اتوار, 17 نومبر 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
39
مضامین
428
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
403842

زیارت اربعین کا حکم

س1. موجودہ حالات کے پیش نظر کیا اس دور میں اربعین کی زیارت واجب ہے؟

ج۔ اربعین کی زیارت مستحب ہے۔

 قانون کی پابندی

زیارت اربعین کے لئے پاسپورٹ

س2. اربعین کی زیارت کے لئے ویزا لینے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ ہر صورت میں قوانین و ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔

دوسروں کا پاسپورٹ استعمال کرنا

س3. زیارتِ اربعین کے ایام نزدیک ہیں اور پاسپورٹ لینے کے لئے مطلوبہ وقت نہیں ہے، کیا میں اپنے بھائی کی رضامندی سے اس کے پاسپورٹ کے ساتھ اربعین کی زیارت پر جاسکتا ہوں؟ کیا اس زیارت پر جانے میں کوئی شرعی ممانعت ہے؟

ج۔ ہر صورت میں قوانین و ضوابط کی پابندی ضروری ہے اور ان کی خلاف ورزی جائز نہیں ہے۔

سوال: جو کچھ روایتوں، احادیث اور قرآن مجید کی آیتوں میں آیا ہے، وہ تقریبا امر و نہی کے صیغوں کی صورت میں ہے، ان اوامر و نواہی میں سے کیسے کراہت اور استحباب کو الگ کرکے ان کو وجوب اور حرمت نہیں جانا جاسکتا ہے؟

تفصیلی جوابات
امر کی وجوب پر دلالت اور نہی کی حرمت پر دلالت، اصول فقہ کے مباحث میں سے ہے۔ کیا امر و نہی اپنی ذات میں وجوب اور حرمت پر دلالت رکھتے ہیں یا یہ کہ وجوب اور حرمت دوسرے قرائن سے معلوم ہوتے ہیں؟ یہ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر اصول فقہ کے علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
1۔ بعض کا اعتقاد ہے کہ صیغہ امر ( افعل) اور صیغہ نہی ( لاتفعل)، در اصل اپنی وضع میں، وجوب اور حرمت پر دلالت کرتے ہیں۔
2۔ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ: وجوب و حرمت پر امر و نہی کی دلالت عقل کے حکم سے ہے، یعنی جب پروردگار کی طرف سے کوئی امر صادر ہوا، تو صیغہ امر بذات خود وجوب پر دلالت نہیں کرتا ہے، بلکہ اگر امر میں، خدا کے حکم کے ساتھ ، ترک کا جائز ہونا نہ ہو تو، اس وقت عقل حکم کرتی ہے کہ اس کام کو انجام دینا چاہئے یا نہی کی صورت میں، اگر شارع مقدس کی نہی کے ہمراہ فعل انجام دینے کا جائز ہونا نہ ہوتو عقل حکم کرتی ہے کہ جس چیز کی شارع مقدس نے نہی کی ہے، اسے انجام نہ دیا جائے۔
مثال کے طور پر اگر پروردگارعالم نے صبح کی نماز کا حکم دیا ہو اور دوسری جانب اس کے ترک کرنے کے جائز ہونے کا کوئی قرینہ موجود نہ ہو، تو عقل یہ حکم کرتی ہے کہ صبح کی نماز مکلف پر واجب ہے۔ یا اس کے برعکس، جب شارع مقدس حکم کرتا ہے کہ غسل جمعہ بجا لاؤ۔ اگر اس امر کے ساتھ اس کو ترک کرنا جائز قرار دیا گیا ہو اور فرمایا ہو: اگر غسل جمعہ ترک کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، تو اس وقت عقل حکم کرتی ہے کہ اگر چہ غسل جمعہ شرع کے لحاظ سے مطلوب اور پسندیدہ ہے، لیکن اکر ترک بھی کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے ( یعنی وہی استحباب کے معنی) اسی طرح نہی کے بارے میں بھی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔
اس نظریہ کے قائل افراد، اصولی مباحث میں مرحوم نائنی اور ان کے پیرو ہیں۔[1] اس نظریہ کی بناء پر، اگر شارع مقدس نے ایک کلام میں اور ایک سیاق میں کیا ہو:" اغسل للجمعة والجنابة" " روز جمعہ اور جنابت کے لئے غسل کرو" دوسرے قرائن کے پیش نظر آسانی کے ساتھ غسل جمعہ کے حکم کو استحباب اور جنابت کو اس غسل کے ( نماز کے لئے) واجب ہونے کی تفسیر کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ امر کے وجوب پر دلالت عقل کے حکم پر ہے اور عقل ایک ایسی جگہ پر اس قسم کا حکم کرتی ہے جہاں پر ترک کرنے کے سلسلہ میں کوئی جواز نہ پائے۔
3۔ مادہ اور صیغہ امر( اور نہی) امر کرنے والے کے ارادہ پر دلالت کرتے ہیں، پس اگر یہ ارادہ شدید ہوتو، وجوب (یا حرمت) پر دلالت ہے اور اگر یہ ارادہ ضعیف ہو تو تو استحباب ( یا کراہت) پر دلالت ہے۔ البتہ قوی اور شدید ارادہ میں، قرینہ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اگر امر کرنے والے کا ارادہ ضعیف ہو ( اور وہ استحباب یا کراہت چاہتا ہو) تو اسے اپنی مراد کے لئے کوئی قرینہ لانا چاہئے۔ یہ قول بھی آقائے ضیاء الدین عراقی اور اس کے اصولی تابعین سے منسوب ہے۔[2]
مذکورہ تینوں نظریات کے مطابق: اگر قرآن مجید اور روایتوں کے دستورات میں ایسا قرینہ موجود ہو جس سے شارع مقدس کا امر یا نہی سے مراد وجوب اور حرمت نہ ہو، بلکہ استحباب اور کراہت کو مد نظر رکھتا ہو، تو اس صورت میں امر و نہی کو استحباب ( امر استحبابی) اور کراہت ( نہی تنزیہی) سے تفسیر کرنا چاہئے۔ جیسے مولا کا امر اس کے منع کے بعد ہو، مثال کے طور پر اگر طبیب نے بیمار سے کہا ہو پانی نہ پیو اور پانی کی جگہ پردوسرے مایعات کا استفادہ کرو اور وہی طبیب ایک ہفتہ کے بعد کہے : پانی پیو، پانی پینے کا یہ امر عرفی مفہوم میں وجوبی امر کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ ممانعت کو دور کرنے کے معنی میں ہے،[3] یعنی آج کے بعد پانی پینے کی ممانعت اٹھالی جاتی ہے، نہ یہ کہ بیمار کے لئے پانی پینا واجب ہو۔[4]
اس کے مقابلے میں، کبھی وجوب اور حرمت کے حکم میں کوئی صیغہ امر و نہی نہیں ہوتا ہے، لیکن چونکہ قرائن کا موجود ہونا امر و نہی کو وجوب و حرمت کی دلالت سے نیچے لاکر استحباب و کرامت کی طرف کھینچ سکتا ہے ، اسی قرینہ کا موجود ہونا، خبری جملوں کو وجوب و حرمت پر دلات کرسکتا ہے،  اس لحاظ سے کبھی آیات و روایات میں صیغہ خبری میں امر بیان کیا گیا ہے۔ لیکن قرائن موجود ہونے کے پیش نظر اس سے وجوبی امر سمجھا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: " والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلثتہ قروء" [5]مطلقہ عورتیں تین حیض تک انتظار کریں گی" یہاں پر فعل مضارع ( یتربصن) کے صیغہ سے صیغہ امر بیان کیا گیا ہے، لیکن دوسری روایات اور قرائن سے مطلقہ عورت کے لئے عدت کی رعایت کرنا ضروری اور واجب ہے۔
ایک روایت میں عمار بن موسی نے امام صادق (ع) سے ایک مرد کے بارے میں پوچھا جس نے روزہ کی حالت میں فراموشی سے اپنی بیوی سے ہم بستری کی تھی۔ امام (ع) نے جواب میں فرمایا: " وہ غسل انجام دے اور کوئی چیز اس پر ذمہ نہیں ہے۔"[6]
امام (ع) صیغہ مضارع ( یغتسل) سے فرماتے ہیں کہ غسل کرے اور یہ غسل کے واجب ہونے کے معنی میں ہے ( یعنی اسے غسل کرنا چاہئیے) ۔ کیونکہ ہم دوسرے دلائل کے پیش نظر جانتے ہیں کہ جنابت کے لئے غسل بجالانا ضروری ہے۔ خبری جملوں کے وجوب پر دلالت ہونا اس قدر واضح ہے کہ، بعض افراد نے وجوب پر اس دلالت کو خود صیغہ امر کے وجوب پر دلالت سے قوی تر جانا ہے۔[7]
اس بنا پر امرو نہی کے استحباب اور کراہت پر دلالت کافی معمول ہے، کیونکہ حرمت کے سلسلہ می امر و نہی کے وجوب کی دلالت یہاں تک ہے کہ اس کے خلاف کوئی قرینہ نہ ہو اور (امر کے لئے) ترک کی رخصت اور فعل کے جواز کے لئے (نہی) کا حکم نہ دیا ہو۔
 
[1]۔ ملاحظہ ہو: صدر، سید محمد باقر، بحوث ‏فی ‏علم ‏الاصول، مقرر، هاشمي شاهرودی، سیدمحمود، ج 2، ص 18، قم، مؤسسه دائرة المعارف فقه اسلامی، 1417ق؛ مظفر، محمد رضا، اصول الفقه، ص 116، قم، بوستان کتاب، 1387ش.
[2] بحوث ‏فی ‏علم ‏الاصول، ج 2، ص 20.۔
[3]۔ اصول الفقه، ص 83؛ ولایی، عیسی، فرهنگ تشریحی اصطلاحات اصول، ص 120، تهران، نشر نی، 1387ش.
[4]۔ اس کے علاوہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر 2 کے بارے میں قرآن مجید کی مثالوں کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے کہ ارشاد ہو تا ہے: «وَ إِذا حَلَلْتُمْ فَاصْطادُوا»؛ اس آیت میں احرام سے باہر نکلنے کے بعد شکار کرنے کا امر کیا گیا ہے، اور یہ امر چونکہ  حالت احرام میں شکار کرنے کی ممانعت کے بعد کیا گیا ہے،سرف شکار کرنے کی دلالت کرتا ہے نہ شکار کے وجوب کی  ملاحظہ ہو: اصول الفقه، ص 84.
[5]۔ بقره، 228
[6]۔ «سَأَلَهُ عَمَّارُ بْنُ مُوسَى عَنِ الرَّجُلِ يَنْسَى وَ هُوَ صَائِمٌ فَجَامَعَ أَهْلَهُ قَالَ يَغْتَسِلُ وَ لَا شَيْ‏ءَ عَلَيْهِ»؛ شیخ صدوق، من لا یحضره الفقیه، محقق، مصحح، غفاری، علی اکبر، ج ‏2، ص 118، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع دوم، 1413ق.
[7]۔ سبحانی، جعفر، الوسیط فی اصول الفقه، ج 1، ص 93، قم، مؤسسه امام صادق(ع)، 1388ش.

فتوی کے معنی میں" مرجعیت" ایک فقہی اصطلاح ہے کہ اس کے مقا بلے میں، " تقلید" کا مفہوم قرار پا یا ہے، یعنی اگر کوئی شخص " مرجع" ہے تو دوسرے لوگ اس کے مقلد ہیں۔ اس لحاظ سے " مرجعیت" کے مفہوم کے تجزیہ کے لئے " تقلید" کے معنی کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔
فارسی زبان میں تقلید کے معنی دلیل کے بغیر کسی کی پیروی کرنا ہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنے مشہور شعر :
خلق را " تقلید شان" بر باد داد
اے دوصد لعنت بر این تقلید باد
میں اسی مہوم کی طرف اشارہ کیا ہے۔ لیکن فقہی اصطلاح میں " تقلید" سے مراد کسی غیر ماہر کا ایک تخصصی امر میں کسی ماہر کی طرف رجوع کرنا ہے۔ اسی وجہ سے پہلے مفہوم کے بر خلاف جو عقلا کی نظر میں منفی اور مذموم ہے ۔ اس کے دوسرے معنی مکمل طور پر قابل قبول ہیں اور دینی مسائل میں تقلید کے جائز ہونے کی سب سے اہم دلیل، یہی عقلائی نکتہ ہے کہ ایک غیر ماہر انسان کو تخصصی مسائل میں اس امر کے ماہر شخص کی طرف رجوع کرنا چاہئیے۔ تقلید کے تمام لفظی دلالت "فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون"[1] اگر کسی چیز کو نہیں جانتے ہو تو اس کے عالموں سے سوال کرو"میں مضمر ہے اور یہی امر عقلا کی نظر میں بھی قابل قبول ہے۔ اس توصیف کے پیش نظر، فقیہ کی مرجعیت، اس کے فقہ میں مہارت اور تخصص اور شرعی منابع سے احکام الہی کے استنباط کی قدرت ہے۔
اس موضوع پر مزید مطالعہ کے لئے مندرجہ ذیل منابع کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے:
مھدی ہادوی تہرانی کی کتاب " ولایت و دیانت" قم مؤسسہ فرھنگی خانہ خرد، طبع دوم 1380 ش۔
 
[1] ۔  سورہ نحل/ 43۔

 

واجب خرید وفروخت:
چونکہ اسلام میں بے کاری اور کاہلی کی مذمت ہوئی ہے،لہٰذا زندگی کے اخراجات کو حاصل کرنے کے لئے تلاش وکوشش کرنا واجب ہے۔جو لوگ خرید وفروخت کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے اپنے اخراجات پورے نہ کرسکیں، یعنی ان کی آمدنی اسی ایک طریقہ پر منحصرہو اور کوئی دوسرا طریقہ ان کے لئے ممکن نہ ہو، تو ان پر واجب ہے خریدوفروخت سے ہی اپنی زندگی کے اخراجات پورا کریں تاکہ کسی کے محتاج نہ رہیں۔

کسی بھی مرجع تقلید نے تمباکو نوشی کو مطلق طور پر جائز قرار نہیں دیا ہے