت فرماتے ہیں کہ رجب بہشت میں ایک نہر ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے اور جو شخص اس ماہ میں ایک دن کا روزہ رکھے تو وہ اس نہر سے سیراب ہوگا۔

بسم  اللہ الرحمن الرحیم

     خداوند متعال نے والدین کی خدمت کی بہت زیادہ تأکید فرمائی ہے، یہاں تک کہ اپنی عبادت کے بعد جس چیز کو سب سے اہم قرار دیا ہے وہ والدین کے ساتھ نیکی کرنا ہے، جس کے بارے میں خداوند متعال قرآن مجید میں اس طرح ارشاد فرمارہا ہے: «وَ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ لا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئاً وَ بِالْوالِدَيْنِ‏إِحْسانا[سورۂ  نساء، آیت:۳۶] اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی شیٔ کو اس کا شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرو»، خداوند متعال نے والدین کی اہمیت کو  بتانے کے ساتھ ساتھ اس کی بہت زیادہ تشویق بھی فرمائی ہے۔ مثال کے طور پر جو شخص اپنی ماں کی خدمت کرتا ہے اس کو جنت میں ایک خاص جگہ کی بشارت دی گئی ہے۔

قرآن کریم نے امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے ان قوموں کی ہلاکت کو دلیل کے طور پر بیان کیا ہے جنہوں نے اس فریضہ کو فراموش کردیا تھا اور بعض بنی اسرائیل نے جب اس فریضہ کو چھوڑ دیا تو حضرت عیسی اور حضرت دائود نے ان پر لعنت کی تھی ۔اسی طرح معصومین علیہم السلام کے بیان سے استفادہ ہوتا ہے کہ اس فریضہ کی اہمیت جہاد سے زیادہ ہے ، اسی کی وجہ سے شریعت کو تقویت ملتی ہے اور اس کو انجام دینے والے زمین کے اوپر خدا کے نمائندہ اور انبیاء کے جانشین ہوتے ہیں ۔

والد ین کی خدمت جہاد سے بہتر ہے,شھید آیت اللہ دستغیب (رح)

 

 والدین سے نیکی گناہوں کا کفارہ ہے

ماں باپ سے نیکی بہت سارے گناہوں کا کفارہ ہے۔ چنانچہ روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ، ایسا کوئی بُرا کام باقی نہیں بچا جس کا میں مرتکب نہ ہوا ہوں۔ کیا میرے لیے توبہ ہے؟ آنحضرت نے فرمایا، جاؤ، باپ کے ساتھ نیکی کرو تاکہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو ۔ جب وہ نکل گیا تو آپ نے فرمایا اگر اس کی ماں زندہ ہوتی تو اس کے ساتھ نیکی کرنا زیادہ بہتر ہوتا۔

اچھے اخلاق اور محبت کا ایک اثر یہ ہے کہ اچھےاخلاق سے نفسیاتی دباؤ میں کمی آتی ہے اوراس سےعمربڑھتی ہے۔امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ کوئی بھی زندگی اچھےاخلاق سے زیادہ شیریں نہیں ہے ۔اگرانسانی معاشرے میں کوئی شخصیت ظاہر ہو اور تاریخ اس کا قابل فخرنام عظمت سے لکھے تواس کی وجہ اس کی معنوی و روحانی عظمت اوراخلاقی معیارات تھے۔ جس معاشرے ميں اخلاق کافقدان اور انسانی تعلیمات کی حکمرانی نہيں ہوگی اس میں زوال پیداہوجائےگا ۔ ماہرین کے بقول عظیم تہذیبوں کے انحطاط اور قوموں کی تباہی کی وجہ صرف ان کا اقتصادی زوال نہيں تھا بلکہ اخلاقی اور معنوی سرمائےکی بربادی ان کی تباہی کاسب سے بڑا سبب بنی ۔ چنانچہ یہ کہاجاسکتاہے کہ سماج کی تباہی و بربادی ہر زلزلے سے زیادہ تباہ کن ہوتی ہے ۔کسی بھی انسان کی شخصیت اور اس کی قدر و قیمت اس کے برجستہ صفات کی بناء پرہوتی ہے ۔