بدھ, 03 جون 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
46
مضامین
441
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
483830

کانفرنس کے ترجمان حجۃ الاسلام ڈاکٹر علی زادہ موسوی کے مطابق اس کانفرنس میں پورے عالم اسلام سے 300 سے زیادہ علماء اور مفتیان کرام شریک ہو رہے ہیں۔ ان علمائے کرام کا تعلق مختلف اسلامی مکاتب فکر سے ہے۔ قم المقدسہ (ایران) میں آج 23 اور 24 نومبر 2014ء کو انتہا پسندی اور تکفیریت کے خلاف عالمی کانفرنس شروع ہوگئی ہے۔ اس کانفرنس کا عنوان ہے: المؤتمر العالمی آراء علماء الاسلام فی التیارات المتطرفۃ والتکفیریۃ. اس کانفرنس کے داعی اور میزبان عالم تشیع کے نامور مرجع آیت اللہ العظمٰی شیخ ناصر مکارم شیرازی ہیں۔

یہ ایک غیر سیاسی اور خالص علمی کانفرنس ہے، جس میں 83 ممالک سے ممتاز علمائے اسلام شرکت کر رہے ہیں۔ اس میں پاکستان سے شریک ہونے والے علماء میں صاحبزادہ ابوالخیر زبیر (صدر ملی یکجہتی کونسل و جمعیت علمائے پاکستان)، علامہ سید ساجد علی نقوی (سینیئر نائب صدر ملی یکجہتی کونسل و سربراہ اسلامی تحریک پاکستان)، مولانا محمد خان شیرانی(چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل)، علامہ ناصر عباس جعفری(سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین)، سینیٹر مولانا گل نصیب (صوبائی امیر، خیبرپختونخوا، جمعیت علمائے اسلام)، علامہ محمد امین شہیدی (ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین)، مولانا عطاء الرحمن (جمعیت علمائے اسلام)، مولانا مفتی گلزار احمد نعیمی (سربراہ جماعت اہل حرم) اور راقم (ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل) شامل ہیں۔ کانفرنس کے ترجمان حجۃ الاسلام ڈاکٹر علی زادہ موسوی کے مطابق اس کانفرنس میں پورے عالم اسلام سے 300 سے زیادہ علماء اور مفتیان کرام شریک ہو رہے ہیں۔ ان علمائے کرام کا تعلق مختلف اسلامی مکاتب فکر سے ہے۔ علاوہ ازیں ایران کے طول و عرض سے بھی سنی اور شیعہ علمائے کرام کانفرنس میں موجود ہونگے۔ کانفرنس کے لئے 700 مقالات پوری دنیا سے موصول ہوچکے ہیں۔ ان کے علاوہ 1000 کے قریب مقالات کا خلاصہ بھی کانفرنس کے مرکز تک پہنچ چکا ہے۔ کانفرنس کے ذمے دار علمائے کرام نے موضوع کی مناسبت سے 35 کتب تیار کی ہیں جو شرکاء کو پیش کی جائیں گی۔ ان کتب میں عالم اسلام کے جید علماء کرام کے افکار و نظریات شامل کئے گئے ہیں۔ بعض اکابر علماء کی تصنیفات کو بھی نئے سرے سے شائع کیاگیا ہے۔

 

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn