پیر, 20 مئی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
406
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
324837

 سید ابن طاؤس نے امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام موسی کاظم علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ماہ مبارک رمضان میں ابتدا سے آخر تک ہر فریضہ  کے بعد یہ دعا پڑھے:

اَللّھُمَّ ارْزُقْنى حَجَّ بَيْتِكَ الْحَرامِ فى ھذا وَفى كُلِّ عامٍ ما اَبْقَيْتَنى

خدایا مجھے بیت الحرام کےحج کی توفیق عطا فرما اس سال اور ہر سال جب تک تو مجھ کو باقی رکھے

فى يُسْرٍ مِنْكَ وَعافِيَۃٍ وَسَعَۃِ رِزْقٍ وَلا تُخْلِنى مِنْ تِلْكَ الْمواقِفِ الْكَريمَۃِ

آسائش اور عافیت اور وسعت رزوق میں اور دور نہ رکھ اس مکرم اور موقف اورمشاہد مقدسہ اور اپنے نبی کی قبر کی زیارت

وَالْمَشاھِدِ الشَّريفَۃ وَزِيارَۃِ قَبْرِ نَبِيِّكَ صَلَواتُكَ عَلَيْہِ وَ الِہِ وَفى جَميعِ

سے (تیرا درودہو ان پر اور ان کی آل پر )اور تمام دنیا و آخرت کی حاجتوں میں مدد کر خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس کے بارے میں جو

حَوائِجِ الدُّنْيا وَالا خِرَۃِ فَكُنْ لى اَللّھُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ فيما تَقْضى وَتُقَدِّرُ

اپنی قضا و قدر سے حتمی امور کو شب وقدر میں قرار دیا ہے جو نہ رد ہوتا ہے اورنہ تبدیل ہوتا ہے کہ تو مجھ کو بیت

ماہ رمضان کی اہميت:

قال رسول الله صلى الله علیه و آله و سلم:لو يعلم العبد ما فى رمضان لود ان يكون رمضان السنة

رسول خدا صلى الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اگر بنده «خدا» کو معلوم ہوتا کہ رمضان کا مہینہ کیا ہے، (اور یہ کن برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے) وه چاہتا کہ پورا سال ہی روزہ رمضان ہوتا.[1]

رمضان رحمت کا مہینہ:

قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلمو هو شهر اوله رحمة و اوسطه مغفرة و اخرہ عتق من النار.

رسول خدا صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:رمضان وہ مہینہ ہے جس کا آغاز رحمت، درمیانے ایام مغفرت اور انتہا دوزخ کی آگ سے آزادی ہے[2]

قرآن اور ماه مبارک رمضان

قال الرضا علیه السلام

من قرا فى شهر رمضان اية من كتاب الله كان كمن ختم القران فى غيره من الشهور.

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

جو شخص رمضان کے مہینے مین قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرے گویا اس نے دوسرے مہینوں میں پورے قرآن کی تلاوت کی ہے[3]

یا أیّھا الّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون .

ترجمہ:اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ.  

رمضان کا مہینہ ایک مبارک اور باعظمت مہینہ هے یہ وہ مہینہ هے جس میں مسلسل رحمت پروردگار نازل هوتی رہتی هے اس مہینہ میں پروردگار نے اپنے بندوں کو یہ وعدہ دیا هے کہ وہ ان کی دعا کو قبول کرے گا یہی وہ مہینہ هے جس میں انسان دنیا و آخرت کی نیکیاں حاصل کرتے هوئے کمال کی منزل تک پہنچ سکتا هے.اور پچاس سال کا معنوی سفر ایک دن یا ایک گھنٹہ میں طے کر سکتا هے. اپنی اصلاح اور نفس امارہ پر کنٹرول کی ایک فرصت هے جو خدا وند متعال نے انسان کو دی هے . خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیںایک بار پھر ماہ مبارک رمضان نصیب هوا اور یہ خود ایک طرح سے توفیق الھی هے تا کہ انسان خدا کی بارگاہ میں آکراپنے گناهوں کی بخشش کا سامان کر سکے ، ورنہ کتنے ایسے لوگ ہیںجو  پچھلے سال ہمارے اور آپ کے ساتھ تھے لیکن آج وہ اس دار فنا سے دار بقاء کی طرف منتقل هو چکے ہیں .

   

معلوم ہونا چاہئے کہ شعبان وہ عظیم مہینہ جو حضرت رسول ﷺسے منسوب ہے حضور اس مہینے میں روزے رکھتے اور اس مہینے کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں سے متصل فرماتے تھے ۔ اس بارے میں آنحضرت کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور جو شخص اس مہینہ میں ایک روزہ رکھے تو جنت اس کیلئے واجب ہو جاتی ہے۔امام جعفر صادق (ع)فرماتے ہیں کہ جب شعبان کا چاند نمودار ہوتا تو امام زین العابدین(ع) تمام اصحاب کو جمع کرتے اور فرماتے : اے میرے اصحاب ! جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے ؟ یہ شعبان کا مہینہ ہے اور رسول الله ﷺفرمایا کرتے تھے کہ یہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ پس اپنے نبی کی محبت اور خدا کی قربت کیلئے اس مہینے میں روزے رکھو ۔ اس خدا کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں علی ابن الحسین(ع) کی جان ہے میں نے اپنے پدر بزرگوار حسین ابن علی (ع)سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے اپنے والد گرامی امیر المومنین (ع)سے سنا کہ جو شخص محبت رسول اور تقرب خدا کیلئے شعبان میں روزہ رکھے تو خدائے تعالیٰ اسے اپنا تقرب عطا کریگا قیامت کے دن اس کو عزت و احترم ملے گا اور جنت اس کیلئے واجب ہو جائے گی ۔شیخ نے صفوان جمال سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق (ع)نے فرمایا: اپنے قریبی لوگوں کو ماہ شعبان میں روزہ رکھنے پر آمادہ کرو ! میں نے عرض کیا آپ پر قربان ہو جاوٴں اس میں کوئی فضیلت ہے ؟آپ(ع) نے فرمایا ہاں اور فرمایا رسول الله ﷺجب شعبان کا چاند دیکھتے تو آپ کے حکم سے ایک منادی یہ ندا کرتا :اے اہل مدینہ! میں رسول خدا ﷺکا نمائندہ ہوں اور ان کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے ۔ خدا کی رحمت ہو اس پر جو اس مہینے میں میری مدد کرے ۔ یعنی روزہ رکھے۔ صفوان کہتے ہیں امام جعفر صادق (ع)کا ارشاد ہے کہ امیر المؤمنین(ع) فرماتے تھے جب سے منادی رسول نے یہ ندا دی اسکے بعد شعبان کا روزہ مجھ سے قضا نہیں ہوا اور جب تک زندگی کا چراغ گل نہیں ہو جاتا یہ روزہ مجھ سے ترک نہیں ہوگا نیز فرمایا کہ شعبان اور رمضان دو مہینوں کے روزے توبہ اور بخشش کا موجب ہیں۔اسماعیل بن عبد الخالق سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق (ع)کی خدمت میں حاضر تھا، وہاں روزہٴ شعبان کا ذکر ہوا تو حضرت نے فرمایا ماہ شعبان کے روزے رکھنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے حتی کہ نا حق خون بہانے والے کو بھی ان روزوں سے فائدہ پہنچ سکتا ہے اور بخشا جا سکتا ہے۔

زیر  بحث  آیات میں ان بہشتی نعمتوں کی تشریح کرتاہے اور ان آیات میں کچھ نعمتوں کو شمار کرتاہے۔

1۔ سب سے پہلے ان کے مکان اور لباس کے بارے میں فرماتاہے کہ :خدا ان کے صبرو شکیبائی کے صلہ میں انہیں جنت اور ریشمی لباس و فرش جزا کے طور پردے گا۔(وجزاهم بما صبروا جنة و حریرا)

2۔وہ اس میں خوبصورت تختوں کے اوپر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، نہ وہاں سورج کی گرمی ہوگی اور نہ ہی ہوا کی سردی لگے گی۔ (متکئین فیها علی الارائک لا یرون فیها شمسا ولازمهریرا)