جمعہ, 20 ستمبر 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
37
مضامین
420
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
380290

آپ کی ولادت باسعادت

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بتاریخ یکم رجب المرجب ۵۷ ھ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے (اعلام الوری ص ۱۵۵ ،جلاء العیون ص ۲۶۰ ،جنات الخلود ص ۲۵) ۔

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تشریف لائے تو آباؤ اجداد کی طرح آپ کے گھرمیں آوازغیب آنے لگی اورجب نوماہ کے ہوئے تو فرشتوں کی بے انتہا آوازیں آنے لگیں اورشب ولادت ایک نورساطع ہوا، ولادت کے بعد قبلہ رو ہو کرآسمان کی طرف رخ فرمایا،اور(آدم کی مانند) تین بار چھینکنے کے بعد حمد خدا بجا لائے،ایک شبانہ روز دست مبارک سے نور ساطع رہا، آپ ختنہ کردہ ،ناف بریدہ، تمام آلائشوں سے پاک اورصاف متولد ہوئے۔ (جلاء العیون ص ۲۵۹)۔

امام محمد باقر (ع) اہلبیت کے پاکیزہ اور نورانی سلسلے کے ایک فرد ہیں۔ آپ کی ذات عالم اسلام کی وہ عظیم علمی ذات ہے جس نے قرآن کے حقائق پہلی بار اس واضح انداز میں بیان کئے اور علوم کی پرتوں کو کھولا اس لئے آپ کا لقب ''باقر العلوم'' قرار پایا۔

١۔ابتدائیہ:

قرآن ہمیں لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنہ کے ذریعہ خلقت کے بہترین نمونوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ کوئی مکتب فکر اس وقت تک پائیدار نہیں ہوسکتا اگر اس میں کوئی عملی نمونہ نہ ہو۔ زیرِ نظر مقالے میں امام محمد باقر علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

ماہ رجب کی 10 تاریخ کو 195 ہجری کو مدینہ منورہ کے مبارک آسمان پر چودویں کا مبارک چاند محمد تقی الجواد کے نام سے طلوع ہوا، کہ جسے امام رضا (ع) نے اسلام کا مبارک ترین مولود قرار دے کر اس چاند کی روشنی میں مزید چار چاند لگا دئیے۔

آپ کے والد حضرت علی بن موسی الرضا سلام الله عليہ اور مادر گرامی خَيزُرَان سلام الله عليہا تھیں۔ امام جواد، اپنے والد امام رضا کی مبارک زندگی کے تقریبا آخری حصے میں، اس دنیا میں تشریف لائے اور اپنے وجود گرامی سے سلسلہ امامت کے منقطع ہونے کا گمان کرنے والوں کی باطل امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

امام ابو جعفر ؑ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی وفیاض تھے، اکثر لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے اور آپ ؑ کا فقراکے ساتھ نیکی کرنا مشہور تھا اور آپ کو آپ کے بہت زیادہ کرم اور سخاوت کی وجہ سے جواد کے لقب سے نوازا گیا

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام حضرت امام محمد تقی ؑ دنیا کے تمام فضائل کے حامل تھے ،دنیا کے تمام لوگ اپنے مختلف ادیان ہونے کے باوجود آپ ؑ کی غیر معمولی صلاحیتوں سے حیرت زدہ تھے ،آپ ؑ سات سال اور کچھ مہینے کی عمر میں درجۂ امامت پر فائز ہوئے ،آپ ؑ نے ایسے علوم و معارف کے دریا بہائے جس سے تمام عقلیں مبہوت ہو کر رہ گئیں ، تمام زمانوں اور آبادیوں میں آپ ؑ کی ہیبت اور آپ کی عبقری (نفیس اور عمدہ )صفات کے سلسلہ میں گفتگو ہونے لگی۔ اس عمر میں بھی فقہا اور علماء آپ ؑ سے بہت ہی مشکل اور پیچیدہ مسا ئل پوچھتے تھے جن کا آپ ؑ ایک تجربہ کار فقیہ کے مانند جواب دیتے تھے ۔ راویوں کا کہنا ہے کہ آپ ؑ سے تین ہزار مختلف قسم کے مسائل پوچھے گئے جن کے جوابات آپ ؑ نے بیان فرمائے ہیں ۔ظاہری طور پر اس حقیقت کی اس کے علاوہ اور کو ئی وجہ بیان نہیں کی جا سکتی ہے کہ شیعہ اثناعشری مذہب کا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم نے ائمہ اہل بیت ؑ کو علم ،حکمت ،اور فصل الخطاب عطا کیا ہے اور وہ فضیلت عطا کی ہے جو کسی شخص کونہیں دی ہے ہم ذیل میں مختصر طور پر اس امام ؑ سے متعلق بعض خصوصیات بیان کر رہے ہیں :

امامت اور ولایت کے آسمان کے آٹھویں ستارے امام رضا (ع) 11 ذی القعدہ 148 ہجری قمری کو مدینہ میں امام موسی کاظم (ع) کے گھر پیدا ہوئے، آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ خاتون تھا۔ امام رضا کے والدین کی شرافت اور برتری کسی پر پوشیدہ نہیں تھی اور نہیں ہے۔ امام (ع) کا نام علی اور لقب رضا رکھا گیا۔ 183 ہجری قمری میں ہارون الرشید ملعون کے امام کاظم (ع) کو شہید کرنے کے بعد، امام رضا 35 سال کی عمر میں مسند امامت اور ولایت پر جلوہ افروز ہوئے اور عالم کائنات کی ہدایت کا ذمہ خداوند کی طرف سے اپنے عہدے لیا۔