بدھ, 03 جون 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
46
مضامین
441
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
483787

[۱۶:۲۳, ۱۳۹۹/۲/۲۶]  شہادت حضرت علی (ع) کی نگاہ میں:

 

✒️ : ارشد حسین

 

???? شہادت کا درجہ ایک ایسا عظیم مرتبہ ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا بلکہ یہ ان لوگوں کے حصے میں آجاتا ہے جو خدا وند متعال کے انتخاب شدہ ہوتے ہیں . پس جو شخص بھی راہ خدا میں اپنی جان کا نظرانہ پیش کرتا ہے وہ خدا کا محبوب ترین بندوں میں سے شمار ہوتا ہے  لیکن  ہم اس مقالے میں شہادت کو مولا علی علیہ السلام کی نگاہ سے بیان کرنے کی کوشش کرینگے کہ آپ (ع)  حضرت رسول اللہ (ص)  کے بعد اس کائنات کی افضل ترین شخصیت ہونے کے بعد بھی راہ خدا میں قتل ہوجانا اور راہ خدا میں اپنی جان کا نذرانہ پیش  کرنااپنے لۓ سعادت اور فخر سمجھتے تھے جس سے شہادت کی فضیلت و مقام واضح اور روشن ہوجاتا ہے کہ اس کائنات کی دوسری بڑی شخصیت شہادت کی تمنا کرتی ہوئی نظر آتی ہے.

 

اسلام میں شہادت کی فضیلت : 

 

???? شہادت اور راہ خداوند متعال قتل ہونے کی اس قدر فضیلت ہے کہ خداوند متعال نے قرآن میں فرمایا کہ ولا تحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون يعني خداوند فرماتا ہے کہ جو لوگ راہ خدا میں قتل ہوجاتے ہیں ان کو مردہ مت کہو بلکہ وہ اپنے رب کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ 

(آل عمران 169)

 

???? اسی طرح حضرت رسول مکرم اسلام (ص) بھی شہادت کے متعلق فرماتے ہوۓ نظر آتے ہیں جو وما ينطق عن الهواء ان هو إلا وحي يوحی کا مصادق اور صادق رسول ہیں آپ(ص) فرماتے ہیں:

 

فوق کل ذی بر بر حتی یقتل فی سبیل الله فاذا قتل فی سبیل الله فلیس فوقه بر.

 

ہر نیکی کے اوپر ایک نیکی ہے یہاں تک کہ شخص راہ خدا میں قتل ہوجائے ، جب راہ خداوند میں قتل  ہوجاتا ہے تو اس کے اوپر اور کوئی نیکی نہیں ہے۔

 

( اصول كافى ، ج 2 ، ص 348)

 

???? پس قرآن مجید کی اس آیت اور رسول اللہ کی حدیث سے شہادت کی فضیلت واضح اور روش ہو جاتی ہے ۔

 

???? یہی شہادت ہے جس کے لۓ امیر المؤمنین علیہ السلام اپنی زندگی میں شدت سے انتظار کرتے رہے کہ جب آپ کے سر مبارک پر ضربت لگی تو مولا علیہ السلام  نے فرمایا فزت ورب الكعبة: کعبے کے رب کی قسم آج علی کامیاب ہوا۔ حضرت علی علیہ السلام نے بڑی بڑی جنگوں اور غذوات کو فتح کیا اور عرب کے بڑے بڑے پہلوانوں کو ڈھیر کیا کہیں یہ نہیں کہا کہ آج علی کامیاب ہوا لیکن جب 19 رمضان المبارک کو آپ کے سر مبارک پر ضرب لگی تو آپ علیہ السلام نے یہ تاریخی جملہ اپنی زبان مبارک سے جاری کیا کہ کعبے کے رب کی قسم آج علی کامیاب ہوا۔  حضرت علی علیہ السلام  نہج البلاغہ کے خطبہ 5 میں شہادت کے متعلق یوں فرماتے ہیں کہ: 

 

,,وَ اللَّهِ لَابْنُ أَبِى‏طالِبٍ انَسُ بِالْمَوْتِ مِنَ الطِّفْلِ بِثَدْىِ أُمِّهِ ،،

 

خدا کی قسم ابی طالب کے بیٹے کو موت (راہ خدا میں قتل ہونا) سے اس قدر انس ہے جیسا کہ طفل کو اپنی ماں کے سینے انس ہوتا ہے۔

 

???? حضرت علی علیہ السلام کو راہ خدا میں قتل ہوجانا اور شہادت سے انس کا اندازہ اس خط سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں آپ (ع) نے مالک اشتر کو  لکھا کہ: ,, وان يختم لي ولك بالسعادة والشهادة ،،

 

????  اے مالک خداوند میرا اور تمہارا خاتمہ سعادت اور شہادت پر کرے۔جب ہم امیر المؤمنین علیہ السلام کے ان کلمات پر غور کرتے ہیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ آپ شہادت سے بہت انس رکھتے تھے اورشہادت کو سعادت سمجھتے تھے۔

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn