پیر, 25 جنوری 2021

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
50
مضامین
456
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
553869
comintour.net
stroidom-shop.ru
obystroy.com
лапароскопия паховой грыжи

بسم رب الشُھداء و الصدقین
انا لله  و انا الیه راجعون
العالم الفقیه ثلم فی الاسلام ثلمه لا یسدها  شئ
خطیب توانا  ،عالم با بصیرت و انقلابی حضرت حجة الاسلام و  المسلمین  ڈاکٹر  غلام محمد فخرالدین  صاحب سانحه منی میں  لاپته تھے  اور آپ بیس دن گزرنے کے بعد معلوم هوا  هےکه آپ لباس احرام زیب تن کیئے هوے حرم امن الهی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے هیں۔  انکی دلسوز اور شهادت جیسی موت پر قطب عالم امکان حضرت ولی عصر عجل الله  تعالی فرجه الشریف ، مقام معظم رهبری حضرت آیة الله خامنه ای ، دوست و احباب ، پاکستان کے علماءکرام و طلاب ، اور بالخصوص مرحوم کے بازماندگان  کی خدمت میں تسلیت و تعزیت عرض کرتے هیں۔
اللھ تعالی مرحوم کو شهداء کربلا کے ساتھ محشور کرے  اور بازماندگان کو صبر جمیل عنایت کرے۔
منجانب: مجمع علماء و طلاب روندو بلتستان پاکستان 

 رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران میں عوام کے مختلف طبقات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اسرائیل آئندہ 25 سال کو نہیں دیکھ پائے گا۔ اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزير اعظم نیتن یاہو نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے بیان پر سخت برہمی اور غصہ کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ رہبر معظم نے  اپنے بیان میں فرمایا تھا کہ اسرائیل کس بات پر خوش ہوتا ہے، اسرائيل کا وجود تو آئندہ 25 سال تک ختم ہو جائے گا۔ نیوز رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ہمارے لئے ثابت ہو گیا ہے کہ ایران عالمی نقشہ سے اسرائیل کا وجود ختم کرنا چاہتا ہے۔

اسلام آباد میں کشمیری صحافیوں کے وفد سے بات چیت کرتے سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کور ایشو ہے، پاکستان اس مسئلے کو نظرانداز نہیں کر سکتا، کشمیری مسئلے کے بنیادی فریق ہیں

سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، اس معاملے پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اسلام آباد میں کشمیری صحافیوں کے وفد سے بات چیت کرتے سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کور ایشو ہے،

 ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے فلسطینی عوام کے اپنے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کروانے کے لئے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہر ممکن ذرائع کے استعمال سے مقابلہ کرنے کےعزم و استقلال اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور القدس الشریف بحیثیت دارلحکومت کے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے جدوجہد کی حمایت کی ہے۔او آئی سی کے ممبران ممالک کی پارلیمینٹری یونین (PUIC) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان قومی اسمبلی آف پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد میں پیر اور منگل کو منعقد کیے گئے ایگزیکٹو کمیٹی کی 34ویں اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں لبنان، افغانستان، ایران اور عراق سمیت دیگر اسلامی ممالک کے پارلیمنٹریرنز نے شرکت کی۔

جب اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم نے انتہائی تکبر اور بڑے بڑے دعووں کے ساتھ 360 مربع کلومیٹر پر مشتمل غزہ کی پٹی پر فوجی حملوں کا آغاز کیا تو اس کا تصور یہ تھا کہ وہ فیصلہ کن فتح کے ذریعے اپنی طاقت کا لوہا منوا لے گی اور فلسطینیوں کی مزاحمت کو کچل کر رکھ دے گی لیکن جب اپنی تمام تر کوششوں اور جارحانہ اقدامات کے باوجود اسے شکست اور ذلت کے علاوہ کچھ نصیب نہ ہوا تو اسے اپنے بقول عزت مند انداز میں غزہ سے عقب نشینی اور ابتدائی مقاصد کے حصول کے دعووں کے ساتھ فوجی جارحیت کے خاتمے کے علاوہ کوئی راستہ نہ ملا۔ کون ہے جو اس حقیقت سے بے خبر ہو کہ غزہ کے خلاف فوجی جارحیت میں اسرائیل نہ فقط اپنے مطلوبہ سیاسی اور فوجی اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکامی کا شکار ہوا بلکہ اسلامی مزاحمتی گروہ پہلے سے بھی زیادہ منظم، مضبوط اور طاقتور ہو کر سامنے آئے اور اس وقت مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینیوں کا مسلح ہو جانے کے ڈراونے خواب نے غاصب صہیونی رژیم کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔