بدھ, 17 جولائی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
416
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
351011

سوال: آیات و روایات میں توبہ کے ارکان کیا ہیں ؟

اجمالی جواب:

حقیقت توبہ یہ ہے کہ انسان نافرمانی سے ایسی اطاعت کی طرف پلٹ آتا ہے جو گزشتہ اعمال پر پشیمانی کی وجہ سے کی جاتی ہے اور اس پشیمانی اور علم کا لازمہ یہ ہے کہ گناہ اس کے اور اس کے حقیقی محبوب کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ، مستقبل میں گناہوں کو ترک کرنے کا ارادہ اور اس کی تلافی ان سب کو ختم کردیتی ہے ، اسی دلیل کی بناء پر قرآن مجید نے بہت سی آیات میں ان معنی کی تکرار کی ہے اور ان میں توبہ کو اصلاح اور تلافی کے ساتھ قرار دیا ہے ۔

   قيامت كے مسائل ميں سے ايك اہم مسئلہ عمل، افكار، اوصاف اور كردار كا مجسم ہونا ہے يہ بات اس وقت سمجھ ميں آئے گي جب اس مقدمہ پر غور كريں گے - اور وہ ہے ”‌عوالم وجود كا تطابق “عوالم ہستي خدائے سبحان كے ذات سے ايك خاص نظام كے تحت (جو اسي كے اسماء كے مظہر ہيں) نشو و نما پاتے ہيں اور اسي كے آثار و مظہر ہيں -

 

سب سے پہلا عالم ”‌عالم تجرد و جبروت“ ہے جو بلند مرتبہ اور خدائے سبحان سے قريب ہے اس عالم سے جو جتنا قريب ہوگا اتنا ہي عدم و نستي سے دور رہے گا - اسي وجہ سے اس كو ”‌عالم جبروت“ كہا گيا ہے - يعني وہ عالم ہے جس ميں ساري چيزوں (جو عوالم ديگر ميں نہيں پائي جاتي ہيں) قرب خداوندي كي بناء پر مطلق كمال، مظہر الہي اور خداداد صلاحتيوں سے منزل كمال پر پہونچي ہوئي ہيں -

 

دوسرا عالم ”‌ عالم مثال يا ملكوت “ ہے جو عالم تجرد سے نشوونما اور دوسرے مرتبہ پر ہے -

 

يہ عالم تجرد كے لحاظ سے سب سے پست، اور يہاں كي مخلوقات قدر ومنزلت كے اعتبار سے ”‌عالم برزخ“ كي طرح بعض بعض پر فوقيت ركھتي ہيں اور ايك دوسرے كي وجہ سے نشوونما پاتي ہيں -

 

تيسرا عالم ”‌عالم جسم يا عالم مادي“ ہے جو كو ”‌عالم ناسوت“ اور قرآن كے رو سے ”‌شہادت“ بھي كہا گيا ہے يہ عالم برزخ كے بعد ہے اور اسي سے نشوونما پاتا ہے جو بہت پست اور خدائے سبحان سے دور ہے - درحقيقت عالم جسم و مادہ محدود، اور مثالي حقائق كا مظہر ہے - جو اس ميں جلوہ نما ہوتا ہے - اس ترتيب كے لحاظ سے جو چيز عالم مادہ ميں پائي جاتي ہے وہي عالم مثال ميں موجود ہے ليكن ان دونوں ميں فرق صرف اتنا ہے كہ ان كے قوانين، اور احكام جدا جدا ہيں -

 

اسي طرح جو كچھ عالم مثال ميں پايا جاتا ہے بلكل وہي چيز عالم تجرد ميں بھي پائي جاتي ہے ليكن اس كے قوانين اسي سے مخصوص ہيں جس طرح عالم تجرد ميں ساري چيزيں موجود ہيں عالم -”‌ اسماء حسني “ ميں بھي پائي جاتي ہيں ليكن اس كے قوانين اسي عالم سے مخصوص ہيں جو حقائق عالم مادہ ميں پائے جاتے ہيں عالم (مثال، تجرد) اور عالم اسماء حسني ميں بھي كامل طور پر پائي جاتي ہے - پس جو چيز وہاں پائي جارہي ہيں وہي چيز يہاں بھي موجود ہے - عالم مثال كا مادے كي ساري كيفيتوں كو لينے كے باوجود عالم برزخ سے مشابہت ركھنا اور عالم تجرد كا ہر چيز سے بے نياز ہو كر عالم اسماء كے قوانين سے مشابہ ہونا حقيقت پر مبني ہے - اس كي مثال پاني ہے ليكن اس دنيا كے پاني ميں اور وہاں كے پاني ميں آسمان زمين كا فرق ہے اور سب كے ذائقے بھي الگ الگ ہيں - اس پاني كو سب لوگ نہيں پي سكتے ہيں اور نہ ہي دوسرے عالم ميں جاسكتا ہے - ليكن اس پاني كا اس دنيا سے اسي طرح ربط ہے جس طرح آگ كا رشتہ مٹي سے - اور پاني كا آگ سے - عوالم ہستي كے مطالبقت كي بنياد پر انسان بارگاہ خداوندي ميں جانے كے بعد اپنے اعمال، كردار اور عقائد كو عوالم ديگر ميں شكل و صورت ميں ديكھ سكتا ہے - خواہ وہ اچھے اعمال، اور عقائد ہوں يا برے -

 

جب آپ نے ان مطالب كو سمجھ ليا ہے تو جو كچھ انسان اس عالم ميں انجام ديتا ہے وہ عوالم ديگر ميں ہے يعني جو كچھ بيان كرتا ہے سب كچھ اس عالم ميں ثبت اور لكھ ديا جاتا ہے -

 

اگر ہم نے اچھے امور اور نيك چيزوں سے ارتباط ركھا تو در حقيقت يہ ساري خصوصيتيں اور ہماري روح (عالم ہستي كي مطابقت كے قانون پر) ديگر عوالم تجرد، برزخ اور اسماء كے موافق ہے - البتہ ہماري اس دنيا كي يہي خوبي ہے كہ وہ ديگر عوالم كے قوانين، دستورات اور احكام كے معيار پر ہے - پس ہماري نيكي بھي بالكل وہاں كي طرح ہے چونكہ جسم و روح دونوں ايك دنيا كے ہيں تو پھر عوالم ديگر كے قوانين و دستورات كے مطابق ہوں گے -

 

مثال كے طور پر ايك شخص سخاوت كرتا ہے يہ صفت عوالم ديگر (برزخ)، تجرد، نيز اسماء ميں پائي جاتي ہے ان ميں كا ہر ايك كے نزديك ”‌ سخاوت “ ہے مگر يہ كہ قوانين و دستورات كے مطابق ہو يا اگر كسي شخص ميں بري عادت اور برا ہے تو يہ چيز برزخ اور عوالم ديگر ميں بھي پائي جاتي ہے - ليكن اسي صورت ميں جب كہ اس كے قوانين اور معيار پر صحيح اتررہي ہو - غور طلب بات ہے كہ ہمارے اندر اچھے اور برے اعمال، كردار اور عقيدے سب پائے جارہے ہيں اور اس سے كوئي بھي مستثني نہيں ہے يعني اس دنيا ميں برزخي، تجردي، اسمائي اوصاف، اعمال، كردار اور عقيدے پائے جاتے ہيں ليكن ہماري نظروں سے اوجھل ہيں - بعبارت ديگر - اس دنيا ميں دنياوي شكل ميں ہمارے لئے مشہور ہے اور حجاب اٹھ جانے كے بعد ہم اس كو برزخي صورت ميں ديكھ سكتے ہيں -

 

جب روح عالم برزخ ميں ميں جاتي ہے تو اس كا جانا ہي درحقيقت اعمال، كردار، عقائد اور رفتار سے پردہ ہٹنا ہے جو پہلي منزل اور عوالم باطن سے دوبارہ ملاقات ہے -

 

مثال كے طور پر اس دنيا ميں سخاوت كے آثار ہم سے پوشيدہ ہيں ليكن جب مرنے كے بعد دوسرے عالم ميں پہونچيں گے تو اس كي ساري خوبياں نظروں كے سامنے آجائيں گي -

 

يا جو شخص براكردار والا تھا اس دنيا ميں اس بري صفت سے غافل تھا اور ہر وقت اسي كي غن ميں تھا اور جو خواہشات كہتي تھيں اسي كو انجام ديتا تھا اور ذرہ برابر بري عادت سے منھ نہيں موڑا اور جو دل ميں آيا اس كو انجام ديا - يہ بے احتياطي اس بات كي واقعيت ہے كہ وہ حقيقت سے كوسوں دور رہا ہے - ليكن اس دنيا سے بڑھ كر ديگر عوالم ہيں جو ہماري ہر چيز پر نظر ركھے ہوئے ہيں - ليكن ہم ان كو ديكھنے سے عاجز ہيں -

 

جب روح پرواز كرجائے گي تو يہي بدخلقي مختلف صورتوں ميں نظر آنے لگے گي - مثال كے طور پر كتا، سانپ، يا بچھو كي صورت ميں ديكھے گا -