بدھ, 03 جون 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
46
مضامین
441
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
483785

جعلی ریاست اسرائیل کے نسل پرست دہشت گرد وزیراعظم امریکا کے دورے میں امریکی حکمران شخصیات اور اداروں پر راج کرنے والی امریکی، اسرائیلی پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کے بعد امریکی ایوان کے اسپیکر جون اینڈرٖیو بوئینر کی پر دعوت واشنگٹن ڈی سی میں امریکی سینیٹ و ایوان نمائندگان (یعنی کانگریس) کے مشترکہ اجلاس

سے خطاب کرچکے ہیں۔ صدر باراک اوبامہ اور ان کی حکومت نے دنیا کو یہ تاثر دیا کہ وہ اس دورے سے خوش نہیں ہیں، لیکن پچھلی مرتبہ ہم امریکا اسرائیل اختلافات کے ڈرامے کی حقیقت کے عنوان سے تفصیلی طور پر قارئین کو آگاہ کرچکے ہیں کہ عالمی اور مسلمان و عرب رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے اختلافات اور ناراضگی کا ڈرامہ رچایا گیا۔

یہ ڈرامہ اپنی جگہ، لیکن امریکا سمیت دنیا بھر میں باضمیر انسان ایک حقیقت دنیا پر ایک اور مرتبہ آشکار کرنے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ بن یامین نیتن یاہو امریکا میں صہیونی مفادات کا تحفظ کرنے والی ایپاک (کمیٹی) کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرکے لوٹ گئے، لیکن اس کانفرنس کے اختتام پر صہیونی نسل پرست یہودی اس حقیقت کے چشم دید گواہ ہیں کہ امریکا ہی کے باضمیر یہودیوں نے صہیونی حکومت اور وزیراعظم کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ان کے ہاتھوں میں ایک بینر پر جو نعرہ تحریر تھا اس کا اردو ترجمہ ہے "نیتن یاہو جنگی مجرم۔" ایک اور نعرہ تھا "نیتن یاہو یہودیت کی نمائندگی نہیں کرتا۔" مذہبی یہودیوں کی ایک تنظیم Neturie Karta تو ریاست اسرائیل کے قیام ہی کو یہودی تعلیمات کے خلاف قرار دیتی ہے، حالانکہ اس گروہ کے نام کا ترجمہ ’’(مقدس) شہر کا سرپرست‘‘ ہے۔

امریکی، اسرائیلی پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC یا ایپاک) کی پالیسی کانفرنس 2015ء میں بھی ہر سال کی طرح مارچ کے مہینے میں منعقد ہوئی، یکم تا3 مارچ کا شیڈیول دیا گیا تھا۔ اس کانفرنس کے بارے میں یہ کمیٹی خود کہتی ہے کہ اس میں اسرائیل کے حامی 14 ہزار سے زائد امریکی شہری شریک ہوتے ہیں۔ شرکاء میں مذکورہ بالا امریکی قانون ساز اداروں (یعنی کانگریس) کے دو تہائی سے بھی زیادہ اراکین شامل ہوتے ہیں۔ ایلیٹ ابرامز جیسے صہیونی امریکی سے لے کر شام میں متعین امریکی سفیر رابرٹ فورڈ تک سبھی اہم شخصیات کا خطاب، اس کانفرنس کے ایجنڈے کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان میں ماضی میں سفیر رہنے والی وینڈی چیمبرلین جو مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی سربراہی کرتی ہیں، انہوں نے بھی خطاب کیا۔ امریکی و صہیونی حکومت اور فیصلہ ساز اداروں کی موجودہ و سابق حکمران شخصیات ہر سال کی طرح اس سال بھی وہاں صہیونیت سے وفاداری کا دم بھرنے آئیں۔

اس صہیونی کانفرنس میں ایک خائن فلسطینی عرب بھی خطاب غیث ال عمری بھی ہے، جو محمود عباس کی فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے مذاکراتی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ مذاکرات کار آج کل واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے لئے خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہ تھنک ٹینک امریکی صہیونی سفارتکار مارٹن انڈائیک کا قائم کردہ ہے اور اس میں ایک اور صہیونی امریکی ڈینس روس نے انڈائیک کے بعد اپنی نسل پرستانہ خدمات انجام دیں۔ ڈینس روس ایک طویل عرصے سے امریکی حکومت کے لئے فلسطین دشمن خدمات انجام دیتا رہا ہے اور اس نے گمشدہ امن کے عنوان سے مذاکراتی عمل پر کتاب بھی تصنیف کی۔ اس کی تقریب رونمائی کے مہمان خصوصی ڈینس کے دوست تھامس فریڈمین نامی امریکی صہیونی یہودی تھے، جو نیویارک ٹائمز میں ہفتہ وار دو کالم لکھتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں سکیورٹی کانفرنس جس سے صہیونی صدر شمعون پیرز نے سیٹلائٹ خطاب کیا، یہ اس میں شریک تھا اور اسی نے یہ راز فاش کیا تھا کہ اسرائیل اور عرب بادشاہوں کے درمیان دوستانہ کس حد تک جاپہنچا ہے!

نیتن یاہو نے ایپاک کانفرنس سے خطاب میں خود اعلان کیا کہ ان کے کانگریس سے خطاب کا مقصد اوبامہ کو بے عزت کرنا نہیں ہے۔ باراک اوبامہ کی مشیر برائے امور قومی سلامتی سوسن رائس نے بھی امریکی اطاعت کا اظہار نپے تلے انداز میں کیا، بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ ہیلری کلنٹن کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ کیا ضروری ہے کہ ایران پالیسی کے بارے میں پھڑکتے ہوئے جملے بولے جائیں۔ اقوام متحدہ میں سوسن رائس کی جانشین یعنی مستقل مندوب یا سفیر اور ماضی میں امریکی صدر کی معاون خصوصی سمانتھا پاور نے بھی امریکی حکومت کی ’’اصل‘‘ پالیسی بیان کی۔ اس کانفرنس میں صہیونی لابی کے ایک نامور امریکی ولیم عرف بل کرسٹول نے بھی خطاب کیا اور ان کا کہنا تھا کہ سمانتھا پاور کا بائیکاٹ کیا جائے، جبکہ سمانتھا نے ایپاک کانفرنس میں نیتن یاہو سے پہلے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان میری ہارف نے 2 مارچ کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی حکومت ہر خفیہ معلومات پر بھی اسرائیلی حکومت کو بریف کرتی ہے اور اگر خفیہ اطلاعات کو کانگریس سے خطاب میں نیتن یاہو نے آشکار کیا تو یہ امریکی حکومت کے اعتماد سے غداری کے مترادف ہوگا۔ امریکا میں اس وقت حکومت ڈیموکریٹک پارٹی کی ہے جبکہ کانگریس میں ری پبلکن پارٖٹی طاقتور ہوچکی ہے۔ 2 امریکی ڈیموکریٹک سینیٹرز نے نیتن یاہو کو ڈیموکریٹک اراکین سے علیحدہ بند کمرہ اجلاس کی دعوت دی، لیکن نیتن یاہو نے علی الاعلان اس کو ٹھکرانے کا ڈرامہ کیا۔ ایک طرف خاتون ڈیموکریٹک سینیٹر فائن اسٹائن نے نیتن یاہو کو متکبر کہا، لیکن ڈیموکریٹک امریکی حکومت اور صہیونی حکومت میں اختلافات کا ڈرامہ بھی فکشن ثابت ہوچکا ہے، کیونکہ امریکی ایوان اور سینیٹ میں 535 سے زائد اراکین ہوتے ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے نامی گرامی بڑے اراکین اس خطاب میں شریک ہوئے۔ غیر حاضر رہنے والوں کی تعداد 60 سے بھی کم تھی۔ تقریباً 90 فیصد اراکین موجود تھے۔

اصل میں اس وقت سوئٹزر لینڈ کے پرفضا مقام پر ایران کی مذاکراتی ٹیم گروپ ای تھری پلس تھری (یا پانچ جمع ایک) سے نیوکلیئر ایشو پر مذاکرات کر رہی تھی اور بدھ 4 مارچ کو اس کا اگلا راؤنڈ متوقع تھا۔ سوسن رائس یا سمانتھا پاور سمیت امریکی حکومت کی دیگر ساری اہم شخصیات امریکی پالیسی کو جانتے ہیں اور ری پبلکن پارٹی کی بش حکومت سے اوبامہ حکومت تک وہ پالیسی دو حصوں پر مشتمل رہی ہے۔ ہیلری کلنٹن نے اپنی کتاب ہارڈ چوائسز کے ایران سے متعلق باب میں لکھا کہ انہوں نے کئی گھنٹے صہیونی وزیراعظم کے ساتھ ایران کے خلاف امریکا کی ڈوئل ٹریک (Dual Track) پالیسی ڈسکس کرتے ہوئے گذارے۔

امریکا کی ایران کے پرامن نیوکلیئر پروگروام کے خلاف پالیسی یہ ہے کہ اسے اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اس پورے پروگرام سے دستبرداری پر مجبور کریں اور اگر پابندیوں سے یہ ہدف حاصل نہ ہوسکے تو فوجی حملہ یعنی ایران پر جنگ مسلط کرکے اس کی نیوکلیئر تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے۔ صہیونی حکومت بھی ایرانی تنصیبات پر حملے کے کئی منصوبے بناچکی ہے۔ لیکن اوبامہ حکومت کی پہلی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے مذکورہ کتاب میں بڑے صاف شفاف انداز میں صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ ملٹری آپشن بھی موجود ہے، لیکن ان کے اور اسرائیلی وزیراعظم کے مابین اختلاف صرف اس بات پر تھا کہ اس اصل پالیسی کے نکات میں سے کس حد تک عوام کے سامنے کھل کر بیان کیا جانا چاہئے۔ نیتن یاہو کا خطاب اس کے اندر موجود خوف کا اظہار تھا۔ اس خطاب کے دوران 44 ایسے مواقع آئے، جہاں امریکی کانگریس کے کل 541 اراکین نے تالیاں بجا کر داد دی۔ یقیناً کسی تقریر کے دوران چوالیس مرتبہ تالیاں گونجنا خود ایک ریکارڈ ہے۔

صہیونی نسل پرست اسرائیلی دہشت گردوں کی فلسطین دشمنی پوری دنیا پر عیاں ہے، لیکن عرب ذرائع ابلاغ میں اور خاص طور پر العربیہ کے انگریزی شعبہ کے چیف ایڈیٹر اور سعودی عربی اخبار الجزیرہ کے مستقل کالم نگار احمد الفرج نے مکمل طور پر صہیونی وزی اعظم کی حمایت اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی مخالفت میں مقالے لکھے اور صہیونی اخبارات نے بھی اسے دوبارہ شایع کرکے دنیا پر ظاہر کیا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی پالیسی کو سعودی حمایت بھی حاصل ہے۔ العربیہ کے فیصل جے عباس نے لکھا کہ ایران صرف شیعوں کی ہی نہیں بلکہ سنیوں کی بھی مدد کر رہا ہے۔ اس کے بعد جون کیری سعودی دورے پر پہنچے تو سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے بھی امریکا کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ایران اور شام پر تنقید کی۔ ایران فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں کی مدد کرتا ہے، جنہیں سعودی اور مصری حکمران دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ نیتن یاہو کے خطاب کے بعد دنیائے اسلام کے دو واضح بلاک نظر آرہے ہیں، ایک فلسطین کی قومی مزاحمت کے حامی ایران، شام، حزب اللہ اور ان کی اتحادی حماس، حزب جہاد اسلامی فلسطین وغیرہ ہیں، اور ان کے مقابلے میں اسرائیل کا اتحادی امریکا اور امریکا کے اعلانیہ اتحادی سعودی، قطری، و دیگر عرب شیوخ کی بادشاہتیں اور ترکی ہیں۔

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn