پیر, 20 مئی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
406
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
324854

خاندانی عظمت  

حضرت خدیجہ کبری عام الفیل سے ۱۵ سال قبل اور ھجرت سے ۶۸ سال قبل شہر مکہ میں پیدا ھوئی ہیں-

ان کے والد خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی ہیں- حضرت خدیجہ کے جد " اسد بن عبدالعزی"، عہد نامہ " حلف الفضول" کے ایک اہم رکن تھے-

قصی بن خویلد کے چوتھے جد" قصی بن کلاب" ہیں، جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بھی جد امجد ہیں-

خویلد کے جد، عبدالعزی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد، عبد مناف آپس میں بھائی تھے اوران کے والد قصی بن کلاب تھے- اس بنا پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خدیجہ کبری{س} دونوں قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے اور شجرہ نسب کے لحاظ سے بھی آپس میں قریبی رشتہ دار تھے-

خویلد، ایک ھوشیار، بلند مرتبہ، کریم اور نیک اخلاق کے مالک شخص تھے اور بنی اسد کے سردار کے عنوان سے پہچانے جاتے تھے- ان کی والدہ، فاطمہ بنت " زائدہ بن الاصم" تھیں- فاطمہ کی ماں، ھالہ بنت " عبد مناف بن قصی" تھیں کہ ان کے تیسرے جد، رسول اللہ کے بھی جد تھے- اس بنا پر حضرت خدیجہ{س} اپنے پدری اور مادری نسب کے لحاظ سے کئی واسطوں کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہم نسب تھیں اور دونوں قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے-

حضرت خدیجہ {س} کے ۵ بھائی اور ۴ بہنیں تھیں-

 حضرت علی اکبر﴿ع﴾ کے والد گرامی[1] حضرت امام حسین بن علی بن ابیطالب ﴿ع﴾ اور ان کی والدہ محترمہ لیلی بنت ابو مرة بن عروة بن مسعود ثقفی ہیں۔[2]

حضرت علی اکبر﴿ع﴾ ایک نامور اور شریف قبیلہ، بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اور اس طرح در حقیقت پیغمبر اسلام ﴿ص﴾ حضرت فاطمہ زہراء ﴿س﴾، امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب اور اپنے والد گرامی امام حسین﴿ع﴾ کے قبیلہ ﴿بنی ہاشم﴾ کے چشم و چراغ تھے۔

حضرت علی اکبر﴿ع﴾ نے عاشورا کے ماجرا میں فعالانہ کردار ادا کیا ہے اور تمام حالات میں اپنے والد گرامی حضرت امام حسین﴿ع﴾ کے دوش بدوش دشمنوں کے ساتھ مبارزہ اور جنگ کر رہے تھے۔ وہ عاشورا کے دن بنی ہاشم اور آل ابیطالب کے پہلے شہید تھے۔[3]

حضرت علی اکبر﴿ع﴾ صاحب ہمسر و اولاد تھے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں دو نظریات پائے جاتے ہیں:

حضرت علي اكبر (ع) ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کے فرزند ایک روایت کے مطابق 11 شعبان سنہ 33 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ دوسری روایت میں ان کی ولادت کی تاریخ 11 شعبان المعظم سنہ 43 بجری بتا‏ئی گئی ہے۔

والد ریحانة الرسول (ص) امام حسین بن علی بن ابیطالب بن عبدالمطلب بن ہاشم اور والدہ لیلی بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہیں۔ 

بنوہاشم کے قابل احترام خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، رسول اللہ اور امیرالمؤمنین اور حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) سے نسبت رکھتے ہیں، نانا سید المرسلین، دادا امام والد امام چچا امام بھائی امام اور بھتیجا امام.

روایت ہے کہ حضرت علی اکبر(ع) ایک روز اپنے والد گرامی حضرت حسین بن علی (ع) کا پیغام پہنچانے مدینہ کے اموی گورنر کے پاس گئے۔

بی بی معصومہ (س) نے اپنے مبارک قدموں سے شہر قم کو متبرک فرمایا اور سعد اشعری کے بیٹے موسی ابن خزرج کی درخواست اور التماس پر، اس کے گھر میں چند دن قیام فرمایا۔ بی بی اسی گھر میں ہی تھیں کہ قم کی خواتین، ان کے پاس آتیں اور ان سے علمی اور اخلاقی استفادہ کرتیں، یہاں تک کہ بی بی معصومہ 17 دن اس گھر میں رہیں اور اسی گھر میں ہی دنیا سے چلی گئی

سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں،

ربیع الاول کا مہینہ دیگر تمام مہینوں پر شرافت رکھتا ہے:

تکوینی لحاظ سے انسان کے کمال میں مختلف قسم کا اثر رکھنے والے لمحات، دن ، رات اور مہینوں سے ہٹ کر کچھ ایسے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں کہ جن کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور بعض لمحات اور ایام ایک خاص قسم کے تقدس کے مالک ہوتے ہیں۔

اولیائے الہی نے حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی ولادت باسعادت کو ماہ ربیع الاول کا ایک اہم ترین واقعہ قرار دیتے ہیں اور اسی مبارک واقعہ کی وجہ سے ہی اس مہینے کو بہار کا نام دیتے ہیں۔