بدھ, 03 جون 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
46
مضامین
441
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
483853

 

واجب خرید وفروخت:
چونکہ اسلام میں بے کاری اور کاہلی کی مذمت ہوئی ہے،لہٰذا زندگی کے اخراجات کو حاصل کرنے کے لئے تلاش وکوشش کرنا واجب ہے۔جو لوگ خرید وفروخت کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے اپنے اخراجات پورے نہ کرسکیں، یعنی ان کی آمدنی اسی ایک طریقہ پر منحصرہو اور کوئی دوسرا طریقہ ان کے لئے ممکن نہ ہو، تو ان پر واجب ہے خریدوفروخت سے ہی اپنی زندگی کے اخراجات پورا کریں تاکہ کسی کے محتاج نہ رہیں۔

مستحب خریدوفروخت:
اپنے اہل وعیال کے اخراجات کو وسعت بخشنے اور دیگر مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے خرید وفروخت کرنا مستحب ہے۔ مثلاً جو کسان کھیتی باڑی کرکے اپنا خرچہ پورا کرتا ہے، اگر فراغت اور فرصت کے وقت خریدوفروخت کا کام بھی انجام دے تاکہ اس طریقے سے محتاجوں کی مدد کرسکے،تو ثواب ہے۔

حرام خرید و فروخت:

١۔ نجاسات کی خریدوفروخت،جیسے مردار۔

٢۔ ایسی چیزوں کی خرید وفروخت، جن کے معمولی منافع حرام ہیں، جیسے قمار بازی کے آلات ۔

٣۔ قماربازی یا چوری سے حاصل شدہ چیزوں کی خریدوفروخت۔

٤۔ گمراہ کنندہ کتابوں کی خریدو فروخت

٥۔کھوٹے سکوں کی خریدوفروخت۔

٦۔ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ ایسی چیزیں فروخت کرنا جو مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کی تقویت کا سبب بنیں۔

٧۔ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ اسلحہ بیچناجو دشمنوں کے لئے مسلمانوں کے خلاف تقویت کا سبب بنیں

حرام ۔خریدوفروخت کے اور بھی موارد ہیں لیکن مبتلابہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بیان سے چشم پوشی کرتے ہیں۔

مکروہ خریدوفروخت:

١۔ذلیل لوگوں سے لین دین کرنا ۔

٢۔ صبح کی اذان اور سورج چڑھنے کے درمیان لین دین کرنا۔

٣۔ ایک ایسی چیزخریدنے کے لئے اقدام کرنا جسے کوئی دوسرا شخص خریدنا چاہتا تھا۔

خرید و فروخت کے آداب

مستحبات :

*خریداروں کے درمیان قیمت میں فرق نہ کیا جائے۔

*اجناس کی قیمت میں سختی نہ کی جائے۔

*جب لین دین کرنے والوں میں سے ایک طرف پشیمان ہوکر معاملہ کو توڑنا چاہئے تو اس کی درخواست منظور کی جائے۔

مکروہات:

*مال کی تعریف کرنا۔

*خریدار کو برا بھلا کہنا۔

لین دین میں سچی قسم کھانا (جھوٹی قسم کھانا حرام ہے)

*لین دین کے لئے سب سے پہلے بازار میں داخل ہونا اور سب سے آخرمیں بازار سے باہر نکلنا۔

* تولنے اورنا پنے سے بخوبی آگاہ نہ ہونے کے باوجود مال کو تولنایاناپنا۔                                      

*معاملہ طے پانے کے بعد قیمت میں کمی کی درخواست کرنا۔

خریدوفروخت کے احکام :

١۔  گھر یا کسی اور چیز کو حرام کاموں کے استعمال کے لئے بیچنا یا کرایہ پر دینا حرام ہے۔

٢۔ گمراہ کرنے والی کتابوں کالین دین،تحفظ، لکھنا، اور پڑھانا حرام ہے۔ زلیکن اگریہ کام ایک صحیح مقصد کے پیش نظر، جیسے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے انجام پائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

٣۔بیچنے والی چیز کو کسی گھٹیایا کم قیمت والی چیزکے ساتھ ملانا، حرام ہے۔جیسے عمدہ میوے ڈبہ کی اوپروالی تہہ میں رکھنا اوراس کی نچلی تہہ میں گھٹیا میوے رکھنا اسے اچھے میووں کے عنوان سے بیچنایا دودھ میں پانی ملاکر بیچنا۔

٤۔ وقف کیا گیا مال نہیں بیچاجاسکتاہے، مگریہ کہ یہ مال خراب ہو رہا ہو اور استعمال کے قابل نہ رہاہو، جیسے مسجد کا فرش مسجد میں استعمال کے قابل نہ رہاہو۔

٥۔کرایہ پر دئے گئے مکان یا کسی اور چیز کو بیچنے میں کوئی مشکل نہیں ہے لیکن کرایہ پر دی گئی مدت کے دوران اس سے استفادہ کرنا اسی کا حق ہے جس نے اسے کرایہ پرلیا ہے۔

٦۔ لین دین میں خریدوفروخت ہونے والے مال کی خصوصیات معلوم ہونی چاہئے، لیکن ان خصوصیات کا جاننا ضروری نہیں ہے جن کے کہنے یا نہ کہنے سے اس مال کے بارے میں لوگوں کی رغبت پر کوئی اثر نہ پڑے۔

٧۔ دوہم جنس چیزوں کی خریدوفروخت جو وزن کرکے یا پیمانے سے بیچی جاتی ہوں، اس سے زیادہ لینا''سود'' اور حرام ہے۔

مثلاً ایک ٹن گندم دیکر ایک ٹن اور ٢٠٠ کیلو گرام واپس لے لیا جائے۔ اسی طرح کوئی چیز یا پیسے کسی کو قرض دیئے جائیں اور ایک مدت کے بعد اس سے زیادہ لے لیں، مثلاً دس ہزار روپیہ بعنوان قرض دیدیں اور ایک سال کے بعد اس سے بارہ ہزار روپیہ لے لیں۔

معاملہ کو توڑنا:

بعض مواقع پر بیچنے والایاخریدار معاملہ کو ختم کرسکتاہے، ان میں سے بعض موارد حسب ذیل ہیں:

*خریدار یا بیچنے والے میں سے کسی ایک نے دھوکہ کھایا ہو۔

*معاملہ طے کرتے وقت آپس میں توافق کیا ہوکہ طرفین میں سے ہر کسی کو حق ہوگا کہ ایک خاص مدت تک معاملہ کو توڑ دیں ،مثلا یہ طے کیا ہو کہ طرفین میں سے جو بھی اس معاملہ پر پشیمان ہوجائے تین دن تک معاملہ کو توڑسکتا ہے ۔

*خریدا ہوا مال عیب دار ہو اور معاملہ کے بعد عیب کے بارے میں پتہ چلے۔

*بیچنے والے نے مال بیچتے وقت اس کی کچھ خصوصیات بیان کی ہوں لیکن بعد میںاس کے برعکس ثابت ہوجائے ،مثلا کہے کہ یہ کاپی ٢٠٠ صفحات کی ہے بعد میں معلوم ہو جائے کہ اس سے کم تھی۔

اگر معاملہ طے ہونے کے بعد مال کا عیب معلوم ہوجائے تو فوراً معاملہ توڑنا چاہئے اگر ایسا نہ کرے تو بعد میں معاملہ کو توڑنے کا حق نہیں رکھتا۔

نوٹ:مذکورہ تمام مسائل امام خمینی [رہ] کی توضیح المسائل اور رہبر معظم کی استفتاآت کے مطابق ہیں [منبع:آموزش احکام ،فلاح زادہ]

 

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn