بدھ, 17 جولائی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
416
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
350866

امامت اور ولایت کے آسمان کے آٹھویں ستارے امام رضا (ع) 11 ذی القعدہ 148 ہجری قمری کو مدینہ میں امام موسی کاظم (ع) کے گھر پیدا ہوئے، آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ خاتون تھا۔ امام رضا کے والدین کی شرافت اور برتری کسی پر پوشیدہ نہیں تھی اور نہیں ہے۔ امام (ع) کا نام علی اور لقب رضا رکھا گیا۔ 183 ہجری قمری میں ہارون الرشید ملعون کے امام کاظم (ع) کو شہید کرنے کے بعد، امام رضا 35 سال کی عمر میں مسند امامت اور ولایت پر جلوہ افروز ہوئے اور عالم کائنات کی ہدایت کا ذمہ خداوند کی طرف سے اپنے عہدے لیا۔

200 ہجری قمری میں جب مامون عباسی ملعون نے زبردستی امام رضا (ع) کو خراسان بلوایا تو اس وقت امام کی امامت کے 17 سال گزر چکے تھے۔ آخر کار مامون عباسی ملعون کے مکر اور حیلوں نے اپنا اثر دکھایا اور امام رضا 203 ہجری قمری صفر کے مہینے کے آخر میں مامون کے زہر دینے کی وجہ سے شہید کر دئیے گئے۔ 

اس تحریر میں ہم اہل سنت کے علماء کی نظر میں امام رضا (ع) کی نورانی اور مقدس شخصیت کو بیان کریں گے۔

ابی نواس (قرن سوم):

ابن خلکان نے امام رضا کے مبارک نام کو ذکر کرنے کے بعد، ابی نواس کے امام رضا کی شخصیت کے بارے میں اشعار کے بارے میں اشارہ کیا ہے کہ:

قيل لي أنت أحسن الناس طرا

في فنون من الكلام النبيه

لك من جيد القريض مديح

يثمر الدر في يدي مجتنيه

فعلام تركت مدح ابن موسى

و الخصال التي تجمعن فيه

قلت لا أستطيع مدح إمام

كان جبريل خادما لأبيه

و كان سبب قوله هذه الأبيات أن بعض أصحابه قال له ما رأيت أوقح منك ما تركت خمرا و لا طردا و لا معنى إلا قلت فيه شيئا و هذا علي بن موسى الرضا في عصرك لم تقل فيه شيئا فقال و الله ما تركت ذلك إلا إعظاما له و ليس قدر مثلي أن يقول في مثله ثم أنشد بعد ساعة هذه الأبيات:

مطهرون نقيات جيوبهم

تجري الصلاة عليهم أينما ذكروا

من لم يكن علويا حين تنسبه

فما له في قديم الدهر مفتخر

الله لما برا خلقا فأتقنه

صفاكم و اصطفاكم أيها البشر

فأنتم الملأ الأعلى وعندكم

علم الكتاب و ما جاءت به السور

مترجم: سید لیاقت

معصومین  علیہم السلام  کی زیارت کی فضیلت میں بہت ساری روایات پیغمبرخدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور اہلبیت علیہم السلام سے مروی ہیں جو اگر نہ بھی ہوتیں تب بھی مؤمنین سیرت معصومین علیہم السلام کو دیکھتے ہوئے والہانہ انکی زیارت پر کمربستہ نظر آتے، اس سے قطع نظر ہم یہاں امام رضا علیہ السلام کی زیارت کی فضیلت اور زیارت کے آداب کے سلسلے میں وارد ہونے والی روایات کو قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں:

 

۱۔حضرت امام رضا علیه السلام کی زیارت کا ثواب حج کے برابر

 حضرت امام رضاعلیه السلام سے جناب شیخ طوسی نقل کرتے ہیں کہ امام علیه السلام فرماتے ہیں:

سرزمین خراسان پر ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں ایک زمانہ ایسا آئیگا جب وہ جگہ فرشتوں کی آمد و رفت اور انکے طواف کا مرکز قرار پائیگی جب تک کہ قیامت آن  پہنچے  اور صور پھونک دیا جائے اور اسکے بعد قیامت بالکل ہی آجائے۔

پوچھا گیا: اے فرزند رسول! وہ جگہ کونسی ہے: فرمایا:

وہ جگہ سرزمین طوس پر ہے، خدا کی قسم ! وہ زمین بہشت کے باغوں کا ایک ٹکڑا ہے، جو بھی میری اس جگہ زیارت کریگا گویا ایسا ہی ہے کہ اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی زیارت کی اور اس زائر کے لئے ہزار مقبول حج اور ہزار مقبول عمرہ کا ثواب لکھا جائیگا اور میں اور میرے آباء و اجداد روز قیامت اسکی شفاعت کرنے والے ہونگے (۱)۔

ایک دوسری روایت میں بزنطی کہتے ہیں:حضرت امام رضا«علیه السلام» کا ایک خط میں نے پڑھا جس میں تحریر تھا:

ہمارے شیعوں کو اطلاع دو کہ میری زیارت ہزار حج کے ثواب کے برابر ہے ۔

بزنطی کہتے ہیں کہ امام جواد«علیه السلام» سے میں نے تعجب خیز لہجے میں پوچھا : ہزار حج کے برابر؟ امام «علیه السلام»

 نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں بالکل : خدا کی قسم جو کوئی آپؑ کی زیارت کرے اس حالت میں کہ انکے حق کی معرفت رکھتا ہو اسکے لئے ہزار ہزار حج (ایک ملین حج )کا ثواب ہے (۲)۔

ایک اور روایت کے مطابق امام موسی بن جعفر «علیه السلام»  فرماتے ہیں:

جو کوئی میرے فرزند علی «علیه السلام» کی زیارت کرے اسکا ثواب ستّر مقبول حج کے برابر ہوگا۔

مازنی کہتے ہیں میں نے تعجب بھرے لہجے میں پوچھا: ستّر حج ؟ فرمایا: ستّر ہزار حج۔

میں نے عرض کیا : انکی زیارت کا ثواب ستر ہزار حج کے برابر ہے ؟ فرمایا: ہاں بیشک!  بہت سارے حج بارگاہ خدا میں قبول نہیں ہوتے، جو کوئی میرے بیٹے علی کی زیارت کرے اور ایک رات وہاں ٹھہرے گویا ایسا ہی ہے کہ اس نے خدا کی عرش پر زیارت کی ہے (۳)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

     معصومین(علیھم السلام) کی اخلاقی اور معنوی شخصیت، خداوند عالم کی ان کو عطاکردہ ایک خاص عطیہ ہے، ہمارے تمام  أئمہ(علیھم السلام) لوگوں کے درمیان رہتے اور ان کے درمیان زندگی بسر کرتے تھے، عملی طور پر ان کی زندگی پاکیزگی، عزت و شرافت کی تعلیم دیتی تھی، جس طرح پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اخلاق میں نمونہ عمل تھے اسی طرح تمام أئمہ طاہرین(علیھم السلام) بھی حضرت پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق کے مظہر تھے، اس طرح کہ جب کوئی ان کو دیکھتا تو بے اختیار پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یاد آجاتے تھے۔

     حضرت امام رضا(علیہ السلام) بھی اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں اسی سیرت وکردار کے مالک تھے، جس کی جھلک تاریخ و روایات کے آئینہ میں پائی جاتی ہے، وہ اپنے آباء و اجداد کی طرح بے شمار فضائل و مناقب کے حامل تھے جن میں سے بعض حسب ذیل ہیں۔

     مأمون عباسی، جوکہ خود بھی علم و دانش کی رو سے ایک بلند مقام کا حامل تھا، باوجود اس کے کہ اس کا شمار حضرت کے دشمنوں میں ہوتا ہے، وہ حضرت رضا(علیہ السلام) کے بارے میں کہتا ہے: «مَا أَعْلَمُ‏ أَحَداً أَفْضَلَ‏ مِنْ‏ هَذَا الرَّجُلِ عَلَى وَجْهِ الْأَرْض‏[۱]؛ میں روئے زمین پر اس شخص(یعنی امام رضا( علیہ السلام)) سے افضل کسی کو نہیں جانتا»۔

     امام(علیہ السلام) نے اس زیب و زینت والی زندگی میں اپنے آباء عظام کے مانند کردار پیش کیا جنھوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا، آپ کے جدبزرگوار امیرالمومنین حضرت علی(علیہ السلام) نے اس دنیاکو تین مرتبہ طلاق دی جس کے بعد اس سے رجوع نہیں کیا جاسکتا۔ محمد بن عباد نے امام کے زہدکے متعلق روایت کی ہے کہ امام(علیہ السلام) گرمی کے موسم میں چٹائی پر بیٹھتے تھے اور سردی کے موسم میں ٹاٹ پربیٹھتے تھے [۲]۔

والدین ماجدین

آپ کے والد ماجد ساتویں امام باب الحوائج حضرت موسیٰ بن جعفر علیہما السلام اور مادر گرامی نجمہ خاتون ہیں جو امام رضا علیہ السلام کی بھی والدہ ماجدہ ہیں۔ (1)

ولادت تا ہجرت

حضرت معصومه سلام الله علیها (2) نے پہلی ذی القعدہ ۱۷۳ ء ھ میں مدینہ منورہ کی سرزمین پر اس جہان میں قدم رنجہ فرمایا اور ۲۸ سال کی مختصر سی زندگی میں دس ۱۰ (3) یا بارہ۱۲ (4) ربیع الثانی ۲۰۱ ھ میں شہر قم میں اس دار فانی کو وداع کہہ دیا۔

اس عظیم القدر سیدہ نے ابتدا ہی سے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں والدین اور بہن اور بھائی سب کے سب اخلاقی فضیلتوں سے آراستہ تھے۔ عبادت و زہد، پارسائی اور تقوی، صداقت اور حلم، مشکلات و مصائب میں صبر و استقامت، جود و سخا، رحمت و کرم، پاکدامنی اور ذکر و یاد الہی، اس پاک سیرت اور نیک سرشت خاندان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ سب برگزیدہ اور بزرگ اور ہدایت و رشد کے پیشوا، امامت کے درخشان گوہر اور سفینہ بشریت کے ہادی و ناخدا تھے۔

علم و دانش کا سرچشمہ

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے ایسے خاندان میں پرورش پائی جو علم و تقوی اور اخلاقی فضایل کا سرچشمہ تھا۔ جب آپ سلام اللہ علیہا کے والد ماجد حضرت موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ(ع) کے فرزند ارجمند حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی سرپرستی اور تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا۔ امام رضا علیہ السلام کی خصوصی توجہات کی وجہ سے امام ہفتم کے سارے فرزند اعلی علمی اور معنوی مراتب پر فائز ہوئے اور اپنے علم و معرفت کی وجہ سے معروف و مشہور ہوگئے۔

ابن صباغ ملکی کہتے ہیں: "ابوالحسن موسی المعروف (کاظم)۔ کے ہر فرزند کی اپنی ایک خاص اور مشہور فضیلت ہے"۔

اس میں شک نہیں ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے فرزندوں میں حضرت رضا علیہ السلام کے بعد علمی اور اخلاقی حوالے سے حضرت سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا علمی اور اخلاقی مقام سب سے اونچا ہے۔ یہ والا مقام حضرت سیدہ معصومہ کے ناموں اور القاب اور ان کے بارے میں ائمہ کی زبان مبارک سے بیان ہونے والی تعاریف و توصیفات سے آشکار ہے۔ اور اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ معصومہ بھی ثانی زہرا حضرت زینب کی مانند (عالمہ غیر مُعَلَّمہ)۔ ہیں۔ ( عالمہ ہیں مگر ان کا استاد نہیں ہے)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکُم یا اَھل بیتِ النُبوَۃِ و مو ضَع الرّساَلَۃ ۔۔۔۔۔۔ کلا مَکُم نُورُ وَاَمَرکُم رُشد، وَ صیّتکُم الّتقویٰ وَفعلُکُم خَیرَ عَادَتُکُم الا حَسانِ ۔۔۔۔۔۔ ان ذکِر الخَیر کُنتُم اَوّلَہ وَاَصلَہ' وَفَرَعَہُ وَ مَعدَ نہ وما وَایہُ و منتَھا ۃُ ( مفاتیح الجنان)

ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے نبوت کے گھر والو اور پیغام ربانی کے مرکز۔ آپ کی گفتگو سر تاپائے نور، آپ کا فرمان ہدایت کا سرچشمہ ، آپ کی نصیحت تقویٰ کے بارے میں آپ کا عمل خیر ہی خیر، آپ کی عادت احسان کرنے کی ہے جب کبھی نیکیوں کاتذکرہ ہو تو آپ حضرت سے ہی ان کی ابتداء ہوتی ہے اور انتہا بھی ۔ اس کی اصل بھی آپ ہیں اور مخزن اور مرکز اور انتہا بھی آپ ہیں۔ ( ترجمہ رضی جعفر)

زیارت جامعہ محمد و آلِ محمد (ص) کا قصیدہ ہے، حضرت امام علی النقی علیہ السلام کا اہم پر احسان ہے کہ انہوں اپنے انتہائی فصیح و بلیغ کلام میں زیارت جامعہ کی تدوین کی جو حقائق اور معرفت کا بے پایاں سمندر ہے۔ حضرت امام جعفر (ع) صادق کی شخصیت زیارت جامعہ میں بیان کردہ ان خصائص کی مجسم تصویر ہے۔

امام صادق(ع) کی ہمہ گیر شخصیت کااحاطہ نا ممکن ہے ، اس مختصر مقالہ اور تیز رفتار زندگی کے تقاضوں کے پیش نظر اختصاراً امام صادق(ع) کی شخصیت کے چند اہم گوشوں کا تعارف ، نشر علوم، تدوین ۔ فقہ اور دانشگاہ جعفری کے فیوض اور امام کے چند شاگردوں کی علمی خدمات کا ایک تعارفی جائزہ مقصود ہے۔

٢۔ مختصر حالات:

جعفر کے معنی نہر کے ہیں۔ گو یا قدرت کی طرف سے اشارہ ہے کہ آپ کے علم و کمالات سے دنیا سیراب ہو جائیگی۔ امام جعفر (ع) صادق کی تاریخ ولادت ١٧ ربیع الاوّل پر سب کو اتفاق ہے مگر سال ولادت میں اختلاف ہے روایت رجال کے بموجب سنہ ولادت ٨٠ ھ ہے جبکہ محمد ابن ِ یعقوب کلینی اور شیخ صدق کا اتفاق ٨٣ ھ پر ہے۔ آپ نے بہ فضل ِ خدا ٦٥ سال عمر پائی اور مدتِ امامت ٣٤ سال رہی ( ١١٤ ھ تا ١٤٨ھ) چہاردہ معصومین میں طویل عمر اور عہد امامت کے حوالہ سے آپ کی امتیازی خصوصیت ہے۔ آپ کی مادر گرامی جناب اُمِ فروہ بنت ِ قاسم بن محمد بن ابو بکر تھیں۔ اپنی والدہ کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے خود امام صادق(ع) نے فرمایا'' میری والدہ ایک با ایمان با تقویٰ اور نیک خاتون تھی۔'' ( احمد علی ۔١) صاحب مروج الذھب کے حوالہ سے ان معظمہ کی عظمت اور مرتبہ کے لئے یہ ہی کافی ہے کہ خود امام باقر نے آپ کے والد قاسم سے اپنے لئے خواستگار ی کی تھی۔ آپ کی مشہور کنیت عبداﷲ ہے اور بے شمار القاب میں ( الصادق) زیادہ مشہور ہے۔ آپ کے ٧ بیٹے یعنی اسماعیل ، عبداﷲ ، موسیٰ ( بن کاظم (ع)) اسحاق، محمد(الدیباج) ، عباس اور علی ، اور تین بیٹیاں ام فروہ، اسماء و فاطمہ تھیں۔ آپ کے دو ازواج مطہرات میں ایک فاطمہ بنت الحسین امام زین العابدین کی پوتی تھیں۔

امام صادق(ع) کے دورِ امامت میں بنی امیہ کے سلاطین میں ہشام بن عبدالملک ، ولید بن یزید بن عبد الملک ، یزید بن ولید ، مروان حمار اور خاندان بنی عباس کے ٢، افراد ابو العباس السفاح اور منصور دوانیقی تھے۔ ان میں عبدالملک کے بیس سال کا عہد اور منصور دوانیقی کے دس سال شامل ہیں۔ ( رئیس احمد ۔٢)

منصوردوانیقی ایک خود سر اور ظالم حکمران تھا۔ آئمہ اہلبیت اور ان کے دوستوں پر حاکمان وقت کے مظالم کے سلسلے میںصرف اتنا کہنا کافی ہے کہ '' ایک سیل خوں رواں ہے حمزہ سے عسکری تک'' منصور نے امام کو قتل کرنے کی کئی مرتبہ کوشش کی۔ بالآخر اس کے حکم پر حاکم بن سلیمان نے آپ کو زہر دے دیا جس سے ١٥ رجب ١٤٨ ھ کو آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ بعض مورخین کے بموجب تاریخ شہادت ١٥ شوال ہے۔ ( عنایت حسین جلالوی۔٣)