بدھ, 17 جولائی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
416
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
350957

تاریخ دوسری فاطمہ کا انتظارکررہی ہے . انتظار کی گھڑی گذرجاتی ہے اور خانہ خورشید بھینی بھینی خوشبو سے بھرجاتا ہے. فاطمہ کے حضور جدید کی ٹھنڈک مدینہ کی فضاؤں پر چھا جاتی ہے اور کوثر سیدہ، وہی چشمہ کوثر پھوٹنے لگتا ہے. میں آپ کی حرم کی باغوں میں پناہ لیتا ہوں اور قدری اس ملکوتی سائے میں سستا لیتا ہوں. نہر استجابت کی کنارے بیٹھ جاتا ہوں اور خود ایک قطرہ بن جاتا ہوں اور آپ کے زائرین کی اشکوں کے دریا کے شفاف پانیوں میں آپ کے ضریح مقدس کو عقیدت کے پھولوں کی مالا پہنا دیتا ہوں اور اس کے روزنوں میں سے آپ کی قبر مطہر کا نظارہ کرتا ہوں. یقین نہیں آتا! کیا میں اتنی آسانی سے آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہؤا ہوں! جبکہ آپ کی زیارت کوثر مدینہ کی گمشدہ کی زیارت کے ہم رتبہ ہے. !والدین ماجدین

آپ کے والد ماجد ساتویں امام باب الحوائج حضرت موسیٰ بن جعفر علیہما السلام اور مادر گرامی نجمہ خاتون ہیں جو امام رضا علیہ السلام کی بھی والدہ ماجدہ ہیں ۔ ([1])

ولادت تا ہجرت

حضرت معصومه سلام الله علیها[2] نے پہلی ذی القعدہ ۱۷۳ ء ھ کو مدینہ منورہ کی سرزمین پر اس جہان میں قدم رنجہ فرمایا اور ۲۸ سال کی مختصر سی زندگی میں دس ۱۰ ([3]) یا بارہ۱۲ ([4]) ربیع الثانی ۲۰۱ ھ میں شہر قم میں اس دار فانی کو وداع کردیا ۔

اس عظیم القدر سیدہ نے ابتدا ہے سے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہان والدین اور بہن بھائی سب کے سب اخلاقی فضیلتوں سے آراستہ تھے. عبادت و زہد، پارسائی اور تقوی، صداقت اور حلم، مشکلات و مصائب میں صبر و استقامت، جود و سخا، رحمت و کرم، پاکدامنی اور ذکر و یاد الہی، اس پاک سیرت اور نیک سرشت خاندان کی ابھری ہوئی خصوصیات تھیں. سب برگزیدہ اور بزرگ اور ہدایت و رشد کے پیشوا، امامت کے درخشان گوہر اور سفینہ بشریت کے ہادی و ناخدا تھے.

علم و دانش کا سرچشمہ 

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے ایسے خاندان میں پرورش پائی جو علم و تقوا اور اخلاقی فضایل کا سرچشمہ تھا. آپ سلام اللہ علیہا کے والد ماجد حضرت موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ (ع) کے فرزند ارجمند حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی سرپرستی اور تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا. امام رضا علیہ السلام کی خصوصی توجہات کی وجہ سے امام ہفتم کے سارے فرزند اعلی علمی اور معنوی مراتب پر فائز ہوئے اور اپنے علم و معرفت کی وجہ سے معروف و مشہور ہوگئے.

ابن صباغ ملکی کہتے ہیں: «ابوالحسن موسی المعروف «کاظم» کے ہر فرزند کی اپنی ایک خاص اور مشہور فضیلت ہے.»

اس میں شک نہیں ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے فرزندوں میں حضرت رضا علیہ السلام کے بعد علمی اور اخلاقی حوالے سے حضرت سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا علمی اور اخلاقی مقام سب سے اونچا ہے. یہ والا مقام حضرت سیدہ معصومہ کے ناموں اور القاب اور ان کے بارے میں ائمہ کی زبان مبارک سے بیان ہونے والی تعاریف و توصیفات سے آشکار ہے. اور اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ معصومہ بھی ثانی زہرا حضرت زینب کی مانند «عالمہ غیر مُعَلَّمہ» ہیں.( عالمہ ہیں مگر ان کا استاد نہیں ہے)

امام خمینی(ره) وہ وارث انبیاء ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کی گمشدہ میراث کو زندہ کیا ہے

خداوند متعال نے کائنات کے وجود کی بقاء اور رشد کے لئے سلسلہ نبوت کا اہتمام کیا ہے۔ یعنی عالم انسانیت کو تکامل تک پہنچانے کے لئے رہنماء بھیجے تاکہ وہ منابع ہدایت امت کی رہنمائی کر سکیں۔ جس سے امتیں اپنے انفرادی و اجتماعی سفر کو مکمل کے کمال و رشد کی منازل کو طے کر سکیں۔ بعثت انبیاء کا بنیادی مقصد نظام امت کا قیام ہے۔ جس کے لئے وہ تکلیفیں اور صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔ کائنات کے اندر ہر آنے والا نبی و رسول اپنے اپنے طریقہ کار کے مطابق امت کی فلاح کے لئے تگ و دو کرتا ہے لیکن سب انبیاء کا بنیادی ہدف امت کی اصلاح کے ساتھ نظام اسلامی کا قیام ہے۔ جس میں بعض انبیاء کو یہ توفیق حاصل ہوئی کہ انہوں نے نظام اسلامی کا نفاذ کیا۔ عہد انبیاء دوحصوں پر مشتمل ہوتا ہے ایک حصہ ان کی دور زندگی اور دوسرا حصہ ان کا اس دنیا سے جانے کے بعد کا ہے۔ پہلا مرحلہ انبیاء کا ترویج نظام امت کو سرانجام دینا ہے جب کہ دوسرا مرحلہ اس ہدف کے حصول کو ممکن بنانا ہے۔ دوسرے مرحلے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ انبیاء خود زندہ ہوں اور وہ اس کام کو سرانجام دیں بلکہ دوسرے مرحلے کو مکمل کرنا امت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لہذا وراثت انبیاء ؑ مال و ثروت نہیں ہوتی بلکہ وراثت انبیاء منشور ہدایت ہوتا ہے۔ وہ منشور کہ جس کو اپنا کر امتوں نے اپنے اجتماعی سفر کو مکمل کرنا ہوتا ہے۔

ہدایت و رشد کے راستوں کو انبیاء شروع کرتے ہیں لیکن ان کو ختم کرنا امت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ علماء انیباء کے حقیقی وارث ہیں۔ لیکن علماء کس وراثت کے مالک ہیں؟ وہ وراثت کہ جو امت کی فلاح کی وراثت ہے۔ نظام انیباء و فکر انبیاء کے وارث علماء ہوتے ہیں۔ علماء نظریات کے وارث ہوتے ہیں۔ وہ نظریات کہ جن کی ترویج کے لئے انبیاء ؑ نے اپنی زندگیاں صرف کی ہوتی ہیں۔ امام خمینیؒ کون ہیں؟؟؟ امام خمینی ؒ وہ وارث انبیاء ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کی گمشدہ میراث کو زندہ کیا ہے۔ وہ حقیقی وارث کہ جن کی محنتوں سے کتابوں کے اندر پڑے ہوئے اسلام کو نفاذ ملا۔

خاندانی عظمت  

حضرت خدیجہ کبری عام الفیل سے ۱۵ سال قبل اور ھجرت سے ۶۸ سال قبل شہر مکہ میں پیدا ھوئی ہیں-

ان کے والد خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی ہیں- حضرت خدیجہ کے جد " اسد بن عبدالعزی"، عہد نامہ " حلف الفضول" کے ایک اہم رکن تھے-

قصی بن خویلد کے چوتھے جد" قصی بن کلاب" ہیں، جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بھی جد امجد ہیں-

خویلد کے جد، عبدالعزی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد، عبد مناف آپس میں بھائی تھے اوران کے والد قصی بن کلاب تھے- اس بنا پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خدیجہ کبری{س} دونوں قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے اور شجرہ نسب کے لحاظ سے بھی آپس میں قریبی رشتہ دار تھے-

خویلد، ایک ھوشیار، بلند مرتبہ، کریم اور نیک اخلاق کے مالک شخص تھے اور بنی اسد کے سردار کے عنوان سے پہچانے جاتے تھے- ان کی والدہ، فاطمہ بنت " زائدہ بن الاصم" تھیں- فاطمہ کی ماں، ھالہ بنت " عبد مناف بن قصی" تھیں کہ ان کے تیسرے جد، رسول اللہ کے بھی جد تھے- اس بنا پر حضرت خدیجہ{س} اپنے پدری اور مادری نسب کے لحاظ سے کئی واسطوں کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہم نسب تھیں اور دونوں قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے-

حضرت خدیجہ {س} کے ۵ بھائی اور ۴ بہنیں تھیں-

 حضرت علی اکبر﴿ع﴾ کے والد گرامی[1] حضرت امام حسین بن علی بن ابیطالب ﴿ع﴾ اور ان کی والدہ محترمہ لیلی بنت ابو مرة بن عروة بن مسعود ثقفی ہیں۔[2]

حضرت علی اکبر﴿ع﴾ ایک نامور اور شریف قبیلہ، بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اور اس طرح در حقیقت پیغمبر اسلام ﴿ص﴾ حضرت فاطمہ زہراء ﴿س﴾، امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب اور اپنے والد گرامی امام حسین﴿ع﴾ کے قبیلہ ﴿بنی ہاشم﴾ کے چشم و چراغ تھے۔

حضرت علی اکبر﴿ع﴾ نے عاشورا کے ماجرا میں فعالانہ کردار ادا کیا ہے اور تمام حالات میں اپنے والد گرامی حضرت امام حسین﴿ع﴾ کے دوش بدوش دشمنوں کے ساتھ مبارزہ اور جنگ کر رہے تھے۔ وہ عاشورا کے دن بنی ہاشم اور آل ابیطالب کے پہلے شہید تھے۔[3]

حضرت علی اکبر﴿ع﴾ صاحب ہمسر و اولاد تھے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں دو نظریات پائے جاتے ہیں:

حضرت علي اكبر (ع) ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کے فرزند ایک روایت کے مطابق 11 شعبان سنہ 33 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ دوسری روایت میں ان کی ولادت کی تاریخ 11 شعبان المعظم سنہ 43 بجری بتا‏ئی گئی ہے۔

والد ریحانة الرسول (ص) امام حسین بن علی بن ابیطالب بن عبدالمطلب بن ہاشم اور والدہ لیلی بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہیں۔ 

بنوہاشم کے قابل احترام خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، رسول اللہ اور امیرالمؤمنین اور حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) سے نسبت رکھتے ہیں، نانا سید المرسلین، دادا امام والد امام چچا امام بھائی امام اور بھتیجا امام.

روایت ہے کہ حضرت علی اکبر(ع) ایک روز اپنے والد گرامی حضرت حسین بن علی (ع) کا پیغام پہنچانے مدینہ کے اموی گورنر کے پاس گئے۔