جمعرات, 13 اگست 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
46
مضامین
450
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
511366

آیت‌‌اللہ‌ سید محمود ہاشمى شاہرودى 1948 کو نجف اشرف میں ایک مذہبی گھرانے میں متولد ہوئے اور آپ حسینی سادات میں سے ہیں۔ آپ کے والد گرامی مرحوم‌ آیت‌‌اللہ‌ سیدعلى حسینى شاہرودى مرحوم آیة اللہ العظمی خویی کے ممتاز شاگردو میں سے تھے جنہوں نے آپ کے فقہ اور اصول کے دروس کو تحریر کیا۔
آیت‌اللہ ہاشمی‌شاہرودی مفکر اسلامی، اور ماہر فلسفی، مجتہد اور زمان شناس مجتہد آیت اللہ شہید سیدمحمدباقر صدر کے شاگردوں میں سے تھے۔
آیت‌اللہ‌ ہاشمى شاہرودى کے دیگر اساتدہ میں حضرت‌ امام‌ خمینى‌(رہ) و حضرت‌ آیت‌ اللہ‌ العظمى خویى‌(رہ‌) کے نام سر فہرست ہیں جن کی آپ نے کئی سال شاگردی اختیار کی ۔
آیت‌اللہ‌ ہاشمى شاہرودى نے بہت ساری علمی اور سماجی خدمات انجام دیا۔ امام خمینی نے مجلس‌ اعلاى عراق‌ کے ایک وفد سے ملاقات میں آپ کو ہر کام سے زیادہ قم میں درس پڑھانے پر زور دیا اور آپ قم میں آتے ہی فقہ اور اصول کا درس خارج شروع کیا۔


آیت‌اللہ‌ ہاشمى شاہرودى دائرۃ المعارف فقہ اسلامی کے سربراہ تھے اور آیت اللہ خامنہ ای نے مؤسسہ‌ دایرة‌المعارف‌ فقہ‌ اسلامى کی ریاست پر آپ کو منصوب کیا۔
آیت‌اللہ‌ ہاشمى شاہرودى درس و تدریس کے علاوہ سیاسی سرگرمیوں میں بھی بہت مصروف رہے۔ 1974 میں صدام نے آپکو گرفتار کیا اور جیل میں بہت سختیاں برداشت کرنا پڑیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آپ ایران آئے اور شہید صدر کے نمایندے کی حیثیت سے امام خمینی پاس پہنچے۔ اور امام خمینی نے بھی آپ کو اس کام کے لیے مناسب قرار دیتے ہوئے خود اور شہید صدر کے درمیان رابط منتخب کیا۔
جمہوری اسلامی ایران میں آپ اہم کلیدی پوسٹوں پر رہے۔ شورائے نگہان کے فقہا میں آپ رہے۔ مجمع تشخیص مصلحت نظام کے صدر رہے اور آٹھ سال تک ایران کے چیف جسٹس کے فرائض بھی آپ نے انجام دئے۔
آجکل آپ مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ تھے
اور آج 24 دسمبر 2018 کو 70 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔


Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn