بدھ, 03 جون 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
46
مضامین
441
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
483821


امام عصر سے متعلق جوانوں کے لئے سوالات اور ان کے جواب:

س1 : اس وقت روئے زمین پر حجت خدا کون ہے ؟

ج2: بارہویں امام مہدی (عج)

س2: امام عصر کب اور کہاں پیدا ہوئے ؟

ج2: 15 شعبان المعظم 255 ہجری قمری میں سامرہ میں پیدا ہوئے ۔

س3: آپ کے والدماجد اور والدہ گرامی کا نام کیا ہے ؟

ج3: والد امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ نرجس خاتون ۖہیں ۔

س4: امام عصر کا نام کیا ہے اور کس نے رکھا ہے ؟

ج4: آپ کااصل نام (م ح م د (ہے او ر یہ نام رسول خدا ۖنے رکھا ہے ۔

س5: آپ کی کنیت کیا ہے ؟

ج5: ابو القاسم ،ابوصالح ،ابو عبداللہ،ابو ابراہیم اور ابوجعفر۔

س6: آپ کو امامت کے فرائض کب سونپے گئے ؟

ج6: ٨ربیع الاول ٢٦٠ ھ ق کو ۔

س7: اس وقت آپ کی عمر مبارک کیا ہے؟

ج7: اس وقت آپ کی عمر مبارک ١١٧٠سال ہے ۔

س 8: امام حسن عسکری ـ کی شہادت کے وقت بادشاہ وقت کون تھا ؟

ج8: معتمد عباسی حکمران وقت تھا ۔

س9:غیبت کی کتنی قسمیں ہیں ؟

ج9:غیبت کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

(غیبت صغری ...غیبت کبری ) تاریخ کے بیان کے مطابق غیبت صغری کی مدت 260 سے 239 تک اور غیبت کبری کی مدت 329 سے نامعلوم مدت تک ۔

س10 : امام زمانہ سے متعلق آئمہ معصومین کی کوئی حدیث پیش کریں ؟

ج10 : امام (عج)سے متعلق معصومین سے سینکڑوں کی تعداد میں مختلف مضامین کی حدیثیں شیعہ اوراہل سنت حضرات نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں لیکن آپ مثال کے طور پر اس حدیث کوملاحظہ فرمائیں جسے علامہ جوادی نے اپنے ترجمہ میں نقل کیا ہے کہ: امام محمد باقر (ع) کا ارشاد گرامی ہے کہ خلوص دل کے ساتھ ظہور قائم کا انتظار کرنے والا شہداء اور صدیقین میں شمار ہوتا ہے ،اس لئے کہ ایمان بالغیب سے بڑا کوئی ایمان نہیں ہے اور یہ انسان کو مجاہد کی صف میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے-



 

س11 : پیغمبر اکرم (ص) سے کوئی حدیث ہو تو پیش کریں ؟

ج11 : پیغمبراکرم (ص) نے فرمایا:''اس خدا کی قسم جس نے مجھے زندگی عطا کی اور پیغمبری سے نوازا ! یہ وہ زمانہ ہوگا جب میرا فرزند قائم ایک طولانی عرصے کے لئے لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو جائیگا اس زمانے میں لوگ کہیں گے کہ خدا کو آل محمد کی ضرورت نہیں ہے اسی طرح دوسرا گروہ بھی ان کی امامت اور رہبری میں شک کرے گا مگر حقیقی مومن مضبوطی کے ساتھ اپنے دین پر باقی رہیں گے اور خود کو ہر طرح کے شکوک و شبہات سے محفوظ رکھیں گے تا کہ شیطان ان کو نہ بہکا سکے وہ لوگ میرے بھائی ہوں  گے-

وہ لوگ خوش نصیب ہوں گے جو میرے قائم کی غیبت کے زمانے میں صبر کریں گے اور اسی طرح وہ لوگ بھی خوش نصیب ہوںگے جو اسکی محبت پر ثابت قدم رہیں گے

اسکے علاوہ پیغمبر اکرم (ص) کی دوسری حدیث میں ہے کہ آپ (ص) نے فرمایاہے کہ:

امام (عج)کے ظہور کا انتظار عبادت ہے میری امت کا بہترین عمل خدا سے امام کے ظہور کی دعا کرنا ہے (1)

 

س 12: امام زمانہ کا ذکر قرآن مجید میں کتنی مرتبہ ہوا؟

ج12: بعض نے قرآن مجید کی ٣٠٠آیتوں کو امام عصر سے متعلق بیان کیا ہے جن میں سے بعض آیتیں امام کے ظہور اور ان کے انتظار پر دلالت کرتی ہیں(صحیفة المہدی(

 

س13: کیاامام زمانہ کی شان میں کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں :

ج13 :جی ہاں ! قرآن مجید میں بہت سی آیتیں ان کی شان میں ملیں گی جس پر ہمارے شیعہ مفسرین کا بیان ہے کہ یہ آیات امام عصر کی شان میں نازل ہوئی ہیں لیکن ہم یہاں اہل سنت حضرات کی معتبر کتاب ینابیع المودة سے ایک قرآنی آیت پیش کررہے ہیں جس پر ان کا اتفاق ہے کہ یہ آیۂ مبارکہ امام مہدی (عج)کی شان میں نازل ہوئی ہے الم ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب۔ (2)

اس آیہ مبارک کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب کتاب نے یوں بیان کیا ہے کہ متقین سے مراد شیعیان حیدر کرار ہیں اور غیب سے مراد جناب امام ولی عصر ارواحنا لہ الفداء ہیں ۔

اور مومن وہ ہے جو غیبت امام زمانہ پر ایمان رکھے۔(3)آپ اسکی تفصیل دیگر کتابوں جیسے بحار الانوار جلد 51 ص52 و غایة المرام ص719 میں دیکھ سکتے ہیں ۔

 

س14: کیا توریت ، زبور اور انجیل میں بھی امام زمانہ کا ذکر ہوا ہے ؟

ج14 : جی ہاں صرف انہی کتابوں میں نہیں بلکہ دنیا کے تمام ادیان کی معتبر کتابوں میں امام کا ذکر ہوا ہے یہ اور بات ہے کہ بیان کرنے والے نے اپنی زبان میں بیان کیا ہے۔ توریت میں امام عصرعلیہ السلام کو ماشع،قیدمو اور شیلو کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ زبور میں بنام قائم اور انجیل میں بنام مہمید آخر ،جناب ابراہیم کے صحیفہ(صحف ابراہیم (میں بنام صاحب آپ کا تذکرہ آیا ہے۔(4)

 

س15: کیا امام زمانہ کے اسم مبارک کو بغیر وضو چھو سکتے ہیں؟

ج15: ہرگزنہیں یہ عمل حرام ہے (5)

 

س16: امام زمانہ کی حکومت کی مدت کیا ہے؟

ج16: اس امر میں اختلاف ہے مگر احادیث کے مطابق امام عصر کی حکومت کی مدت 7،8،9،17،19،39،40،70،و309 سال ذکر ہے۔

 

س17: امام زمانہ کب اور کس دن ظہور کریں گے؟

ج18: اس کا علم فقط خدا کے پاس ہے احادیث کے مطابق امام عصر کے ظہورکا دن جمعہ اور روز عاشور ہو گا(6)

 

س19: امام زمانہ کی غیبت کا سبب کیا ہے؟

ج19: آپ کتاب ہذا کا دقت سے مطالعہ کریں تو جواب مل جائے گا۔

 

س 20: نماز امام زمانہ کے پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟

ج20: یہ نماز بالکل نماز صبح کی طرح دورکعت ہے مگر صرف اس فرق کہ ساتھ کے اس نماز کی ہر رکعت میں آیہ مبارکہ (ایاک نعبد و ایا ک نستعین(کو سو مرتبہ پڑھا جاتا ہے نیز نماز کے تمام ہونے پر دعائے فرج (الھی عظم بلاء و برح الخفائ...( کا پڑھنا بھی وارد ہے مفاتیح الجنان کی طرف رجوع کریں۔

 

س21: کیا ہم امام زمانہ کے یاور وانصار میں شمار ہو سکتے ہیں اور اگر ہوسکتے ہیں توکیسے؟

ج21: کیوں نہیں سب سے پہلے ہمیں امام عصر کی فرمائشات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اس کے علاوہ امام جعفر صادق ـسے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:

جو بھی چالیس صباح(صبح(دعائے عہد کو پڑھے گا تو وہ امام کے یاور انصار میں شمار کیا جائے گا اور اگر ظہور سے پہلے اسے موت آگئی تو خدا وند عالم اسے ظہور کے وقت قبر سے اٹھائے گا تاکہ وہ امام کے یار وانصار کے ہمراہ ہو جائے خداوند عالم اسکے ہر کلمہ کے عوض اسے ہزار حسنہ عطاکرے گا اور اس کے ہزار گناہوں کو معاف کردے گا (7)

 

س22:امام زمانہ نے ہمارے لئے کیا فرمایا ہے ؟

ج22:ایسے تو امام عصر نے ہمارے لئے بہت کچھ فرمایا ہے امام کی تقریبا ٨٠ توقیعات میں ہمارے لئے بہت سی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن بطور اختصار ایک جملہ کی طرف اشارہ کررہا ہوں کہ امام علیہ السلام نے فرمایا :''اگر تم ہماری طرف متوجہ ہونا چاہو تو (زیارت آل یٰس جو کہ خود امام سے متعلق (کو ضرور پڑھو اور اے میرے شیعو! ہمارے ظہور کی دعائیں خدا سے مانگو''۔

 

س23: کیا دنیا میں انسان اتنی طولانی عمر بھی گزار سکتا ہے؟!

ج23: آپکا سوال مبہم ہے آپ کے سوال کا کیا مقصد ہے ؟کیا آپ امام عصر کی طولانی عمر کے بارے میں سوال کرنا چاہتے ہیں؟اگر آپ کی مراد یہ ہے توملاحظہ فرمائیں اس دنیا میں صرف ہمارے امام ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ کئی لوگ طولانی عمر کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں اور انہیں بھی ہمارے امام کے ظہور کا انتظار ہے جیسے برادران اہلسنت کے عقیدہ کے مطابق اللہ کے نبی حضرت الیاس اور ادریس ابھی تک زندہ ہیں اہل سنت حضرات جناب ادریس کے زندہ ہونے پر اس آیت مبارکہ:

(و رفعنا ہ مکاناً علی( سے استناد کرتے ہیں(8)

اہل سنت حضرات اس بات کے قائل بھی ہیں کہ دنیا میں ابھی٤ /نبی زندہ ہیں جو اپنے اپنے امور میں لگے ہوئے ہیں لیکن مراسم حج میں ہر سال شرکت کرتے ہیں شیعوں کے مطابق دو نبی زندہ ہیں جن میں پہلے جناب عیسی اور دوسرے جناب خضر ہیں،  تو ہمیں یہ سوچنا اور غور کرنا چاہیئے کہ جو خدا اپنے چار نبی کو زندہ رکھ سکتا ہے کیا وہ اپنے محبوب حضرت ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی (ص) کے نائب و جانشین اور ان کے خلیفہ کو زندہ نہیں رکھ سکتا ! حالانکہ ہمیں تاریخ میں جناب آدم  سے لیکر حضرت خاتم (ص) تک اور حضرت خاتم (ص) سے لیکر اب تک طول عمر کی بہت ساری مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں جیسے یہودیوں کی کتاب توریت میں ان لوگوں کے نام بیان کئے گئے ہیں جن کی عمر طولانی تھیں جیسے:

(1) جناب آدم ـ 930 سال۔

(2) جناب شیث ـ فرزند جناب آدم ـ 912 سال

(3) جناب لوش ـ فرزند شیث ـ 905 سال

(4) جناب قنیان ـ فرزندانوش ـ 910 سال

(5) جناب مہلائیل ـ فرزند قنیان ـ 895 سال

(6) جناب یارد ـ فرزند مہلائیل ـ 962سال

(7) جناب خنوخ ـ(جناب ادریس ـ کو ہی خنوخ کہتے ہیں جنکی طولانی عمر کا ذکر سورۂ مریم کی57 آیت ہے ملاحظہ کریں(فرزند یارد- 365 سال دنیا میں رہے پھر اٹھا لئے گئے۔

(8) جناب متو شالح (عج) فرزند خنوخ ـ 969سال

(9) جناب لمک ـ فرزند متو شالح ـ777سال

(10) حضرت نوح (عج) فرزند لمک ـ 950سال(9)

ان اسماء کے ملاحظہ کرنے کے بعد ہمیں پتہ یہ چلتاہے کہ انسان کی عمر توریت کے مطابق فقط 70 سال کی نہیں بلکہ حد اقل 900 سال کی ہے اور یہ تو یہودیوں کی کتاب کا بیان ہے اب ہم اپنی مقدس اور محکم کتاب کا مطالعہ کریں کہ اس بارے میں اسکا نظریہ کیاہے ؟ قرآن مجید نے طولانی عمر کا کئی جگہو ں پر ذکر کیا ہے جیسے سورۂ انبیآء آیت 44 ، سورۂ صافات آیت 144، سورۂ عنکبوت آیت 14،سورۂ قصص آیت 45، سورۂ نسآء 157۔(ان آیات کوملاحظہ کرنے سے بات اور واضح ہو جائے گی)

ہم امام جعفر صادق علیہ السلام کی اس حدیث مبارک پر بات تمام کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:''خدا کے علم میں یہ بات مقدر تھی کہ قائم آل محمد کی عمر طولانی ہو چونکہ وہ جانتا تھا کہ بہت سے لوگ زمانۂ غیبت میں آپ کی طولانی عمر پر شک و تردید کریں گے لہذا اس نے ان لوگوں کو زندہ رکھا تاکہ انکی طولانی عمر کے ذریعہ دشمنوں کا جواب اور انھیں قانع کرسکیں ۔

 

س24: کیا ہم امام زمانہ (عج) سے ملاقات کر سکتے ہیں ؟

ج24: کیوں نہیں لیکن تقوی و طہارت روح کی شرط ہے اگر انسان متقی بن جائے تو یہ امر محال نہیں ہے جیسا کہ خداوندعالم نے قرآن مجید کے لئے فرمایا:(لایمسہ الَّا المُطَھَّرُون۔کہف آیت 71 و82 (ٹھیک اسی طرح امام مبین کی ملاقات و دیدار بھی ہے متقی اور پرہیز گاروں کے علاوہ ان سے کوئی نہیں مل سکتا۔

 

س25: کیا امام زمانہ ہماری حالات سے باخبر ہیں ؟

ج25: روایات کے مطابق ہمارے امام ہمارے تمام حالات کو جانتے ہیں اور ہماری مدد بھی کرتے ہیں لیکن ہم انھیں پہچان نہیں پاتے جیسا کہ امام جعفرصادق نے فرمایا: و لو خلت الارض ساعة و احد ة من حجة اللہ لساخت باھلھا و لکن الحجة یعرف الناس و لا یعرفونہ کما کان یوسف یعرف الناس وھم لہ منکرون۔

اور اگر زمین حجت خدا سے ایک لحظہ کے لئے بھی خالی ہوگئی تو یہ زمین پر رہنے والوں کو نگل جائے گی حجت خدا لوگوں کو جانتے بھی ہیں اور پہچانتے بھی ہیں لیکن لوگ نہیں پہچان پاتے جناب یوسف لوگوں کو پہچانتے تھے مگر لوگ انھیں نہیں پہچان پاتے تھے (کتاب الغیبة نعمانی ص٤)

دوسری روایت امام سے جو نقل ہوئی ہے اسکا مضمون اس طرح سے ہے کہ :امام قائم (عج) …مراسم حج میں شرکت کرتے ہیں اور لوگوں کو دیکھا کرتے ہیں لیکن لوگ انھیں نہیں دیکھ پاتے اور اگر دیکھتے بھی ہیں تو انھیں پہچان نہیں پاتے(10)

 

س26: غیبت امام زمانہ میں ہمارے کیا فرائض ہیں ؟

ج26: جواب کے لئے کتاب کا مطالعہ کریں۔

 

س27: امام زمانہ کی شان میں کتنی احادیث نقل ہوئی ہیں ؟

ج27: امام (عج)کی شان میں نقل ہو نے والی حدیثوں کی تعداد بہت ہے تقریبا 700 یا اس سے زیادہ اس سلسلے میں آپ بحار ر الانوار جلد 51 تا 53 و منتخب الاثر صفحہ 31 تا 60 کی طرف رجوع کریں۔

 

س 28 : امام زمانہ کے ساتھ کل کتنے لوگ ہوں گے؟

ج28: امام کے ناصرا ن کی تعداد (313)ہو گی ۔

 

س29: کیا امام زمانہ کے رہنے کی کوئی خاص جگہ ہے ؟

ج29: نہیں کتاب سیمای آفتاب صفحہ ٤٨٢ پر صاحب کتاب نے فرمایاکہ امام عصر کے رہنے کی کوئی خاص جگہ نہیں ہے مگر ہاں امام عصر کے قدم مبارک سے ضیاء حاصل کرنے والی زمینوں میں مکہ ٔ معظمہ ،مدینہ منوّرہ ،نجف اشرف ،کوفعہ ،کربلا ، کاظمین ،سامرہ ، بغداد،مشھد مقدس اور قم المقدسہ شامل ہیں۔

 

س30:ان لوگوں کے اسماء بتائیں جنہوں نے امام عصر کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے ؟

ج30:علامہ حلی، علامہ بحر العلوم، محمد بن عیسیٰ بحرینی، علی بن مہزیار .... جن لوگوں نے امام (عج) کی دیدار کا شرف حاصل کیا ہے لیکن ایک صابون فروش کو یہ سعادت نہیں مل پائی!اس بد نصیب شخص کی داستان کوملاحظہ کریں !

بصرہ میں رہنے والا ایک بندۂ مومن جو وہاںعطر فروشی کا کام کیا کرتا تھا خود اپنی زبان سے اس واقعہ کو بیان کرتاہے کہ میں ایک روز اپنی دکان میں بیٹھا تھا کہ اچانک دولوگ آئے اور سدرو کافور کی خریداری میںمشغول ہو گئے لیکن میں انھیں دیکھتے ہی پہچان گیا کہ یہ دونوں ایک اعلی شخصیت کے حامل ہیں اور یہ بصرہ کے رہنے والے نہیں ہیں میں نے احوال پرسی کے بعد ان سے پوچھنا شروع کیا کہ آپ لوگ کہا ںسے تشریف لائے ہیں ا ن لوگوں نے پہلے تو نہیں بتایا لیکن میرے بہت اصرا پر ا ن لوگوں نے کہ ہم امام زمانہ (عج) کی طرف سے آئے ہیں اور یہ سدر و کافور خریدنے کی علت یہ ہے کہ امام کے ایک چاہنے والے کا انتقال ہو گیا ہے لہذا اسکے کفن ودفن کا انتظام کرنے نکلے ہیں یہ سن کر اس نے فورا ً اپنی دکان بند کردی اور ان سے سفارش کرنے لگا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے تاکہ امام (عج) کی زیارت کا شرف حاصل ہو جائے ۔ ا ن لوگوں نے بہت منع کیا لیکن میں نے انکی باتیں نہیںمانیںاور انکے ہمراہ ہوگیا وہ کہتا ہے کہ ہم انکے ساتھ عمّان سمندرکے قریب پہنچے تو نہ کہیں کشتی کا پتہ نہ کہیں کوئی آبادی ! یکا یک میری نظر ان بزرگواروںپر پڑی تو دیکھا کہ وہ یوں ہی پانی پر چلنے لگے !مجھے تعجب ہوا میں ساحل پر ہی یہ سوچ کر کھڑا رہا کہ کہیں غرق نہ ہو جاؤں! مگر جب ان لوگوں نے مڑکر دیکھا تو آواز دی آؤ کچھ نہیں ہو گا خدا وند عالم کو امام کا واسطہ دے کر پانی پر اپنا قدم رکھدو میں نے ایسا ہی کیا انکے پیچھے پیچھے چلتا رہا لیکن کچھ دور چلنے کہ بعد فضاء کی بدلی ہوئی صورت کو دیکھ کر یہ احساس کیا کہ کہیں بارش نہ ہو جائے ابھی کچھ دیرپانی پر چلا ہی تھا کہ بارش ہو نے لگی!

وہ بیان کرتا ہے کہ میں نے اتفاقاً اسی دن صابون خشک کرنے کی غرض سے اسے دھوپ میں ڈالا تھا ابھی میں اسی کشمکش میں تھا کہ اب تو بارش ہونے لگی اب کیا ہوگا سارا صابون خراب ہو جائے گا !اس فکر نے مجھے پریشان کردیا اور میں اسی صابون کی فکر میں تھاکہ اچانک موجوں نے ساتھ چھوڑ دیا اور میںپانی میں ڈوبنے نے لگا ان لوگوں نے میری مدد کی اور مجھے پانی سے باہر کھینچا اور کہنے لگے کہ تمہارے ڈوبنے کا سبب تمہاری یہ غلط فکر ہے! تم اپنے صابن کی یاد میں ڈوب گئے! انکی رہنمائی پردوبارہ میں نے خدا کو امام کا واسطہ دیا اور امام سے متوسل ہوا تو پہلے کی طرح پھر پانی پر چلنے لگا چلتے چلتے ایک ساحل پر پہنچا تو ایک ایسے خیمہ کو دیکھا جو شجرۂ طور کی مانند نور سے منور تھا اور اس خیمہ سے نور ساطح ہو رہا تھا کچھ ا ور آگے بڑھایہاں تک کے خیمہ کے قریب پہنچ گیا وہ بزرگ جو ہمارے ساتھ تھے انمیں میں سے ایک خیمہ میں داخل ہو ئے کہ امامعلیہ السلام سے میرے لئے اجازت طلب کریں جب وہ اندر تشریف لے گئے تو میں نے اچھی طرح خیمہ کو دیکھا اس میں سے انکی آواز تو آرہی تھی لیکن انکے وجود نازنین کو نہیں دیکھ پایا!انہوں نے امام سے میرے لئے اجازت چاہی لیکن آنحضرت نے فرمایا:

رُدُّہُ فَاِنّہُ رَجُل صَابوُنیّی !!اسے واپس کردو کیونکہ ابھی اسکے دل سے صابن کی محبت ختم نہیں ہو ئی ہے یہ دنیا کے زرق و برق میں کھویا ہوا ہے لہذا اس بارگاہ میں ایسے لوگوں کی ہر گزگنجائش نہیں ہے !(سیمای آفتاب صفحہ313)

اس واقعہ سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کو خصوصاً شیعیان حیدر کرار اور منتظران امام عصر کو دنیا کی آلودگی سے دامن بچانا چاہیئے اور اپنے گناہ پر نادم ہوکر توبہ اور استغفار کرنا چاہیئے۔

 

س31: نواب اربعہ کہاں دفن ہیں ؟

ج31: بغداد میں ۔

 

س32: نواب اربعہ کے کیا معنی ہیں،اور انکے نام کیا ہیں ؟

ج32:نواب: نائب کی جمع ہے اور نواب اربعہ کے معنی چار نائب کے ہیں ۔

(1) جناب ابو عمرو عثمان بن سعید عمری جو امام عصر کے نائب260 ہجری قمری تک رہے

(2) جناب ابو جعفرمحمدبن عثمان عمری ... 305 تک...

(3) جناب ابوالقاسم حسین بن روح... 326 تک...

(4) جناب ابوالحسن بن علی محمدسمری...329 تک...

جیسا کہ تاریخی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چار بزرگوار زمانہ غیبت صغریٰ میں امام (عج) کے پیغام کوان کے شیعوں تک پہنچایا کرتے تھے اور آج توسل سے دنیا اپنا پیغام امام عصر تک پہنچاتی رہتی ہے۔

……………………………

(1) روزگاررہای جلدا ص353 ح 352

(2) بقرہ آیہ 1

(٣) ینا بیع المودة صفحہ 443

(3) اقوال الائمہ جلد1 صفحہ329

(4) رسالۂ امام خمینی مسئلہ 319

(5) بحارج52 ص279و خصال غیبت نعمانی ص282

(6) ص 941(دعائے ندبہ کے بعد)مفاتیح الجنان،شیخ عباس قمی

(7) البیان فی اخبار صاحب الزمان ص149

(8) توریت سفر پیدائش باب پنجم آیہ5،8،11،14،17،...31 و باب نہم آیہ 29

(10) اصول کافی جلد 1،ص339

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn