جمعہ, 20 ستمبر 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
37
مضامین
420
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
380304

بسم اللہ الرحمن الرحیم

     معصومین(علیھم السلام) کی اخلاقی اور معنوی شخصیت، خداوند عالم کی ان کو عطاکردہ ایک خاص عطیہ ہے، ہمارے تمام  أئمہ(علیھم السلام) لوگوں کے درمیان رہتے اور ان کے درمیان زندگی بسر کرتے تھے، عملی طور پر ان کی زندگی پاکیزگی، عزت و شرافت کی تعلیم دیتی تھی، جس طرح پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اخلاق میں نمونہ عمل تھے اسی طرح تمام أئمہ طاہرین(علیھم السلام) بھی حضرت پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق کے مظہر تھے، اس طرح کہ جب کوئی ان کو دیکھتا تو بے اختیار پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یاد آجاتے تھے۔

 

     حضرت امام رضا(علیہ السلام) بھی اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں اسی سیرت وکردار کے مالک تھے، جس کی جھلک تاریخ و روایات کے آئینہ میں پائی جاتی ہے، وہ اپنے آباء و اجداد کی طرح بے شمار فضائل و مناقب کے حامل تھے جن میں سے بعض حسب ذیل ہیں۔

     مأمون عباسی، جوکہ خود بھی علم و دانش کی رو سے ایک بلند مقام کا حامل تھا، باوجود اس کے کہ اس کا شمار حضرت کے دشمنوں میں ہوتا ہے، وہ حضرت رضا(علیہ السلام) کے بارے میں کہتا ہے: «مَا أَعْلَمُ‏ أَحَداً أَفْضَلَ‏ مِنْ‏ هَذَا الرَّجُلِ عَلَى وَجْهِ الْأَرْض‏[۱]؛ میں روئے زمین پر اس شخص(یعنی امام رضا( علیہ السلام)) سے افضل کسی کو نہیں جانتا»۔

     امام(علیہ السلام) نے اس زیب و زینت والی زندگی میں اپنے آباء عظام کے مانند کردار پیش کیا جنھوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا، آپ کے جدبزرگوار امیرالمومنین حضرت علی(علیہ السلام) نے اس دنیاکو تین مرتبہ طلاق دی جس کے بعد اس سے رجوع نہیں کیا جاسکتا۔ محمد بن عباد نے امام کے زہدکے متعلق روایت کی ہے کہ امام(علیہ السلام) گرمی کے موسم میں چٹائی پر بیٹھتے تھے اور سردی کے موسم میں ٹاٹ پربیٹھتے تھے [۲]۔

     علی بن محمد جہم جو کہ ناصبی اور دشمن اہل بیت تھا وہ اعتراف کرتے ہوئےاس ضمن میں کہتا ہے: میں مأمون کی تقریب و نشست میں موجود تھا، وہاں حضرت امام علی رضا(علیہ السلام ) بھی موجود تھے مأمون کے ذھن میں انبیاء کی عدم عصمت پر کچھ سوالات تھے وہ ان کے متعلق امام سے سوال کررہا تھا اور امام ہر سوال کا جواب دے رہے تھے، مامون جواب پانے کے بعد کہتا ہے: ’’یابن رسول اللہ آُپ نے میرے دل کو شفا عنایت کی ہے اور جو چیز مجھ پر واضح نہیں تھی اسے واضح اور روشن کردیا ہے، خداوند عالم آپ کو اپنے انبیاء کی جانب سے جزاء خیر عنایت کرے‘‘۔

     علی بن محمد جہم کہتا ہے کہ جب گفتگو ختم ہوئی مامون نماز کے لئے اٹھا اور محمد ابن جعفر امام علی رضا(علیہ السلام) کے چچا جو کہ وہاں موجود تھے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور راستہ چلنے لگا، میں بھی ان دونوں کے پیچھے تھا، مامون نے محمد ابن جعفر سے کہا آپ نے اپنے بھائی کے فرزند کو کیسا پایا؟ انہوں نے کہا وہ عالم و دانا ہیں اور ہم نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے کسی کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا ہو اور کسی سے علم حاصل کیا ہو۔ مامون نے کہا: گویا آپ کے بھائی کا فرزند، عترت پیغمبر(صلی اللہ علیہ و ّآلہ و سلم) میں سے ہے کہ جس کے بارے میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: « أَلَا إِنَّ أَبْرَارَ عِتْرَتِي وَ أَطَايِبَ أَرُومَتِي أَحْلَمُ النَّاسِ صِغَاراً وَ أَعْلَمُ النَّاس كِبَاراً لَا تُعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ لَا يُخْرِجُونَكُمْ مِنْ بَابِ هُدًى وَ لَا يُدْخِلُونَكُمْ فِي بَابِ ضَلَال‏[۳]؛ آگاہ ہو جاؤ میری عترت کے نیک افراد اور میرے وجود کے درخت کی شاخ کمسنی میں عقلمند ترین اور ضعیفی میں لوگوں میں داناترین ہیں، ان کو کچھ تعلیم دینے کی کوشش مت کرنا کیونکہ یہ تم سے زیادہ صاحب علم اور صاحب عقل ہیں، یہ تمہیں ہدایت کی حدود سے باہر نہیں لے جائیں گے اور گمراہی اور جہالت کی دلدل میں نہیں پھنسائیں گے»۔

جو کوئی یہ چاہتا ہے کہ گمراہی اور جہالت سے اپنے آپ کو بچائے رکھے اسے چاہئے کہ وہ معصومین(علیہم السلام) کے بتائے ہوئے راستہ پر گامزن ہوں اور ان کی اطاعت کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالے:

[۱]۔ محمد باقر بن محمد تقى مجلسى، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، دار إحياء التراث العربي، ۱۰۳ ق، ج۴۹، ص۱۴۵.

[۲]۔كَانَ جُلُوسُ الرِّضَا ع فِي الصَّيْفِ عَلَى حَصِيرٍ وَ فِي الشِّتَاءِ عَلَى مِسْحٍ‏ وَ لُبْسُهُ الْغَلِيظَ مِنَ الثِّيَابِ حَتَّى إِذَا بَرَزَ لِلنَّاسِ تَزَيَّنَ لَهُمْ. محمد بن على ابن بابويه،  عيون أخبار الرضا(عليه السلام)، ۱۳۷۸ق،ج۲، ص۱۷۸.

[۳]۔بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار ،ج۴۹، ص۱۸۰.

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn