پیر, 20 مئی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
406
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
324846

تم پر واجب ہے اور تمہارے حق میں بہتر ہے کہ اس حقیقت کی قائل ہوجاؤ که ہم اہل بیت رسول (ص) قائد و رہبر اور تمام امور کی اساس و محور، روئے زمین پر خلفاء اللہ، خدا کی مخلوقات پر اس کے امین اور شہروں اور قریوں میں اس کی حجت ہیں؛

    یہی عقیدہ ہمارے حق میں بہتر ہے

قال الامام المهدي، صاحب العصر و الزّمان سلام اللّه عليه و عجّل اللّه تعالى فرجه الشّريف:

الَّذى يَجِبُ عَلَيْكُمْ وَ لَكُمْ أنْ تَقُولُوا: إنّا قُدْوَةٌ وَ أئِمَّةٌ وَ خُلَفاءُ اللّهِ فى أرْضِهِ، وَ اُمَناؤُهُ عَلى خَلْقِهِ، وَ حُجَجُهُ فى بِلادِهِ، نَعْرِفُ الْحَلالَ وَالْحَرامَ، وَ نَعْرِفُ تَأويلَ الْكِتابِ وَ فَصْلَ الْخِطابِ.(1)

ترجمہ : امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا: تم پر واجب ہے اور تمہارے حق میں بہتر ہے کہ اس حقیقت کی قائل ہوجاؤ که ہم اہل بیت رسول (ص) قائد و رہبر اور تمام امور کی اساس و محور، روئے زمین پر خلفاء اللہ، خدا کی مخلوقات پر اس کے امین اور شہروں اور قریوں میں اس کی حجت ہیں؛ ہم حلال و حرام کو جانتے اور سمجھتے ہیں اور قرآن مجید کی تفسیر و تأویل کی معرفت رکھتے ہیں.

    خاتم الاوصیاء کے صدقے بلائیں ٹل جاتی ہیں

قالَ عليه السلام : أنَا خاتَمُ الاَْوْصِياءِ، بى يَدْفَعُ الْبَلاءُ عَنْ أهْلى وَشيعَتى.(2)

فرمایا: میں نبی اکرم (ص) کا آخرین وصی اور خاتم الاوصیاء ہوں اور میرے صدقے میرے اہل اور میرے شیعوں سے بلائیں اور آفات ٹل جاتی ہیں.

اصول دین و مذہب میں عقیدہ امامت ہر شخص کے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح توحید، عدل، نبوت اور قیامت یعنی اگر کوئی شخص اللہ کی وحدانیت و عدالت کا قائل ہے تو اس کے لئے عقیدہ امامت پر ایمان تکھنا بھی ضروری ہوجاتا ہے ـ علم کلام میں اس ضرورت کی توجیہ " نظریہ لطف " سے کی گئی ہے ـ اس لئے اگرہم ذات باری تعالی، کو عادل تسلیم کرتے ہیں تو اس کا لازمی و منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی جانب سے ہر زمانے میں کسی نہ کسی عہدہ دار ہدایت وراہنمائی کا وجود بھی ضروری ماننا پڑے گا ـاگر چہ وہ ظاہر نہ ہو اور پردہ غیب میں رہ کر ہی ہدایت کے کام کو آگے بڑھارہا ہو ـ اس لئے کہ خود حضرت باری تعالی کا ارشاد و اعلان ہے کہ ہم نے کوئی زمانہ ایسا نہیں چھوڑا یا کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں ہادی و رہبر نہ بھیجے ہوں ـ اس بارے میں قرآن حکیم کی یہ آیہ کریمہ بہت محکم ہے ـ "

ولقد بعثنا فی کل امة رسولاً " (۱) اور یقیناً ہم نے ہر امت کے لئے رسول بھیجے اسی طرح ایک اور مشہور آیت ہے جو اسی مضمون سے متعلق ہے کہ : " وماکنا معذبین نبعث رسولاً " (۲) اورہم تب تک عذاب نہیں کریں گے جب تک اپنا رسول نہ بھیج دیں ـ چنانچہ ہم کسی بھی زمانے میں حجت خدا اور وجود رہبر سے انکار نہیں کرسکتے ـ ورنہ جناب باری تعالی کے اعلان کی تکذیب کے علاوہ اس کی عدالت میں بھی شبہ پیدا ہوجائے گا جو ناممکن ہے ـ ہاں ! یہ بات بالکل الگ ہے کہ کوئی خدا کی توحید کا قائل تو ہو لیکن اس کے عدل ہی کا قائل نہ ہو تو اس کا علاج مشکل ہے اور فلسفہ و حکمت یادین و مذہب کی منطقی دلیلیں اس کا ساتھ بہر حال نہیں دے سکتیں ِ

ملک شام روز اول سے جب مسلمین کے زیر تسلط آیا  تو اولین حکام کہ جن میں سے خالد بن ولید اور معاویہ تھے ۔نہ ہی شامیوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کو اعلان نبوت کے بعد شخصیا دیکھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سے کوئی حدیث سنی ،اور نہ ہی اصحاب کی کتب میں شامی اصحاب کا قابل ذکر تذکرہ موجود ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے چند اصحاب میں سے شام منتقل ہوئے  اور وہ لوگ اتنے باثر نہ تھے اسی لئے اہل شام نے معاویہ بن ابی سفیان اور اس کے ساتھیوں کے سلوک کو سنت نبوی اور مسلمین مان لیا اور چونکہ شام ایک طویل عرصے تک رومی سلطنت کے زیر  تسلط تھا اور آنے والی اسلامی حکومت ایک حد تک اہل روم کے سلوک سے بہتر تھی ۔

یہاں جب تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جب  واقعہ کربلاء کے بعد اہلبیت علیہم السلام کا قافلہ شام میں داخل ہو ا تو  ایک بزرگ شامی حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے قریب آیا اور کہا کہ" تمام  تعریفیں اس اللہ کے لئے کہ جس نے تم لوگوں کو ہلاک کیا اور ہمارے امیر کو تم پر مسلط کیا "

امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا : اے شیخ کیا تو نے قرآن مجید پڑھا ہے ؟

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا نام نامى، اسم گرامی روحانی اقدار کے ھیرو کے طور پر ھمارے سامنے آتا ھے۔ زھد وتقویٰ اور عبادت سمیت انسان کی تمام خوبیوں اور اعلیٰ صفات و کمالات کو دیکھا جائے تو وہ ایک ایک کر کے امام سجاد علیہ السلام میں واضح طور پر موجود ھیں، جب خاندان رسالت پر نظر ڈالتے ھیں تو امام سجاد علیہ السلام چودھویں کے چاند کی مانند دمکتے ھوئے نظر آتے ھیں۔ اس عظیم خاندان کا ھر فرد اپنے اپنے عھد کا بے مثال انسان ھوتا ھے۔ ایسا انسان کہ انسانیت اس پر فخر کرے۔ اگر ھم ان کے کردار و عمل کو دیکھیں تو ھمیں ماننا پڑے گا اسلام کی تمام تر جلوہ آفرینیاں، ایمان کی ساری ساری ضوفشانیاں آپ میں موجود ھیں۔ جب ھم حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات گرامی کو دیکھتے ھیں تو آپ کے کمالات وصفات کو دیکھ کر حیران ھو جاتے ھیں کہ آپ کا ھر کام اتنا بلند ھے کہ اس تک پھنچنا تو در کنار آدمی ان کے بارے سوچ بھی نھیں سکتا اس کی وجہ کیا ھے؟ وجہ صاف ظاھر ھے جو پیغمبر اسلام (ص) کی حفاظت کیلئے معجزانہ طور پر پیدا ھوا ھو اور اس کی تربیت بھی خود رسالتمآب (ص) نے کی ھو پھر ساری زندگی سرورکائنات کے نام وقف کردی ھو۔ بھلا اس عظیم انسان کی عظمت و رفعت کا کیسے انداز لگایا جاسکتا ھے ۔ سایہ بن کر ساتھ چلنے والا علی علیہ السلام پیغمبر السلام (ص) کی ضرورت بن چکا تھا۔ گویا یک جان دو قالب ھوں۔ جب انسان علی علیہ السلام کو دیکھتا ھے تو ان کی سیرت طیبہ کے آئینہ میں حضور (ص) پر نور کی سیرت نظر آتی ھے (اسی طرح آپ کی تمام اولاد میں ایک جیسی صفات ھیں۔ زمانہ ھزار رنگ بدلے علی علیہ السلام اور اولاد علی (ع) کبھی اور کسی دور میں نھیں بدل سکتی۔ کیونکہ یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا اٹل فیصلہ ھیں اور اس کا ھر فیصلہ ھمیشہ قائم و دائم رھتا ھے

حضرت عباس علیہ السلام چند غیر معصوم افراد میں سے ہے جو معصومین علیہم السلام کی زبانی سراہا گیا ہے اور امام صادق علیہ السلام سے ایک خاص زیارتنامہ آپ کے نام روایت کی گئی ہے نیز زیارت ناحیہ مقدسہ امام زمانہ علیہ السلام میں بھی خصوصی طورپر آپ کی شان میں بلند و بالا توصیفات بیان کیا گیا ہے؛ یہ سب اس وجہ سے ہےکہ آپ (ع) ولایت کی گہرائیوں تک معرفت رکھتے تھے۔

سلام ہو ان جانبازوں پر جنہوں نے قمر بنی ہاشم ابا الفضل العباس علیہ السلام کے نقش قدم پر چلیں، سلام ہو ان کی بہادری، صبر اور استقامت پر جو پوری قوم کےلئے فخر کاباعث بنیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں یوم ولادت علمدار کربلا حضرت عباس(ع) کو یوم جانباز یعنی جنگی مجروحین کا دن  قرار دیا گیا ہے۔