بدھ, 17 جولائی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
416
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
350843

تم پر واجب ہے اور تمہارے حق میں بہتر ہے کہ اس حقیقت کی قائل ہوجاؤ که ہم اہل بیت رسول (ص) قائد و رہبر اور تمام امور کی اساس و محور، روئے زمین پر خلفاء اللہ، خدا کی مخلوقات پر اس کے امین اور شہروں اور قریوں میں اس کی حجت ہیں؛

    یہی عقیدہ ہمارے حق میں بہتر ہے

قال الامام المهدي، صاحب العصر و الزّمان سلام اللّه عليه و عجّل اللّه تعالى فرجه الشّريف:

الَّذى يَجِبُ عَلَيْكُمْ وَ لَكُمْ أنْ تَقُولُوا: إنّا قُدْوَةٌ وَ أئِمَّةٌ وَ خُلَفاءُ اللّهِ فى أرْضِهِ، وَ اُمَناؤُهُ عَلى خَلْقِهِ، وَ حُجَجُهُ فى بِلادِهِ، نَعْرِفُ الْحَلالَ وَالْحَرامَ، وَ نَعْرِفُ تَأويلَ الْكِتابِ وَ فَصْلَ الْخِطابِ.(1)

ترجمہ : امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا: تم پر واجب ہے اور تمہارے حق میں بہتر ہے کہ اس حقیقت کی قائل ہوجاؤ که ہم اہل بیت رسول (ص) قائد و رہبر اور تمام امور کی اساس و محور، روئے زمین پر خلفاء اللہ، خدا کی مخلوقات پر اس کے امین اور شہروں اور قریوں میں اس کی حجت ہیں؛ ہم حلال و حرام کو جانتے اور سمجھتے ہیں اور قرآن مجید کی تفسیر و تأویل کی معرفت رکھتے ہیں.

    خاتم الاوصیاء کے صدقے بلائیں ٹل جاتی ہیں

قالَ عليه السلام : أنَا خاتَمُ الاَْوْصِياءِ، بى يَدْفَعُ الْبَلاءُ عَنْ أهْلى وَشيعَتى.(2)

فرمایا: میں نبی اکرم (ص) کا آخرین وصی اور خاتم الاوصیاء ہوں اور میرے صدقے میرے اہل اور میرے شیعوں سے بلائیں اور آفات ٹل جاتی ہیں.

 

    زمانہ غیبت کے حاکم

قالَ عليه السلام : أمَّا الْحَوادِثُ الْواقِعَةُ فَارْجِعُوا فيها إلى رُواةِ حَديثِنا (أحاديثِنا)، فَإنَّهُمْ حُجَّتي عَلَيْكُمْ وَ أنَا حُجَّةُ اللّهِ عَلَيْهِمْ.(3)

فرمایا: [سیاسى، عبادى، اقتصادى، فوجی، ثقافتی، سماجی امور میں] تمهہارے لئیے پیش آنے والے حوادث و واقعات میں ہماری حدیثوں کے راویوں یعنی فقہاء سے رجوع کرو؛ وہ زمانہ غیبت میں تمہارے اوپر ہماری حجت ہیں اور میں ان کے اوپر خدا کی حجت ہوں.

    دور ہوجاؤگے تو امام کو کوئی نقصان نہ ہوگا

قالَ عليه السلام : الحَقُّ مَعَنا، فَلَنْ يُوحِشَنا مَنْ قَعَدَعَنّا، وَ نَحْنُ صَنائِعُ رَبِّنا، وَ الْخَلْقُ بَعْدُ صَنائِعِنا.(4)

فرمایا: حق ہم اہل بیت رسول اللہ کے ہمراہ ہے پس ہم سے کسی کی کنارہ کشی ہمیں وحشتزدہ نہیں کرتی کیونکہ ہم خداوند متعال کے تربیت یافتہ ہیں اور دیگر مخلوقات ہمارے ہاتهوں میں پلی ہیں.

    بہشت میں صاحب فرزند ہونا

قالَ عليه السلام : إنَّ الْجَنَّةَ لا حَمْلَ فيها لِلنِّساءِ وَ لا وِلادَةَ، فَإذَا اشْتَهى مُؤْمِنٌ وَلَدا خَلَقَهُ اللّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِغَيرِ حَمْلٍ وَ لا وِلادَةٍ عَلَى الصُّورَةِ الَّتى يُريدُ كَما خَلَقَ آدَمَ عليه السلام عِبْرَةً.(5)

فرمایا: بے شک جنت میں عورتوں کے لئے حمل اور زچگی نہیں ہے؛ پس اگر کوئی مؤمن اولاد کی تمنا کرے تو خداوند متعال بغیر حمل و ولادت کے اس کو اس کا پسندیدہ بچہ عنایت فرمائے گا بالکل اسی صورت میں جس صورت میں اس نے ارادہ کرکے آدم علیہ السلام کو خلق کیا تا کہ ہم سبق حاصل کریں.

    ولی الله کے ساتھ بحث و جدل بالکل نہیں

قالَ عليه السلام : لا يُنازِعُنا مَوْضِعَهُ إلاّ ظالِمٌ آثِمٌ، وَ لا يَدَّعيهِ إلاّج احِدٌ كافِرٌ.(6)

فرمایا: کوئی بهی ہمارے ساتھ ولایت و امامت کے مرتبے کے اوپر بحث و نزاع نہیں کرتا مگر وہ شخص جو ظالم اور گنہگار ہو اسی طرح کوئی ولایت و امامت وہبیہ کا دعوی نہیں کرتا سوائے اس شخص کے جو منکر اور کافر ہو.

    حق صرف اہل بیت کے پاس ہے اور بس

قالَ عليه السلام : إنَّ الْحَقَّ مَعَنا وَ فينا، لا يَقُولُ ذلِكَ سِوانا إلاّ كَذّابٌ مُفْتَرٍ، وَ لا يَدَّعيهِ غَيْرُنا إلاّ ضالُّ غَوىٌٍّّ.(7)

فرمایا: حق و حقیقت – تمام امور اور تمام حالات میں – ہمارے پاس اور ہم اہل بیت کے درمیان ہے اور اگر یہ بات ہمارے سوا کسی اور نے کہی تو وہ جھوٹا اور اہل افترا ہے اور ہمارے سوا صرف گمراہ لوگ یہ دعوی کرتے ہیں.

 حق و حقیقت کے لئے کمال ہے

قالَ عليه السلام : أبَى اللّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِلْحَقِّ إلاّ إتْماما وَ لِلْباطِلِ إ لاّزَهُوقا.(8)

فرمایا: بے شک خداوند متعال حق کو بہر صورت کامل کردیتا ہے اور باطل کو بہر صورت نابود اور مضمحل کردیتا ہے.

امام زمان کے کندھوں پر کسی طاغوت کی بیعت نہیں ہے

قالَ عليه السلام : إنَّهُ لَمْ يَكُنْ لاِ حَدٍ مِنْ آبائى إلاّ وَ قَدْ وَقَعَتْ فى عُنُقِه بَيْعَةٌ لِطاغُوتِ زَمانِهِ، و إنّى أخْرُجُ حينَ أخْرُجُ وَ لا بَيْعَةَ لاِ حَدٍ مِنَ الطَّواغيتِ فى عُنُقى.(9)

فرمایا: بے شک میرے آباء و اجداد (ائمہ طاہرین علیہم السلام) کے ذمے ان کے زمانوں کے طاغوتوں کی بیعت تهی مگر میں ایسی حالت میں ظہور کروں گا کہ کسی بهی طاغوت کی بیعت میرے ذمے نہ ہوگی.

 

    امام زمان علیہ السلام اور عدل کا قیام

 

قالَ عليه السلام : أنَا الَّذى أخْرُجُ بِهذَا السَيْفِ فَأمْلاَ الاَْرْضَ عَدْلا وَ قِسْطا كَما مُلِئَتْ ظُلْما وَ جَوْرا.(10)

 

فرمایا: میں وہی ہوں جو یہی تلوار (ذوالفقار) اٹها کر ظہور کروں گا اور زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھردوں گا جس طرح کہ یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی.

 

    اپنے امور امام کے سپرد کرو

 

قالَ عليه السلام : اِتَّقُوا اللّهُ وَ سَلِّمُوا لَنا، وَ رُدُّوا الاْ مْرَ إلَيْنا، فَعَلَيْنا الاْ صْدارُ كَما كانَ مِنَّا الاْيرادُ، وَ لا تَحاوَلُوا كَشْفَ ما غُطِّيَ عَنْكُمْ.(11)

 

فرمایا: خدا سے ڈرو اور ہمارے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اپنے امور ہمیں واگذار کردو کیونکہ یہ ہمارا فریضہ ہے کہ تمہیں بے نیاز اور سیراب کردیں جیسا کہ یہ ہماری ہی ذمہ داری ہے کہ تمہیں معرفت کے چشموں میں داخل کردیں اور ان چیزوں کو کشف کرنے کی کوشش نہ کرو جو تم سے چھپائی گئی ہیں.

 

    خمس و زکات محض اموال کی تطہير کے لئے  

 

قالَ عليه السلام : أمّا أمْوالُكُمْ فَلا نَقْبَلُها إلاّ لِتُطَهِّرُوا، فَمَنْ شاءَ فَلْيَصِلْ، وَ مَنْ شاءَ فَلْيَقْطَعْ.(12)

 

فرمایا: تمہارے اموال - خمس و زکات – ہم اس لئے قبول کرتے ہیں کہ تمہارے زندگی اور تمہارا مال پاک و طاہر ہوجائے پس جو چاہے متصل ہوجائے اور جو چاہے منقطع ہوجائے (پس جو چاہے ادا کرے اور جو چاہے ادا نہ کرے)

 

    امام مؤمنین کے احوال پر آگاہ ہیں

 

قالَ عليه السلام : إنّا نُحيطُ عِلْما بِأنْبائِكُمْ، وَ لا يَعْزُبُ عَنّا شَيْى ءٌ مِنْ أخْبارِكُمْ.(13)

 

فرمایا: ہم تمہاری احوال و اخبار پر احاطہ رکهتی ہین اور تمہاری کوئی بات ہم سی مخفی نہین ہی.

 

    حاجت طلب کرنے کا وقت اور کیفیت

 

قالَ عليه السلام : مَنْ كانَتْ لَهُ إلَى اللّهِ حاجَةٌ فَلْ يَغْتَسِلْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بَعْدَ نِصْفِ اللَّيْلِ وَ يَأتِ مُصَلاّهُ.(14)

 

فرمایا: جو شخص خدا کی بارگاہ سے حاجت مانگنا چاہتا ہے پس وہ شب جمعہ نصف شب کے بعد غسل کرکے راز و نیاز و مناجات کے لئے اپنی جائے نماز پر قرار پائے.

 

    مؤمنین کی ایک دوسرے کے لئے طلب مغفرت

 

قالَ عليه السلام : يَابْنَ الْمَهْزِيارِ! لَوْلاَ اسْتِغْفارُ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ، لَهَلَكَ مَنْ عَلَيْها، إلاّ خَواصَّ الشّيعَةِ الَّتى تَشْبَهُ أقْوالُهُمْ أفْعالَهُمْ.(15)

 

فرمایا: اگر تم میں سے بعض کی بعض دوسروں کے لئے طلب بخشش و مغفرت نہ ہوتی، روئے زمین پر موجود سارے انسان ہلاک ہوجاتے سوائے ان خاص و خالص شیعوں کے جن کا کردار ان کی گفتار کے مطابق ہے.

 

    امام حسین (ع) کے زندہ ہونے کا عقیدہ کفر و گمراہی ہے

 

قالَ عليه السلام : وَأمّا قَوْلُ مَنْ قالَ: إنَّ الْحُسَيْنَ لَمْ يَمُتْ فَكُفْرٌ وَتَكْذيبٌ وَ ضَلالٌ.(16)

 

فرمایا: اور امام حسین علیہ السلام کو موت نہ آنے اور آپ (ع) کے زندہ ہونے کے قائل ہیں ان کا یہ عقیدہ کفر، تکذیب اور گمراہی ہے.

 

    تربت سيدالشہداء (ع) کی تسبيح کی فضيلت

 

قالَ عليه السلام : مِنْ فَضْلِهِ، أنَّ الرَّجُلَ يَنْسَى التَّسْبيحَ وَ يُديرُا السَّبْحَةَ، فَيُكْتَبُ لَهُ التَّسْبيحُ.(17)

 

فرمایا: حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کی تربت کی تسبیح کی ایک فضیلت یہ ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ میں ہو اور وہ ذکر و تسبیح بھول جائے اور تسبیح پھیراتا رہےتو اس کے لئے ذکر و تسبیح لکھی جاتی ہے.

 

    فعل حرام اور طعام حرام کے ساتھ روزہ توڑنے کا کفارہ

 

قالَ عليه السلام : فيمَنْ أفْطَرَ يَوْما مِنْ شَهْرِ رَمَضان مُتَعَمِّدا بِجِماعٍ مُحَرَّمٍ اَوْ طَعامٍ مُحَرَّمٍ عَلَيْهِ: إنَّ عَلَيْهِ ثَلاثُ كَفّاراتٍ.(18)

 

فرمایا: جو شخص ماہ رمضان کا روزہ قصدا و ارادتاً حرام مجامعت کے ذریعے توڑ دے یا حرام کھانا کھا کر توڑ دے؛ اس پر تینوں کفارے واجب ہیں. (یعنی یہ کہ روزے کی قضاء رکھنی پڑے گی اور مزید یہ کہ 60 روزے رکھنے پڑیں گے؛ ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا پڑے گا اور ایک غلام بھی آزاد کرنا پڑے گا.)

 

    عطسہ کی برکت

 

قالَ عليه السلام : ألا أبَشِّرُكَ فِى الْعِطاسِ؟ قُلْتُ: بَلى، فَقالَ: هُوَ أمانٌ مِنَ الْمَوْتِ ثَلاثَةَ أيّامٍ.(19)

 

نسیم خادم کہتے ہیں: میں امام مہدی علیہ السلام کے حضور چھینکا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمہیں چھینک کے بارے میں بشارت نہ دوں؟

 

میں نے عرض کیا: کیوں نہیں مولائے من.

 

فرمایا: چھینک آنے سے موت تین روز تک ٹل جاتی ہے.

 

    امام زمان (عج) کا نام لینے سے پرہیز کی ضرورت

 

قالَ عليه السلام : مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ سَمّانى فى مَحْفِلٍ مِنَ النّاسِ.

 

(وَ قالَ عليه السلام :) مَنْ سَمّانى فى مَجْمَعٍ مِنَ النّاسِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُاللّهِ.(20)

 

فرمایا: ملعون ہے اور خدا کی رحمتوں سے دور ہے وہ جو لوگوں کی کسی محفل میں میرا نام [جو رسول اللہ (ص) کا نام بھی ہے] زبان پر لائے.

 

نیز آپ (ع) نے فرمایا: جو شخص کسی مجمع میں میرا [اصلی] نام زبان پر جاری کرے اس پر خدا کی لعنت ہے.

 

    ہمارے اعمال امام کے ساتھ ہماری قربت کا باعث ہوں

 

قالَ عليه السلام : لِيَعْمَل كُلُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ ما يَقْرُبُ بِهِ مِنْ مَحَبَّتِنا، وَ لْيَتَجَنَّب ما يُدْنيهِ مِنْ كَراهيَّتِنا وَ سَخَطِنا، فَاِنَّ امْرَءاً يَبْغَتُهُ فُجْأةٌ حينَ لا تَنْفَعُهُ تَوْبَةٌ وَ لا يُنْجيهِ مِنْ عِقابِنا نَدَمٌ عَلى حُوبَةٍ.(21)

 

فرمایا: تم میں سے ہر شخص کو ایسے اعمال انجام دینے چاہئیں جو ہماری قربت کا باعث بنتے ہیں اور ہماری محبت کا سبب بنتے ہیں اور تم میں سے ہر شخص کو ہر اس عمل سے پرہیز کرنا چاہئے جو ہماری ناپسندیدگی اور کراہیت اور غیظ و غضب کا موجب بنتا ہو؛ پس بعید از قیاس نہیں ہے کہ انسان کو اچانک موت آئے اور اس کے لئے نہ توبہ فائدہ مند ہو اور نہ ہی اس کا اظہار ندامت اس کو ہمارے اور خدا کے عِقاب وعذاب سے بچاسکتاہو.

 

    ختنہ نہ کرنے کا نتیجہ

 

قالَ عليه السلام : إنَّ الاْ رْضَ تَضِجُّ إلَى اللّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ بَوْلِ الاْ غْلَفِ أرْبَعينَ صَباحا.(22)

 

فرمایا: ختنہ نہ ہونے والے شخص کی رفع حاجت سے زمین چالیس روز تک آہ و نالہ اور خدا کی بارگاہ میں شکایت و فریاد کرتی ہے.

 

    بعد از نماز سجدہ شکر کی منزلت

 

قالَ عليه السلام : سَجْدَةُ الشُّكْرِ مِنْ ألْزَمِ السُّنَنِ وَ أوْجَبِها.(23)

 

فرمایا: ہر نماز کے بعد سجدہ شکر لازم ترین اور واجب ترین سنت ہے.

 

    امام اہل زمین کے لئے امان ہیں

 

قالَ عليه السلام : إنّى لاَمانٌ لاِ هْلِ الاْ رْضِ كَما أنَّ النُّجُومَ أمانٌ لاِ هْلِ السَّماءِ.(24)

 

فرمایا: یقیناًً میں زمین پر بسنے والی موجودات کے لئے امان ہوں جیسے کہ اہل آسمان کے لئے ستارے امان ہیں.

 

    امام کا قلب مشيت الہي کا ظرف ہے

 

قالَ عليه السلام : قُلُوبُنا اَوْعِيَةٌ لِمَشيَّةِ اللّهِ، فَإذا شاءَ شِئْنا.(25)

 

فرمایا: ہمارے (یعنی ائمۂ معصومین (ع) کے) قلوب مشیت الہی اور ارادہ خداوندی کے ظروف ہیں پس وہ جب بھی ارادہ کرے ہم بھی ارادہ کرتے ہیں.

 

    امام (ع) کسی کے دور ہونے سے خائف نہیں ہوتے

 

قالَ عليه السلام : إنَّ اللّهَ مَعَنا، فَلافاقَةَ بِنا إلى غَيْرِهِ، وَالْحَقُّ مَعَنا فَلَنْ يُوحِشَنا مَنْ قَعَدَ عَنّا.(26)

 

فرمایا: خدا ہمارے ساتھ ہے اور ہم دوسروں کے محتاج نہیں ہیں اور حق ہمارے ساتھ اور ہمارے پاس ہے پس جو ہم سے روگردانی کرے ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی.

 

    نماز شيطان کی ناک خاک پر رگڑتی ہے

 

قالَ عليہ السلام : ماأرْغَمَ أنْفَ الشَّيْطانِ بِشَيْئٍ مِثُلِ الصَّلاةِ.(27)

 

فرمایا: کوئی بھی عمل نماز کی مانند شیطان کی ناک ذلت کی خاک پر نہیں رگڑتا.

 

    دوسروں کے مال میں تصرف؛ ہرگز نہیں

 

قالَ عليه السلام : لا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أنْ يَتَصَرَّفَ فى مالِ غَيْرِهِ بِغَيْرِ إذْنِهِ.(28)

 

فرمایا: مالک اور صاحب مال کی اجازت کے بغیر کسی کے مال و اسباب میں تصرف کرنا جائز نہیں ہے.

 

    نماز کے بعد تعقيبات و تسبيحات کی فضیلت

 

قالَ عليه السلام : فَضْلُ الدُّعاءِ وَ التَّسْبيحِ بَعْدَ الْفَرائِضِ عَلَى الدُّعاءِ بِعَقيبِ النَّوافِلِ كَفَضْلِ الْفَرائِضِ عَلَى النَّوافِلِ.(29)

 

فرمایا: مستحب نمازوں کی تعقیبات و دعا کی نسبت واجب نمازوں کی تعقیبات و دعا کی فضیلت ویسی ہی ہے جیسے کہ واجب نمازوں کو مستحب نمازوں کی نسبت حاصل ہے.

 

    نماز جعفر طیار (ع) کی کا صحبح وقت

 

قالَ عليه السلام : أفْضَلُ أوْقاتِها صَدْرُا النَّهارِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ.(30)

 

فرمایا: (نماز جعفر طیار بجالانے کے لئے) بہترین اور بافضیلت ترین وقت جمعہ کے روز زوال آفتاب سے قبل کا وقت ہے.

 

    نماز صبح میں تأخیر باعث لعنت ہے

 

قالَ عليه السلام : مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ أخَّرَ الْغَداةَ إلى أنْ تَنْقَضِى النُّجُومُ.(31)

 

فرمایا: ملعون ہے ملعون ہے وہ جو نماز فجر میں قصداً اس وقت تک تأخیر کردے کہ آسمان سے ستارے غائب ہوجائیں اور زمین پر روشنی پھیل جائے.

 

    امام خدا کے فضل سے خودکفیل ہیں

 

قالَ عليه السلام : إنَّ اللّهَ قَنَعَنا بِعَوائِدِ إحْسانِهِ وَ فَوائِدِ اِمْتِنانِهِ.(32)

 

فرمایا: بتحقیق خداوند متعال نے ہم اہل بیت کو اپنے احسان اور نعمتوں کے بموجب قانع اور خودکفیل کردیا ہے.

 

    امام امام زمان (عج) کے منکرین کا انجام

 

قالَ عليه السلام : إنَّهُ لَيْسَ بَيْنَ اللّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ بَيْنَ أحَدٍ قَرابَةٌ، وَ مَنْ أنْكَرَنى فَلَيْسَ مِنّى، وَ سَبيلُهُ سَبيلُ ابْنِ نُوحٍ.(33)

 

فرمایا: خداوند متعال اور کسی بھی بندے کے درمیان قرابت اور رشتہ داری نہیں ہے – اور ہر شخص کو اس کے اعمال اور نیات کے حساب سے انعام ملے گا – جو شخص میرا انکار کردے – اور میرے وجود کو جھٹلادے – وہ ہمارے شیعیان اور محبین میں سے نہیں ہے اور اس کا انجام فرزند نوح کی مانند ہوگا.

 

    زمين کسی حال میں بھی حجت سے خالي نہیں ہوتی

 

قالَ عليه السلام : أما تَعْلَمُونَ أنَّ الاْ رْضَ لا تَخْلُو مِنْ حُجَّةٍ إمّا ظاهِرا وَإمّا مَغْمُورا.(34)

 

فرمایا: آگاہ اور متوجہ رہو کہ زمین کسی حال میں حجت خدا سے خالی نہیں ہوتی چنانچہ حجت الہی یا تو ظاہر و آشکار ہے یا پھر پردہ غیبت میں ہے.

 

    ظہور حق اور اضمحلال باطل کا اذن

 

قالَ عليه السلام : إذا أذِنَ اللّهُ لَنا فِى الْقَوْلِ ظَهَرَ الْحَقُّ، وَ اضْمَحَلَّ الْباطِلُ، وَ انْحَسَرَ عَنْكُمْ.(35)

 

فرمایا: اگر خداوند متعال ہمیں سخن و بیان کی اجازت دے دے؛ حق آشکار اور غالب ہوجائے گا؛ باطل نیست و نابود ہوگا اور تمہاری گهٹن اور مشکلات کا خاتمہ ہوگا.

 

    عصر غیبت مین امام کے وجود سے فیض یابی کی کيفيت

 

قالَ عليه السلام : وَ أمّا وَجْهُ الاْ نْتِفاعِ بى فى غَيْبَتى فَكَالاْنْتِفاعِ بِالشَّمْسِ إذا غَيَّبَها عَنِ الاْ بْصارِ السَّحابُ.(36)

 

فرمایا: غیبت کے زمانے میں میرے وجود سے بہره مندی اور فیض حاصل کرنے کی کبفیت ویسی ہی ہے جیسے کہ بادل چھا جانے کی وجہ سے آنکھوں سے اوجھل ہونے والے سورج سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے(سورج بادل کے پیچھے چھپ جانے کے باوجود نظام شمسی میں موجوده اشیاء کو فائده پہنچا دیتا ہے چنانچہ امام زمانۂ غیبت میں بھی زمانۂ ظہور کی مانند فیض بخشتا ہے).

 

    محبت اہل بيت کا پیمانہ احکام خداوندی پر عمل ہے

 

قالَ عليه السلام : وَاجْعَلُوا قَصْدَكُمْ إلَيْنا بِالْمَوَدَّةِ عَلَى السُّنَّةِ الْواضِحَةِ، فَقَدْ نَصَحْتُ لَكُمْ، وَ اللّهُ شاهِدٌ عَلَيَّ وَ عَلَيْكُمْ.(37)

 

فرمایا: ہماری مودت کی بنیاد خدا اور رسول (ص) کے احکام کی تعمیل پر استوار کرو؛ پس میں نے ضروری نصائح و ہدایات تمہیں دی ہیں؛ اور خداوند متعال تمہارے اور ہمارے اعمال کا شاہد و گواہ ہے.

 

    وقت ظہور کا تعین کرنے والے جھوٹے ہیں

 

قالَ عليه السلام : أمّا ظُهُورُ الْفَرَجِ فَإنَّهُ إلَى اللّهِ، وَ كَذَبَ الْوَقّاتُونَ.(38)

 

فرمایا: میرے ظہور کا صحیح وقت خداوند متعال کے ارادے پر منحصر ہے اور جو جھوٹے ہیں وہ لوگ جو میرے ظہور کے وقت کا تعین کریں (اور اس سلسلے میں تاریخ اور وقت کا اعلان کریں)۔

 

    آپ کے ظہور کے لئے زیادہ دعا کریں

 

قالَ عليه السلام : أكْثِرُواالدُّعاءَ بِتَعْجيلِ الْفَرَجِ، فَإنَّ ذلِكَ فَرَجَكُمْ.(39)

 

فرمایا: میرے ظہور میں تعجیل کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کیا کرو کیونکہ اس دعا مین تمہاری مشکلات کی آسانی مضمر ہے.

 

    دعائے فرج کے صدور کی کیفیت

 

دَفَعَ إلَيَّ دَفْتَرا فيهِ دُعاءُالْفَرَجِ وَ صَلاةٌ عَلَيْهِ، فَقالَ : فَبِهذا فَادْعُ.(40)

 

ابو محمد حسن بن وجنا نامی ایک قابل وثوق و اعتماد مؤمن کہتے ہیں: میں طلائی پرنالے کے نیچے بیت اللہ الحرام میں تھا جب مجھے امام عصر عجَّلَ اللہُ تعالی فَرَجَہُ الشَّریف کی زیارت نصیب ہوئی. آپ علیہ السلام نہ مجھے ایک دفتر (کاپی) عطا فرمائے جس میں دعائے فََرَج اور آپ (ع) پر صلوات درج تھی. اور فرمایا :

 

اس مکتوب کے ذریعے دعا کرو اور میرے ظہور اور فَرَج کے لئے دعا کرو اور مجھ پر درود و تحیت بھیجو۔

 

41. اور وه دعا بروایت مشہور یہ ہے:

 

((اللّهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ فُلانِ بْنِ فُلانْ ((الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَسْكَريّ)) صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَ عَلى آبائِهِ فى هذِهِ السّاعَةِ وَ فى كُلِّ ساعَةٍ، وَليّا وَحافِظا وَ قاعِدا وَ ناصِرا وَ دَليلا وَ عَيْنا حَتّى تُسْكِنَهُ أرْضَكَ طَوْعا وَ تُمَتِّعَهُ فيها طَويلا)).(41)

 

مآخذ:

 

1- تفسير عيّاشى : ج 1، ص 16، بحارالا نوار: ج 89، ص 96، ح 58.2- دعوات راوندى : ص 207، ح 563.3- بحارالا نوار: ح 2، ص 90، ح 13، و53، ص 181، س 3، وج 75، ص 380، ح 1.4- بحارالا نوار: ج 53، ص 178، ضمن ح 9.5- بحارالا نوار: ج 53، ص 163، س 16، ضمن ح 4.6- بحارالا نوار: ج 53، ص 179، ضمن ح 9.7- بحارالا نوار: ج 53، ص 191، ضمن ح 19.8- بحارالا نوار: ج 53، ص 193، ضمن ح 21.9- الدّرّة الباهرة : ص 47، س 17، بحارالا نوار: ج 56، ص 181، س ‍ 18.10- بحارالانوار: ج 53، ص 179، س 14، و ج 55، ص 41.11- إكمال الدّين : ج 2، ص 510، بحارالا نوار: ج 53، ص 191.12- إكمال الدّين : ج 2، ص 484، بحارالا نوار: ج 53، ص 180.13- احتجاج : ج 2، ص 497، بحارالا نوار: ج 53، ص 175.14- مستدرك الوسائل : ج 2، ص 517، ح 2606.15- مستدرك ج 5، ص 247، ح 5795.16- غيبة طوسى : ص 177، وسائل الشّيعة : ج 28، ص 351، ح 39.17- بحارالا نوار: ج 53، ص 165، س 8، ضمن ح 4.18- من لايحضره الفقيه : ج 2، ص 74، ح 317، وسائل الشّيعة : ج 10، ص 55، ح 12816.19- إكمال الدّين : ص 430، ح 5، وسائل الشّيعة : ج 12، ص 89، ح 15717.20- وسائل الشّيعة : ج 16، ص 242، ح 12، بحارالا نوار: ج 53، ص ‍ 184، ح 13 و 14.21- بحارالا نوار: ج 53، ص 176، س 5، ضمن ح 7، به نقل از احتجاج .22- وسائل الشّيعة : ج 21، ص 442، ح 27534.23- وسائل الشّيعة : ج 6، ص 490، ح 3، بحارالا نوار: ج 53، ص 161، ضمن ح 3.24- الدّرّة الباهرة : ص 48، س 3.25- بحارالا نوار: ج 52، ص 51، س 4، به نقل از غيبة نعمانى .26- بحارالا نوار: ج 53، ص 191، إكمال الدّين : ج 2، ص 511.27- بحارالا نوار: ج 53، ص 182، ضمن ح 11.28- بحارالا نوار: ج 53، ص 183، ضمن ح 11.29- بحارالا نوار: ج 53، ص 161، ضمن ح 3.30- بحارالا نوار: ج 56، ص 168، ضمن ح 4.31- بحارالا نوار: ج 55، ص 16ؤ ضمن ح 13، و ص 86، ص 60، ح 20.32- بحارالا نوار: ج 52، ص 38، ضمن ح 28.33- بحارالا نوار: ج 50، ص 227، ح 1، به نقل از احتجاج .34- بحارالا نوار: ج 53، ص 191، س 5، ضمن ح 19.35- بحارالا نوار: ج 53، ص 196، س 12، ضمن ح 21.36- بحارالا نوار: ج 53، ص 181، س 21، ضمن ح 10.37- بحارالا نوار: ج 53، ص 179، س 16، ضمن ح 9.38- بحارالا نوار: ج 53، ص 181، س 1، ضمن ح 10.39- بحارالا نوار: ج 53، ص 181، س 23، ضمن ح 10.40- إكمال الدّين شيخ صدوق : ص 443، ح 17، بحارالا نوار: ج 52، ص ‍ 31، ضمن ح 27.41- كافى : ج 4، ص 162، ح 4، فلاح السّائل سيّدبن طاووس : ص ‍ 46.۔ 

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn