جمعرات, 09 جولائی 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
46
مضامین
445
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
495717

 

تحریر: سید عابد حسین 

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

الم (1) ذلِكَ الْكِتابُ لا رَيْبَ فيهِ هُدىً لِلْمُتَّقينَ (2)

قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کا امکان نہیں اور یہ کتاب تحریف سے بھی پاک ہے۔ اس عظیم کتاب کو خدا نے بشریت کی هدایت کے لئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا۔هر چیز کی بهار هوتی هے قرآن کی بهار ماه مبارک رمضان هے۔ اسی مبارک مهینے میں قرآن مجید شب قدر کی رات نازل ہوا۔ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذي أُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَ بَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى‏ وَ الْفُرْقانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَ مَنْ كانَ مَريضاً أَوْ عَلى‏ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لا يُريدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلى‏ ما هَداكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (سوره بقره 185) اِنَّا أَنْزَلْناهُ في‏ لَيْلَةِ الْقَدْرِ (سوره قدر1)

روایات میں تاکید هوئی هے که شب قدر رمضان مبارک کے آخری عشره کی راتوں میں سے ایک رات هے. مجمع البیان میں ابی بکر س روایت نقل کیے هی که شب قدر کو آخری عشره میں تلاش کرے اس مهینے میں زیاده سے زیاده قرآن مجید کی تلاوت  کی تاکید کی گئی هے ۔یهاں ایک سوال ذهنون میں آجاتا هے که آیا اس کتاب کو 23 سال کے عرصے میں نازل نهیں کیا گیا ؟ پس کیسے شب قدر کی ایک رات میں نازل هوئی ؟اس حوالے سے تفاسیر کی کتابوں کا مطالعه کرے تو معلوم هو جاتا هے که قرآن کریم دو طریقوں نازل هوا هے)نزول تدریجی و نزول دفعی یعنی لوح محفوط سے بيتالمعمور په( اس کی طرف اشاره خود قرآن کریم میں ملتا هے که ایک دفعه تنزیل کا لفظ استعمال هوا هے ایک دفعه انزال کا لفط استعمال هوا هے ۔تنزیل نزول تدریجی کو کها جاتا هے اور انزال نزول دفعی کو کها جاتا هے۔ دونوں الفاظ کی طرف قرآن  کریم  میں اشاره هوا هے۔ مفسرین کے درمیان زیاده تر بحث نزول دفعی کے حوالے سے هے, علامه طباطبائی تفسیر المیزان میں فرماتے هیں: قرآن حامل دو وجود هے وجود ظاهری و وجود باطنی که بغیر کسی تجزیه,الفاظ اور تفصیل سے تها جو یکدفعه  شب قدر کی رات قلب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل هوا اور وجود ظاهری به تدریج 23 سال کے عرصے میں نازل هوا۔جو قرآن آجکل همارے هاتھوں  میں هے  یہ وہی کلام اللہ ہے جس میں کسی قسم کی تحریف نهیں هوئی هے۔  بحیثیت مسلمان همارا اعتقاد هے کہ قرآن کریم ميں کسی صورت بھی تحربف ممکن نهیں هے۔ شہید مرتضی مطہری کتاب آشنائی با قرآن میں  لکھتے ہیں: اگر ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرے تو تین بنیادی چیزیں  اور تین اصولوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں : 

پہلا اصل: انتساب ہے یعنی بغیر کسی شک و شبہ کے جو آج کل قرآن مجید کے نام سے تلاوت ہوتی ہے عین وہی کتاب اللہ ہے جو پرسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا تھا اور بشریت کیلئے پیش کئے ہیں۔ اس کی گواهی اسی کتاب میں موجود هے۔ 

)علمائے شیعہ اس بات پہ اجماع رکھتے ھیں قرآن

میں تحریف نھی ھوئی ھے کچھ ضعیف روایات کو بنیاد بنا کر شیعوں پہ تحریف قرآن

کے قائل ھونے کا الزام اور تھمت لگانا قابل قبول نھی قرآن خود تحریف نہ ھونے کی

گواہی دے رھا ھے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون(

دوسرا اصل: اس کے مطالب ہیں یعنی قرآن کہیں سے لیا نہیں بلکہ جدید مطالب بیان کرتے ہیں۔  

تیسرا اصل: بنیاد قرآن  کا الہٰی هونا  ہے  یعنی معارف قرآن ماورائے  ذہن بشریت ہے جس سے فکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فیض پہنچاتے رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف حامل وحی پروردگار تھے۔ آپ صلی علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کو ایجاد نہیں کیا بلکہ توسط روح القدس یا جبرائیل علیہ السلام پروردگار کی اذن سے آپ کو عطا کیا گیا۔ اس میں تمام بشریت کے لئے  هدایت موجود هے۔  تاریکی سے روشنی کی طرف رهنمائی کرتا هے قرآن اپنی تعریف میں کہتا ہے کہ قرآن نازل ہو ہے کہ  لوگوں کو ظلمت سے نور کی طرف لے جانے کے لئے۔ 

روی عن القاضی نور اللہ عن الصادق علیہ السلام : 

ان اللہ حرما و ھو مکہ الا ان رسول اللہ حرما و ھو المدینۃ اٴلا و ان لامیر الموٴمنین علیہ السلام حرما و ھو الکوفہ الا و ان قم الکوفۃ الصغیرۃ اٴلا ان للجنۃ ثمانیہ ابواب ثلاثہ منہا الی قم تقبض فیہا امراٴۃ من ولدی اسمہا فاطمۃ بنت موسی علیہا السلام و تدخل بشفاعتہا شیعتی الجنۃ باجمعہم ۔ 

امام صادق علیہ السلام سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا: ""خداوند عالم حرم رکھتا ہے اور اس کا حرم مکہ ہے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ) حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم مدینہ ہے۔ امیر المومنین علیہ السلام حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم کوفہ ہے۔ قم ایک کوفہ صغیر ہےجنت کے آٹھ دروازوں میں سے تین قم کی جانب کھلتے ہیں ، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا :میری اولاد میں سے ایک عورت جس کی شہادت قم میں ہوگی اور اس کا نام فاطمہ بنت موسیٰ ہوگا اور اس کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔۔ 

 

قال الصادق علیہ السلام من زارھا عارفا بحقہا فلہ الجنۃ 

امام صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں کہ جس نے معصومہ علیہا السلام کی زیارت اس کی شان ومنزلت سے آگاہی رکھنے کے بعد کی وہ جنت میں جا ئے گا 

 

اٴلا ان حرمی و حرم ولدی بعدی قم 

امام صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں آگاہ ہو جاوٴ میرا اور میرے بیٹوں کا حرم میرے بعد قم ہے ۔ 

 

حضرت معصومہ علیہا السلام امام رضاعلیہ السلام کی نظر میں

 

 عن سعد عن الرضا علیہ السلام قال : یا سعد من زارھا فلہ الجنۃ ۔ 

 ثواب الاٴعمال و عیون اخبار الرضا علیہ السلام: عن سعد بن سعد قال : ساٴلت ابا الحسن الرضا علیہ السلام عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر علیہا السلام فقال : من زارھا فلہ الجنۃ 

سعد امام رضاعلیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے سعد جس نے حضرت معصومہ علیہا السلام کی زیارت کی اس پر جنت واجب ہے ۔ 

”ثواب الاعمال“ اور ”عیون الرضا “ میں سعد بن سعد سے نقل ہے کہ میں نے امام رضاعلیہ السلام سے سیدہ معصومہ علیہا السلام کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا حضرت معصومہ علیہا السلام کی زیارت کا صلہ بہشت ہے 

 

کامل الزیارۃ : عن ابن الرضا علیہ السلام قال: من زار قبر عمتی بقم فلہ الجنۃ 

امام جوادعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ جس نے میری پھوپھی کی زیارت قم میں کی اس کے لئے جنت ہے

 

حضرت معصومہ علیہا السلام کا مقام و منزلت

 

اب یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ معصومہ علیہا السلام کو معصومہ کا لقب کس نے دیا؟ 

معصومہ کا لقب حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنی بہن کو عطا کیا۔ آپ اس طرح فرماتے ہیں: 

 

من زار المعصومۃ (سلام اللہ علیہا)بقم کمن زارنی 

جس نے معصومہ علیہا السلام کی زیارت قم میں کی وہ اس طرح ہے کہ اس نے میری زیارت کی

اب جب کہ یہ لقب امام معصوم علیہ السلام نے آپ کو عطا فرمایا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ان کی ہم رتبہ ہیں ۔ 

امام رضاعلیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ وہ شخص جو میری زیارت پر نہیں آسکتا وہ میرے بھائی کی زیارت شہرری میں اور میری بہن کی زیارت قم میں کرے تووہ میری زیارت کا ثواب حاصل کرلے گا

   گیارہ شعبان سنہ 33 ھ ق کو حضرت امام حسین ؑ کے فرزند حضرت علی اکبر ؑ کی مدینے میں ولادت باسعادت ہوئی، حضرت علی اکبر ؑ رسول اکرم ﷺ سے بہت شباہت رکھتے تھے ۔آپ ؑ نے سنہ 61 ھ ق میں اموی حکومت کے ظلم و ستم کے خلاف اپنے والد بزرگوار ؑ کی تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔۔۔ گیارہ شعبان سنہ 33 ھ ق کو حضرت امام حسین ؑ کے فرزند حضرت علی اکبر ؑ کی مدینے میں ولادت باسعادت ہوئی ۔ حضرت علی اکبر ؑ رسول اکرم ﷺ سے بہت شباہت رکھتے تھے ۔آپ ؑ نے سنہ 61 ھ ق میں اموی حکومت کے ظلم و ستم کے خلاف اپنے والد بزرگوار حضرت امام حسین ؑ کی تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔ عاشور کے دن کربلا کے میدان میں امام حسین ؑ کے مقابلے پر آنے والی یزیدی فوج سے دلیری کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ ولادت حضرت علی اکبر علیہ السلام

حضرت علی اکبر ؑ بن ابی عبداللہ الحسین ؑ 11 شعبان سن43 ھ (1) کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔

آپ امام حسین بن علی بن ابی طالب ؑ کے بڑے فرزند تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام لیلی بنت مرّہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہے ـ لیلی کی والدہ میمونہ بنت ابی سفیان جوکہ طایفہ بنی امیہ سے تھیں ۔(2(

اس طرح علی اکبر ؑ عرب کے تین مہم طایفوں کے رشتے سے جڑے ہوے تھے ۔

والد کیطرف سے طایفہ بنی ھاشم سے کہ جس میں پیعبر اسلام ﷺ حضرت فاطمہ (س) ، امیر المومنین علی بن ابیطالب ؑ اور امام حسن ؑ کے ساتھ سلسلہ نسب ملتا ہے اور والدہ کی طرف سے دو طایفوں سے بنی امیہ اور بنی ثقیف یعنی عروہ بن مسعود ثقفی ، ابی سفیان ، معاویہ بن ابی سفیان اور ام حبیبہ ہمسر رسول خدا ﷺ کے ساتھ رشتہ داری ملتی تھی اور اسی وجہ سے مدینہ کے طایفوں میں سب کی نظر میں آپ خاصا محترم جانے جاتے تھے ـ ابو الفرج اصفہانی نے مغیرہ سے روایت کی ہے کہ: ایک دن معاویہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ : تم لوگوں کی نظر میں خلافت کیلۓ کون لایق اور مناسب ہے ؟ اسکے ساتھیوں نے جواب دیا : ہم تو آپ کے بغیر کسی کو خلافت کے لایق نہیں سمجھتے ! معاویہ نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے ـ بلکہ خلافت کیلۓ سب سے لایق اور شایستہ علی بن الحسین ؑ ہے کہ اسکا نانا رسول خدا ﷺ ہے اور اس میں بنی ھاشم کی دلیری اور شجاعت اور بنی امیہ کی سخاوت اور ثقیف کی فخر و فخامت جمع ہے (3)

حضرت علی اکبر ؑ کی شخصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کافی خوبصورت ، شیرین زبان پر کشش تھے ، خلق و خوی ، اٹھنا بیٹھنا ، چال ڈال سب پیغمبر اکرم ﷺ سے ملتا تھا ـ جس نے پیغبر اسلام ﷺ کو دیکھا تھا وہ اگر دور سے حضرت علی اکبر کو دیکھ لیتا گمان کرتا کہ خود پیغمبر اسلام ﷺ ہیں ۔ اسی طرح شجاعت اور بہادری کو اپنے دادا امیر المومنین علی ﷺ سے وراثت میں حاصل کی تھی اور جامع کمالات ، اور خصوصیات کے مالک تھے ـ (4)

ابوالفرج اصفھانی نے نقل کیا ہے کہ حضرت علی اکبر ﷺ عثمان بن عفان کے دور خلافت میں پیدا ہوے ہیں (5) اس قول کے مطابق شھادت کے وقت آنحضرت 25 سال کے تھے ۔

حضرت علی اکبر ؑ نے اپنے دادا امام علی ابن ابی طالب ؑ کے مکتب اور اپنے والد امام حسین ؑ کے دامن شفقت میں مدینہ اور کوفہ میں تربیت حاصل کرکے رشد و کمال حاصل کرلیا ۔

امام حسین ؑ نے ان کی تربیت اور قرآن ، معارف اسلامی کی تعلیم دینے اور سیاسی اجتماعی اطلاعات سے مجہز کرنے میں نہایت کوشش کی جس سے ہر کوئی حتی دشمن بھی ان کی ثنا خوانی کرنے سے خودکو روک نہ پات تھا ۔

تاریخ دوسری فاطمہ کا انتظارکررہی ہے . انتظار کی گھڑی گذرجاتی ہے اور خانہ خورشید بھینی بھینی خوشبو سے بھرجاتا ہے. فاطمہ کے حضور جدید کی ٹھنڈک مدینہ کی فضاؤں پر چھا جاتی ہے اور کوثر سیدہ، وہی چشمہ کوثر پھوٹنے لگتا ہے. میں آپ کی حرم کی باغوں میں پناہ لیتا ہوں اور قدری اس ملکوتی سائے میں سستا لیتا ہوں. نہر استجابت کی کنارے بیٹھ جاتا ہوں اور خود ایک قطرہ بن جاتا ہوں اور آپ کے زائرین کی اشکوں کے دریا کے شفاف پانیوں میں آپ کے ضریح مقدس کو عقیدت کے پھولوں کی مالا پہنا دیتا ہوں اور اس کے روزنوں میں سے آپ کی قبر مطہر کا نظارہ کرتا ہوں. یقین نہیں آتا! کیا میں اتنی آسانی سے آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہؤا ہوں! جبکہ آپ کی زیارت کوثر مدینہ کی گمشدہ کی زیارت کے ہم رتبہ ہے. !والدین ماجدین

امام خمینی(ره) وہ وارث انبیاء ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کی گمشدہ میراث کو زندہ کیا ہے

خداوند متعال نے کائنات کے وجود کی بقاء اور رشد کے لئے سلسلہ نبوت کا اہتمام کیا ہے۔ یعنی عالم انسانیت کو تکامل تک پہنچانے کے لئے رہنماء بھیجے تاکہ وہ منابع ہدایت امت کی رہنمائی کر سکیں۔ جس سے امتیں اپنے انفرادی و اجتماعی سفر کو مکمل کے کمال و رشد کی منازل کو طے کر سکیں۔ بعثت انبیاء کا بنیادی مقصد نظام امت کا قیام ہے۔ جس کے لئے وہ تکلیفیں اور صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔ کائنات کے اندر ہر آنے والا نبی و رسول اپنے اپنے طریقہ کار کے مطابق امت کی فلاح کے لئے تگ و دو کرتا ہے لیکن سب انبیاء کا بنیادی ہدف امت کی اصلاح کے ساتھ نظام اسلامی کا قیام ہے۔ جس میں بعض انبیاء کو یہ توفیق حاصل ہوئی کہ انہوں نے نظام اسلامی کا نفاذ کیا۔ عہد انبیاء دوحصوں پر مشتمل ہوتا ہے ایک حصہ ان کی دور زندگی اور دوسرا حصہ ان کا اس دنیا سے جانے کے بعد کا ہے۔ پہلا مرحلہ انبیاء کا ترویج نظام امت کو سرانجام دینا ہے جب کہ دوسرا مرحلہ اس ہدف کے حصول کو ممکن بنانا ہے۔ دوسرے مرحلے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ انبیاء خود زندہ ہوں اور وہ اس کام کو سرانجام دیں بلکہ دوسرے مرحلے کو مکمل کرنا امت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لہذا وراثت انبیاء ؑ مال و ثروت نہیں ہوتی بلکہ وراثت انبیاء منشور ہدایت ہوتا ہے۔ وہ منشور کہ جس کو اپنا کر امتوں نے اپنے اجتماعی سفر کو مکمل کرنا ہوتا ہے۔

ہدایت و رشد کے راستوں کو انبیاء شروع کرتے ہیں لیکن ان کو ختم کرنا امت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ علماء انیباء کے حقیقی وارث ہیں۔ لیکن علماء کس وراثت کے مالک ہیں؟ وہ وراثت کہ جو امت کی فلاح کی وراثت ہے۔ نظام انیباء و فکر انبیاء کے وارث علماء ہوتے ہیں۔ علماء نظریات کے وارث ہوتے ہیں۔ وہ نظریات کہ جن کی ترویج کے لئے انبیاء ؑ نے اپنی زندگیاں صرف کی ہوتی ہیں۔ امام خمینیؒ کون ہیں؟؟؟ امام خمینی ؒ وہ وارث انبیاء ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کی گمشدہ میراث کو زندہ کیا ہے۔ وہ حقیقی وارث کہ جن کی محنتوں سے کتابوں کے اندر پڑے ہوئے اسلام کو نفاذ ملا۔