جمعرات, 09 جولائی 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
46
مضامین
445
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
495706

 

مقدمہ

اس تحریر میں ہم امام رضا (ع) کی سیاسی زندگی اور انکے دور میں رونما ہونے والے مہم واقعات اور انکی ان حوادث کے سامنے عملی سیرت کو بیان کریں گے۔ اس اصلی ہدف و موضوع کو بیان کرنے سے بہلے مقدمے کے طور پربعض مطالب کو ذکر کیا جا رہا ہے:

سياست کیا ہے ؟

سیاست کے چند پہلو ہیں ؟

سیاست کی اقسام کتنی ہیں ؟

علم سیاست کا موضوع کیا ہے ؟

علم سیاست کے اصول کیا ہیں ؟

سیاست کس مرکز و محور کے گرد گھومتی ہے ؟

پہلے مرتبے پر یہ جاننا چاہیے کہ علم سیاست کیسے وجود میں آیا ہے ؟ اور اسی طرح اسکے بارے میں بھی بحث کرنا ہو گی کہ کیا آئمہ اطہار (ع) سیاست مدار تھے اور کیا وہ سیاست میں بھی اپنا کردار ادا کرتے تھے کہ ہم انکی سیاسی زندگی کے بارے میں بحث کریں ؟

معنی و مفہوم سياست:

سیاست کلی طور پر ملک اور عوام کے انتظام اور بندوبست کرنے کو کہتے ہیں، یہ سیاست کی کلی تعریف ہے، البتہ بعض کتب میں ممکن ہے سیاست کی اس سے مختلف تعریف کی گئی ہو، جیسے اپنے ذاتی و روز مرہ کے امور جیسے غذا، لباس، رہائش، شادی وغیرہ جیسے امور کو بھی سیاست امور ذاتی میں داخل کریں، جیسے ایک دانشور نے سیاست کی تعریف ایسے کی ہے کہ:

سیاست یعنی اپنے روز مرہ کے امور کا انتظام اور بندوبست کرنا۔

اقسام سياست:

سیاست داخلی،

سیاست خارجی

ان دونوں اقسام کی اپنی الگ الگ قسمیں ہیں:

سياست داخلی:

الف: معاشرے کے امور میں نظم و ضبط برقرار کرنا،

ب: اپنے معاشرے میں غیروں کی سیاست کو داخل نہ ہونے دینا،

سياست خارجی:

الف: دوسری ملتوں پر اپنا اثر چھوڑنا تا کہ وہاں نظم و ضبط برقرار ہو سکے اور ان پر کوئی ظلم بھی نہ کر سکے، کیونکہ تمام انسان اس لحاظ سے کہ انسان ہیں، آپس میں متحد ہیں، اس لیے ایک انسان پر دوسرے کی خدمت کرنا واجب ہے۔

امام علی عليہ السلام نے فرمایا ہے کہ:

فَإِنَّهُمْ صِنْفَانِ: إِمَّا أَخٌ لَکَ فِي الدِّينِ، وَ إِمَّا نَظِيرٌ لَکَ فِي الْخَلْقِ،

ہر انسان یا تیرا دینی بھائی ہے، یا اپنی خلقت میں تیری طرح کا ہونے میں، تیرا بھائی ہے۔

نہج البلاغہ، عھد نامہ مالک اشتر

پس تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ہر انسان پر فرض ہے کہ اپنے دوسرے بھائی کی نظم و ضبط کو ایجاد کرنے اور ظلم و ستم کو دور کرنے میں، اسکی مدد کرے، اور اسی کا سیاست خارجی ہے۔

 

روی عن القاضی نور اللہ عن الصادق علیہ السلام : 

ان اللہ حرما و ھو مکہ الا ان رسول اللہ حرما و ھو المدینۃ اٴلا و ان لامیر الموٴمنین علیہ السلام حرما و ھو الکوفہ الا و ان قم الکوفۃ الصغیرۃ اٴلا ان للجنۃ ثمانیہ ابواب ثلاثہ منہا الی قم تقبض فیہا امراٴۃ من ولدی اسمہا فاطمۃ بنت موسی علیہا السلام و تدخل بشفاعتہا شیعتی الجنۃ باجمعہم ۔ 

امام صادق علیہ السلام سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا: ""خداوند عالم حرم رکھتا ہے اور اس کا حرم مکہ ہے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ) حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم مدینہ ہے۔ امیر المومنین علیہ السلام حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم کوفہ ہے۔ قم ایک کوفہ صغیر ہےجنت کے آٹھ دروازوں میں سے تین قم کی جانب کھلتے ہیں ، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا :میری اولاد میں سے ایک عورت جس کی شہادت قم میں ہوگی اور اس کا نام فاطمہ بنت موسیٰ ہوگا اور اس کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔۔ 

 

قال الصادق علیہ السلام من زارھا عارفا بحقہا فلہ الجنۃ 

امام صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں کہ جس نے معصومہ علیہا السلام کی زیارت اس کی شان ومنزلت سے آگاہی رکھنے کے بعد کی وہ جنت میں جا ئے گا 

 

اٴلا ان حرمی و حرم ولدی بعدی قم 

امام صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں آگاہ ہو جاوٴ میرا اور میرے بیٹوں کا حرم میرے بعد قم ہے ۔ 

 

حضرت معصومہ علیہا السلام امام رضاعلیہ السلام کی نظر میں

 

 عن سعد عن الرضا علیہ السلام قال : یا سعد من زارھا فلہ الجنۃ ۔ 

 ثواب الاٴعمال و عیون اخبار الرضا علیہ السلام: عن سعد بن سعد قال : ساٴلت ابا الحسن الرضا علیہ السلام عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر علیہا السلام فقال : من زارھا فلہ الجنۃ 

سعد امام رضاعلیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے سعد جس نے حضرت معصومہ علیہا السلام کی زیارت کی اس پر جنت واجب ہے ۔ 

”ثواب الاعمال“ اور ”عیون الرضا “ میں سعد بن سعد سے نقل ہے کہ میں نے امام رضاعلیہ السلام سے سیدہ معصومہ علیہا السلام کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا حضرت معصومہ علیہا السلام کی زیارت کا صلہ بہشت ہے 

 

کامل الزیارۃ : عن ابن الرضا علیہ السلام قال: من زار قبر عمتی بقم فلہ الجنۃ 

امام جوادعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ جس نے میری پھوپھی کی زیارت قم میں کی اس کے لئے جنت ہے

 

حضرت معصومہ علیہا السلام کا مقام و منزلت

 

اب یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ معصومہ علیہا السلام کو معصومہ کا لقب کس نے دیا؟ 

معصومہ کا لقب حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنی بہن کو عطا کیا۔ آپ اس طرح فرماتے ہیں: 

 

من زار المعصومۃ (سلام اللہ علیہا)بقم کمن زارنی 

جس نے معصومہ علیہا السلام کی زیارت قم میں کی وہ اس طرح ہے کہ اس نے میری زیارت کی

اب جب کہ یہ لقب امام معصوم علیہ السلام نے آپ کو عطا فرمایا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ان کی ہم رتبہ ہیں ۔ 

امام رضاعلیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ وہ شخص جو میری زیارت پر نہیں آسکتا وہ میرے بھائی کی زیارت شہرری میں اور میری بہن کی زیارت قم میں کرے تووہ میری زیارت کا ثواب حاصل کرلے گا

[۱۶:۲۳, ۱۳۹۹/۲/۲۶]  شہادت حضرت علی (ع) کی نگاہ میں:

 

✒️ : ارشد حسین

 

???? شہادت کا درجہ ایک ایسا عظیم مرتبہ ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا بلکہ یہ ان لوگوں کے حصے میں آجاتا ہے جو خدا وند متعال کے انتخاب شدہ ہوتے ہیں . پس جو شخص بھی راہ خدا میں اپنی جان کا نظرانہ پیش کرتا ہے وہ خدا کا محبوب ترین بندوں میں سے شمار ہوتا ہے  لیکن  ہم اس مقالے میں شہادت کو مولا علی علیہ السلام کی نگاہ سے بیان کرنے کی کوشش کرینگے کہ آپ (ع)  حضرت رسول اللہ (ص)  کے بعد اس کائنات کی افضل ترین شخصیت ہونے کے بعد بھی راہ خدا میں قتل ہوجانا اور راہ خدا میں اپنی جان کا نذرانہ پیش  کرنااپنے لۓ سعادت اور فخر سمجھتے تھے جس سے شہادت کی فضیلت و مقام واضح اور روشن ہوجاتا ہے کہ اس کائنات کی دوسری بڑی شخصیت شہادت کی تمنا کرتی ہوئی نظر آتی ہے.

 

اسلام میں شہادت کی فضیلت : 

 

???? شہادت اور راہ خداوند متعال قتل ہونے کی اس قدر فضیلت ہے کہ خداوند متعال نے قرآن میں فرمایا کہ ولا تحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون يعني خداوند فرماتا ہے کہ جو لوگ راہ خدا میں قتل ہوجاتے ہیں ان کو مردہ مت کہو بلکہ وہ اپنے رب کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ 

(آل عمران 169)

 

???? اسی طرح حضرت رسول مکرم اسلام (ص) بھی شہادت کے متعلق فرماتے ہوۓ نظر آتے ہیں جو وما ينطق عن الهواء ان هو إلا وحي يوحی کا مصادق اور صادق رسول ہیں آپ(ص) فرماتے ہیں:

          
اجمالی تعارف:

نام: م۔ح۔م۔د

والد گرامی: حضرت امام حسن عسکری (علیہما السلام)

والدہ: نرجس خاتون (ملیکہ اور صقیل بہی ذکر ہوا ہے)

کنیت: ‏‏ابو القاسم ، ابا صالح

القاب: مہدی،بقیۃ اللہ ،منتظر،صاحب الامر،صاحب الزّمان قائم ،خلف صالح و۔۔۔۔۔۔

شجرہ نسب: محمّد بن حسن بن علیّ بن محمد بن علیّ بن موسی بن جعفربن محمّد بن علیّ بن حسن بن علیّ بن ابیطالب علیہم السلام۔

تاریخ ولادت: جمعۃ المبارک 15 شعبان المعظم سن 255 ہجری،

محلّ ولادت: سامراء

سال آغاز امامت:260 ہجری(آغاز امامت کے وقت حضرت مہدی (ع)کی عمر پانج برس تھی)

آغاز غیبت صغری:260 ہجری

آغاز غیبت کبری:329 ہجری

مدّت غیبت صغری: تقریبا 70 سال

مدّت غیبت کبری: اللہ اعلم (اللہ بہتر جانتا ہے کہ کب تک ہو گی۔

مدّت امامت: اللہ اعلم

عمر مبارک: اللہ اعلم

محل ظہور: وادئ حق کعبہ معلّی

نوّاب اربعہ:

1۔ عثمان بن سعید عمروی (متوفی سن 257 ہجری)

2۔ محمّد بن عثمان عمروی (متوفی سن  304 ہجری)

3۔ حسین بن روح نوبختی (متوفی سن 336 ہجری)

4۔ علیّ بن محمّد سمری (متوفی329 ہجری)

تواتر احادیث حضرت مہدی(ع):

وہ احادیث جن میں حضرت مہدیّ (ع) کا ذکر پایا جاتا ہے ، فریقین کی نظر میں متواتر ہیں ہم یہان فقط چند علماء اہل سنت کے اقوال کو ذکر کرتے ہیں :

1۔ زینی دحلان نے لکھا ہے کہ :

و الاحادیث التی جاء فیھا ذکر ظھور المہدی (ع) کثیرۃ،

زینی دحلان ، الفتوحات الاسلامیّہ ج 2 ص 238،المکتبۃ التجاریۃ الکبری، مصر۔

اور وہ احادیث جن میں حضرت مہدی کے ظہور کا ذکر ہوا ہے زیادہ اور متواتر ہیں ۔

2۔ شیخ محمّد بن رسول الحسینی البرزنجی نے اپنی کتاب الاشاعۃ لاشراط السّاعۃ میں یوں لکھا ہے کہ :

قد علمت انّ احادیث وجود المھدی وخروجہ آخر الزّمان و انّہ من عترۃ الرّسول (ص) من ولد فاطمۃ بلغت حدّالتواتر المعنویّ فلامعنی لانکارھا،

بتحقیق آپ جان چکے ہیں کہ احادیث وجود اور خروج مہدی آخری زمانہ میں اور یہ کہ مہدی عترت رسول (ص) اوراولاد فاطمہ میں سے ہیں تواتر معنوی کی حدّ کو پہنچ چکی ہیں بس ایسی احادیث کے انکار کی کوئی معنی اور وجہ نہیں ہے ۔

برزنجی ،محمّد بن حسن ،الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ،ص 112 باب 3

3۔ ابن حجر ہیثمی نے اپنی کتاب " الصواعق المحرقہ " میں لکھا ہے کہ:

والاحادیث التیّ جاء فیھا ذکر ظھور المھدی کثیرۃ متواترۃ،

ہیشمی ،ابن حجر ،الصواعق المحرقہ، ج 2 ص 211

4۔ ابو طالب تجلیل تبریزی علاّمہ محمّد بن حسن آسفوی کی کتاب "مناقب الشافی" سے نقل کرتے ہیں کہ:

و قد تواترت الاخبار عن رسول اللہ (ص) بذکر المھدیّ وانّہ من اھل بیتہ،

اور بتحقیق حضرت رسول خدا (ص) سے منقول روایات حضرت مہدی (ع) کے ذکر کے بارے میں اور اس میں کہ وہ اہل بیت رسول خدا (ص) سے ہیں ، متواتر ہیں۔

تبریزی ،ابوطالب تجلیل، تنزیہ الشیعہ الاثنی عشریۃ عن الشبھات الواھیۃ ،ص 385

5۔ علاّمہ قرطبی اپنی تفسیر "الجامع لاحکام القرآن " میں لکھتے ہیں کہ:

الاخبار الصحاح قد تواترت علی انّ المھدیّ من عترۃ الرّسول (ص)،

اور بتحقیق صحیح روایات اس امر پر متواتر ہیں کہ مہدی نسل رسول خدا (ص) سے ہیں ۔

قرطبی ،محمد بن احمد ،الجامع لاحکام القرآن، ج8 ص121

6 ۔ سید فاخر موسوی نے ابو الحسن آلسحری سے نقل کیا ہے کہ:

وقد تواترت الاخبار واستفاضت بکثرۃ رواتھاعن المصطفی (ص) بمجیئ المھدی وانہ من اھل البیت۔۔۔۔،

بتحقیق روات کی کثرت کی وجہ سے حضرت محمّد مصطفی (ع) سے منقول روایات خروج اور ظہور حضرت مہدی کے متعلق اور اس بارے میں کہ وہ اہل بیت رسول خدا (ص) سے ہیں مستفیضہ اور متواتر ہیں ۔

موسوی ،فاخر،التجلّی الاعظم ،ص 542، قم ایران۔

7۔ علامہ شیخ محمّد بن احمد سفارینی حنبلی اپنی کتاب " لوائح الانوار البھّیۃ " میں لکھتے ہیں کہ :

کثرت بخروجہ الروایات حتّی بلغت حد التواتر المعنوی فلا معنی لانکارھا،

سفارینی حنبلی ،محمد بن احمد ،لوائح الانوار البہیّہ، ج2 ص80

8۔ علامہ شبلنجی اپنی کتاب " نور الابصار ' ' میں تحریر کرتے ہیں:

تواترت الاخبار عن النبی (ص) انہ من اھل بیتہ وانہ یملا الارض عدلا،

حضرت رسول اکرم (ص) سے صادر ہونے والی روایات اس امر پر متواتر ہیں کہ مہدی آنحضرت (ص)کے اہل بیت میں سے ہیں اور زمین کو عدل سے بھر دیں گے ۔

شبلنجی ،مؤمن نور الابصار ،ص171، الشعبیّہ ، مصر اور، ص 189 ،دار الفکر ،بیروت۔

9۔ علاّمہ ابن صبان اپنی کتاب " اسعاف الرّغبین " میں لکھتے ہیں:

و قد تواترات الاخبار عن النبی (ص) بخروجہ و انّہ من اھل بیتہ وانہ یملا الارض عدلا،

بتحقیق حضور اکرم (ص) سے صادر ہونے والی روایات حضرت مہدی (ع) کے ظہور پر اور اس پہ کہ وہ اہل بیت رسول (ص) میں سے ہیں اور وہ زمین کو عدل سے بھر دیں گے ، متواتر ہیں ۔

ابن صبّان ،محمد بن علیّ ،اسعاف الرّاغبین ،ص140، باب 2

10- حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب " تھذیب التھذیب " میں محمّد بن حسین آبری سے نقل کرتے ہیں کہ:

وقد تواترت الاخبار واستفاضت بکثرة رواتها عن المصطفی (ص)فی المھدیّ وانہ من اھل بیتہ ۔۔۔،

بتحقیق راویون کی کثرت کی وجہ سے حضرت مصطفی (ص)

سے منقول روایات حضرت مہدی کے متعلق اور اس امر کے بارے میں کہ مہدی (ع) آنحضرت ( ص ) کے اہل بیت سے ہیں ، مستفیضہ و متواترہ ہیں ۔

عسقلانی، ابن حجر ،تھذیب التھذیب ،9ج ص126، دارالفکر بیروت، لبنان

11 ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی " فتح الباری " میں لکھتے ہیں کہ :

و فی صلاۃ عیسی ( ع ) خلف رجل من ھذہ الامّۃ مع کونہ فی آخر الزمان و قرب قیام الساعۃ دلالۃ للصحیح من الاقوال : انّ الارض لا تخلوا من قائم اللہ بحجّۃ،

حضرت عیسی ( ع) کی اس امّت میں ایک شخص کے پیچھے نماز پڑہنے میں حالانکہ یہ امر آخری زمانے میں قیامت برپا ہونے کے قریب ہو گا ، صحیح قول کی دلیل ہے کہ : زمیں حجت خدا سے خالی نہیں رہتی۔

عسقلانی، ابن حجر ،فتح الباری ج6 ص385، دار المعرفہ بیروت، لبنان۔

مجھے نہیں معلوم کہ ابن حجر کی نظر میں عیسی ( ‏ع ) کا امام اور مقتدی کون ہے ؟ اور کیوں اس شخصیت کو واضح بیان نہیں کیا جاتا ؟

البتہ بغض بیان حقیقت سے مانع ہوتا ہے ۔


امام عصر سے متعلق جوانوں کے لئے سوالات اور ان کے جواب:

س1 : اس وقت روئے زمین پر حجت خدا کون ہے ؟

ج2: بارہویں امام مہدی (عج)

س2: امام عصر کب اور کہاں پیدا ہوئے ؟

ج2: 15 شعبان المعظم 255 ہجری قمری میں سامرہ میں پیدا ہوئے ۔

س3: آپ کے والدماجد اور والدہ گرامی کا نام کیا ہے ؟

ج3: والد امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ نرجس خاتون ۖہیں ۔

س4: امام عصر کا نام کیا ہے اور کس نے رکھا ہے ؟

ج4: آپ کااصل نام (م ح م د (ہے او ر یہ نام رسول خدا ۖنے رکھا ہے ۔

س5: آپ کی کنیت کیا ہے ؟

ج5: ابو القاسم ،ابوصالح ،ابو عبداللہ،ابو ابراہیم اور ابوجعفر۔

س6: آپ کو امامت کے فرائض کب سونپے گئے ؟

ج6: ٨ربیع الاول ٢٦٠ ھ ق کو ۔

س7: اس وقت آپ کی عمر مبارک کیا ہے؟

ج7: اس وقت آپ کی عمر مبارک ١١٧٠سال ہے ۔

س 8: امام حسن عسکری ـ کی شہادت کے وقت بادشاہ وقت کون تھا ؟

ج8: معتمد عباسی حکمران وقت تھا ۔

س9:غیبت کی کتنی قسمیں ہیں ؟

ج9:غیبت کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

(غیبت صغری ...غیبت کبری ) تاریخ کے بیان کے مطابق غیبت صغری کی مدت 260 سے 239 تک اور غیبت کبری کی مدت 329 سے نامعلوم مدت تک ۔

س10 : امام زمانہ سے متعلق آئمہ معصومین کی کوئی حدیث پیش کریں ؟

ج10 : امام (عج)سے متعلق معصومین سے سینکڑوں کی تعداد میں مختلف مضامین کی حدیثیں شیعہ اوراہل سنت حضرات نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں لیکن آپ مثال کے طور پر اس حدیث کوملاحظہ فرمائیں جسے علامہ جوادی نے اپنے ترجمہ میں نقل کیا ہے کہ: امام محمد باقر (ع) کا ارشاد گرامی ہے کہ خلوص دل کے ساتھ ظہور قائم کا انتظار کرنے والا شہداء اور صدیقین میں شمار ہوتا ہے ،اس لئے کہ ایمان بالغیب سے بڑا کوئی ایمان نہیں ہے اور یہ انسان کو مجاہد کی صف میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے-