بدھ, 17 جولائی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
416
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
350804

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی انقلاب کا سب سے بڑا ہنر یہ تھا کہ اس نے قوموں کے درمیان تمام حائل جھوٹی دیواروں کو مسمار کردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح ملک بھر کے اعلی تعلیمی اداروں اور جامعات کے بسیجی اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے اسلامی نظام  کو دنیا میں اسلامی تحریکوں کا مظہر قراردیا اور اسلامی نظام کے مقابلے میں طاغوتی و استکباری نظام کے انفعال و انحلال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج ملک میں اتحاد و یکجہتی کی سب سے اہم ضرورت ہےاور ہر قسم کی بات ، رفتار، حرکت جو معاشرے میں اختلاف و انتشار اور شگآف اور دیگر افراد پر ظلم کا سبب ہو ایسی رفتار و حرکت اگر چہ حسن نیت پر پر مبنی ہو پھر بھی ملک اور اسلامی نظام کے مفادات کے سراسر خلاف ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس حساس دور میں معاشرے اور سماج میں اتحاد و انسجام اور یکجہتی کی حفاظت کے لئے کوشش اوراختلاف و انتشار سے دوری رہبری کے نقطہ نظر کے مطابق ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی انقلاب کا سب سے بڑا کمال اور ہنر یہ تھا کہ اس نے قوموں کے درمیان تمام حائل جھوٹی دیواروں کو مسمار کردیا اور ملک کو قوم کے ایک وسیع میدادن میں تبدیل کردیا جبکہ بعض افراد ان غلط اور باطل دیواروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں ۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: حرکت کی سمت و جہت اور اصول و ضوابط سب واضح اور روشن ہیں اور جو شخص ان اصولوں کے دائرے میں رہ کر حرکت کرے وہ اسلامی نظام کے مجموعہ کا حصہ ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دوسرے افراد پر ظلم نہ کرنے کے سلسلے میں اپنی مکرر تاکید کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا: قلب و عمل کی طہارت و پاکزگی کی رعایت بہت بڑی ذمہ داری ہے اور کسی فرد یا افراد کو کسی ایک غلط لفظ ، غلط تحریر یا غلط رفتارکی بنا پر ظلم کا نشانہ بنانا اور اس کے حق کو پامال کرنا درست نہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے لوگوں کے حقوق کی رعایت کے سلسلے میں پیغمبر اسلام (ص) کی سیرت و روش  حتی گنہگار افراد کے ساتھ آپ (ص) کی رفتار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عدل و انصاف کو مد نظر رکھنا چاہیے اور کسی چیز کے بارے میں اس کی حقیقت سے زیادہ بات کرنا صحیح نہیں ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: بعض افراد انقلابی،مجاہد اور مبارز ہیں انھیں اپنے خیال میں دوسروں کے بارے میں یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ انقلابی نہیں یا کم درجہ کے انقلابی ہیں اور جو بات دل میں آئے وہ ان کے بارے میں کہہ سکتے ہیں رہبر معظم انقلاب اسلامی نے افراد کی راہ و روش اور ایمان کے قدرتی تفاوت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایمان کے فرق و تفاوت کے باوجود اجتماعی زندگی میں عدل و انصاف کی رعایت کے ساتھ ساتھ اتحاد و یکجہتی کی حفاظت بھی ضروری ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اصلی اہداف و معیاروں کو فراموش نہ کرنے کو بہت ہی اہم مسئلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: طاغوتی و استکباری طاقتوں کا مقابلہ،عالمی سطح پر کفر و نفاق کی حرکت کے مقابلے میں ٹھوس استقامت اور اسلام اور انقلاب کے دشمنوں کے ساتھ واضح حد بندی،  اصلی معیاروں کا حصہ ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمنوں کے ساتھ واضح اور صاف وشفاف حد بندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر کوئی شخص دین اسلام اور انقلاب کے دشمنوں کے ساتھ حد بندی اور اپنی پوزیشن کو صاف و شفاف نہ کرے تو گویا اس نے اپنی قدر و قیمت کو کھو دیاہے اور اگر اس کا رجحان اور جھکاؤ دشمنوں کی طرف پیداہوجائے تو وہ نظام کے دائرے سے ہی خارج ہوجائے گا۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: انقلاب اسلامی کی آگے کی سمت حرکت کے لئےیہ اصلی خطوط و معیار ہیں اور ان معیاروں کی حفاظت کے ساتھ آگے کی جانب گامزن رہنا چاہیے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے موجودہ دور اور شرائط کو حساس دور اور شرائط قراردیا اور اسلامی نظام کے خلاف سامراجی طاقتوں کی تلاش و کوشش اور سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: موجود شرائط کی حساسیت کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسلامی حرکت جس کا اصلی مرکز و محور انقلاب اسلامی ہے اس کے مقابلے میں سامراجی طاقتوں کی عالمی امور پر سے گرفت نکل گئی ہے اور وہ  یاس و ناامیدی کی حالت میں اپنی آخری کوششوں کے طور پر ہاتھ و پیر چلا رہی ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی نظام کو در پیش مشکلات اور رکاوٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سامراجی نظام نے عالمی مسائل بالخصوص مشرق وسطی کے بارے میں جو لائن کھینچ رکھی تھی وہ ٹوٹ گئی ہے اور دنیا کے سامنے  ان کی پرانی تبلیغاتی روشیں آشکار ہوگئی ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کے بارے میں وسیع پیمانے پر پائے جانے والے غم و غصہ اور نفرت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج خود امریکہ میں بھی صہیونی لابی کی طاقت و قدرت کے خلاف گہرے غم و غصہ کا سلسلہ جاری ہے امریکی حکومت کے سخت شرائط اور کنٹرول کے باوجود امریکی عوام میں صہیونیوں کے بارے میں غیظ و غضب کے آثار نمایاں ہوگئے ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران میں اسلامی نظام کے حضور و ظہور کو تسلط پسند طاقتوں کی موجودہ مشکلات کا اصلی عامل اور سبب قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی نظام کے ساتھ ان کی دشمنی کی اصل وجہ یہی ہے لیکن قرارداد منظور کرنے کے سلسلے میں ان کے سراسیمہ اقدامات، اقتصادی پابندیوں کے بارے میں مبالغہ آرائی اور اس کے بعد فوجی کارروائی کی دھمکیاں، عالم اسلام میں جاری سنجیدہ اور عظیم تحریک کے مقابلے میں تسلط پسند نظام کے انفعال کا مظہر ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مشکلات برداشت کرنے کو بڑے کاموں اور عظیم مفادات تک پہنچنے کا کامیاب ذریعہ قراردیتے ہوئے فرمایا: سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تحقیق و ریسرچ، ایمانی اور معنوی میدان میں تلاش و کوشش، تمام علمی سرگرمیوں میں مجاہدت و جہاد کے جذبہ سے  آراستہ ہونا، ہمیشہ ، دائمی اور بر وقت حضور اور یونیورسٹیوں میں بصیرت کو قوت بہم پہنچانا ملک بھر کی تمام یونیورسٹیوں کی اہم ضرورت ہے۔

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn