جمعرات, 14 نومبر 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
39
مضامین
428
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
402862

 

مسلم بن عقبہ سفّاح مجرم جس نے تمام اسلامی اقدار کی بہت زیادہ اہانت کی وہ بھی مبہوت ہو کر رہ گیا، اس نے جب امام زین العابدین ؑ کو دیکھا تو کانپ کر رہ گیا، آپ کی عزت و احترام کیااور اپنے اطراف کے لوگوں سے کہا :بیشک امام زین العابدین علیہ السلام انبیاء ؑ کے مانند ہیں ۔

 

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام آپ امام ملہم (یعنی صاحب الہام) اپنے جد کے دین کے مجدد اور ان کی سنت کو زندہ کرنے والے، ورع اور تقویٰ میں حضرت عیسیٰ بن مریم کے مشابہ اور مصیبتوں پر صبرکرنے میں حضرت ایوب کے مانند تھے ،آپ کی ہیبت آپ کے چہرے اور پیشا نی سے ظاہر تھی ، انوار انبیاء کے اسرار اور اوصیاء کی ہیبت آپ کے چہرۂ مبارک سے عیاں تھی اور عرب کے عظیم الشان شاعر فرزدق نے امام ؑ کے اوصاف کو یوں نظم کیا ہے : یکاد یمسکہ عرفانُ راحتِہِرکن الحطیم اذا ماجاء یَستلِمُ یغضي حیاء ویغضی من مہابتہفلا یکلم الاحین یبتسم’’امام سجاد ؑ جب رکن حطیم کو مس کرنے کے لئے آتے ہیں تو رکن حطیم آپ ؑ کی ہتھیلی کو پہچان کر روک لیتا ہے ۔

 

آپ ؑ حیا کی وجہ سے اپنی نگاہوں کو نیچی کر لیتے ہیں اور آپ ؑ کی ہیبت کی بنا پر لوگوں کی نگا ہیں نیچی ہو جا تی ہیں جس کی بنا پر آپ ؑ سے اسی وقت بات کی جا سکتی ہے جب آپ ؑ مسکرا رہے ہوں ‘‘۔شیخا نی قادری کا کہنا ہے :دیکھنے والا ان کے چہرے کو دیکھنے سے سیرنہیں ہوتا تھا[1] کیونکہ آپ کی ہیبت آپ ؑ کے جد بزرگوار رسول اسلام ؐکی ہیبت کی حکایت کر تی تھی ،ظالم مسلم بن عقبہ سفّاح مجرم جس نے تمام اسلامی اقدار کی بہت زیادہ اہانت کی وہ بھی مبہوت ہو کر رہ گیا، اس نے جب امام زین العابدین ؑ کو دیکھا تو کانپ کر رہ گیا، آپ کی عزت و احترام کیااور اپنے اطراف کے لوگوں سے کہا :بیشک امام زین العابدین علیہ السلام انبیاء ؑ کے مانند ہیں ۔

آپ ؑ کے القاب

 

آپ ؑ کے القاب اچھا ئیوں کی حکایت کرتے ہیں،آپ ؑ اچھے صفات ،مکارم اخلاق ،عظیم طاعت اور اللہ کی عبادت جیسے اچھے اوصاف سے متصف تھے، آپ کے بعض القاب یہ ہیں :۱۔زین العابدینیہ لقب آپ ؑ کو آپ ؑ کے جد رسول اللہ (ص) نے دیا تھا(جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے ) کثرت عبادت کی وجہ سے آپ ؑ کو اس لقب سے نوازا گیا ،[2] آپ اس لقب سے معروف ہوئے اور اتنے مشہور ہوئے کہ یہ آپ کا اسم مبارک ہو گیا ،آپ ؑ کے علاوہ یہ لقب کسی اور کا نہیں تھا اور حق بات یہ ہے کہ آپ ہر عابد کے لئے زینت اور ہر اللہ کے مطیع کے لئے مایۂ فخر تھے ۔

 

۲۔سید العابدین:آپ کے مشہور و معروف القاب میں سے ایک ’’سید العا بدین ‘‘ ہے ،چونکہ آپ انقیاد اور اطاعت کے مظہر تھے ، آپ کے جدامیر المومنین ؑ کے علاوہ کسی نے بھی آپ ؑ کے مثل عبادت نہیں کی ہے ۔

 

۳۔ذو الثفنات:آپ ؑ کو یہ لقب اس لئے دیا گیا کہ آپ کے اعضاء سجدہ پراونٹ کے گھٹوں[3] کی طرح گھٹے پڑجاتے تھے ۔ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :’’میرے پدر بزرگوار کے اعضاء سجدہ پر ابھرے ہوئے نشانات تھے ،جو ایک سال میں دو مرتبہ کا ٹے جاتے تھے اور ہر مرتبہ میں پانچ گھٹّے کاٹے جاتے تھے ، اسی لئے آپ ؑ کو ذواالثفنات کے لقب سے یاد کیا گیا[4] ‘‘۔ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ ؑ نے تمام گھٹوں کو ایک تھیلی میں جمع کر رکھا تھا اور آپ ؑ نے اُن کو اپنے ساتھ دفن کرنے کی وصیت فرما ئی تھی ۔

 

۴۔سجاد :آپ ؑ کے القاب شریفہ میں سے ایک مشہور لقب ’’سجاد ‘‘ ہے[5] یہ لقب آپ ؑ کو بہت زیادہ سجدہ کرنے کی وجہ سے دیا گیا ،آپ ؑ لوگوں میں سب سے زیادہ سجدے اور اللہ کی اطاعت کرنے والے تھے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کے بہت زیادہ سجدوں کو یوں بیان فرمایاہے :’’بیشک علی بن الحسین ؑ جب بھی خودپرخدا کی کسی نعمت کا تذکرہ فرماتے تو سجدہ کرتے تھے،آپ ؑ قرآن کریم کی ہرسجدہ والی آیت کی تلاوت کر نے کے بعد سجدہ کرتے ،جب بھی خداوند عالم آپ سے کسی ایسی برائی کو دور کرتا تھا جس سے آپ ؑ خوفزدہ ہوتے تھے توسجدہ کرتے ،آپ ؑ ہر واجب نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ کرتے اور آپ کے تمام اعضاء سجود پر سجدوں کے نشانات مو جود تھے لہٰذا آپ ؑ کو اس لقب سے یاد کیا گیا[6] ‘‘۔

 

ابن حماد نے امام ؑ کے کثرت سجود اور آپ ؑ کی عبادت کو ان رقیق اشعار میں یوں نظم کیا ہے : وراھب اھل البیت کان ولم یزلیلقب بالسجاد حین تَعَبُّدِہِیقضی بطول الصوم طول نہارہ منیباً ویقضي لیلہ بتھجدہ فاین بہ من علمہ ووفاۂ واین بہ من نسکہ وتعبدہ[7] ۔’’امام سجاد ؑ پہلے بھی اہل بیت میں عبادت گذار تھے اور اب بھی ہیں عبادت ہی کی بنا پر آپ ؑ کو سجاد کے لقب سے یاد کیا جا تا ہے ۔آپ ؑ روزہ رکھ کر دن گذار تے ہیں، آپ ؑ توبہ کرتے رہتے ہیں اور رات نماز و تہجد میں بسر کرتے ہیں ۔تو بھلا علم و وفا داری اور عبادات میں آپ ؑ کا مقابلہ کون کر سکتا ہے ؟‘‘۔

 

۵۔زکی :آپ ؑ کو زکی کے لقب سے اس لئے یاد کیا گیا کیونکہ آپ ؑ کو خداوند عالم نے ہر رجس سے پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے جس طرح آپ ؑ کے آباء و اجداد جن کواللہ نے ہر طرح کے رجس کو دور رکھا اور ایساپاک و پاکیزہ رکھاجو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔۶۔امین:آپ ؑ کے القاب میں سے ایک معروف لقب ’’امین [8]‘‘ہے، اس کریم صفت کے ذریعہ آپ مثل الاعلیٰ ہیں اور خود آپ ؑ کا فرمان ہے :’’اگر میرے باپ کا قاتل اپنی وہ تلوار جس سے اس نے میرے والد بزرگوار کو قتل کیا میرے پاس امانت کے طور پر رکھتاتو بھی میں وہ تلوار اس کو واپس کر دیتا ‘‘۔

 

۷۔ابن الخیرتین :آپ ؑ کے مشہور القاب میں سے ایک لقب ’’الخیرتین ‘‘ ہے، آپ ؑ کی اس لقب کے ذریعہ عزت کی جا تی تھی آپ فرماتے ہیں : ’’انا ابن الخیرتین ‘‘،اس جملہ کے ذریعہ آپ ؑ اپنے جد رسول اسلام (ص) کے اس قول کی طرف اشارہ فرماتے :’’للّٰہ تعالیٰ من عبادہ خیرتان،فخیرتہ من العربھاشم،ومن العجم فارس[9] ‘‘۔شبراوی نے آپ کو مندرجہ ذیل ابیات کے ذریعہ اس لقب سے یوں یاد کیا ہے :’’خیرۃ اللّٰہ من الخلق ابيبعد جدي وانا ابن الخیرتینفضۃ صیغت بماء الذھبینفانا الفضۃ وابن الذھبینمن لہ جدّ کجدي فی الوریٰ اوکأ بي وانا ابن القمرینفاطمۃ الزھراء امي وابيقاصم الکفر ببدرٍ و حنینولہ في یوم احدٍوقعۃ شفۃ الغلّ ببعض العسکرین[10] ‘

 

امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں :میرے جد کے بعد میرے والد بزرگوار بہترین مخلوق ہیں جس کی بنا پر میں بہترین افرادکا فرزند ہوں ۔میں وہ چاندی ہوں جس کو دو سونے کے پانی سے ڈھالا گیا ہے جس کی بنا پر میں چا ندی ہوں اور دو سونے کا فرزند ہوں ۔دنیا میں میرے جدکی طرح کس کے جد ہیں یا میرے بابا کی طرح کس کے بابا ہیں اور میں دو چاند کا فرزند ہوں ۔جناب فاطمہ (س) میری والدہ ہیں اور میرے پدر بزرگوار نے بدر و حنین میں کفر کو نابود کیا ۔جنگ اُحد میں میرے دادا نے بے مثال جنگ کی جس کی بنا پر لشکریانِ کفر کے دلوں میں آپ ؑ کا کینہ بیٹھ گیا ‘‘۔زیادہ احتمال یہ ہے کہ یہ اشعار امام زین العابدین علیہ السلام کے سلسلہ میں نہیں ہیں کیونکہ یہ آپ کی ذات بابرکت میں پائے جانے والے بلندصفات و کمالات کو بیان کرنے سے قاصرہیں۔

 

حوالہ جات

 

[1] الصراط السوی فی مناقب آل النبی ؐ ، صفحہ ۱۹۲۔

 

[2] تہذیب التہذیب ،جلد ۷،صفحہ ۳۰۶۔شذرات الذہب، جلد ۱،صفحہ ۱۰۴، اور اس میں بیان ہواہے :آپ ؑ کوزیادہ عبادت کرنے کی وجہ سے یہ لقب دیا گیا ۔

 

[3] صبح الاعشی جلد ۱،صفحہ ۴۵۲۔بحرالانساب :ورقہ ۵۲۔تحفۃ الراغب ،صفحہ ۱۳۔اضداد فی کلام العرب ،جلد ۱،صفحہ ۱۲۹۔ثمار القلوب، صفحہ ۲۹۱۔اور اس میں بیان ہوا ہے :علی بن الحسین ؑ اور علی بن عبد اللہ بن عباس کے لئے کہا جاتا ہے کہ :زیادہ نمازیں پڑھنے کی وجہ سے ان کے اعضاء سجدہ پر سجدوں کی وجہ سے اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے تھے ۔

 

[4] علل الشرائع ،صفحہ ۸۸۔بحارالانوار، جلد ۴۶،صفحہ ۶۔وسائل الشیعہ، جلد ۴،صفحہ ۹۷۷۔

 

[5] علل الشرائع، صفحہ ۸۸۔

 

[6] وسائل الشیعہ، جلد ۴، صفحہ ۹۷۷۔علل الشرائع ،صفحہ ۸۸۔

 

[7] المناقب ،جلد ۴، صفحہ ۱۶۴

 

[8] فصول مہمہ، مؤلف ابن صبّاغ، صفحہ ۱۸۷۔بحر الانساب ،ورقہ صفحہ ۵۲۔نورالابصار ،صفحہ ۱۳۷۔

 

[9] کامل مبرد ،جلد ۱،صفحہ ۲۲۲۔وفیات الاعیان ،جلد ۲،صفحہ ۴۲۹۔

 

[10] الاتحاف بحبّ الاشراف، صفحہ ۴۹۔

كد خبر تصويري:6808

منبع خبر :abna.ir

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn