جمعرات, 14 نومبر 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
39
مضامین
428
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
402861

 

 

 

 

قر آن مجید میں نسل آدم کے لئے دو اصطلاحین استعمال ہوئی ہیں ایک بشر کی اصطلاح اور دوسری انسان کی اصطلاح بشری طور پر اولاد آدم کا ہر فرد دیگر حیوانات کی طرح ہی حرکت کرتا ہے۔ سانس لیتا ہے۔خوراک ہضم کرتا ہے اور افزائش نسل کرتا ہے یعنی نوع اعتبار سے ایک بشر میں اور دیگر حیوانات میں کوئی فرق نہیں البتہ حضرت بشر کو دیگر حیوانات سے جو چیز ممتاز اور جدا کرتی ہے وہ اس میں پائی جانے والے ارتقاءاور تنزل کی صلاحیت ہے ۔ علماءاخلاق کے نزدیک جو شے اس بشر کو ارتقا کی طرف لے جاتی ہے۔وہ انسانیت ہے اور جو شے اسے تنزل کی طرف دھکلتی ہے وہ مادیت ہے۔

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ نسل آدم میں جنم لینے والا کوئی بھی بچہ نہ ہی تو انسان ہوتا ہے اور نہ ہی جانور ۔اسے اپنے ماں باپ ۔ استاد اور ماحول اگر انسانیت کی طر ف مائل کریں تو وہ بشر سے ترقی کر کے انسان بنتا ہے۔ لیکن اگر اسے مادیت کی طر ف دھکیل دیں تو وہ تنزل کر کے اسفل سافلین بنتا ہے۔

ابتدائی آفرینشن سے ہی بشر پر یہ دونوں قوتیں کام کر رہی ہیں۔ایک قوت بشر کو انسانیت کی طر ف کھینچ رہی ہے۔اور دوسری قوت بشر کو مادیت کی طر ف دھکیل رہی ہے۔بشر کو انسانیت کی طرف کھینچنے والی قوت کا مرکز ذات پروردگار ہے۔اور بشر کو مادیت کی طر ف دھکیلنے والی قوت کا مرکز ابلیس ملعون ہے۔

تاریخ بشریت میں جہا ں ہمیں مادیت کی طرف دھکیلنے والی بے شمار شخصیتوں کا پتہ ملتا ہے ۔وہیں ہمیں انسانیت کی طرف دعوت دینے والے انبیاءاور مرسلین کا سراغ بھی ملتا ہے۔یہ دونوں طر ف کے نمائندے ہمیشہ سے ہی اولاد آدم کی فلاح وبہبود کا نعرہ لگاہ کر ہی اپنی اپنی تبلیغات میں مصروف عمل ہیں۔لیکن ان دونوں کے پیغام دعوت میں نمایاں فرق ہے۔ تمام الہی نمائندوں نے عوام الناس کو خود پرستی کی بجائے خدا پرستی اور مادیت کی بجائے الہیات کی طرف دعوت دی ہے۔جب کہ تمام ابلیسی کارندوں نے لوگوں کو خدا پرستی کی بجائے ۔ اناپرستی اور الہیات کی بجائے مادیات کی طرف دعوت دی ہے۔

اسلامی تعلیمات و روایات کے مطابق الہیات کی طرف دعوت دینے والے رہنما اور ہادی ،رسول ،نبی یا امام کہلاتے ہیں۔ اور ان کا شجر فکر خدا وند متعال کی وحی اور الہام سے پروان چڑھتا ہے۔ جب کہ مادیت کی طرف دعوت دینے والے ابلیسی کارندوں کی فکر وہم وگمان اور شیطانی توہمات و وسواس سے نشو ونما پاتی ہے۔

جب ہم امامت کے بارے میں بات کریں تو ہمیں معلوم ہونا چاہئیے کہ اگرچہ رسالت اور امامت دونوں کا مرکز اور محور ذات پروردگار ہے۔ لیکن رسالت کی تاریخ امامت سے کئی سو سال قدیم ہے۔امامت دراصل رسالت کے ساتھ ساتھ ایک اور امتیازی خصوصیت کا نام ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میںارشاد باری تعالی ہے ” اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے چند کلمات کے ذریعے حضرت ابراہیم کا امتحان لیا اور انھوں نے پورا کر دیا تو اس نے کہا کہ ہم تمھیں لوگوں کا امام بنا رہے ہیں۔“

   نسب:‌

امام حسن عسکریؑ کا نسب آٹھ واسطوں سے شیعوں کے پہلے امام علی بن ابی طالبؑ سے ملتا ہے۔ آپؑ کے والد گرامی شیعہ اثناعشریہ کے دسویں امام امام علی النقیؑ ہیں۔ شیعہ مصادر کے مطابق آپ کی والدہ کنیز تھی جنکا نام حُدیث یا «حدیثہ» تھا۔[1] کچھ اور اقوال کے مطابق آپکی مادر گرامی کا نام "سوسن"[2] اور "عسفان"[3] یا "سلیل"[4] بتایا گیا ہے اور دوسری عبارت میں"کانت من العارفات الصالحات"( یعنی وہ عارفہ اور صالحہ خواتین میں سے تھیں") کے ساتھ آپ کا تعارف کروایا گیا۔[5]

آپ کا صرف ایک بھائی جعفر تھا جو امام حسن عسکری کے بعد امامت پر دعوا کرنے کی وجہ سے جعفر کذاب کے نام سے معروف ہوا اور امام حسن عسکری کی اور کوئی اولاد ہونے سے انکار کرتے ہوئے خود کو امامت کی میراث کا اکیلا دعویدار قرار دیا۔[6]سید محمد اور حسین آپ کے دوسرے بھائی تھے۔[7]

    القاب:

آپ کے القاب صامت، ہادی، رفیق، زکی، نقی لکھے گئے۔ کچھ مورخین ںے آپکا لقب "خالص" بھی کہا۔ "ابن الرضا" کے لقب سے امام جوادؑ، امام ہادیؑ اور امام حسن عسکریؑ مشہور ہوئے[8]۔ امام حسن عسکریؑ کے والد محترم امام ہادیؑ نے تقریباً 20 سال اور 9 مہینے سامراء میں زندگی بسر کی۔ اسی وجہ سے یہ دو امام "عسکری" کے نام سے مشہور ہوئے، "عسکر" سامراء کا ایک غیر مشہور عنوان تھا۔[9]جیسے امام حسن اور امام حسن عسکری کے مشترک نام ہونے کی وجہ سے امام حسن عسکری کو "اخیر" کہا جاتا ہے ۔[10]

احمد بن عبیداللہ بن خاقان نے امام عسکریؑ کی ظاہری صورت یوں بیان کی ہے: آپ کالی آنکھیں، بہترین قامت، خوبصورت چہرہ اور مناسب بدن کے مالک تھ

    کنیت:

آپؑ کی کنیت ابو محمد تھی۔ بعض کتابوں میں ابوالحسن[11]، ابوالحجہ[12]، ابوالقائم[13] مذکور ہیں۔

    تولد:

معتبر منابع کے مطابق آپ مدینہ میں پیدا ہوئے۔[14]بعض نے آپ کی جائے پیدائش سامرا ذکر کی ہے۔ [15] کلینی اور اکثر متقدم امامی منابع آپ کی ولادت ربیع الثانی ۲۳۲ھ [16] شمار کرتے ہیں۔ بلکہ اسے امام نے خود ایک روایت میں بیان کیا ہے ۔[17] شیعہ اور سنی بعض قدیمی مصادر میں حضرت کی ولادت 231ھ میں ہونے کا ذکر ہے۔[18] شیخ مفید نے اپنے بعض آثار میں گیارہویں امام کی ولادت کو 10 ربیع الاخر ذکر کی ہے۔[19] چھٹی صدی میں یہ قول متروک ہو گیا اور اس کی جگہ 8ربیع الاول معروف ہو گیا[20] اور امامیہ کے ہاں یہی مشہور قول بھی ہے۔ بعض اہل سنت اور شیعہ مآخذ حضرت کی پیدائش کا سال ۲۳۱ھ نیز لکھتے ہیں۔[21]

  شہادت:

مشہور قول کے مطابق امام عسکریؑ ربیع الاول سنہ۲۶۰ھ کے شروع میں معتمد عباسی کے ہاتھوں 28 سال کی عمر میں مسموم ہوئے اور اسی مہینے کی 8 تاریخ کو 28 سال کی عمر میں سرّ من رأی (سامرا) میں جام شہادت نوش کرگئے۔[22] البتہ ربیع الثانی اور جمادی الاولی میں شہید ہونے کے بارے میں بھی بعض روایات ملتی ہیں۔[23] طبرسی نے اعلام الوری میں لکھا ہے کہ اکثر امامیہ علما نے کہا ہے کہ امام عسکری زہر سے مسموم ہوئے اور اس کی دلیل امام صادقؑ کی ایک روایت ہے جس میں آپؑ فرماتے ہیں «و الله ما منّا الا مقتول شہيد».[24] بعض تاریخی گزارشات کے مطابق یہ سمجھ میں آتا ہے کہ معتمد سے پہلے کے دو خلیفے بھی امام عسکریؑ کو قتل کرنے کے درپے تھے۔ ایک روایت میں مذکور ہے کہ معتز عباسی نے حاجب کو حکم دیا کہ وہ امامؑ کو کوفہ کے راستے میں قتل کرے لیکن لوگوں کو جب پتہ چلا تو یہ سازش ناکام ہوئی۔[25] ایک اور گزارش کے مطابق مہتدی عباسی نے بھی امام کو زندان میں شہید کرنے کا سوچا لیکن انجام دینے سے پہلے اس کی حکومت ختم ہوئی۔[26] امام عسکریؑ سامرا میں جس گھر میں اپنے والد ماجد امام ہادی علیہ السلام دفن ہوئے تھے ان کے پہلو میں دفن ہوئے۔[27]

    ازواج:‌

مشہور قول کے مطابق امام عسکریؑ نے بالکل زوجہ اختیار نہیں کی اور آپکی نسل ایک کنیز کے ذریعے آگے بڑھی جو کہ حضرت مہدی(عج) کی مادر گرامی ہیں۔ لیکن شیخ صدوق اور شہید ثانی نے یوں نقل کیا ہے کہ امام زمان(عج) کی والدہ کنیز نہ تھیں بلکہ امام عسکریؑ کی زوجہ تھیں۔[28]

منابع میں امام مہدی(عج) کی والدہ کے مختلف اور متعدد نام ذکر ہوئے ہیں اور منابع میں آیا ہے کہ امام حسن عسکریؑ کے زیادہ تر خادم رومی، صقلائی اور ترک تھے[29] اور شاید امام زمانہ(عج) کی والدہ کے نام مختلف اور متعدد ہونے کی وجہ امام حسن عسکری کی کنیزوں کی تعداد کا زیادہ ہونا ہی ہو یا پھر امام مہدی(عج) کی ولادت کو خفیہ رکھنے کی وجہ سے آپ کی والدہ کے نام متعدد بتائے جاتے تھے۔

لیکن جو بھی حکمت تھی۔ آخری صدیوں میں امام زمانہ (عج) کی والدہ کے نام کے ساتھ نرجس کا عنوان شیعوں کے لئے باعث پہچان تھا۔ دوسری طرف جو سب سے مشہور نام منابع میں ملتا ہے وہ صیقل ہے۔[30]

دوسرے جو نام ذکر ہوئے ہیں ان میں سوسن[31]، ریحانہ اور مریم[32] بھی ہیں۔

من وعظ اخاه سراً فقد زانه و من وعظ علانیة فقد شانه

 جو اپنے مومن بھائی کو تنہائی میں نصیحت کرتا ہے وہ اس کی شان بلند کر دیتا ہے اور جو علانیہ نصیحت کرتا ہے وہ اس برادر مومن کو رسوا کر دیتا ہے ۔

(تحف العقول،ص۵۲۰)

ما اقبح بالمومن ان تکون له رغبه تذله

مومن کے لئے کتنا برا ہے کہ وہ ایسی چیزوں کی خواہش کرے جو اس کے لئے ذلت اور رسوائی کا سبب بنتی ہیں ۔

(تحف العقول،ص۵۲۰)

اقل الناس راحة الحقود

کینہ رکھنے والے کو کبھی آرام نہیں ملتا ۔

(تحف العقول،ص۵۱۸)

"اربعین" کا لفظ عربی زبان میں چالیس کے عدد کے لئے بولا جاتا ہے. اسلامی کلچر میں اس لفظ کو قرآن و احادیث کی روشنی میں مختلف پہلو خصوصا اخلاقی ، تربیتی اور عرفانی اعتبار سے بہت اہمیت حاصل ہے جن کا آنے والی سطور اختصار کے ساته ذکر کیا جاے گا. شیعہ کلچر میں ان امور کے ساته ساته امام حسین علیہ السلام کے اربعین کے عنوان سے بهی اس لفظ کو مزید اھمیت اور عظمت کی نگاہ سے دیکها جاتا ہے. گذشتہ چند سالوں سے اربعین حسینی کے موقع پر کربلاے معلی میں ایک بہت بڑی تعداد میں مومنین و عاشقان حسین ابن علی علیہ السلام کے اکٹها ھونے نے اربعین کے لفظ سے دنیا کی دیگر قوموں کو بهی آشنا کر دیا ہے.

امید ہے امام حسین علیہ السلام کی یاد کو محرم و عاشور سے اربعین تک اس قدر مفید و هدف مند طریقے سے منایا جائے کہ لوگوں کی ظاهری و معمولی آشنائی ایک عمیق شناخت و معرفت میں تبدیل ھو جائے.

اربعین قرآن کی نظر میں

قرآن میں اربعین کا ذکر چند پہلو سے آیا ہے؛

1- حضرت موسی علیہ السلام کی خصوصی تعلیم و تربیت

قرآن نے دو جدا سوروں کی دو آیات میں حضرت موسی علیہ السلام کی چالیس روزہ تعلیمی و تربیتی میعاد کا ذکر فرمایا ہے.

﴿ وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَى أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ ﴾(سورہ بقرة: آیت51)

اور یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے موسی سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا پهر تم نے موسی کے جانے بعد بچهڑے کو اپنا خدا بنا لیا در حالیکہ تم ظالم تهے.

وَوَاعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً( سورہ اعراف 142)

اس الٰہی اور حسینی(ع) جھنڈے کے نیچے لوگ خودبخود منظم ہوجاتے ہیں۔

کربلا وہ سرزمیں کہ جس کا نام سنتے ہی دل سے اک آہ سی اٹھتی ہے۔

کربلا وہ ریگستانِ خشک و بے آب جو انسانیت اور کمال کا بیکراں سمندر یے کہ جس کے اندر عظیم گوهر، مظلومیت کے غلاف میں پنهاں ہیں جن کو ڈھونڈنے کے لئے چشمِ بصیرت کی ضرورت ہے، ان کی تلاش کے لئے ماہر غواص چاہئیں، اسکے لئے جوانمردی اور معرفت کی ضرورت ہے۔

قریباً چودہ صدیاں بیت گئیں لیکن واقعہ کربلا آج بھی اسی طرح زندہ ہے، آج بھی غمِ حسین علیہ السلام میں قلب فگار ہیں اور آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں۔ اگر ایک سروے انجام دیا جائے کہ جس کا عنوان یہ ہو کہ" کس شخصیت کے لئے دنیا میں سب سے زیادہ آنسو بہائے گئے، بہائے جاتے ہیں اور بہائے جائیں گے" تو یقیناً جواب میں حسین علیہ السلام کا نام لیا جائے گا۔

واقعہ کربلا سے لے کر آج تک اور تا قیامت، یہ وہ واحد ہستی ہیں کہ جسے یاد رکھا گیا اور رکھا جائے گا۔ جب اور جہاں حسین(ع) کا نام آئے گا وہاں دیگر شهیدان و غازیانِ کربلا کو بھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

’’ہر سال محرم آتا ہے اور ہمارے دلوں پر لگے اس زخم کو تازہ کر جاتا ہے، وہ زخم کہ جو سال کے باقی مہینوں میں پرانا ہو جاتا ہے لیکن محرم کے آتے ہی اس زخم سے تازہ خون رسنا شروع ہو جاتا ہے، بارِ الها! یہ کیسا غم ہے جو کم ہی نہیں ہوتا، زمانے کا دستور ہے جب کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اول روزِ مرگ، پھر سوم، اسکے بعد دسواں، اور آخر میں چالیسواں، سال کے بعد برسی ایک سال، دو سال، تین سال، دس سال، بیس سال اور پھر فراموشی، لیکن حسین(ع) کے لئے۔۔۔ یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘