بدھ, 23 ستمبر 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
48
مضامین
453
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
524566

 

تحریر: سید عابد حسین 

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

الم (1) ذلِكَ الْكِتابُ لا رَيْبَ فيهِ هُدىً لِلْمُتَّقينَ (2)

قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کا امکان نہیں اور یہ کتاب تحریف سے بھی پاک ہے۔ اس عظیم کتاب کو خدا نے بشریت کی هدایت کے لئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا۔هر چیز کی بهار هوتی هے قرآن کی بهار ماه مبارک رمضان هے۔ اسی مبارک مهینے میں قرآن مجید شب قدر کی رات نازل ہوا۔ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذي أُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَ بَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى‏ وَ الْفُرْقانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَ مَنْ كانَ مَريضاً أَوْ عَلى‏ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لا يُريدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلى‏ ما هَداكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (سوره بقره 185) اِنَّا أَنْزَلْناهُ في‏ لَيْلَةِ الْقَدْرِ (سوره قدر1)

روایات میں تاکید هوئی هے که شب قدر رمضان مبارک کے آخری عشره کی راتوں میں سے ایک رات هے. مجمع البیان میں ابی بکر س روایت نقل کیے هی که شب قدر کو آخری عشره میں تلاش کرے اس مهینے میں زیاده سے زیاده قرآن مجید کی تلاوت  کی تاکید کی گئی هے ۔یهاں ایک سوال ذهنون میں آجاتا هے که آیا اس کتاب کو 23 سال کے عرصے میں نازل نهیں کیا گیا ؟ پس کیسے شب قدر کی ایک رات میں نازل هوئی ؟اس حوالے سے تفاسیر کی کتابوں کا مطالعه کرے تو معلوم هو جاتا هے که قرآن کریم دو طریقوں نازل هوا هے)نزول تدریجی و نزول دفعی یعنی لوح محفوط سے بيتالمعمور په( اس کی طرف اشاره خود قرآن کریم میں ملتا هے که ایک دفعه تنزیل کا لفظ استعمال هوا هے ایک دفعه انزال کا لفط استعمال هوا هے ۔تنزیل نزول تدریجی کو کها جاتا هے اور انزال نزول دفعی کو کها جاتا هے۔ دونوں الفاظ کی طرف قرآن  کریم  میں اشاره هوا هے۔ مفسرین کے درمیان زیاده تر بحث نزول دفعی کے حوالے سے هے, علامه طباطبائی تفسیر المیزان میں فرماتے هیں: قرآن حامل دو وجود هے وجود ظاهری و وجود باطنی که بغیر کسی تجزیه,الفاظ اور تفصیل سے تها جو یکدفعه  شب قدر کی رات قلب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل هوا اور وجود ظاهری به تدریج 23 سال کے عرصے میں نازل هوا۔جو قرآن آجکل همارے هاتھوں  میں هے  یہ وہی کلام اللہ ہے جس میں کسی قسم کی تحریف نهیں هوئی هے۔  بحیثیت مسلمان همارا اعتقاد هے کہ قرآن کریم ميں کسی صورت بھی تحربف ممکن نهیں هے۔ شہید مرتضی مطہری کتاب آشنائی با قرآن میں  لکھتے ہیں: اگر ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرے تو تین بنیادی چیزیں  اور تین اصولوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں : 

پہلا اصل: انتساب ہے یعنی بغیر کسی شک و شبہ کے جو آج کل قرآن مجید کے نام سے تلاوت ہوتی ہے عین وہی کتاب اللہ ہے جو پرسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا تھا اور بشریت کیلئے پیش کئے ہیں۔ اس کی گواهی اسی کتاب میں موجود هے۔ 

)علمائے شیعہ اس بات پہ اجماع رکھتے ھیں قرآن

میں تحریف نھی ھوئی ھے کچھ ضعیف روایات کو بنیاد بنا کر شیعوں پہ تحریف قرآن

کے قائل ھونے کا الزام اور تھمت لگانا قابل قبول نھی قرآن خود تحریف نہ ھونے کی

گواہی دے رھا ھے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون(

دوسرا اصل: اس کے مطالب ہیں یعنی قرآن کہیں سے لیا نہیں بلکہ جدید مطالب بیان کرتے ہیں۔  

تیسرا اصل: بنیاد قرآن  کا الہٰی هونا  ہے  یعنی معارف قرآن ماورائے  ذہن بشریت ہے جس سے فکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فیض پہنچاتے رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف حامل وحی پروردگار تھے۔ آپ صلی علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کو ایجاد نہیں کیا بلکہ توسط روح القدس یا جبرائیل علیہ السلام پروردگار کی اذن سے آپ کو عطا کیا گیا۔ اس میں تمام بشریت کے لئے  هدایت موجود هے۔  تاریکی سے روشنی کی طرف رهنمائی کرتا هے قرآن اپنی تعریف میں کہتا ہے کہ قرآن نازل ہو ہے کہ  لوگوں کو ظلمت سے نور کی طرف لے جانے کے لئے۔ 

 

قرآن مجید کا اصل ہدف اور مقصد تعلیم و تربیت ہے ،اس حوالے سے قرآن کا مخاطب عقل انسان ہوگا۔ قرآن دلائل اور منطق کی زبان سے  انسانوں کے ساتھ گفتگو کرتا ہے۔ اس زبان کے علاوہ قرآن کی ایک اور زبان ہے جس کا مخاطب عقل انسان نہیں بلکہ دل و قلب ان ہے ۔ اس دوسری زبان کا نام احساس ہے۔ اگر کوئی شخص قران کی شناخت کا حصول  چاہے اور قرآن سے محبت کا دعویٰ کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ان دوزبانوں پر عبور حاصل کرے اور ایک دوسرے کو سامنے رکھ کر قرآن کو سمجھے۔اگر ان دونوں کو الگ کرے تو انسان خطاء، اشتباہ اور نقصان کا شکار ہوجاتا هے۔ جسے ہم دل کہتے ہیں وہ ایک عظیم احساس کا نام ہے  جو انسانوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات اسے احساس ہستی کا نام دیا جاتاہے ، یعنی ایسا حس کہ اس کے ذریعے انسان ہستی مطلق سے  رابطہ  قائم کرتا ہے۔ اگر کوئی دل کی زبان کو جانے اور انسان کو مخاطب قرار دے تو اس کے  مکمل وجود حرکت میں آتا ہے، اس وقت صرف فکر اور دماغ پہ کنٹرول نہیں  ہوگا بلکہ اس کا سارا وجود تحت تاثیر قرار پائے گا۔ اس کی بهترین مثال قرآن کریم هےجو  اپنی جاذبیت کی وجه سے زیاده لوگوں کو اپنی طرف مایل  کرتا ہے،اسی لیے مشرکین اور کفار اس کی تلاوت سننے سے کتراتے تھے جب تلاوت هوتی تھی تو بھاگ جاتے تھےیا اپنے کانوں کے اندر انگلیان ڈالتے تھے تاکه اس کی آواز نه سن پائے۔ 

ہمیں چاہے کہ قرآن کے متعلق اپنی شناخت کو بڑھائے ،قرآن کی تعلیمات کو سمجھے۔ قرآن  ہی ہمارا منبع اور اصل ہے جس پر  عمل کر کے انسان دنیا اور آخرت میں سر خرو  اور کامیاب ہو سکتا ہے ۔ احکام الهی اخذ کرنے  کے لئے ہمارے پاس چار راستے اور منابع ہیں: قرآن ،سنت ،اجماع اور عقل۔ ان سب میں قرآن کو فوقیت حاصل  ہے ۔ٹکڑاو اور تضاد کی صورت میں قرآن کو ہی اصل اور معیار تصور کیا جائے گا کیونکہ قرآن بشر کا کلام  نہیں نہ اس کے صدور میں کوئی شک  ہے اور یہ وہی  قرآن جو  ہمارے پاس ہے جو پیامبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  پر نازل  ہواہے  اور خدا کی  طرف سے آخری کتاب ہے جس میں ہدایت کے تمام راستے بتائے گئے ہیں ۔ قرآن سے دوری یعنی دین سے دوری ہے  ۔بحثیت مسلمان ہمیں  چاہیے کہ  قرآن کے مطالب اور دونوں زبانوں(زبان منطق و زبان احساس) سے آشنائی حاصل کرے اور عملی زندگی میں قرآن کو رائج کرے ۔ احساس کی زبان سمجھنے کے لئے روح کا پاک ہونا ضروری ہے لہذا روح کی پاکی عمل و عبادات اور قرآن پر عمل پیرا ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ خدا ہم سب کو اس ماہ مبارک میں قرآن پڑھنے ، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے.

 

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn