بدھ, 08 اپریل 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
40
مضامین
437
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
461638

          
اجمالی تعارف:

نام: م۔ح۔م۔د

والد گرامی: حضرت امام حسن عسکری (علیہما السلام)

والدہ: نرجس خاتون (ملیکہ اور صقیل بہی ذکر ہوا ہے)

کنیت: ‏‏ابو القاسم ، ابا صالح

القاب: مہدی،بقیۃ اللہ ،منتظر،صاحب الامر،صاحب الزّمان قائم ،خلف صالح و۔۔۔۔۔۔

شجرہ نسب: محمّد بن حسن بن علیّ بن محمد بن علیّ بن موسی بن جعفربن محمّد بن علیّ بن حسن بن علیّ بن ابیطالب علیہم السلام۔

تاریخ ولادت: جمعۃ المبارک 15 شعبان المعظم سن 255 ہجری،

محلّ ولادت: سامراء

سال آغاز امامت:260 ہجری(آغاز امامت کے وقت حضرت مہدی (ع)کی عمر پانج برس تھی)

آغاز غیبت صغری:260 ہجری

آغاز غیبت کبری:329 ہجری

مدّت غیبت صغری: تقریبا 70 سال

مدّت غیبت کبری: اللہ اعلم (اللہ بہتر جانتا ہے کہ کب تک ہو گی۔

مدّت امامت: اللہ اعلم

عمر مبارک: اللہ اعلم

محل ظہور: وادئ حق کعبہ معلّی

نوّاب اربعہ:

1۔ عثمان بن سعید عمروی (متوفی سن 257 ہجری)

2۔ محمّد بن عثمان عمروی (متوفی سن  304 ہجری)

3۔ حسین بن روح نوبختی (متوفی سن 336 ہجری)

4۔ علیّ بن محمّد سمری (متوفی329 ہجری)

تواتر احادیث حضرت مہدی(ع):

وہ احادیث جن میں حضرت مہدیّ (ع) کا ذکر پایا جاتا ہے ، فریقین کی نظر میں متواتر ہیں ہم یہان فقط چند علماء اہل سنت کے اقوال کو ذکر کرتے ہیں :

1۔ زینی دحلان نے لکھا ہے کہ :

و الاحادیث التی جاء فیھا ذکر ظھور المہدی (ع) کثیرۃ،

زینی دحلان ، الفتوحات الاسلامیّہ ج 2 ص 238،المکتبۃ التجاریۃ الکبری، مصر۔

اور وہ احادیث جن میں حضرت مہدی کے ظہور کا ذکر ہوا ہے زیادہ اور متواتر ہیں ۔

2۔ شیخ محمّد بن رسول الحسینی البرزنجی نے اپنی کتاب الاشاعۃ لاشراط السّاعۃ میں یوں لکھا ہے کہ :

قد علمت انّ احادیث وجود المھدی وخروجہ آخر الزّمان و انّہ من عترۃ الرّسول (ص) من ولد فاطمۃ بلغت حدّالتواتر المعنویّ فلامعنی لانکارھا،

بتحقیق آپ جان چکے ہیں کہ احادیث وجود اور خروج مہدی آخری زمانہ میں اور یہ کہ مہدی عترت رسول (ص) اوراولاد فاطمہ میں سے ہیں تواتر معنوی کی حدّ کو پہنچ چکی ہیں بس ایسی احادیث کے انکار کی کوئی معنی اور وجہ نہیں ہے ۔

برزنجی ،محمّد بن حسن ،الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ،ص 112 باب 3

3۔ ابن حجر ہیثمی نے اپنی کتاب " الصواعق المحرقہ " میں لکھا ہے کہ:

والاحادیث التیّ جاء فیھا ذکر ظھور المھدی کثیرۃ متواترۃ،

ہیشمی ،ابن حجر ،الصواعق المحرقہ، ج 2 ص 211

4۔ ابو طالب تجلیل تبریزی علاّمہ محمّد بن حسن آسفوی کی کتاب "مناقب الشافی" سے نقل کرتے ہیں کہ:

و قد تواترت الاخبار عن رسول اللہ (ص) بذکر المھدیّ وانّہ من اھل بیتہ،

اور بتحقیق حضرت رسول خدا (ص) سے منقول روایات حضرت مہدی (ع) کے ذکر کے بارے میں اور اس میں کہ وہ اہل بیت رسول خدا (ص) سے ہیں ، متواتر ہیں۔

تبریزی ،ابوطالب تجلیل، تنزیہ الشیعہ الاثنی عشریۃ عن الشبھات الواھیۃ ،ص 385

5۔ علاّمہ قرطبی اپنی تفسیر "الجامع لاحکام القرآن " میں لکھتے ہیں کہ:

الاخبار الصحاح قد تواترت علی انّ المھدیّ من عترۃ الرّسول (ص)،

اور بتحقیق صحیح روایات اس امر پر متواتر ہیں کہ مہدی نسل رسول خدا (ص) سے ہیں ۔

قرطبی ،محمد بن احمد ،الجامع لاحکام القرآن، ج8 ص121

6 ۔ سید فاخر موسوی نے ابو الحسن آلسحری سے نقل کیا ہے کہ:

وقد تواترت الاخبار واستفاضت بکثرۃ رواتھاعن المصطفی (ص) بمجیئ المھدی وانہ من اھل البیت۔۔۔۔،

بتحقیق روات کی کثرت کی وجہ سے حضرت محمّد مصطفی (ع) سے منقول روایات خروج اور ظہور حضرت مہدی کے متعلق اور اس بارے میں کہ وہ اہل بیت رسول خدا (ص) سے ہیں مستفیضہ اور متواتر ہیں ۔

موسوی ،فاخر،التجلّی الاعظم ،ص 542، قم ایران۔

7۔ علامہ شیخ محمّد بن احمد سفارینی حنبلی اپنی کتاب " لوائح الانوار البھّیۃ " میں لکھتے ہیں کہ :

کثرت بخروجہ الروایات حتّی بلغت حد التواتر المعنوی فلا معنی لانکارھا،

سفارینی حنبلی ،محمد بن احمد ،لوائح الانوار البہیّہ، ج2 ص80

8۔ علامہ شبلنجی اپنی کتاب " نور الابصار ' ' میں تحریر کرتے ہیں:

تواترت الاخبار عن النبی (ص) انہ من اھل بیتہ وانہ یملا الارض عدلا،

حضرت رسول اکرم (ص) سے صادر ہونے والی روایات اس امر پر متواتر ہیں کہ مہدی آنحضرت (ص)کے اہل بیت میں سے ہیں اور زمین کو عدل سے بھر دیں گے ۔

شبلنجی ،مؤمن نور الابصار ،ص171، الشعبیّہ ، مصر اور، ص 189 ،دار الفکر ،بیروت۔

9۔ علاّمہ ابن صبان اپنی کتاب " اسعاف الرّغبین " میں لکھتے ہیں:

و قد تواترات الاخبار عن النبی (ص) بخروجہ و انّہ من اھل بیتہ وانہ یملا الارض عدلا،

بتحقیق حضور اکرم (ص) سے صادر ہونے والی روایات حضرت مہدی (ع) کے ظہور پر اور اس پہ کہ وہ اہل بیت رسول (ص) میں سے ہیں اور وہ زمین کو عدل سے بھر دیں گے ، متواتر ہیں ۔

ابن صبّان ،محمد بن علیّ ،اسعاف الرّاغبین ،ص140، باب 2

10- حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب " تھذیب التھذیب " میں محمّد بن حسین آبری سے نقل کرتے ہیں کہ:

وقد تواترت الاخبار واستفاضت بکثرة رواتها عن المصطفی (ص)فی المھدیّ وانہ من اھل بیتہ ۔۔۔،

بتحقیق راویون کی کثرت کی وجہ سے حضرت مصطفی (ص)

سے منقول روایات حضرت مہدی کے متعلق اور اس امر کے بارے میں کہ مہدی (ع) آنحضرت ( ص ) کے اہل بیت سے ہیں ، مستفیضہ و متواترہ ہیں ۔

عسقلانی، ابن حجر ،تھذیب التھذیب ،9ج ص126، دارالفکر بیروت، لبنان

11 ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی " فتح الباری " میں لکھتے ہیں کہ :

و فی صلاۃ عیسی ( ع ) خلف رجل من ھذہ الامّۃ مع کونہ فی آخر الزمان و قرب قیام الساعۃ دلالۃ للصحیح من الاقوال : انّ الارض لا تخلوا من قائم اللہ بحجّۃ،

حضرت عیسی ( ع) کی اس امّت میں ایک شخص کے پیچھے نماز پڑہنے میں حالانکہ یہ امر آخری زمانے میں قیامت برپا ہونے کے قریب ہو گا ، صحیح قول کی دلیل ہے کہ : زمیں حجت خدا سے خالی نہیں رہتی۔

عسقلانی، ابن حجر ،فتح الباری ج6 ص385، دار المعرفہ بیروت، لبنان۔

مجھے نہیں معلوم کہ ابن حجر کی نظر میں عیسی ( ‏ع ) کا امام اور مقتدی کون ہے ؟ اور کیوں اس شخصیت کو واضح بیان نہیں کیا جاتا ؟

البتہ بغض بیان حقیقت سے مانع ہوتا ہے ۔


امام عصر سے متعلق جوانوں کے لئے سوالات اور ان کے جواب:

س1 : اس وقت روئے زمین پر حجت خدا کون ہے ؟

ج2: بارہویں امام مہدی (عج)

س2: امام عصر کب اور کہاں پیدا ہوئے ؟

ج2: 15 شعبان المعظم 255 ہجری قمری میں سامرہ میں پیدا ہوئے ۔

س3: آپ کے والدماجد اور والدہ گرامی کا نام کیا ہے ؟

ج3: والد امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ نرجس خاتون ۖہیں ۔

س4: امام عصر کا نام کیا ہے اور کس نے رکھا ہے ؟

ج4: آپ کااصل نام (م ح م د (ہے او ر یہ نام رسول خدا ۖنے رکھا ہے ۔

س5: آپ کی کنیت کیا ہے ؟

ج5: ابو القاسم ،ابوصالح ،ابو عبداللہ،ابو ابراہیم اور ابوجعفر۔

س6: آپ کو امامت کے فرائض کب سونپے گئے ؟

ج6: ٨ربیع الاول ٢٦٠ ھ ق کو ۔

س7: اس وقت آپ کی عمر مبارک کیا ہے؟

ج7: اس وقت آپ کی عمر مبارک ١١٧٠سال ہے ۔

س 8: امام حسن عسکری ـ کی شہادت کے وقت بادشاہ وقت کون تھا ؟

ج8: معتمد عباسی حکمران وقت تھا ۔

س9:غیبت کی کتنی قسمیں ہیں ؟

ج9:غیبت کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

(غیبت صغری ...غیبت کبری ) تاریخ کے بیان کے مطابق غیبت صغری کی مدت 260 سے 239 تک اور غیبت کبری کی مدت 329 سے نامعلوم مدت تک ۔

س10 : امام زمانہ سے متعلق آئمہ معصومین کی کوئی حدیث پیش کریں ؟

ج10 : امام (عج)سے متعلق معصومین سے سینکڑوں کی تعداد میں مختلف مضامین کی حدیثیں شیعہ اوراہل سنت حضرات نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں لیکن آپ مثال کے طور پر اس حدیث کوملاحظہ فرمائیں جسے علامہ جوادی نے اپنے ترجمہ میں نقل کیا ہے کہ: امام محمد باقر (ع) کا ارشاد گرامی ہے کہ خلوص دل کے ساتھ ظہور قائم کا انتظار کرنے والا شہداء اور صدیقین میں شمار ہوتا ہے ،اس لئے کہ ایمان بالغیب سے بڑا کوئی ایمان نہیں ہے اور یہ انسان کو مجاہد کی صف میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے-

 

فاطمہ الزہراء (س)اسوہء کاملہ

حضرت زہراء (س)کو بعنوانِ اسوہ اور وہ بھی اسوۂ کاملہ پیش کرنا اقبال کی فراست

و بصیرت کی علامت ہے یعنی اقبال کی دید حضرت زہراء (س)کی شخصیت کی طرف اسوائیت کی دید ہے۔ پیروانِ دین اسلام و پیروانِ امامت وولایت کی جانب سے انبیاء کرام ومعصومین (ع) اور دیگر ذواتِ مقدسہ کی اسوائیت والا پہلو اکثر

موردِ غفلت واقع ہوتا ہے حالانکہ قرآن اور دین اسلام نے اُنہیں بعنوانِ اسوہ پیش کیا ہے جبکہ اس پہلو کو چھوڑ دیاجاتا ہے اور اس کے بجائے دوسرے پہلوئوں کو زیادہ بیان کیا جاتا ہے۔

معصومین (ع) کی زندگیوں کے دوسرے پہلوئوں سے بھی ہر مسلمان اور مومن کو آشنائی ہونی چاہیے لیکن کسی معصوم کی زندگی سے اگر مومن کی زندگی میں کچھ منتقل ہوسکتا ہے تو وہ بابِ اسوہ اور سیرت ہے جب تک معصوم کی زندگیوں کا مطالعہ بعنوانِ اسوہ نہ کیاجائے اس وقت تک فقط معصومین (ع) کی مدح وثناء کرنے سے، تحقیقاتِ علمی انجام دینے سے یا تاریخی معلومات اکٹھی کرکے اپنا اظہارِ عقیدت بارگاہِ معصومین میں پیش کرنے سے معصوم کی ذات سے کچھ بھی اس ذات میں منتقل نہیں ہوگا۔ چونکہ اہل ایمان کا عقیدہ ہے بلکہ تمام مسلمین کا بھی یہی عقیدہ ہونا چاہیے کہ خداوند تبارک وتعالیٰ نے انبیاء کرام اور آئمہ اطہار (ع) کا واسطہ فیض قراردیا ہے اور تمام فیوضاتِ ظاہری اور معنوی اُنہی ہستیوں کے توسط سے خداوند تبارک وتعالیٰ نے مخلوق تک پہنچائے ہیں کیونکہ یہ وسائطِ فیضِ خدا ہیں ان کی ذات سے مخلوق تک جو فیض پہنچتے ہیں ان میں سے ہدایت، معرفت اور علم ہے جو مقصدِ بعثت اور مقصدِ خلقتِ معصومین ہے۔ اگر مومن اور مسلمان اس دید سے انبیاء وآئمہ(ع) کو نہ دیکھے تو انبیاء اور آئمہ اس کیلئے واسطۂ فیض و ہدایت کی حیثیت نہیں رکھتے۔

بابِ اسوائیت اور بابِ سیرت

قرآن مجید میں رسول اللہ (ص) کو خداوند تبارک وتعالیٰ نے بطورِ اسوہ پیش کیا ہے ''لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَة'' حَسَنَة''''(سورہ احزاب، آیت ٢١)حضرت

ابراہیم کو خداوند تبارک وتعالیٰ نے بعنوانِ اسوہ پیش کیا اور جن انبیاء کا تذکرہ قرآن میں آیا ہے ان کیلئے اگرچہ اسوہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن وہ بھی اسوہ ہی کے طور پر پیش کئے گئے ہیں یعنی ان کی زندگی کی حکایت اور ان کے قصص اسوہ کے طور پر پیش کئے گئے ہیں جیسے حضرت موسیٰ کیلئے اسوہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن حضرت موسیٰ کو بھی خداوند تبارک وتعالیٰ نے مخاطبین قرآن کیلئے اسوہ کے طور پر پیس کیا ہے ورنہ قرآن میں حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کاتذکرہ نہ آتا اور نہ ہی دیگر انبیاء (ع) کا تذکرہ آتا۔ اسی

طرح سے آئمہ اطہار بھی بشریت کیلئے اسوہ ہیں لیکن اگر اسوہ کا عنوان مدّ

نظر نہ ہو تو مومن اور امام کا آپس میں ایک عقیدتی تعلق ہونے کے باوجود

ہدایت منتقل نہیں ہوتی۔ امام کی طرف سے اُمت کیلئے جو باب کھولا گیا ہے وہ

بابِ سیرت ہے یعنی امام یا نبی خداوند تبارک وتعالیٰ کی جانب سے ہدایت

انسان کیلئے مبعوث ہوتے ہیں حالانکہ ان کو معاشرے کے اندر اور بھی فراوان

مسائل نظر آتے تھے، لوگوں کے حسب ونسب کا باب بھی کھول سکتے تھے، علومِ بشری جو انسان نے علمی ترقی کے ذریعے کشف کئے ہیں ان علوم کا باب بھی انسان کے سامنے کھول سکتے تھے اور وہ چیزیں جو لوگوں کے اندر پہلے سے رائج تھیں ان میں بھی معصومین دلچسپی لے کر اُنہیں مزید پھیلا سکتے تھے لیکن آئمہ وانبیاء کو خدائے تعالیٰ نے اُمت کے اندر ایک نیا باب کھولنے کیلئے منصوب کیا وہ نیا باب اُمت کے اندر بابِ ہدایت ہے کہ اور دیگر مسائل چونکہ آئمہ

اور انبیاء کی بعثت کے محتاج نہیں ہیں اس لئے اس عنوان سے ان کو مبعوث بھی

نہیں کیا۔ اُمت نے بھی معصومین کی نسبت جس باب کو کھلونا ہے وہ بابِ سیرت

ہے۔

سیرت کا بند دروازہ بعض دروازے دشمنوں نے بند کرنے کی کوشش کی ہے اور کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے یہ دروازے بند ہوجائیں جیسے بابِ ولایت یا بابِ حکومت ہے اور اپنی ان کوششوں اور کاوشوں میں وہ بہت حد تک کامیاب ہوئے ہیں لیکن معصومین(ع) کی سیرت کا باب پیروکاروں نے خود بند کردیا ہے، یا توجہالت ونادانی کی وجہ سے یا دیگر اسباب کی بناء پر حالانکہ خدائے تعالیٰ نے بابِ سیرت اس لئے کھولا تھا کہ ان ہستیوں کو عنوانِ اسوہ قبول کیاجائے کیونکہ اسوہ کی نگاہ سے دیکھنے میں اور دیگر نگاہوں سے دیکھنے میں مثلاً فقط عقدیتی نگاہ سے دیکھنے میں بڑا فرق ہے، جب تک ہم اسوہ کی نگاہ سے اُنہیں نہیں دیکھتے اس وقت تک ایک رہبر، امام اور پیشوا، اُمت کی زندگی میں حضور پیدا نہیں کرسکتا حالانکہ امام کا اُمت کے اندر حضور بہت ضروری ہے۔ حضورِ رہبر سے مراد رہبرانہ حضور ہے یعنی بعنوانِ راہنما ان کی ہدایت اُمت کے اندر موجود ہو کہ جس کی اُمت محتاج ہے۔ ایسی امامت ورہبری اُمت کے کسی کام نہیں آتی جس میں امام اور رہبر، رہبری سے محروم ہو۔ یہ اُمت کو کوشش کرنی ہے، بعض اُمتوں نے ایسا رویہ اپنایا کہ اگرچہ جسمانی طور پر امام ان کے اندر تھے لیکن اُمت کے رویوں نے حضورِ رہبر اُمت کے درمیان ختم کردیا یعنی رہبر کو گوشہ نشین کردیا اور رابطہ ہدایت اس امام کے ساتھ برقرار نہیں کیا۔

مثلاً امیرالمومنین(ع) جسمانی طور پر اُمت کے اندر موجود ہیں لیکن اُمت کا رویہ اپنے امام کے ساتھ اس طرح ہے کہ اُمت نے امام کو بعنوانِ امام و رہبر قبول نہیں کیا یعنی اُمت نے رہبر کو اپنے درمیان سے نکال دیا یا یوں کہیں کہ اُمت نے رہبر وامام کو جلا وطن کردیا اور اپنے درمیان میں سے اس کا حضور ختم کردیا اور بلا امامت امام زندگی گزارنے کو ترجیح دی جس سے بہت برے نتائج سامنے آئے جو آج تک اُمت کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔


 

نبوت و امامت کا حضور

اس طرح سے اُمت کا یہ کام ہے کہ وہ امامت اور رہبریت کو اپنے رویہ اور عمل کے ذریعے اپنے اندر حاضر رکھے۔ ممکن ہے امام زندہ اور موجود ہوں اور اُمت میں حاضر ہوں لیکن اُمت ہدایت لینے کی توفیق پیدا نہ کرسکے اور ممکن ہے امام جسمانی طور پر اُمت کے اندر نہ ہوں بلکہ غائب ہوں جس طرح سے زمانۂ غیبت کی وجہ سے جو جسمانی طور پر اُمت میں موجود نہیں ہیں تو اُمت کی ذمہ داری یہ ہے کہ اس نبی یا اس امام کی امامت ورہبری وہدایت کو اپنے اندر حاضر رکھے بالفاظِ دیگر امام یا نبی کو اپنے اندر حاضر رکھے۔ آج مسلمانوں کے اندر نبی نہیں ہیں، بغیر نبوت کے زندگی بسرکررہے ہیں۔ ختم نبوت کا درحقیقت دقیق فلسفہ یہ ہے کہ پہلے خدا نے نبیوں کے حضورکا سلسلہ اپنے ذمے رکھا ہوا تھا یعنی اُمت کے اندر نبی کاحضور خدا کے ذمے تھا، خدا نے ہر اُمت کے اندر نبی کو حاضر رکھنا تھا لیکن ختم نبوت کے معانی یہ نہیں ہیں کہ یہ ذمہ داری خدا نے اب اُمت کو سونپ دی ہے کہ اب تمہیں نبی کو اپنے اندر حاضر رکھنا ہے۔

ممکن ہے امام یا نبی اُمت کے اندر جسمانی طور پر موجود ہوں لیکن اُمت بصیرت نہ رکھتی ہو اس کی بہت سی مثالیں ہیں؛ جیسے حضرت نوح اُمت کے اندر خدا کی طرف سے مبعوث ہوئے لیکن اُمت نوح کے ہوتے ہوئے بغیر نوح کے زندگی بسر کر رہی تھی یا اسی طرح سے حضرت لوط کے زمانہ میں اُمت بغیر لوط کے زندگی بسر کررہی تھی حالانکہ لوط موجود تھے۔ یعنی حضرت لوط کو بعنوانِ رہبر قبول نہیں کیا اس حیثیت سے رہبرانہ حضور محقّق نہیں ہونے دیاگیا اسی طرح دیگر انبیاء بھی ہیں کہ اُمتوں نے ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کردیں اور یہی عمل مسلمانوں کے اندر بھی تکرار ہوا۔

پیغمبراکرم (ص) کے بعد اُمت نے جو رویہ اپنایا اس کے نتیجے میں اُمت نے امیرالمومنین(ع) کو عنوانِ امام اپنے اندر حاضر ہونے نہیں دیا۔ اس حضور کی راہ میں اُمت کی جہالت، نادانی، سفاہت رکاوٹ بنی اور اسی طرح سے یہ سلسلہ غیبتِ امام تک جاری رہا اگرچہ امام خود جسمانی طور پر اُمت کے اندر موجود تھے، اُمت وجودِ امام یا حضورِ امام کو محسوس نہیں کررہی تھی، امام کو بعنوانِ امام قبول کرنا نہیں چاہتی تھی۔

یہی حالت ہمیں آج نظر آتی ہے کہ آئمہ اطہار وانبیائے کرام اُمت کے اندر آج بھی حاضر ہیں لیکن مقدس ہستیوں، شخصیات کے طور پر اور ایسی ہستیوں کے طور پر جن کے متعلق انسان احساسات اور عقیدت ومحبت رکھتے ہیں، امام ان عناوین سے اُمت کے اندر حاضر ہیں لیکن اسوہ کے طور پر حاضر نہیں ہیں یعنی اُمت چاہتی ہی نہیں کہ امام اسوہ بن کر ان کے اندر حاضر ہوں یہ اُمت کا عمل ہے اس کو ہم معمولی مثال میں بھی لحاظ کرسکتے ہیں مثلاً آج کی شخصیات جو زندہ ہیں ان کا حضور اُمت کے اختیار میں ہے، مثلاً فرض کریں کہ ایک بہت علمی شخصیت مجتہد ہے لیکن بعنوانِ مرجع، عوام اور اُمت کے اندر متعارف نہیں ہے، یہ شخصیت اسی اُمت وقبیلے کا ہے اُنہی کا بیٹا یا بھائی ہے اور اسی قوم سے ہے جسمانی طور پر بعنوانِ فرزند قوم حاضرہے یا ایک عالم کے طور پر ان کے اندر حاضر ہے لیکن ایک مرجع کے طور پر حاضر نہیں ہے اور مرجع کے طور پر کیوں حاضر نہیں ہے چونکہ اُمت نے اس کو مرجع کے طور پرقبول نہیں کیا لہٰذا اس کا مجتہدانہ حضور نہیں ہے یا ایک عالمِ دین کسی علاقے میں موجود ہے وہ ان کے ہر کام میں شریک ہے ویلفیئر کاکام کرتا ہے، رفاہی کام بھی کرتا ہے اور ہر قسم کی فعالیت میں شریک ہے لیکن بعنوانِ مبلّغ وہاں اس کی کوئی کارکردگی وسرگرمی نہیں ہے، یہ شخص بہت سارے عناوین کے تحت اُمت کے اندر حاضر ہے لیکن مبلّغ کے طور پر حاضر نہیں ہے، بعنوانِ مبلّغ اُمت کے اندر سے غائب ہے، خواہ نخواہ اس غیبت کے بھی اثرات پڑتے ہیں جس اُمت سے رہبر اور اسوہ غائب ہو اورجس اُمت سے رول ماڈل غائب ہو وہ اُمت اسوہ کے اثرات یا حکمت وہدایت سے محروم ہوجاتی ہے، حالانکہ خداوند تبارک وتعالیٰ نے اسی ہدایت کیلئے اُنہیں اسوہ بنا کر بھیجا تھا۔

اقبال کی عالمی بصیرت

اقبال پر خداوند تبارک وتعالیٰ نے یہ لطف کیا ہے کہ اُنہیں غیر معمولی بصیرت عطا کی ہے یہ بصیرتیں خدا نے سب کیلئے رکھی ہوئی ہیں لیکن دیتا خدا اُن کو ہے جو اس کے قدردان ہوں، جو اپنی ابتدائی بصیرت کو دُنیاوی چھوٹے اور گھٹیااُمور میں صرف کردیں خداتعالیٰ بصیرتِ برتر ان کو نہیں دیتا لیکن جو اپنے اندر اس

گوہر کے قدردان ہوتے ہیں، خدا اُنہیں بصیرتِ برتر و بصیرتِ عظیم عطا کرتا

ہے۔

تاریخ بشریت میں انگشت شمار لوگ ہیں جو بصیرتِ برتر کے مالک ہیں۔

عام لوگ وہی معمولی بصیرت کے لوگ ہوتے ہیں علماء میں بھی اکثریت معمولی

بصیرت کے حامل لوگ ہیں۔ صاحبانِ بصیرتِ برتر اور خواص کے اندر بھی بہت کم

اور انگشت شمار ہیں اور ان میں سے ایک اقبال ہیں۔ اقبال کی یہ نظم جو انہوں

نے حضرت سیدہ (س) کی بارگاہ میں بعنوانِ ہدیہ عقیدت پیش کی ہے جس کا عنوان ہی ان کی عالی بصیرت کی دلیل ہے، اوروہ عنوان یہ ہے :

''در معنیٰ این کہ سیدة نساء فاطمہ الزہرا سلام اﷲ علیھا اسوہ کاملہ است برائے نساء اسلام''

اقبال کے نزدیک حضرت زہراء (س) اسوہ ہیں اور کامل اسوہ ہیں، یعنی کیا؟ یعنی

اقبال چاہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ(س) کو اُمت کے اندر حاضر کریں، اسوہ یعنی

اُمت میں حضرت زہراء (س) کا حضور! یہ حضور اس حضور سے مختلف ہے جو

معتقدین، محبّین، مدّاحین اورذاکرین پیش کرتے ہیں۔ وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ

ہماری مجلس ہورہی ہے اور بی بی آئی ہوئی ہیں یہ حضور کہاں؟ اور وہ حضور جو

اقبال چاہ رہے ہیں وہ کہاں؟

حضور حضرت فاطمہ(س) اُمت میں

اقبال جس نقطے سے حضرت زہراء (س) کا حضورِ اُمت چاہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اُمت خود حضرت فاطمہ الزہراء (س)کو اپنے لئے اسوہ بنائے اور جب تک اُمت اسوائیت کی دید سے حضرت زہراء (س)کو نہیں دیکھتی حق زہرا کسی سے بھی ادا نہیں ہوگا۔

بے شک مدحِ زہراء (س) میں شعر کہیں، مثنویاں کہیں اور اولادِ حضرت زہرا ء

کیلئے آنسو بہائیں، جو مرضی ہے کریں لیکن جب تک لوگ حضرت زہراء (س)کو

ہدایت کے عملی اسوہ کے طور پر اپنی زندگیوں میں نہیں لاتے، اپنے معاشرے میں نہیں لاتے اس وقت تک حق زہرا ادا نہیں ہوتا، اس وقت تک حق خدا بھی ادا

نہیں ہوتا، یہ جو خدا نے فرمایا:

''وماقدرواﷲحق قدرہ'' تم لوگوں نے خدا کی قدر نہیں جانی۔ خدا کی قدر جاننے سے مراد یہ نہیں ہے کہ تم نے یااللہ یااللہ تھوڑا کہا ہے بلکہ تھوڑا اور اضافہ کردو، ذکر وورد بڑھا دو، نہ، تم نے خدا کی قدر ہی نہیں جانی یہ تمہیں معلوم نہیں کہ خدا کیا ہے اور خدا نے تمہارے لئے کیا کیا ہے؟ اور تمہیں کس دید اوربصیرت سے خدا کودیکھنا چاہیے؟ مثلاً فرض کریں کہ ایک عالم فاضل دانشور انسان کسی اُمت کے اندر جاتا ہے اور وہ اس کو خوب کھانا کھلاتے ہیں، خوب آئو بھگت کرتے ہیں اس کو ہدیہ وتحفے دیتے ہیں لیکن اس کے علم سے استفادہ نہیں کرتے تو وہاں یہ جملہ صدق کرتا ہے کہ انہوں نے اس کی قدر نہیں جانی۔ اگرچہ اس کو بہت زیادہ احترام بھی دیا لیکن اس کی قدر نہیں جانی، قدرِ عالم یعنی اس کے علم کی قدر، قدرِ امام یعنی اس کی امامت کی قدر ہے اور قدرِ اسوہ یعنی اس کی سیرت کی قدر کو کہتے ہیں لہٰذا جب تک زہرا ء (س) کو بعنوانِ سیرت نہیں اپنائیں گے حضرت زہراء (س) اُمت کے اندر حاضر نہیں ہوںگی۔ حضورِ زہراء (س) کیلئے ضروری ہے کہ آپ کو بعنوانِ اسوہ اپنائیں تاکہ حوزوں میں حضرت زہراء (س)

موجود ہوں، گھروں میں حضرت زہراء (س) موجود ہوں، معاشرے میں حضرت زہراء (س) موجود ہوں، آداب ورسوم میں حضرت زہرا ء موجود ہوں اور وہ بھی اسوہ اور

رول ماڈل بن کر موجود ہوں، تب ہی کچھ نہ کچھ حق زہراء (س) ادا ہوجائے گا۔

ہیرو اور رول ماڈل میں فرق

ہیرو اور رول ماڈل میں یہی فرق ہوتا ہے، معصومین کو بھی ہیرو کی نگاہ سے

دیکھتے ہیں۔ ہیرو اور قہرمان لوگوں کی زندگی میں نہیں ہوتا بلکہ فقط لوگوں

کے ذہنوں اور دلوں میں ہوتا ہے، اس سے محبت کی جاتی ہے اس کے سامنے اظہارِ عقیدت کیاجاتا ہے، گلہائے عقیدت اس کے سامنے نثار کئے جاتے ہیں چونکہ قہرمان اگر زندگیوں میں آجائے تو سب ہیرو بن جائیں گے، سب قہرمان ہوں گے حالانکہ قہرمان اور ہیرو سب نہیں ہوسکتے بلکہ ایک ہی ہوتا ہے، اس وجہ سے قہرمان کبھی بھی کسی کی زندگی میں نہیں آتا لیکن ذہنوں اور دلوں میں آتا ہے

خدا نے معصومین وانبیاء کو قہرمان سے زیادہ اسوہ اور رول ماڈل بنا کر پیش کیا ہے کیونکہ رول ماڈل انسان کی زندگی کا محرم ہے۔ اس کو ان کی زندگیوں کے اندر جانا ہے ان کے جزئی ترین افعال واعمال کے اندر جانا ہے، قہرمان نہیں جاسکتا لہٰذا جتنے بھی قہرمان ہیں، مثلاً جو کردار انسان نے خود افسانوی طور پر بنائے ہیں یا یہ جو واقعاً تاریخ میں قہرمان گزرے ہیں ان کی ادا کوئی بھی نہیں اپناسکا، ان کی کوئی بھی تقلید نہیں کرسکا، ان کی راہ پر کوئی بھی نہیں چل سکا صرف ان کی ستائش کی ہے خواہ وہ افسانوی قہرمان ہوں یا واقعی۔ ہیرو قابل تقلید نہیں ہوتا لیکن اسوہ قابلِ تقلید ہوتا ہے اس لئے ان کو زندگی میں لانا ضروری ہے۔ اقبال اس نظم میں حضرت زہراء (س) کو زندگیوں میں لانا چاہتے ہیں۔

دل جس کے شہر میں مدینے کی خوشبو محسوس کرتا ہے ۔ گویا مکہ میں صفا و مروہ کے درمیان دیدار یار کے لیے حاضر ہے ، عطر بہشت ہر زائر کے دل و جان کو شاداب و با نشاط کر دیتا ہے ۔ جس کے حرم میں ہمیشہ بہار ہے ۔ بہار قرآن و دعا ، بہار ذکر و صلوات ، شب قدر کی یادگار بہاریں ۔ دعا و آرزو کے گلدستے کی بہار جو تشنہ روحوں کو سیراب کر دیتی ہے ، ہر خستہ حال مسافر زیارت کے بعد تھکن سے بیگانہ ہو جاتا ہے ۔ ہر آنے والا شخص اس حرم میں قدم رکھنے کے بعد خود کو پردیسی اور بیگانہ محسوس نہیں کرتا۔

وہ ہستی کون ہے ؟ وہ کون ہے کہ جو مدینہ میں گمشدہ اپنی ماں زہرا (س) کی قبر کو ظاہر کیے بیٹھی ہے ؟ وہ کون ہے، جو زائرین کے لیے ماں کی طرح آغوش پھیلائے بیٹھی ہے ؟ وہ کون ہے کہ جسکا در زائرین کی گواہی کے مطابق، مشہد سے بھی زیادہ مانوس اور آشنا ہے ؟

اسے سب پہچانتے ہیں ۔ وہ سب کے دلوں میں آشنا ہے اگر اس کا حرم و گنبد اور گلدستے آنکھوں کو نور بخشتے ہیں تو اس کی محبت و عشق ، اس کی یادیں اور نام دلوں کو سکون بخشتے ہیں ۔ کیونکہ یہ حرم ، حرم اہل بیت ہے ۔مدفن یادگار رسول ، نور چشم موسی بن جعفر (ع)، آئینہ نمائش عفت و پاکی، حضرت فاطمہ ثانی ہے۔

تاریخ دوسری فاطمہ کا انتظارکر رہی ہے . انتظار کی گھڑی گذر جاتی ہے اور خانہ خورشید بھینی بھینی خوشبو سے بھر جاتا ہے. فاطمہ کے حضور جدید کی ٹھنڈک مدینہ کی فضاؤں پر چھا جاتی ہے اور کوثر سیدہ، وہی چشمہ کوثر پھوٹنے لگتا ہے. میں آپ کی حرم کی باغوں میں پناہ لیتا ہوں اور قدری اس ملکوتی سائے میں سستا لیتا ہوں. نہر استجابت کی کنارے بیٹھ جاتا ہوں اور خود ایک قطرہ بن جاتا ہوں اور آپ کے زائرین کی اشکوں کے دریا کے شفاف پانیوں میں آپ کے ضریح مقدس کو عقیدت کے پھولوں کی مالا پہنا دیتا ہوں اور اس ضریح میں سے آپ کی قبر مطہر کا نظارہ کرتا ہوں. یقین نہیں آتا! کیا میں اتنی آسانی سے آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہؤا ہوں! جبکہ آپ کی زیارت کوثر مدینہ کی گمشدہ کی زیارت کے ہم رتبہ ہے.....

کریمۂ اہل بیت حضرت معصومہ (س) فرزندِ رسول حضرت امام موسی کاظم (ع) کی دختر گرامی اور حضرت امام رضا (ع) کی ہمشیرہ ہیں۔ آپ کا اصلی نام فاطمہ ہے۔ آپ اور امام رضا ایک ہی ماں سے پیدا ہوئے ہيں، آپ کے مشہور نام خیزران، ام البنین اور نجمہ ہیں ۔ روایات کے مطابق حضرت فاطمۂ معصومہ یکم ذی العقدہ 173ھ ق کو مدینۂ منوّرہ میں پیدا ہوئيں، اور10ربیع الثانی 201 ہجری کو وفات پا گئیں ہے۔

حضرت فاطمۂ معصومہ (س) اہل بیت رسول کی اُن ہستیوں میں سے ہیں جو مقام عصمت کی حامل نہ ہوتے ہوئے بھی عظیم شخصیت کی مالک تھیں جیسے حضرت زینب کبری (س) اور حضرت ابو الفضل العبّاس (ع) تھے۔ آپ کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہيں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نےآپ کے والد گرامی حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی ولادت سے قبل ہی آپ کے مدفن کی پیشنگوئی کرتے ہوئے آپ کی زیارت کی فضیلت بیان فرمائی تھی۔ حضرت امام جعفر صادق (ع) نے اپنے ایک صحابی سے حضرت امام موسی بن جعفر (ع) کی طرف بچپن میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :

یہ میرا بیٹا موسی ہے، خداوندِ عالم اس سے مجھے ایک بیٹی عطا کرے گا جس کا نام فاطمہ ہو گا ۔ وہ قم کی سرزمین میں دفن ہو گی اور جس نے قم میں اس کی زیارت کی، اس پر بہشت واجب ہو گی ۔

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا :

بہت جلد قم میں میری اولاد ميں سے ایک خاتون دفن ہو گی جس کا نام فاطمہ ہے اور جو اس کی قبر کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہو گی۔ اس طرح کی احادیث و روایات حضرت معصومہ کے عظیم مقام و مرتبے کا بہترین ثبوت ہيں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی زبان سے زائر حضرت معصومہ کے لیے جنت کی بشارت اور وہ بھی وجوب کی حد تک بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

حضرت امام رضا (ع) کو چھوڑ کر، حضرت امام موسی کاظم (ع) کی اولاد ميں حضرت معصومہ ہی وہ ہستی ہیں جن کی فضیلت کے بارے میں آئمہ معصومین (ع) کی روایات ملتی ہيں ۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ آئمہ معصومین میں سب سے زيادہ اولاد حضرت امام موسی کاظم ہی کی تھیں۔ آپ کے برادر گرامی حضرت امام رضا (ع) سے روایت ہے :

جس نے ان کے حق کی معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کی اس کے لئے جنت ہے۔


حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادی، امام علی رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ اور امام محمد تقی جواد علیہ السلام کی پھپھو ہیں۔ آپ کی ولادت یکم ذیقعد 173 ھجری قمری اور دوسری روایت کے مطابق 183 ھجری قمری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ اور دوسری روایت کے مطابق خیزران تھا۔ آپ امام موسی کاظم علیہ السلام کی سب سے بڑی اور سب سے ممتاز صاحبزادی تھیں۔ ممتاز عالم دین شیخ عباس قمی اس بارے میں لکھتے ہیں: "امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادیوں میں سب سے بافضیلت سیدہ جلیلہ معظمہ فاطمہ بنت امام موسی کاظم علیہ السلام تھیں جو معصومہ کے نام سے مشہور تھیں"۔ آپ کا نام فاطمہ اور سب سے مشہور لقب معصومہ تھا۔ یہ لقب انہیں امام ھشتم علی رضا علیہ السلام نے عطا فرمایا تھا۔ اگرچہ زمانے نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی مسلسل گرفتاریوں اور زودھنگام شہادت کے ذریعے آپ سے باپ کی محبت چھین لی تھی لیکن بڑے بھائی کے شفقت بھرے ہاتھوں نے آپ کے دل پر غم کے بادل نہیں آنے دیئے۔ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا بچپن سے ہی اپنے بڑے بھائی امام علی رضا علیہ السلام سے سخت مانوس تھیں، انہیں کے پر مھر دامن میں پرورش پائی اور علم و حکمت اور پاکدامنی اور عصمت کے اس بے کران خزانے سے بہرہ مند ہوئیں۔ آپ کے مزید القاب میں طاہرہ، عابدہ، رضیہ، تقیہ، عالمہ، محدثہ، حمیدہ اور رشیدہ شامل ہیں جو اس عظیم خاتون کے فضائل اور خوبیوں کا ایک گوشہ ظاہر کرتے ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیعیان اہل بیت س کا ایک گروہ کافی دور سے امام موسی کاظم علیہ السلام کی زیارت کیلئے آیا لیکن آپ شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اس گروہ میں شامل افراد امام علیہ السلام سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتے تھے جو انہوں نے لکھ کر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کو سونپ دیئے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے ان تمام سوالات کے جوابات لکھ کر دوسرے دن انہیں واپس کر دیئے۔ واپس جاتے ہوئے اس گروہ کی امام موسی کاظم علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے اس واقعے کی خبر امام علیہ السلام کو دی۔ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے وہ سوالات اور جوابات دکھاو۔ جب امام علیہ السلام نے ان سوالات اور جوابات کو دیکھا تو فرمایا: "ابوھا فداھا" یعنی ایسی بیٹی کا باپ اس کے صدقے جائے۔ 200 ھجری قمری میں امام علی رضا علیہ السلام کو زبردستی مرو لائے جانے اور تقریباً ایک سال تک اہل بیت س کا آپ سے بے خبر رہنے پر حضرت فاطمہ معصومہ س کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اپنے بھائی کی خیریت سے واقفیت کی خاطر آپ 201 ھجری قمری میں مدینہ سے ایران کی طرف روانہ ہو گئیں۔ اس سفر میں آپ کے ساتھ جو پیش آیا اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات موجود نہیں ہیں لیکن تاریخ میں ذکر ہوا ہے کہ جب آپ ایران کے شہر "ساوہ" پہنچیں تو سخت بیمار ہو گئیں۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ وہ قریب ہی دوسرے شہر "قم" کا رخ کریں۔ جب حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے قم آنے کی خبر سعد اشعری کے خاندان تک پہنچی تو انہوں نے آپ کا استقبال کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں میں سے ایک شخص موسی بن خزرج رات کو ہی اس مقصد کیلئے گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ وہ سب سے پہلے حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور ان کی اونٹنی کی مہار تھام کر انہیں قم تک لے آیا۔
اہل قم کی طرف سے حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کا پرتپاک استقبال:
 علامہ مجلسی رہ تاریخ قدیم [378 ھجری قمری میں بڑے دانشمند حسن بن محمد کی طرف سے لکھی گئی] سے نقل کرتے ہیں: صحیح قول یہ ہے کہ جب حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے ساوہ آنے اور ان کے بیمار ہونے کی خبر آل سعد [عرب اشعری شیعہ خاندان] کو ملی تو انہوں نے ساوہ جانے اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کو اپنے ساتھ قم لانے کا فیصلہ کیا۔ ان میں موسی بن خزرج بن سعد اشعری بھی موجود تھا۔ جب وہ ساوہ پہنچے تو موسی بن خزرج نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کے اونٹ کی مہار کو تھام لیا اور قم تک لے آیا۔ وہ انہیں اپنے گھر لے گیا۔ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا تقریباً 16 یا 17 دن تک اس کے گھر میں رہیں اور پھر فوت ہو گئیں۔ چونکہ آپ کا روز شہادت 10 یا 12 ربیع الثانی ہے لہذا یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قم میں آپ 23 ربیع الاول 201 ھجری قمری کو داخل ہوئیں۔ قم کے اکثر لوگ اہل بیت س سے محبت کرنے والے تھے لہذا حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کے یہاں آنے پر انتہائی خوش ہوئے۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا جتنے دن زندہ رہیں اپنے بھائی امام علی رضا علیہ السلام کی جدائی میں روتی رہیں۔ موسی بن خزرج کے گھر میں ایک جگہ عبادت کیلئے مخصوص تھی جہاں حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا عبادت کیا کرتی تھیں۔ یہ جگہ آج بھی موجود ہے اور وہاں پر ایک مسجد تعمیر کر دی گئی ہے۔
حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کی رحلت اور کفن و دفن: