جمعرات, 14 نومبر 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
39
مضامین
428
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
402868

تاریخ دوسری فاطمہ کا انتظارکررہی ہے . انتظار کی گھڑی گذرجاتی ہے اور خانہ خورشید بھینی بھینی خوشبو سے بھرجاتا ہے. فاطمہ کے حضور جدید کی ٹھنڈک مدینہ کی فضاؤں پر چھا جاتی ہے اور کوثر سیدہ، وہی چشمہ کوثر پھوٹنے لگتا ہے. میں آپ کی حرم کی باغوں میں پناہ لیتا ہوں اور قدری اس ملکوتی سائے میں سستا لیتا ہوں. نہر استجابت کی کنارے بیٹھ جاتا ہوں اور خود ایک قطرہ بن جاتا ہوں اور آپ کے زائرین کی اشکوں کے دریا کے شفاف پانیوں میں آپ کے ضریح مقدس کو عقیدت کے پھولوں کی مالا پہنا دیتا ہوں اور اس کے روزنوں میں سے آپ کی قبر مطہر کا نظارہ کرتا ہوں. یقین نہیں آتا! کیا میں اتنی آسانی سے آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہؤا ہوں! جبکہ آپ کی زیارت کوثر مدینہ کی گمشدہ کی زیارت کے ہم رتبہ ہے. !والدین ماجدین

امام خمینی(ره) وہ وارث انبیاء ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کی گمشدہ میراث کو زندہ کیا ہے

خداوند متعال نے کائنات کے وجود کی بقاء اور رشد کے لئے سلسلہ نبوت کا اہتمام کیا ہے۔ یعنی عالم انسانیت کو تکامل تک پہنچانے کے لئے رہنماء بھیجے تاکہ وہ منابع ہدایت امت کی رہنمائی کر سکیں۔ جس سے امتیں اپنے انفرادی و اجتماعی سفر کو مکمل کے کمال و رشد کی منازل کو طے کر سکیں۔ بعثت انبیاء کا بنیادی مقصد نظام امت کا قیام ہے۔ جس کے لئے وہ تکلیفیں اور صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔ کائنات کے اندر ہر آنے والا نبی و رسول اپنے اپنے طریقہ کار کے مطابق امت کی فلاح کے لئے تگ و دو کرتا ہے لیکن سب انبیاء کا بنیادی ہدف امت کی اصلاح کے ساتھ نظام اسلامی کا قیام ہے۔ جس میں بعض انبیاء کو یہ توفیق حاصل ہوئی کہ انہوں نے نظام اسلامی کا نفاذ کیا۔ عہد انبیاء دوحصوں پر مشتمل ہوتا ہے ایک حصہ ان کی دور زندگی اور دوسرا حصہ ان کا اس دنیا سے جانے کے بعد کا ہے۔ پہلا مرحلہ انبیاء کا ترویج نظام امت کو سرانجام دینا ہے جب کہ دوسرا مرحلہ اس ہدف کے حصول کو ممکن بنانا ہے۔ دوسرے مرحلے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ انبیاء خود زندہ ہوں اور وہ اس کام کو سرانجام دیں بلکہ دوسرے مرحلے کو مکمل کرنا امت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لہذا وراثت انبیاء ؑ مال و ثروت نہیں ہوتی بلکہ وراثت انبیاء منشور ہدایت ہوتا ہے۔ وہ منشور کہ جس کو اپنا کر امتوں نے اپنے اجتماعی سفر کو مکمل کرنا ہوتا ہے۔

ہدایت و رشد کے راستوں کو انبیاء شروع کرتے ہیں لیکن ان کو ختم کرنا امت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ علماء انیباء کے حقیقی وارث ہیں۔ لیکن علماء کس وراثت کے مالک ہیں؟ وہ وراثت کہ جو امت کی فلاح کی وراثت ہے۔ نظام انیباء و فکر انبیاء کے وارث علماء ہوتے ہیں۔ علماء نظریات کے وارث ہوتے ہیں۔ وہ نظریات کہ جن کی ترویج کے لئے انبیاء ؑ نے اپنی زندگیاں صرف کی ہوتی ہیں۔ امام خمینیؒ کون ہیں؟؟؟ امام خمینی ؒ وہ وارث انبیاء ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کی گمشدہ میراث کو زندہ کیا ہے۔ وہ حقیقی وارث کہ جن کی محنتوں سے کتابوں کے اندر پڑے ہوئے اسلام کو نفاذ ملا۔

خاندانی عظمت  

حضرت خدیجہ کبری عام الفیل سے ۱۵ سال قبل اور ھجرت سے ۶۸ سال قبل شہر مکہ میں پیدا ھوئی ہیں-

ان کے والد خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی ہیں- حضرت خدیجہ کے جد " اسد بن عبدالعزی"، عہد نامہ " حلف الفضول" کے ایک اہم رکن تھے-

قصی بن خویلد کے چوتھے جد" قصی بن کلاب" ہیں، جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بھی جد امجد ہیں-

خویلد کے جد، عبدالعزی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد، عبد مناف آپس میں بھائی تھے اوران کے والد قصی بن کلاب تھے- اس بنا پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خدیجہ کبری{س} دونوں قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے اور شجرہ نسب کے لحاظ سے بھی آپس میں قریبی رشتہ دار تھے-

خویلد، ایک ھوشیار، بلند مرتبہ، کریم اور نیک اخلاق کے مالک شخص تھے اور بنی اسد کے سردار کے عنوان سے پہچانے جاتے تھے- ان کی والدہ، فاطمہ بنت " زائدہ بن الاصم" تھیں- فاطمہ کی ماں، ھالہ بنت " عبد مناف بن قصی" تھیں کہ ان کے تیسرے جد، رسول اللہ کے بھی جد تھے- اس بنا پر حضرت خدیجہ{س} اپنے پدری اور مادری نسب کے لحاظ سے کئی واسطوں کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہم نسب تھیں اور دونوں قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے-

حضرت خدیجہ {س} کے ۵ بھائی اور ۴ بہنیں تھیں-

 حضرت علی اکبر﴿ع﴾ کے والد گرامی[1] حضرت امام حسین بن علی بن ابیطالب ﴿ع﴾ اور ان کی والدہ محترمہ لیلی بنت ابو مرة بن عروة بن مسعود ثقفی ہیں۔[2]

حضرت علی اکبر﴿ع﴾ ایک نامور اور شریف قبیلہ، بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اور اس طرح در حقیقت پیغمبر اسلام ﴿ص﴾ حضرت فاطمہ زہراء ﴿س﴾، امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب اور اپنے والد گرامی امام حسین﴿ع﴾ کے قبیلہ ﴿بنی ہاشم﴾ کے چشم و چراغ تھے۔

حضرت علی اکبر﴿ع﴾ نے عاشورا کے ماجرا میں فعالانہ کردار ادا کیا ہے اور تمام حالات میں اپنے والد گرامی حضرت امام حسین﴿ع﴾ کے دوش بدوش دشمنوں کے ساتھ مبارزہ اور جنگ کر رہے تھے۔ وہ عاشورا کے دن بنی ہاشم اور آل ابیطالب کے پہلے شہید تھے۔[3]

حضرت علی اکبر﴿ع﴾ صاحب ہمسر و اولاد تھے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں دو نظریات پائے جاتے ہیں:

حضرت علي اكبر (ع) ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کے فرزند ایک روایت کے مطابق 11 شعبان سنہ 33 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ دوسری روایت میں ان کی ولادت کی تاریخ 11 شعبان المعظم سنہ 43 بجری بتا‏ئی گئی ہے۔

والد ریحانة الرسول (ص) امام حسین بن علی بن ابیطالب بن عبدالمطلب بن ہاشم اور والدہ لیلی بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہیں۔ 

بنوہاشم کے قابل احترام خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، رسول اللہ اور امیرالمؤمنین اور حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) سے نسبت رکھتے ہیں، نانا سید المرسلین، دادا امام والد امام چچا امام بھائی امام اور بھتیجا امام.

روایت ہے کہ حضرت علی اکبر(ع) ایک روز اپنے والد گرامی حضرت حسین بن علی (ع) کا پیغام پہنچانے مدینہ کے اموی گورنر کے پاس گئے۔