جمعرات, 13 اگست 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
46
مضامین
450
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
511365

اس الٰہی اور حسینی(ع) جھنڈے کے نیچے لوگ خودبخود منظم ہوجاتے ہیں۔

کربلا وہ سرزمیں کہ جس کا نام سنتے ہی دل سے اک آہ سی اٹھتی ہے۔

کربلا وہ ریگستانِ خشک و بے آب جو انسانیت اور کمال کا بیکراں سمندر یے کہ جس کے اندر عظیم گوهر، مظلومیت کے غلاف میں پنهاں ہیں جن کو ڈھونڈنے کے لئے چشمِ بصیرت کی ضرورت ہے، ان کی تلاش کے لئے ماہر غواص چاہئیں، اسکے لئے جوانمردی اور معرفت کی ضرورت ہے۔

قریباً چودہ صدیاں بیت گئیں لیکن واقعہ کربلا آج بھی اسی طرح زندہ ہے، آج بھی غمِ حسین علیہ السلام میں قلب فگار ہیں اور آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں۔ اگر ایک سروے انجام دیا جائے کہ جس کا عنوان یہ ہو کہ" کس شخصیت کے لئے دنیا میں سب سے زیادہ آنسو بہائے گئے، بہائے جاتے ہیں اور بہائے جائیں گے" تو یقیناً جواب میں حسین علیہ السلام کا نام لیا جائے گا۔

واقعہ کربلا سے لے کر آج تک اور تا قیامت، یہ وہ واحد ہستی ہیں کہ جسے یاد رکھا گیا اور رکھا جائے گا۔ جب اور جہاں حسین(ع) کا نام آئے گا وہاں دیگر شهیدان و غازیانِ کربلا کو بھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

’’ہر سال محرم آتا ہے اور ہمارے دلوں پر لگے اس زخم کو تازہ کر جاتا ہے، وہ زخم کہ جو سال کے باقی مہینوں میں پرانا ہو جاتا ہے لیکن محرم کے آتے ہی اس زخم سے تازہ خون رسنا شروع ہو جاتا ہے، بارِ الها! یہ کیسا غم ہے جو کم ہی نہیں ہوتا، زمانے کا دستور ہے جب کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اول روزِ مرگ، پھر سوم، اسکے بعد دسواں، اور آخر میں چالیسواں، سال کے بعد برسی ایک سال، دو سال، تین سال، دس سال، بیس سال اور پھر فراموشی، لیکن حسین(ع) کے لئے۔۔۔ یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘

 

ہر سال امام حسین(ع) اور ان کی اولاد و اصحاب کے لئے یہ ایام منائے جاتے ہیں اور ہر آنے والے سال میں پچھلے سالوں سے زیادہ زور و شور سے یہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ چودہ سو سال سے یہ غم اسی طرح منایا جا رہا ہے، یہ صریح معجزہ ہے سب کو نظر آتا ہے سوائے ان کے کہ جن کے دلوں پر خدا نے "صم بکم عمی" کی مہر لگا دی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بصیرت سے محروم ہیں، جو ان ہستیوں کی درست شناخت نہیں رکھتے۔

دینی تعلیمات میں اربعین کے عدد کی اہمیت

دینِ اسلام میں بہت سے اہم واقعات میں اربعین کی تعبیر موجود ہے، جس کا ایک نمونہ یہ ہے کہ رسول خدا(ص) کی بعثت کے وقت عمرِ مبارک چالیس سال تھی، کہا گیا ہے کہ چهل کا عدد انسان کی عمر میں بلوغ اور رشدِ فکری سے تعبیر کیا گیا ہے۔

قرآن میں پروردگار کے ساتھ «میقات» موسی(ع) چهل دن تک تهی۔ روایات میں نقل ہے کہ حضرت آدم چهل دن رات کوہِ صفا پر اپنے پروردگار کے سامنے سجدے میں رہے(1)۔

بنی اسرائیل کے بارے میں ہے کہ اپنی دعا کی قبولیت کے لئے چالیس روز و شب گریہ و زاری کیا کرتے تھے(2)۔

پیامبر اسلام(ص) فرماتے ہیں: «من اخلص لله اربعین یوماً فجر الله ینابیع الحکمة من قلبه على لسانه»: جو شخص اپنے تمام اعمال کو چالیس دن تک صرف اور صرف خدا کے لئے خالص کر لے خدا حکمت کو اس کی زبان پر جاری کر دیتا ہے۔

امام علی (ع)سے روایت ہے کہ"اگر چالیس مومن میری بیعت کر لیتے تو میں قیام کر لیتا"(3)۔

روایت میں ہے کہ جو شراب پیئے  چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔

رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ جو حرام لقمہ کھائے خدا کی درگاہ میں چالیس دن تک اس کی دعا قبول نہیں ہوتی(4)۔

اس سال بھی محرم آیا اور ان تمام مراحل کو طے کرتے ہوئے، ہم اربعین حسینی پہ آ پہنچے ہیں۔

پہلا چہلم:

روایات کے مطابق امام حسین(ع) کی شهادت کے بعد ان کے پہلے چہلم کے دن صحابی رسول خدا(ص)، جابر بن عبداللہ انصاری(رض) اور عطیہ عوفی، امام حسین(ع) کی تربت کی زیارت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اور بعض کتب میں نقل ہوا ہے کہ اسی چہلم کے دن کربلا کے اسراء اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کا کاروان جو اس مصیبت عظیم کے بعد شام سے مدینہ واپس جا رہا تها، راستے میں ان کی ملاقات، جابر بن عبداللہ سے ہوتی ہے۔ اگرچہ بعض مورخان اس بات کو تسلیم نہیں کرتے لیکن اکثر علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جابر بن عبداللہ کی اہل بیت(ع) سے پہلا چہلم پہ ہی ملاقات ہوئی تھی، اور جابر قبرِ امام حسین(ع) کا پہلا زائر ہے۔

یہ سنت آج بھی عراقی و غیر عراقی لوگوں کے درمیان مرسوم ہے اور اس دن پوری دنیا سے عاشقانِ امام حسین(ع) ان کے مرقدِ مطهر پر جمع ہوتے ہیں۔

مومن کو چاہیئے کہ وہ بھی اپنے آپ کو جابر بن عبدالله انصارى کی اس حدیث میں اپنے عمل کے ذریعے شامل کر لے کہ جابر فرماتے ہیں:" جو جس قوم اور اسکے عمل کو چاہتا ہے وہ روزِ قیامت اسی کے ساتھ محشور ہو گا" ہم حسین ‏علیه‏ السلام کے چاہنے والے ہیں، کیوں؟ اسلئے کہ حسین کو خدا چاہتا ہے، اسکا رسول(ص) چاہتا ہے، سیدۃ النساء(س) چاہتی ہیں، تمام انبیاء الهی چاہتے ہیں، جن و ملک و انس اور حتیٰ زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ حسین(ع) کا عاشق ہے۔ ہمارے دل سالار شهیدان کے لئے بےتاب، آنکھیں انکی مظلومانه ترین شهادت پر گریاں ہیں۔ آخر میں پروردگار سے دعا ہے کہ تمام مومنوں کو، "کوئی غم نہ دے سوائے غمِ حسین کے"۔

اس شب و روز میں امام(ع) کے عاشقان و پیروان ذکر مصیبت کرتے ہیں اور آنسو بہاتے ہیں۔ یہ وہ حق و عشق کا راستہ ہے کہ جو اس کو جاری رکھے گا وہ کبھی منحرف نہیں ہو گا۔

اربعین کے فلسفے کے بارے میں اور اس عدد کے اسرار و رموز کے سلسلے میں اسقدر روایات ہیں کہ قابلِ شمارش نہیں۔ اور اگر آپ تمام انبیاء و آئمہ و اوصیاء کی زندگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان کے ولادت و وفات یا شهادت کے ایام تو منائے جاتے ہیں لیکن چہلم کسی کا نہیں منایا جاتا، یہ اعزاز صرف سید الشهداء کو حاصل ہے۔

اس دن زیارتِ امام حسین(ع) پڑهنا مستحب ہے اور یہ زیارت "زیارتِ اربعین" کے نام سے معروف ہے، شیخ طوسی(رہ) نے زیارتِ اربعین کی سند کو حضرت امام صادق(ع) سے کچھ اس طرح سے نقل کیا ہے:

"السلام علی ولی الله و حبیبه، السلام علی خلیل الله و نجیبه، السلام علی صفی الله و ابن صفیه...،

اس کی سند موثق ہے کیونکہ اس مطلب کو قرنِ پنجم کے انتہائی معتبر شیعہ عالم شیخ طوسی(رہ) نے نقل کیا ہے۔ اسی لئے شیعہ ان کی زیارت کرنے، پڑهنے اور عزاداری و ماتم میں کوتاہی نہیں کرتے، امام حسن عسکرى ‏علیه‏‌السلام نے زیارت اربعین کو ایمان کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔

جی ہاں یہ زیارت اربعین ہی ہے جو خالص مومن کو دوسروں سے جدا کرتی ہے، اہلبیت ‏علیه‏ السلام کے دوستوں کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور یہ ایامِ حسینی ہی ہیں یہ اربعینِ حسینی ہی ہے جس کو زندہ رکھنے سے ہم بھی زندہ ہیں، اور مومن واقعی وہی ہے جو حسین ‏علیه‏ السلام کی نهضت‏ کو زندہ رکهے، اور اسکی قدردانی، هدف اور شرکت میں کوتاہی نہ کرے۔

یہ مجالس ہیں جو لوگوں کو جمع کرتی ہیں اور اگر کوئی شخص اسلام کی خدمت کرنا چاہے اور کوئی پیغام دینا چاہے تو اپنی خطبا اورائمہ جمعہ وجماعات کے ذریعے پورے ملک میں پهیل جاتا ہے۔ اس الٰہی اور حسینی(ع) جھنڈے کے نیچے لوگ خودبخود منظم ہوجاتے ہیں(5)۔

1۔ مستدرک وسائل، ج9، ص329

2۔ مستدرک، ج5، ص239

3۔ الاحتجاج، ص84

4۔ مستدرک وسائل، ج5، ص217

5ـ امام خمینی(رح)، قیام عاشورا، ص16۔    

اس الٰہی اور حسینی(ع) جھنڈے کے نیچے لوگ خودبخود منظم ہوجاتے ہیں۔

کربلا وہ سرزمیں کہ جس کا نام سنتے ہی دل سے اک آہ سی اٹھتی ہے۔

کربلا وہ ریگستانِ خشک و بے آب جو انسانیت اور کمال کا بیکراں سمندر یے کہ جس کے اندر عظیم گوهر، مظلومیت کے غلاف میں پنهاں ہیں جن کو ڈھونڈنے کے لئے چشمِ بصیرت کی ضرورت ہے، ان کی تلاش کے لئے ماہر غواص چاہئیں، اسکے لئے جوانمردی اور معرفت کی ضرورت ہے۔

قریباً چودہ صدیاں بیت گئیں لیکن واقعہ کربلا آج بھی اسی طرح زندہ ہے، آج بھی غمِ حسین علیہ السلام میں قلب فگار ہیں اور آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں۔ اگر ایک سروے انجام دیا جائے کہ جس کا عنوان یہ ہو کہ" کس شخصیت کے لئے دنیا میں سب سے زیادہ آنسو بہائے گئے، بہائے جاتے ہیں اور بہائے جائیں گے" تو یقیناً جواب میں حسین علیہ السلام کا نام لیا جائے گا۔

واقعہ کربلا سے لے کر آج تک اور تا قیامت، یہ وہ واحد ہستی ہیں کہ جسے یاد رکھا گیا اور رکھا جائے گا۔ جب اور جہاں حسین(ع) کا نام آئے گا وہاں دیگر شهیدان و غازیانِ کربلا کو بھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

’’ہر سال محرم آتا ہے اور ہمارے دلوں پر لگے اس زخم کو تازہ کر جاتا ہے، وہ زخم کہ جو سال کے باقی مہینوں میں پرانا ہو جاتا ہے لیکن محرم کے آتے ہی اس زخم سے تازہ خون رسنا شروع ہو جاتا ہے، بارِ الها! یہ کیسا غم ہے جو کم ہی نہیں ہوتا، زمانے کا دستور ہے جب کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اول روزِ مرگ، پھر سوم، اسکے بعد دسواں، اور آخر میں چالیسواں، سال کے بعد برسی ایک سال، دو سال، تین سال، دس سال، بیس سال اور پھر فراموشی، لیکن حسین(ع) کے لئے۔۔۔ یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘

ہر سال امام حسین(ع) اور ان کی اولاد و اصحاب کے لئے یہ ایام منائے جاتے ہیں اور ہر آنے والے سال میں پچھلے سالوں سے زیادہ زور و شور سے یہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ چودہ سو سال سے یہ غم اسی طرح منایا جا رہا ہے، یہ صریح معجزہ ہے سب کو نظر آتا ہے سوائے ان کے کہ جن کے دلوں پر خدا نے "صم بکم عمی" کی مہر لگا دی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بصیرت سے محروم ہیں، جو ان ہستیوں کی درست شناخت نہیں رکھتے۔

دینی تعلیمات میں اربعین کے عدد کی اہمیت

دینِ اسلام میں بہت سے اہم واقعات میں اربعین کی تعبیر موجود ہے، جس کا ایک نمونہ یہ ہے کہ رسول خدا(ص) کی بعثت کے وقت عمرِ مبارک چالیس سال تھی، کہا گیا ہے کہ چهل کا عدد انسان کی عمر میں بلوغ اور رشدِ فکری سے تعبیر کیا گیا ہے۔

قرآن میں پروردگار کے ساتھ «میقات» موسی(ع) چهل دن تک تهی۔ روایات میں نقل ہے کہ حضرت آدم چهل دن رات کوہِ صفا پر اپنے پروردگار کے سامنے سجدے میں رہے(1)۔

بنی اسرائیل کے بارے میں ہے کہ اپنی دعا کی قبولیت کے لئے چالیس روز و شب گریہ و زاری کیا کرتے تھے(2)۔

پیامبر اسلام(ص) فرماتے ہیں: «من اخلص لله اربعین یوماً فجر الله ینابیع الحکمة من قلبه على لسانه»: جو شخص اپنے تمام اعمال کو چالیس دن تک صرف اور صرف خدا کے لئے خالص کر لے خدا حکمت کو اس کی زبان پر جاری کر دیتا ہے۔

امام علی (ع)سے روایت ہے کہ"اگر چالیس مومن میری بیعت کر لیتے تو میں قیام کر لیتا"(3)۔

روایت میں ہے کہ جو شراب پیئے  چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔

رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ جو حرام لقمہ کھائے خدا کی درگاہ میں چالیس دن تک اس کی دعا قبول نہیں ہوتی(4)۔

اس سال بھی محرم آیا اور ان تمام مراحل کو طے کرتے ہوئے، ہم اربعین حسینی پہ آ پہنچے ہیں۔

پہلا چہلم:

روایات کے مطابق امام حسین(ع) کی شهادت کے بعد ان کے پہلے چہلم کے دن صحابی رسول خدا(ص)، جابر بن عبداللہ انصاری(رض) اور عطیہ عوفی، امام حسین(ع) کی تربت کی زیارت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اور بعض کتب میں نقل ہوا ہے کہ اسی چہلم کے دن کربلا کے اسراء اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کا کاروان جو اس مصیبت عظیم کے بعد شام سے مدینہ واپس جا رہا تها، راستے میں ان کی ملاقات، جابر بن عبداللہ سے ہوتی ہے۔ اگرچہ بعض مورخان اس بات کو تسلیم نہیں کرتے لیکن اکثر علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جابر بن عبداللہ کی اہل بیت(ع) سے پہلا چہلم پہ ہی ملاقات ہوئی تھی، اور جابر قبرِ امام حسین(ع) کا پہلا زائر ہے۔

یہ سنت آج بھی عراقی و غیر عراقی لوگوں کے درمیان مرسوم ہے اور اس دن پوری دنیا سے عاشقانِ امام حسین(ع) ان کے مرقدِ مطهر پر جمع ہوتے ہیں۔

مومن کو چاہیئے کہ وہ بھی اپنے آپ کو جابر بن عبدالله انصارى کی اس حدیث میں اپنے عمل کے ذریعے شامل کر لے کہ جابر فرماتے ہیں:" جو جس قوم اور اسکے عمل کو چاہتا ہے وہ روزِ قیامت اسی کے ساتھ محشور ہو گا" ہم حسین ‏علیه‏ السلام کے چاہنے والے ہیں، کیوں؟ اسلئے کہ حسین کو خدا چاہتا ہے، اسکا رسول(ص) چاہتا ہے، سیدۃ النساء(س) چاہتی ہیں، تمام انبیاء الهی چاہتے ہیں، جن و ملک و انس اور حتیٰ زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ حسین(ع) کا عاشق ہے۔ ہمارے دل سالار شهیدان کے لئے بےتاب، آنکھیں انکی مظلومانه ترین شهادت پر گریاں ہیں۔ آخر میں پروردگار سے دعا ہے کہ تمام مومنوں کو، "کوئی غم نہ دے سوائے غمِ حسین کے"۔

اس شب و روز میں امام(ع) کے عاشقان و پیروان ذکر مصیبت کرتے ہیں اور آنسو بہاتے ہیں۔ یہ وہ حق و عشق کا راستہ ہے کہ جو اس کو جاری رکھے گا وہ کبھی منحرف نہیں ہو گا۔

اربعین کے فلسفے کے بارے میں اور اس عدد کے اسرار و رموز کے سلسلے میں اسقدر روایات ہیں کہ قابلِ شمارش نہیں۔ اور اگر آپ تمام انبیاء و آئمہ و اوصیاء کی زندگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان کے ولادت و وفات یا شهادت کے ایام تو منائے جاتے ہیں لیکن چہلم کسی کا نہیں منایا جاتا، یہ اعزاز صرف سید الشهداء کو حاصل ہے۔

اس دن زیارتِ امام حسین(ع) پڑهنا مستحب ہے اور یہ زیارت "زیارتِ اربعین" کے نام سے معروف ہے، شیخ طوسی(رہ) نے زیارتِ اربعین کی سند کو حضرت امام صادق(ع) سے کچھ اس طرح سے نقل کیا ہے:

"السلام علی ولی الله و حبیبه، السلام علی خلیل الله و نجیبه، السلام علی صفی الله و ابن صفیه...،

اس کی سند موثق ہے کیونکہ اس مطلب کو قرنِ پنجم کے انتہائی معتبر شیعہ عالم شیخ طوسی(رہ) نے نقل کیا ہے۔ اسی لئے شیعہ ان کی زیارت کرنے، پڑهنے اور عزاداری و ماتم میں کوتاہی نہیں کرتے، امام حسن عسکرى ‏علیه‏‌السلام نے زیارت اربعین کو ایمان کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔

جی ہاں یہ زیارت اربعین ہی ہے جو خالص مومن کو دوسروں سے جدا کرتی ہے، اہلبیت ‏علیه‏ السلام کے دوستوں کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور یہ ایامِ حسینی ہی ہیں یہ اربعینِ حسینی ہی ہے جس کو زندہ رکھنے سے ہم بھی زندہ ہیں، اور مومن واقعی وہی ہے جو حسین ‏علیه‏ السلام کی نهضت‏ کو زندہ رکهے، اور اسکی قدردانی، هدف اور شرکت میں کوتاہی نہ کرے۔

یہ مجالس ہیں جو لوگوں کو جمع کرتی ہیں اور اگر کوئی شخص اسلام کی خدمت کرنا چاہے اور کوئی پیغام دینا چاہے تو اپنی خطبا اورائمہ جمعہ وجماعات کے ذریعے پورے ملک میں پهیل جاتا ہے۔ اس الٰہی اور حسینی(ع) جھنڈے کے نیچے لوگ خودبخود منظم ہوجاتے ہیں(5)۔

1۔ مستدرک وسائل، ج9، ص329

2۔ مستدرک، ج5، ص239

3۔ الاحتجاج، ص84

4۔ مستدرک وسائل، ج5، ص217

5ـ امام خمینی(رح)، قیام عاشورا، ص16۔    

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn