منگل, 24 نومبر 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
48
مضامین
454
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
538995
comintour.net
stroidom-shop.ru
obystroy.com
лапароскопия паховой грыжи

امام حسن عسکری (ع) نے سن ۲۳۲ھ،ق میں مدینہ میں ولادت پائی آپؑ اپنے بابا کی طرح عباسی خلفاء کے حکم کے مطابق سامراء کے عسکر نامی محلہ میں

 

(ع) نے خفیہ طور پر سیاسی سرگرمیاں انجام دیں نمونہ کے طور پر امام (ع) کے قریبی چاہنے والے عثمان بن سعید تیل بیچنے کے بہانے سرگرمی کیا کرتے اور امامؑ کے شیعہ تمام رقومات شرعی ان کے ذریعہ امامؑ تک پہنچاتے۔

 

امام حسن عسکری (ع) کا ایک موقف شیعوں کی مالی امداد اور حمایت میں پوشیدہ ہے بعض اوقات ایسا ہوتا کہ آپؑ کے چاہنے والوں میں جب کوئی تنگدستی کی شکایت کرتا تو آپؑ اس کی مشکلات کو دور کرتے امامؑ کا یہ قدم رکاوٹ بنتا تھا کہ وہ مالی مشکلات کی وجہ سے کہیں عباسی حکومت کا طرفدار نہ بن جائے اور اس کے سامنے ہاتھ پھیلانا شروع کر دے۔ ابو ہاشم جعفری کہتے ہیں: میں مالی حالات کا شکار ہو گیا میں سوچ رہا تھا کہ اپنی مالی مشکلات کا تذکرہ امام (ع) کو خط لکھ کر ارسال کروں لیکن مجھے شرم  محسوس ہو رہی تھی لیکن جب میں اپنے گھر پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ امامؑ نے سو درہم بھیجے ہیں اور ایک خط میں انہوں نے تحریر کیا کہ جب بھی تمہیں ضرورت محسوس ہو تو شرم نہ کرنا ہم سے مطالبہ کرنا اور خدا کی مدد سے تم اپنی مراد حاصل کر لو گے۔ امام حسن عسکری (ع) کی منجملہ سیاسی سرگرمیوں میں سے ایک یہ تھی کہ آپؑ نے شدید دباؤ اور سختیوں کے باوجود اپنے چاہنے والوں کو سیاسی تقویت پہنچائی کیونکہ شیعوں کے بڑی بڑی شخصیات سیاسی دباؤ کا شکار تھیں لہذا امام (ع) انہیں صبر و تحمل کی تلقین کرتے ہوئے سیاسی اور اجتماعی ذمہ داریوں کی جانب متوجہ کیا کرتے۔ امام (ع) نے علی بن حسین بن بابویہ کو ایک خط میں لکھا: ہمارے شیعہ میرے بیٹے کے ظہور تک مسلسل غم و اندوہ کا شکار رہیں گے میرا بیٹا وہ ہے جس کے بارے میں رسول خداؐ نے بشارت دی کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہے۔ امام حسن عسکری (ع) کی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ دیگر ائمہؑ کی نسبت خدا کی جانب سے عطا کردہ علمی صلاحیتوں کو زیادہ واضح کرتے کیونکہ آپؑ کی زندگی کے حالات کافی ناسازگار تھے بالخصوص جب امام ھادی علیہ السلام کو سامراء منتقل کیا گیا تو آپؑ شدید کنٹرول میں تھے جس کے نتیجہ میں بہت سے شیعوں کے دلوں میں بھی شک و تردید پیدا ہو گیا لہذا امام (ع) ان کی ہدایت اور گمراہوں سے ان کی نجات کے لئے بعض مزید علمی صلاحیتوں اور غیبی امداد کا سہارا لیتے۔ امام (ع) کی کاوشوں کا ایک نمونہ یہ تھا کہ آپؑ کا زمانہ ایسا تھا جس میں ہر طرف سے مختلف قسم کی افکار اسلامی معاشرہ کو دھمکا رہی تھیں لیکن آپؑ نے اپنے آباء و اجداد کی طرح ایک لمحہ بھی غفلت نہیں برتی اور اسلام مخالف تمام قسم کے منحرفانہ مکاتب فکر منجملہ صوفیوں، غالیوں، واقفیوں وغیرہ کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کی سازشوں پر پانی پھیر دیا۔ تاریخ کے اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسن عسکری (ع) کا زمانہ عباسی حکومت کا بدترین دور شمار ہوتا ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ حکام زمانہ کی عیش و عشرت کی وجہ سے بہت سی اسلامی اقدار کا خاتمہ ہو چکا تھا لہذا اگر امام (ع) کی مسلسل تلاش و کوشش نہ ہوتی تو عباسی حکومت کی سیاست کی وجہ سے اسلام کا خاتمہ ہو جاتا اگرچہ امام (ع) پر عباسی حکومت کا مکمل کنٹرول تھا لیکن اس کے باوجود بہت سے اسلامی مقامات پر امام (ع) کے اپنے نمائندے پائے جاتے تھے اور اس کے نتیجہ میں آپؑ مسلمانوں کے حالات سے باخبر رہتے تھے بہت سے شہروں میں مساجد اور دینی مراکز امام (ع) کے حکم سے تعمیر کئے گئے، منجملہ شہر قم میں مسجد امام حسن عسکری (ع)۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام (ع) اپنی امامت اور اپنے نمائندوں کے ذریعہ لوگوں کی تمام قسم کی مشکلات اور کمیوں کو دور کرنے کے درپے تھے۔ امام حسن عسکری (ع) کے دور میں سیاسی دباؤ اور محدودیت کی دو وجہیں تھیں ایک وجہ عراق میں شیعوں کے لئے حالات سازگار ہو رہے تھے اور وہ عباسی خلفاء کی حکومت کو جائز نہیں سمجھتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ امامت الہی امام علی (ع) کے بیٹوں میں باقی ہے اور دوسری جانب سے اس زمانہ میں صرف امام عسکری (ع) ہی تھے جو اس خاندان کی ممتاز شخصیت تھی، عباسی حکومت کو معلوم تھا کہ مھدی موعود (عج) امام حسن عسکری (ع) کی نسل سے ہوں گے لہذا ان کی کوشش تھی امام (ع) کے بیٹے کو قتل کردیں لہذا سخت دباؤ اور سختیوں میں امام (ع) پر مکمل کنٹرول رکھے ہوئے تھی۔

 

منبع: hawzah.net

امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک روایت میں امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرنے کے ثواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔

 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مندرجہ ذیل روایت کتاب کامل الزیارات سے نقل کی گئی ہے۔

 

اس روایت کا متن اس طرح ہے:

 

قال الامام الصادق علیہ السلام :

 

وَ مَنْ ذُکِرَ اَلْحُسَیْنُ عَلَیْهِ اَلسَّلاَمُ عِنْدَهُ فَخَرَجَ مِنْ عَیْنِهِ [عَیْنَیْهِ] مِنَ اَلدُّمُوعِ مِقْدَارُ جَنَاحِ ذُبَابٍ کَانَ ثَوَابُهُ عَلَی اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لَمْ یَرْضَ لَهُ بِدُونِ اَلْجَنَّةِ.

 

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

 

اگر کسی شخص کے ہاں امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو اور(ذکر حسین کی وجہ سے) مکھی کے پر کے برابر اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائے تو اس کا اجر و ثواب خدا پر ہے اور (بیشک)حق تعالی بہشت سے کمتر اس کے لیے راضی نہیں ہوگا۔

 

مشہور روایات کی بنیاد پر حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت سات ذی الحجة ١١٤ ہجری میں واقع ہوئی ہے (١) لہذا آج ان کی شہادت کے موقع پر ضروری ہے کہ ہم ان کی معرفت حاصل کرتے ہوئے ان کی تعلیمات میں کا مطالعہ کریں اور حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے اہم نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے امام علیہ السلام کے کلام کی تفسیر مخاطبین کے سامنے پیش کریں ۔‌

لقب باقر العلوم (علیہ السلام) کے مفہوم میں غور وفکر

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے امام محمد باقر علیہ السلام کے متعلق باقر العلوم کے لقب سے ملقب ہونے کے سلسلہ میں فرمایا : یقینا انہوں نے لقب باقرالعلوم کو اپنے آپ سے مخصوص کیا ہے کیونکہ آپ نے مختلف علوم کو واضح کیا ہے اور تمام علوم جیسے تفسیر، عقاید، فقہ اور اخلاق میں اسلامی نظریات کو بیان کیا ہے اور آپ نے اس سلسلہ میں اس قدر احادیث بیان کی ہیں کہ فقط محمد بن مسلم نے تیس ہزار حدیث ، امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کی ہیں (٢) ۔

امام محمد باقر علیہ السلام کی عظیم میراث، اسلامی علوم کی وضاحت

شیعوں کے عظیم الشان مرجع تقلید نے ائمہ علیہم السلام خصوصا امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل شدہ احادیث کی عظمت اور اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : افسوس کہ بہت سی احادیث جو اہل بیت علیہم السلام کا ذخیرہ تھیں ، ہم تک نہیں پہنچی ہیں ، اگرچہ ان احادیث کو جمع کرنے میں بہت زیادہ زحمت اٹھائی گئی تھی (٣) ، لیکن شیعوں کی اکثر احادیث جن کی تعداددسیوں ہزار سے زیادہ ہے ، فقط پانچویں اور چھٹے امام یعنی محمد بن علی الباقر اور جعفر بن محمد الصادق علیہما السلام سے نقل ہوئی ہیں اور ان میں سے ایک حصہ آٹھویں امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تینوں راہنما ایسے زمانہ میں زندگی بسر کر رہے تھے جب دشمنوں کا فشار بہت کم تھا اور بنی امیہ و بنی عباس آپس میں جنگ کر رہے تھے ، جس کی وجہ سے ان تینوں اماموں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی احادیث کو اپنے آبائو اجداد سے نقل کرکے ہم تک منتقل کی ہیں (٤) ۔

 

معظم لہ نے امام باقر (علیہ السلام) اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی عظیم تعلیمات کے متعلق اس طرح فرمایا :  اس وقت فقہی، اصولی،تفسیری، عقایدی ، اخلاقی جس کتاب کا بھی مطالعہ کریں اس میں قال الباقر (علیہ السلام) اور قال الصادق (علیہ السلام) ملتا ہے اور ان دو راہنمائوں نے ہمیں اسلامی علوم کی عظیم میراث عطا کی ہے ۔

 

 

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی ولادتِ با سعادت پہلی رجب المرجب سنّ ۵۷ ھ کو  یوم جمعہ مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپؑ کا اسم گرامی محمد رکھا گیا، ابو جعفر آپؑ کی کنیت اور آپؑ کے القاب بہت سے تھے جن میں باقرالعلوم سب سے زیادہ مشہور لقب ہے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کو اس لقب سے اس لئے ملقّب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم و معارف اورحقائق احکام و حکمت و لطائف کے ایسے خزانے ظاہر فرما دئیے جو لوگوں پر ظاہر و عیاں نہ تھے، آپؑ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپؑ والدہ ماجدہ اور والد گرامی دونوں کے اعتبار سے پیغمبر اکرمؐ، حضرت علیؑ اور حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی جانب منسوب ہیں اس لئے کہ آپؑ کے والد محترم حضرت امام زین العابدین، جناب امام حسین علیہ السلام کے فرزند ہیں اور والدہ ماجدہ کی جانب سے آپؑ امام حسنؑ کی جانب منسوب ہیں۔ حضرت امام محمد باقرؑ کی عظمت ہر ایک عام و خاص کی زبان پر تھی آپؑ کے زمانہ میں جب بھی ہاشمی، علوی اور فاطمی خاندان کی شرافت، عظمت، کرامت وغیرہ کی بات ہوتی تھی تو صرف آپؑ کو ہی مذکورہ تمام صفات کا وارث سمجھا جاتا تھا۔ آپؑ کی عظمت کے بارے میں بس اتنا کافی ہے کہ رسول اکرمؐ اپنے ایک صحابی (جناب جابر بن عبداللہ انصاری) کے ذریعہ آپؑ کو سلام کہا ہے۔ پیغمبر اکرمؐ نے اپنے صحابی سے فرمایا: اے جابر تم زندہ رہو گے اور میرے بیٹے محمد بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالبؑ سے ملاقات کرو گے جن کا نام توریت میں "باقر" ہے اور اس وقت میرا سلام انہیں پہونچانا۔ پیغمبر اکرمؐ کی وفات کے بعد جابر بن عبداللہ انصاری کو خدا نے طولانی عمر عطا کی اور ایک زمانہ ایسا آیا کہ ایک دن جناب جابر بن عبداللہ انصاری امام زین العابدینؑ کے گھر تشریف لائے اور گھر میں انہیں پایا جبکہ اس وقت امام محمد باقرؑ کا بچپنا تھا جناب جابر بن عبد اللہ انصاری نے  ان سے کہا میرے پاس آؤ، امام محمد باقرؑ قریب آئے تو انہوں نے کہا تھوڑا آگے چل کے جاؤ امام محمد باقرؑ چلے جب واپس آئے تو جناب جابر بن عبداللہ انصاری نے کہا: خدائے کعبہ کی قسم یہ بچہ پیغمبر اکرمؐ کی مکمل عکاسی کر رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے امام زین العابدینؑ سے پوچھا کہ یہ بچہ کون ہے؟ امامؑ نے فرمایا: یہ میرے بیٹے محمدِ باقر ہیں جو میرے بعد امام ہوں گے۔ یہ سنتے ہی جناب جابر بن عبداللہ انصاری کھڑے ہو گئے اور امام محمد باقرؑ کے پاؤں کا بوسہ لینے کے بعد کہا:میں آپؑ پر قربان ہو جاؤں اے فرزند پیغمبرؐ، آپؑ کو پیغمبر اکرمؐ نے سلام بھیجا یہ سنتے ہی امام محمد باقرؑ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا: میرا سلام ہو میرے جد امجد پر جب تک زمین و آسمان قائم ہیں اور آپ پر بھی اے جابر کہ آپ نے ان کا سلام مجھے پہونچایا ہے۔ (امالی شیخ صدوق، ص۲۱۳، چاپ سنگی)

 امام باقرؑ کا علم

امام محمد باقرؑ کی سیرت کا ایک پہلو آپؑ کے علم میں پوشیدہ ہے آپؑ کے علم کا سرچشمہ بھی دیگر ائمہ اطہارؑ کی طرح وحیِ پروردگار تھا لہذا آپؑ نے بھی بشری مکتب میں کہیں کچھ نہیں سیکھا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جناب جابر بن عبداللہ انصاری اپنی اس عمر میں بھی امام محمد باقرؑ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور ان سے کچھ سیکھ کر جاتے اور ہمیشہ عرض کیا کرتے تھے کہ اے باقر العلوم میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ بچپنے میں ہی خدائی علم سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ( علل الشرایع شیخ صدوق، ج۱، ص۲۲۲، چاپ قم)۔

عبداللہ بن عطاء مکی کہتے ہیں: میں نے کسی کے نزدیک دانشوروں و شاگردوں کو اتنا حقیر نہیں پایا جتنا امام محمد باقرؑ کے نزدیک پایا۔ حکم بن عتَیبہ امام محمد باقرؑ کی خدمت میں ایک چھوٹے بچہ کی طرح علم و دانش کے حصول کے لئے آتے تھے جبکہ وہ اپنے زمانے میں لوگوں کے نزدیک بہت بڑی علمی شخصیت کے مالک سمجھے جاتے تھے۔ ( ارشاد شیخ مفید، ص۲۴۶، چاپ آخوندی)۔ امام محمد باقرؑ کی علمی شخصیت کی حقیقت یہ ہے کہ جابر بن یزید جعفی جب آپؑ سے کوئی روایت نقل کرتے تو کہا کرتے کہ وصیّ اوصیاء، وارث علوم انبیاء محمد بن علی بن علی بن الحسینؑ سے میں نے یہ روایت نقل کی ہے۔ ( ارشاد شیخ مفید، ص۲۴۶، چاپ آخوندی)

 

 

ولادت

آفتابِ امامت جس افق سے بھی طلوع کرے اس کی کرنیں دیکھنے کے لئے آنکھوں میں تاب نہیں ہے اس کی تمازت حیات بخش ہے۔ گیارہ ذیقعدہ سن ۱۴۸ ھجری قمری مدینہ میں امام موسی بن جعفر علیھما السلام کے گھر ایک بچہ کی ولادت ہوئی جو اپنے بابا کے بعد ایمان، علم و امامت وغیرہ میں اپنی مثال آپ تھا جن کا نام علی رکھا گیا اور رضا کے لقب سے مشھور ہوئے۔

زمانہ

آٹھویں امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سن ۱۸۳ھجری قمری میں امام کاظم علیہ السلام کی شھادت کے بعد، پینتیس سالہ زندگی میں خدائی منصب یعنی امامت پر فائز ہوئے اور پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی اس زمانہ میں عباسی خلافت اپنے عروج پر تھی اور وہ علوی قیام سے محفوظ رہنے نیز شیعانِ حیدر کرار کے قلوب کو اپنی جانب مجذوب کرنے کی خاطر کوشان تھی کہ اس خاندان کے ساتھ ظاھری طور پر گہرے تعلقات قائم کرے اور اس طریقہ سے اپنی خلافت کے جواز پر مہر تصدیق لگانے میں کامیاب ہو پائے۔

علم و آگہی

ہمارے ائمۂ اطہار مقام عصمت و امامت نیز امامت کے تقاضہ کے مطابق علم و حکمت کے اعتبار سے اپنے زمانہ کے تمام افراد سے زیادہ آگاہ و عالم تھے اسی بنا پر ہمارے آٹھویں امام نے اپنے بابا کی شھادت کے بعد ہارون کی حکومت میں بے جھجک تبلیغ دین و امامت میں مشغول رہے جیسا کہ آپؑ کے بعض چاہنے والے خطرہ محسوس کرنے لگے لیکن آپؑ واضح طور پر بیان فرماتے کہ جس طرح ابو جھل نے پوری کوشش کی لیکن وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بال بھی ٹیڑھا نہیں کر سکا اسی طرح ہارون بھی مجھے کوئی نقصان نہیں پہونچا پائے گا۔

امام رضاؑ کی بعض خصوصیات

ابراہیم بن عباس کہتے ہیں: ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ امام رضا علیہ السلام نے گفتگو کرتے وقت کسی پر جور و ستم کیا ہو نیز ہم نے یہ بھی کبھی نہیں دیکھا کہ دوسرے کی گفتگو ختم ہونے سے پہلے امامؑ نے اپنی بات کا آغاز کیا ہو۔ وہ ہر گز کسی محتاج کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے تھے، نیکو کاری میں ہمیشہ سبقت لیتے اور مخفیانہ انفاق کرتے راتوں کی تاریکی میں فقراء کی مدد فرماتے ایک معمولی سے گھر میں سکونت پذیر تھے لیکن جب وہ باہر تشریف لے جاتے تو خود کو آراستہ کرتے ہوئے صاف ستھرا لباس پہن کر نکلتے تھے۔