پیر, 25 جنوری 2021

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
50
مضامین
456
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
553856
comintour.net
stroidom-shop.ru
obystroy.com
лапароскопия паховой грыжи

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی انقلاب کا سب سے بڑا ہنر یہ تھا کہ اس نے قوموں کے درمیان تمام حائل جھوٹی دیواروں کو مسمار کردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح ملک بھر کے اعلی تعلیمی اداروں اور جامعات کے بسیجی اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے اسلامی نظام  کو دنیا میں اسلامی تحریکوں کا مظہر قراردیا اور اسلامی نظام کے مقابلے میں طاغوتی و استکباری نظام کے انفعال و انحلال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج ملک میں اتحاد و یکجہتی کی سب سے اہم ضرورت ہےاور ہر قسم کی بات ، رفتار، حرکت جو معاشرے میں اختلاف و انتشار اور شگآف اور دیگر افراد پر ظلم کا سبب ہو ایسی رفتار و حرکت اگر چہ حسن نیت پر پر مبنی ہو پھر بھی ملک اور اسلامی نظام کے مفادات کے سراسر خلاف ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس حساس دور میں معاشرے اور سماج میں اتحاد و انسجام اور یکجہتی کی حفاظت کے لئے کوشش اوراختلاف و انتشار سے دوری رہبری کے نقطہ نظر کے مطابق ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی انقلاب کا سب سے بڑا کمال اور ہنر یہ تھا کہ اس نے قوموں کے درمیان تمام حائل جھوٹی دیواروں کو مسمار کردیا اور ملک کو قوم کے ایک وسیع میدادن میں تبدیل کردیا جبکہ بعض افراد ان غلط اور باطل دیواروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں ۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: حرکت کی سمت و جہت اور اصول و ضوابط سب واضح اور روشن ہیں اور جو شخص ان اصولوں کے دائرے میں رہ کر حرکت کرے وہ اسلامی نظام کے مجموعہ کا حصہ ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دوسرے افراد پر ظلم نہ کرنے کے سلسلے میں اپنی مکرر تاکید کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا: قلب و عمل کی طہارت و پاکزگی کی رعایت بہت بڑی ذمہ داری ہے اور کسی فرد یا افراد کو کسی ایک غلط لفظ ، غلط تحریر یا غلط رفتارکی بنا پر ظلم کا نشانہ بنانا اور اس کے حق کو پامال کرنا درست نہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے لوگوں کے حقوق کی رعایت کے سلسلے میں پیغمبر اسلام (ص) کی سیرت و روش  حتی گنہگار افراد کے ساتھ آپ (ص) کی رفتار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عدل و انصاف کو مد نظر رکھنا چاہیے اور کسی چیز کے بارے میں اس کی حقیقت سے زیادہ بات کرنا صحیح نہیں ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: بعض افراد انقلابی،مجاہد اور مبارز ہیں انھیں اپنے خیال میں دوسروں کے بارے میں یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ انقلابی نہیں یا کم درجہ کے انقلابی ہیں اور جو بات دل میں آئے وہ ان کے بارے میں کہہ سکتے ہیں رہبر معظم انقلاب اسلامی نے افراد کی راہ و روش اور ایمان کے قدرتی تفاوت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایمان کے فرق و تفاوت کے باوجود اجتماعی زندگی میں عدل و انصاف کی رعایت کے ساتھ ساتھ اتحاد و یکجہتی کی حفاظت بھی ضروری ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اصلی اہداف و معیاروں کو فراموش نہ کرنے کو بہت ہی اہم مسئلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: طاغوتی و استکباری طاقتوں کا مقابلہ،عالمی سطح پر کفر و نفاق کی حرکت کے مقابلے میں ٹھوس استقامت اور اسلام اور انقلاب کے دشمنوں کے ساتھ واضح حد بندی،  اصلی معیاروں کا حصہ ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمنوں کے ساتھ واضح اور صاف وشفاف حد بندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر کوئی شخص دین اسلام اور انقلاب کے دشمنوں کے ساتھ حد بندی اور اپنی پوزیشن کو صاف و شفاف نہ کرے تو گویا اس نے اپنی قدر و قیمت کو کھو دیاہے اور اگر اس کا رجحان اور جھکاؤ دشمنوں کی طرف پیداہوجائے تو وہ نظام کے دائرے سے ہی خارج ہوجائے گا۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: انقلاب اسلامی کی آگے کی سمت حرکت کے لئےیہ اصلی خطوط و معیار ہیں اور ان معیاروں کی حفاظت کے ساتھ آگے کی جانب گامزن رہنا چاہیے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے موجودہ دور اور شرائط کو حساس دور اور شرائط قراردیا اور اسلامی نظام کے خلاف سامراجی طاقتوں کی تلاش و کوشش اور سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: موجود شرائط کی حساسیت کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسلامی حرکت جس کا اصلی مرکز و محور انقلاب اسلامی ہے اس کے مقابلے میں سامراجی طاقتوں کی عالمی امور پر سے گرفت نکل گئی ہے اور وہ  یاس و ناامیدی کی حالت میں اپنی آخری کوششوں کے طور پر ہاتھ و پیر چلا رہی ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی نظام کو در پیش مشکلات اور رکاوٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سامراجی نظام نے عالمی مسائل بالخصوص مشرق وسطی کے بارے میں جو لائن کھینچ رکھی تھی وہ ٹوٹ گئی ہے اور دنیا کے سامنے  ان کی پرانی تبلیغاتی روشیں آشکار ہوگئی ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کے بارے میں وسیع پیمانے پر پائے جانے والے غم و غصہ اور نفرت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج خود امریکہ میں بھی صہیونی لابی کی طاقت و قدرت کے خلاف گہرے غم و غصہ کا سلسلہ جاری ہے امریکی حکومت کے سخت شرائط اور کنٹرول کے باوجود امریکی عوام میں صہیونیوں کے بارے میں غیظ و غضب کے آثار نمایاں ہوگئے ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران میں اسلامی نظام کے حضور و ظہور کو تسلط پسند طاقتوں کی موجودہ مشکلات کا اصلی عامل اور سبب قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی نظام کے ساتھ ان کی دشمنی کی اصل وجہ یہی ہے لیکن قرارداد منظور کرنے کے سلسلے میں ان کے سراسیمہ اقدامات، اقتصادی پابندیوں کے بارے میں مبالغہ آرائی اور اس کے بعد فوجی کارروائی کی دھمکیاں، عالم اسلام میں جاری سنجیدہ اور عظیم تحریک کے مقابلے میں تسلط پسند نظام کے انفعال کا مظہر ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مشکلات برداشت کرنے کو بڑے کاموں اور عظیم مفادات تک پہنچنے کا کامیاب ذریعہ قراردیتے ہوئے فرمایا: سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تحقیق و ریسرچ، ایمانی اور معنوی میدان میں تلاش و کوشش، تمام علمی سرگرمیوں میں مجاہدت و جہاد کے جذبہ سے  آراستہ ہونا، ہمیشہ ، دائمی اور بر وقت حضور اور یونیورسٹیوں میں بصیرت کو قوت بہم پہنچانا ملک بھر کی تمام یونیورسٹیوں کی اہم ضرورت ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی سے تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے جنرل سیکرٹری کی ملاقات

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے جنرل سیکرٹری رمضان عبداللہ اور انکے ہمراہ وفد سے ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تجزئیہ کرتے ہوئے موجودہ تبدیلیوں کی حقیقت کو مغربی محاذ کی جانب سے امریکہ کی سرکردگی میں اسلامی محاذ کے ساتھ وسیع پیمانے پر جنگ کے زریعے اس خطے پر تسلط حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ آج خطے میں جو وسیع پیمانے پر جنگ چھیڑی گئی ہے، یہ اسی جنگ کا تسلسل ہے کہ جو سینتیس سال پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف شروع کی گئی تھی اور اس جھڑپ میں مسئلہ فلسطین اصل اور مرکزی محور کا حامل مسئلہ ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران جس طرح ابتدا ہی سے فلسطین کی حمایت کو اپنا وظیفہ سمجھتا آیا ہے مستقبل میں بھی اپنے اس وظیفے پر عمل کرتا رہے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ فلسطین کے مسئلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف کسی خاص زمانے سے تعلق نہیں رکھتا، فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے اور جدوجہد کے دوران امام خمینی کے مواقف میں متعدد مرتبہ فلسطین کی حمایت اور غاصب صیہونی حکومت سے مقابلے جیسے موضوعات بیان کئے گئے اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی ہمارے کاموں میں فلسطین کے عوام کی حمایت اولویت رکھتی تھی، بنا بر ایں فلسطین کی خواہشات کا دفاع فطری طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کی ذات میں شامل ہے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ اسلامی انقلاب ایسی شرائط میں کامیاب ہوا کہ امریکہ اس وقت اس خطے میں اپنی طاقت کی بلندیوں پر تھا اور اس خطے کے تمام تر امور بظاہر امریکہ کو ہی نفع پہنچا رہے تھے، لیکن اسلامی انقلاب نے اسلامی معاشرے کے جسم میں ایک نئی روح پھونک دی اور خطے کی صورتحال کو یکسر تبدیل کردیا۔

آپ نے اسلامی انقلاب کے گھٹنے ٹیک دینے یا اسلامی نظام کے اپنے مواقف سے پیچھے ہٹ جانے کے لئے وسیع پیمانے پر اور مختلف طریقوں سے سیاسی، اقتصادی حتی فوجی دبائو ڈالے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ آج جو کچھ اس خطے میں ہو رہا ہے در حقیقت یہ ایران کے اسلامی نظام سے امریکہ کے تصادم کا تسلسل ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی محاذ کے خلاف، امریکی سرکردگی میں مغربی محاذ کی جانب سے وسیع پیمانے پر شروع کی جانے والی موجودہ جنگ کے اصلی مقصد کو اس خطے پر قبضہ کئے جانے سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ خطے کی صورتحال کو اس نگاہ سے دیکھے جانے کی ضرورت ہے اور اسی پیرائے میں شام، عراق، لبنان و حزب کے مسائل اس بڑے پیمانے پر ہونے والے اس تصادم کا ایک حصہ ہیں۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ موجودہ صورتحال میں فلسطین کا دفاع اسلام کے دفاع کی علامت ہے، فرمایا کہ استکباری محاذ اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر کوششیں کر رہا ہے تاکہ اس جنگ کو اہل سنت اور شیعوں کی جنگ ثابت کر سکے۔

آپ نے اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ شام میں، شیعہ حکومت نہیں ہے، فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پھر بھی شام کی حکومت کی حمایت کرے گا، کیونکہ شام کے مقابلے میں جو لوگ کھڑے ہیں درحقیقت وہ اصل اسلام کے دشمن اور امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کے فائدے کے لئے کام کر رہے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اہل سنت اور شیعوں کے درمیان موازنہ کو استعمار اور امریکہ کی ایک سازش قرار دیا اور تاکید کے ساتھ فرمایا کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں اہم ترین مسئلہ وسیع پیمانے پر ہونے والی اس جنگ کے دو اصل محاذوں کی صحیح شناخت اور اپنی موجودہ صورتحال کا صحیح ادارک ہے۔ کیونکہ اگر ان دو محاذوں کے درمیان موجود فاصلے کی حد کو صحیح طور پر نہیں پہچانا گیا تو ممکن ہے کہ ہم نا چاہتے ہوئے بھی اسلامی محاذ کے مدمقابل کھڑے ہوجائیں۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے کے مسائل کے بارے میں اپنے اس نظریے کی بنا پر امریکہ کو اپنا اصلی دشمن اور غاصب صیہونی حکومت کو اس کا پشت پناہ سمجھتا ہے،آپ نے فرمایا کہ ایران فلسطن کا دفاع کئے جانے کو ہمیشہ اپنا وظیفہ سمجھتا ہے اور اپنے اس وظیفے کی انجام دہی کو ہمیشہ جاری رکھے گا۔

آپ نے گذشتہ چند سالوں کے دوران اسلامی نظام کے خلاف امریکہ اور اسکے پٹھووں کی جانب سے وسیع پیمانے پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان پابندیوں کا اصل مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو اسکے اپنے اس اصلی راستے سے دور ہٹانا ہے جس پر وہ رواں دواں ہے، لیکن وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر پائے ہیں اور مستقبل میں بھی وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر پائیں گے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ہم خدائے متعال کے وعدے کی بنا پر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اس وسیع پیمانے پر ہونے والی جنگ میں ہم کامیاب ہوں گے اور ہم آج تک کامیاب ہوتے چلے آئے ہیں، کیونکہ ہمارے دشمن اسلامی نظام کی نابودی کے خواہاں ہیں لیکن آج بھی نہ صرف یہ کہ اسلامی نظام جاری و ساری ہے بلکہ روز بروز مختلف زاویوں سے ترقی و پیشرفت کر رہا ہے اور گہرائیوں تک پھیل چکا ہے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نےاسی طرح حزب اللہ لبنان پر مزید دبائو بڑھانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے سیکرٹری جنرل کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ حزب اللہ لبنان اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہے کہ وہ ان اقدامات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوجائے اور آج قطعی طور پر غاصب صیہونی حکومت حزب اللہ لبنان کی وجہ سے گذشتہ زمانے کی نسبت کہیں زیادہ خوف وہراس کا شکار ہے۔

آپ نے اہل حق کی کامیابی سے متعلق سنت الہی کے تحقق پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کامیابی یقینی ہے، اگرچہ اس میں نشیب وفراز اور کمی اور زیادتی ہے، لیکن دین خدا کی مدد کرنے والوں کے لئے الہی وعدہ کبھی تبدیل نہیں ہوسکتا۔

اس ملاقات کے آغاز میں تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے سیکرٹری جنرل رمضان عبداللہ نے فلسطین کے مسئلے پر اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے کی جانےوالی تمام تر حمایتوں اور مواقف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے غزہ اور غرب اردن کی موجودہ صورتحال پر ایک رپورٹ پیش کی اور کہا کہ غزہ کے عوام سخت ترین شرائط اور محاصرہ جاری رہنے کے باوجود آج بھی ثابت قدم اور استوار ہیں اور گرب اردن میں بھی غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے وسیع پیمانے پر ہونے والے شدید کریک ڈاون کی وجہ سے فلسطین کی نوجوان نسل کے عزم و حوصلے نے انتفاضہ کے شعلوں کو ایک بار پھر بھڑکا دیا ہے۔

انہوں نے فلسطین میں مزاحمتی گروہوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور انکی ناقابل یقین توانائیوں کا تذکرہ کرتےہ ہوئے اور خطے کی موجودہ صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور انکے پٹھو ممالک اپنی سازشوں کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کا غیر حقیقی چہرہ پیش کرنے اور اسی طرح غاصب صیہونی حکومت کو فراموش کر دیئے جانے، اور اہل سنت اور شیعوں کے درمیان جنگ کے ذریعے اس خطے کو ٹکڑے کرنے کے درپے ہیں اسی لئے حزب اللہ لبنان پر دبائو بڑھایا گیا ہے، لیکن تحریک جہاد اسلامی فلسطین موجودہ صورتحال کا صحیح ادارک کرتے ہوئے حزب اللہ اور امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کے مدمقابل موجود مزاحمتی محاذ کی حمایت پر تاکید کرتی ہے۔

 

اسلام آباد:خبر دار ہوشیار۔۔۔۔ نہیں بچے کوئی کرپشن کرنے والا۔۔۔ آرمی چیف نے 13فوجی افسران کو کرپشن الزامات پر برطرف کردیا ہے۔برطرف ہونے والوں میں ایک لیفٹیننٹ جنرل ،ایک میجر جنرل،5بریگیڈیئرز شامل ہیںپاکستان کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے جو کہا وہ کر دکھایا۔ 13فوجی افسروں کو کرپشن کے الزامات پر فارغ کر دیا گیا ہے۔

برطرف ہونے والوں میں ایک کرنل، 3لیفٹیننٹ کرنل ، ایک لیفٹیننٹ جنرل ،ایک میجر جنرل،5بریگیڈیئرز شامل ہیں۔۔

 

ذرائع کے مطابق نڈر آرمی چیف کے حکم پر  برطرف  افسران کی تمام مراعات ختم  کر دی گئیں ہیں۔۔کرپشن کی رقم واپس کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

 

یاد رہے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے 2 روز قبل کرپشن کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ بلاتفریق احتساب  ملکی یکجہتی اورسالمیت  کیلئے ضروری ہے۔

ترجمان آئی  ایس پی آر کے مطابق  آرمی چیف جنرل راحیل شریف  نے  سگنل رجمنٹ سینٹر کوہاٹ کا دورہ کیا۔آرمی چیف نے میجر جنرل سہیل احمد زیدی کو کرنل کمانڈنٹ کے بیج لگائے۔ اس موقع پرآرمی چیف کاکہناتھا  کہ کرپشن  کے خاتمے تک ملک میں امن واستحکام کا قیام ممکن نہیں۔پاکستان کی ترقی  کیلئے  ہر سطح پر بلاامتیاز احتساب  ناگزیر ہے۔

جنرل راحیل شریف  کاکہناتھادہشت گردی کیخلاف جنگ میں قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ملک سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کئے جا رہے ہیں۔آرمی چیف  کاکہنا تھا کہ سول انتظامیہ اور مسلح افواج ملکر دہشت گردی کو شکست دے رہے ہیں۔قوم کےبہترمستقبل کیلئےپاک فوج ہربامقصداقدام کی حمایت کرےگی۔

 

رہبر انقلاب اسلامی سے ہزاروں محنت کشوں کی ملاقات

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے محنت کشوں کے دن کی مناسبت سے آئے ہوئے ہزاروں محنت کشوں سے ملاقات میں، انقلاب اور نظام کے لئے محنت کش طبقے کی وفاداری اور ثبات قدم کی قدردانی کرتے ہوئے، محنت کش طبقے کی مشکلات کے حل، مقامی پروڈکشن کو تقویت دینے، اسمگلنگ سے سنجیدگی سے نمٹنے، اور ایسی تمام پروڈکٹس کی درآمد پر پابندی عائد کئے جانے کی تاکید کی کہ جو ایرانی پروڈکٹس سے مشابہت رکھتے ہوں اور امریکہ کی کینہ پروری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ غیر قابل اعتماد امریکی، ایران پر مختلف طرح کی پابندیوں میں اضافے کےزریعے اس بات کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں کہ ایران فوبیا پیدا کر کے، اس ملک کے دوسرے ممالک کے ساتھ اقتصادی معاملات کی راہ میں عملی طور پر رکاوٹیں کھڑی کر سکیں۔

آپ نے اسی طرح پارلیمنٹ کے دوسرے مرحلے کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل تمام افراد کو انتخابات کے اس مرحلے میں شرکت کرنے کی دعوت دی۔

رہبر انقلاب اسلامی ںے محنت کش طبقے کی زحمتوں اور کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اور محنت کشوں سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے معاشرے میں محنت اور جدوجہد کو ایک ارزش قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ معاشرے میں جو فرد بھی محنت اور جدوجہد میں مشغول ہے، چاہے وہ حکام ہوں، وزراء، یونی ورسٹی کے اساتذہ، مدرسوں اور اسکول کالجوں کے طالبعلم، افسران یا دوسرے افراد سب کے سب درحقیقت محنت کش کی تعریف کے زمرے میں آتے ہیں اور درحقیقت وہ اقدار وجود میں لاتے ہیں۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ اسلام کی نگاہ میں، بے روزگاری، سستی اور بیہودہ وقت ضائع کرنا خلاف اقدار ہے، فرمایا کہ وہ تمام افراد کہ جو مختلف شعبوں میں مصروف عمل ہیں انہیں چاہئے کہ کام کی کیفیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کام کے حق کو ادا کریں اور اپنے آپ کو اس کام کے لئے وقف کر دیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ ملک میں جس کسی نے بھی کوئی عہدہ قبول کیا ہے اسے چاہئے کہ وہ ہمہ وقت اور اپنی پوری توانائی اس عہدے کی ذمہ داریاں نبھانے میں صرف کرے۔

آپ نے گذشتہ سینتیس سالوں کے دوران انقلاب اور اسلامی نظام سے محنت کش طبقے کی وفاداری اور ثبات قدم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ معیشتی مشکلات کے باوجود محنت کش طبقے نے کبھی بھی ضد انقلاب تشہیرات پر کان نہیں دھرے اور وہ کبھی بھی نظام کے مقابلے پر کھڑے نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے ہمیشہ اسلامی نظام کا دفاع کیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے نظام اور انقلاب کو درپیش مسائل کے سلسلے میں محنت کش طبقے کی وفاداری اور بصیرت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے، استقامتی معیشت کی سیاست کے اجرا کے لئے محنت کشوں، اقتصادی فرموں اور اعلی حکام کی ذمہ داریوں جیسے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ استقامتی معیشت، اقدام اور عمل کا اصلی پیغام یہ ہے کہ حکام بالا استقامتی معیشت کی سیاست کی تمام شقوں کے سلسلے میں پلاننگ کریں اور انکا حقیقی معنی میں اجرا کریں۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے استقامتی معیشت کی سیاست کے اجرا میں خاص طور پر محنت کشوں کے کردار اور انکے حصے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا اس سلسلے میں محنت کشوں کی سب سے اہم ذمہ داری صحیح، معیاری اور مستحکم کام انجام دینا ہے۔

آپ نے کام کی کیفیت کو بہتر بنانے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ محنت کشوں کے کام کی کیفیت کو بہتر بنانے کے لئے جملہ مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ مہارتوں میں اضافے اور مزدوروں کی مہارتوں کو بہتر بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں اور اس سلسلے میں حکومت کی طے شدہ ذمہ داریاں ہیں۔

رہبر انقلاب نے محنت کشوں کے پیشوں کی سیکورٹی کو کام کی کیفیت میں اضافے کے لئے ایک اہم اور موثر امر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ محنت کشوں کے مشاغل کی سیکورٹی اور ضمانت اعلی حکام اور انکے مالکان کی ذمہ داری ہے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ملکی صنعتوں اور کارخانوں کے بند ہونے کو ایک عظیم آفت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ بعض اوقات یہ کارخانے مالی خسارے، امکانات کے نہ ہونے یا مشینوں کے فرسودہ ہونے کی وجہ سے بند ہوجاتے ہیں اور اس طرح کے مسائل میں ان کے مالکان قصوروار نہیں ہوتے لہذا صنعت و تجارت، بینکنگ، سائنس و ٹیکنالوجی اور نالج بیسڈ کمپنیوں اور اداروں کے مالکان کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں۔

آپ نے مزید فرمایا کہ البتہ بعض دیگر موارد میں مالکان کی جانب سے سوء استفادہ کئے جانےاور قرضوں اور دیگر مالی سہولیات سے پروڈکشن کے بجائے عمارتیں تعمیر کئے جانے کی وجہ سے کارخانے بند ہوجاتے ہیں اور اس طرح کے موارد میں عدلیہ، مجریہ اور انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کو چاہئے کہ وہ سنجیدگی سے ان موارد کی تفتیش کریں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ دولت میں اضافے کا کوئی بھی مخالف نہیں ہے لیکن معاشرے میں موجود محنت کشوں اور محروم طبقوں کو پیروں تلے روند کر یہ مال جمع نہیں کیا جانا چاہئے۔

آپ نے ایرانی محنت کشوں کی پروڈکٹس کی تشہیر، کام کی جگہ کی سیفٹی، اور پروڈکٹ کی قیمت میں موجود اجرت کی رقم میں اضافے کو محنت کشوں کے کام کی کیفیت میں بہتری کا ایک اور موثر عامل قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ان تمام موارد میں صحیح طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے اور اسی طرح دوسرے ممالک کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے صحیح پلاننگ کی جا سکتی ہے تاکہ محنت کشوں کے اندر کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو اور انکے کام کی کیفیت بہتر ہوسکے ساتھ ہی ساتھ مالکان کو بھی نقصان نہ پہنچے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو میں محنت کشوں کے حقوق بھی بیان کئے اور تاکید کے ساتھ فرمایا کہ مالک اور محنت کش اسلام کی منطق میں ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں نہ کہ ایک دوسرے کے دشمن۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ان سرمایہ داروں کی قدردانی کرتے ہوئے کہ جو اپنے سرمائے کو بغیر کسی پریشانی کہ بینکوں میں رکھنے کے بجائے پروڈکشن اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لئے میدان میں لاتے ہیں مزید فرمایا کہ محنت کشوں کا مالکان سے خلوص دل کے ساتھ تعاون، حکام بالا کی جانب سے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے جدوجہد اور برآمد کرنے کا زمینہ فراہم کرنے اور بیرونی ممالک میں برآمد کرنے والے ایکسپورٹرز کے حقوق مالکان کے جملہ حقوق ہیں کہ جن کی رعایت کی جانی چاہئے۔

آپ نے اس موقع پر اعلی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ برآمد کی جانے والی اشیاء کی کیفیت اور انکے صحیح و سالم ہونے کی نظارت کی جانی چاہئے کیوں کہ برآمد کی جانے والی اشیاء اگر سالم نہ ہوں اور انکی کیفیت اچھی نہ ہو تو یہ ایران کی بدنامی کا باعث ہو گا اور اس سے ہماری برآمدات کو نقصان پہنچے گا۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مقامی پیداوار کی اہمیت پر بہت زیادہ تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ مقامی یا داخلی پیداوار کو ایک مقدس امر کے طور پر پہچانا جانا چاہئے اور اسکی حمایت کئے جانے کو ایک وظیفہ سمجھا جانا چاہئے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایسی تمام چیزوں کے درآمد کرنے کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا کہ جن سے ملتی جلتی چیزیں داخلی سطح پر تیار کی جارہی ہیں اور فرمایا کہ بعض دکانوں میں اس بات کی پابندی کی جاتی ہے کہ وہاں داخلی طور پر بنائی جانے والی اشیاء کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں بیچی جاتیں اور ایسے غیرت مند افراد کی تعریف کی جانی چاہئے۔

آپ نے فرمایا کہ البتہ بعض نسبتا بڑی مارکیٹوں میں اور بعض اوقات حکومت سے وابستہ مارکیٹوں میں تمام چیزیں امپورٹڈ ہیں اور اس برے عمل کی وجہ سے ایرانی محنت کشوں کی بے روزگاری میں اضافہ جبکہ بیرون ملک محنت کشوں کی حالات بہتر ہوں گے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے غیر ملکی اشیاء کی خریداری اور غیر ملکی کمپنیوں کی اشیاء پر فخر فروشی کی ثقافت پر سخت تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم دنیا سے رواداری رکھتے ہیں لیکن جن میدانوں میں ہمارے پاس داخلی پیداوار موجود ہے، ان میدانوں میں غیر ملکی اشیاء کی خرید و فروش اور درآمدات کو اقدار کے منافی سمجھا جانا چاہئے اور اس عمل کے خلاف تشہیر کی جانی چاہئے۔

آپ نے مزید فرمایا کہ البتہ اس سلسلے میں افراط کے قائل نہیں ہیں بلکہ حکمت اور تدبیر کے ساتھ عمل کیا جانا چاہئے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی گاڑیاں درآمد کرنے کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ خود امریکی شہری بھی ان گاڑیوں کے بھاری اخراجات کی وجہ سے انہیں خریدنے کی رغبت نہیں رکھتے، اب ایسی شرائط میں ہم آئیں اور امریکہ کے فلاں دیوالیہ کارخانے سے گاڑیاں درآمد کریں؟ اس کام پر تعجب کیا جانا چاہئے۔

آپ نے مزید فرمایا کہ حکام بالا کو چاہئے کہ اس سلسلے میں ان پر پڑنے والے خفیہ دبائو کے سامنے اٹھ کھڑے ہوں اور اس بات کی اجازت نہ دیں کہ اس طرح کے مسائل پیدا ہوں۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسی طرح بعض غیر ضروری گراں قیمت اشیاء ک درآمدات پر تنقید کرتے ہوئے اور مختلف اشیاء کی ملک کے اندر اسمگل کئے جانے کے سنجیدہ مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مختلف حکومتوں کے حکام بالا سے کئی مرتبہ اس مسئلے کے بارے میں گفتگو کی ہے اور انہوں نے بھی کہا ہے کہ اگر ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا تو اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہو جائے گا لیکن یہ دلیل قابل قبول نہیں ہے۔

آپ نے اسمگلنگ کو داخلی پیداوار کے لئے ایک عظیم بلا اور زہر ہلاہل سے تعبیر کرتے ہوئے اس مسئلے سے سنجیدگی کے ساتھ نہ نمٹنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اس کام کی ذمہ داری مضبوط افراد کے سپرد کی جائے اور حکومت بھی مربوطہ اداروں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ منظم اسمگلنگ سے اپنی پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ اور اقدامات کرے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ البتہ اشیاء کی اسمگلنگ سے مراد ان کمزور افراد سے مقابلہ کرنا نہیں ہے کہ جو بعض علاقوں میں اپنی کمر پر لاد کر چھوٹا موٹا سامان اسمگل کرتے ہیں، بلکہ اس سے مراد بڑے اسمگلر ہیں کہ جو دسیوں اور سینکڑوں کنٹینروں میں سامان بھر کر ملک کے اندر لے کر آتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اسی طرح داخلی پیداوار کے سلسلے میں ایک اہم مسئلے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض اوقات کوئی چیز ملک کے اندر بنائی جا سکتی ہے لیکن بعض امپورٹرز کہ جو درآمدات کے زریعے بہت زیادہ منافع کماتے ہیں، مختلف حیلے بہانوں اور مختلف طریقوں سے من جملہ بھاری رشوت، دھمکیوں حتی جرائم انجام دے کر اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اس داخلی پیداوار کا راستہ روکا جاسکے۔

آپ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ مسائل بہت زیادہ اہم ہیں اور انہیں اتنا سادہ نہیں لینا چاہئے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے داخلی پیداوار کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ان افراد پر تنقید کی کہ جو داخلی سطح پر موجود ٹیکنالوجی کو فرسودہ قرار دے کر غیر ملکی اشیاء کی درآمدات کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

آپ نے فرمایا کہ بعض غیر ملکی اشیاء درآمد کرنے کا دفاع کرنے والے افراد اس کی دلیلیں پیش کرنے میں مار کھا جاتے ہیں، کہتے ہیں کہ غیر ملکی ٹیکنالوجی پیشرفتہ جبکہ ملکی ٹیکنالوجی فرسودہ اور قدیمی ہے، بہت خوب لیکن اتنی صلاحیتوں اور خلاق ذہن موجود ہونے کے باوجود اس مشکل کو کیوں حل نہیں کرتے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے سوال کیا کہ آیا وہ ایرانی ذہن کہ جو میزائیل کے زریعے ۲ دو ہزار کیلومیٹر کے فاصلے سے دس میٹر سے بھی کم خطا کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے وہ داخلی سطح پر بعض دوسرے میدانوں من جملہ آٹوموبائیل کی صنعت میں ٹیکنالوجی کی مشکل کو حل نہیں کرسکتا؟ پس اس طرح کی مشکلات کے حل کے لئے جوانوں سے رجوع کیوں نہیں کیا جاتا؟

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا ملک کی بعض پیشرفت خفیہ ہے اور اسے بیان نہیں کیا جاسکتا ورنہ لوگ اس سرزمین کے جوانوں کی استعداد سے حیرت میں مبتلا ہوجائیں گے۔

رہبر انقلاب نے اپنی گفتگو کے اس حصے کو سمیٹتے ہوئے فرمایا کہ محنت کش طبقے، کارخانوں کے مالکان اور حکومتی عہدیداروں سے ہمیں اچھی امیدیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض جگہ کاموں میں رکاوٹیں موجود ہیں اور بعض علل و عوامل نہیں چاہتے کہ کوششیں کسی نتیجے تک پہنچ سکیں، حکام کوششیں جاری رکھیں اور ان رخنہ اندازیوں کو دور کرکے ملکی ترقی و پیشرفت کی رفتار میں اضافہ کریں۔

آپ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ایران کا اسلامی تمدن کے بلند مقام پر پہنچنا کوئی شعر یا رجز خوانی نہیں ہے بلکہ حقائق، ممکنات، خصوصیات اور توانائیوں پر مبنی ہے کہ جن پر توجہ کئے جانے سے یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ البتہ دشمن اسی طرح اپنی دشمنی جاری رکھے ہوئے ہے اور رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے اور اس دشمنی میں سب سے اوپر امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت ہے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ امریکی بعض اوقات دور بیٹھ کر اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ آپ ہم سے بد بین کیوں ہیں؟ خوب ہم ان مسائل کو دیکھ رہے ہیں کہ جو اس بد بینی کا سبب بنے ہیں اور ہم ان کے سلسلے میں اپنی آنکھوں کو بند نہیں کر سکتے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے بینکنگ لین دین میں مشکلات اور اسکے بہت زیادہ سست ہونے اور بینک کے معاملات میں امریکیوں کی جانب سے رخنہ اندازی کو بدبینی کے واضح نمونوں میں سے ایک نمونہ قرار دیا اور فرمایا کہ اب بینک کے معاملات میں رخنہ اندازی کے مسئلے کے بارے میں دیگر حکام بھی کہہ رہے ہیں لیکن دنیا کے بڑے بینک ایران کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے کیوں تیار نہیں ہیں؟

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ دنیا کے بڑے بینکوں کی جانب سے ایران کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی وجہ ایرانو فوبیا ہے جسے امریکیوں نے شروع کیا اور اسے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آپ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ میں نے بارہا کہا ہے کہ امریکیوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور اس مسئلے کی وجہ واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات کی جانب شارہ کیا کہ کاغذ پر لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مالی ادارے ایران کے ساتھ معاملات انجام دیں لیکن عملی میدان میں دوسری طرح عمل کرتے ہیں تاکہ ایرانو فوبیا پیدا کیا جاسکے، آپ نے مزید فرمایا کہ امریکی کہتے ہیں کہ ایران دہشتگردی کا حامی ملک ہے اور ممکن ہے کہ دہشتگردی سے حمایت کی وجہ سے اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے۔

آپ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ باتیں بینکوں اور غیر ملکیوں کو کیا پیغام دے رہی ہیں؟ ان باتوں کا پیغام یہ ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات انجام دینے کے لئے اقدامات نہ کریں اور نتیجتا عملی طور پر بینک اور غیر ملکی سرمایہ دار ایران کے ساتھ معاملہ کرنے میں ڈر و خوف کا شکار ہوجاتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ البتہ دہشتگردی کے موضوع کے سلسلے میں ہم کہیں گے کہ امریکی دنیا کے تمام دہشتگردوں سے زیادہ بدتر ہیں اور موجودہ اطلاعات کے مطابق وہ نام نہاد دہشتگردوں کی مسلسل حمایت کر رہے ہیں۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی حکومت کی جانب سے ایرانو فوبیا کے ایک اور طریقہ یعنی عملی طور پر بینکوں اور غیر ملکی سرمایہ داروں کو منع کرنے کے مسئلے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران کی داخلی صورتحال دراصل خارجی ممالک کے تعاون نہ کرنے کی اہم وجہ ہے حالانکہ اس خطے میں آج ایران سے زیادہ پر امن ملک کوئی بھی نہیں ہے اور ایران کی داخلی صورتحال امریکہ جیسے ملک سے کہیں بہتر ہے کہ جہاں روزانہ متعدد افراد مارے جاتے ہیں اور حتی یورپی ممالک سے بھی زیادہ پر امن ہے اور خدا دشمنوں کی نظر بد سے بچائے، ایران کی داخلی صورتحال بہت زیادہ اچھی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی حکام کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے نظام اور کیفیت کو باقی رکھنے پر مسلسل تاکید کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے ایرانو فوبیا کا ایک واضح طریقہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا مقابلہ اس طرح کے دشمن سے ہے اور ہم چاہے کوئی بھی سرگرمی انجام دینا چاہ رہے ہوں ہمیں اپنے اس دشمن کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔

حضرت آیت اللہ خامنی ای نے گذشتہ ۳۷ سالوں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی و پیشرفت اور امریکہ کی دشمنی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ دشمنی آئندہ سو سالوں تک بھی جاری رہے گی تو خدا نظر بد سے بچائے ہم آئندہ سو سالوں میں بھی پیشرفت کریں گے۔

آپ نے مزید فرمایا کہ امریکہ ہمارا دشمن ہے، چاہے ہم اسکا اظہار کریں یا نہ کریں، چاہے اسے زبان پر لے کر آئیں یا نہ لے کر آئیں، یہ دشمنی کبھی ختم نہیں ہوگی۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے عدلیہ، مقننہ اور مجریہ، تمام انقلابی اداروں اور اسی طرح ہر ہر فرد کو ملک کی قدر وقیمت اور توانائیوں کی شناخت کی نصیحت کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ ہم امیر المومنین علیہ السلام کی طرح مظلوم لیکن طاقتور ہیں اور اگر ہم اپنی توانائیوں اور صلاحیتوں سے بہترین، انسانی ترین اور اسلامی ترین شکل میں استفادہ کریں تو ہم یقینی طور پر تمام تر رکاوٹوں کو عبور کر لیں گے۔

آپ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ راستہ ہموار نہیں ہے لیکن پتھریلا بھی نہیں ہے اور اگر ہم اپنی قدرت پر بھروسہ کریں تو یقیننا کامیابیاں اور بہت زیادہ ترقی و پیشرفت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کے آخری حصے میں بعض شہروں میں مجلس شورائے اسلامی کے دوسرے مرحلے کے انتخابات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دوسرے مرحلے کے انتخابات کی اہمیت پہلے مرحلے کے انتخابات سے کسی طور بھی کم نہیں ہے اور ووٹ ڈالنے کے اہل تمام افراد کو اس میں شرکت کرنی چاہئے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ انتخابات میں شرکت فیصلے کا تعین کرتا ہے کیونکہ اگر ووٹ ڈالنے کے لئے نہ جائیں تو یہ رغبت، کشش اور شناخت بیلٹ بکس میں منتقل نہ ہو سکے گی۔

رہبر انقلاب اسلامی کی گفتگو سے پہلے کوآپریٹو، محنت اور سماجی بہبود کے وزیر نے محنت کشوں کے دن کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے محنت کشوں اور پینشن یافتہ افراد کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران محنت کشوں اور مالکان کے درمیان ہمدردی اور رحمدلی کی بنیاد پر مہنگائی اور تنخواہ کے درمیان موجود فرق میں نمایاں کمی پیدا ہوئی ہے۔

جناب ربیعی نے چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی کو ملازمت کی فراہمی کے زریعے غربت کے خاتمے کے نظریے کا اہم محور قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیمہ کو مستحکم کرنے، اور ہیلتھ انشورنس سے عاری دس میلین شہریوں کا بیمہ کیا جانا، فقر و فساد سے مقابلہ، چائلڈ لیبر کی صورتحال کو بہتر بنانا، کو آپریٹو کمپنیوں کو توسیع دینا، محرم علاقوں میں علاج معالجے کی صورتحال کو بہتر بنانا، تکنیکی اور پیشہ ورانہ ترقی پر زور دیتے ہوئے با اختیار بنانا، معذوروں کی حمایت کے لئے بل اور انکے لئے ملازمتوں اور رہائش کا انتظام کرنا، سرپرست خواتین کے بیمے کا اجرا، اجتماعی مشکلات سے نمٹنا اور محنت کش کی شخصیت کا تحفظ کیا جانا وزارت کوآپریٹو، محنت اور سماجی بہبود کے اہم پروگرام اور سرگرمیاں رہی ہیں۔

 

 

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ خود مختار ملکوں کو ایک دوسرے کے زیادہ سے زیادہ قریب آنا اور بعض سامراجی طاقتوں کی رخنہ اندازیوں کے باوجود اپنے باہمی تعاون کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا چاہئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کے مطابق۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ خود مختار ملکوں کو ایک دوسرے کے زیادہ سے زیادہ قریب آنا اور بعض سامراجی طاقتوں کی رخنہ اندازیوں کے باوجود اپنے باہمی تعاون کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا چاہئے۔

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے اتوار کی شام رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی- رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں تہران اور پریٹوریا کے درمیان مختلف سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں تعاون میں توسیع پر زور دیا۔ آپ نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جنوبی افریقہ کی اس وقت کی نسل پرست حکومت سے رابطہ منقطع کر لئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ