جمعرات, 09 جولائی 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
46
مضامین
445
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
495685

قدس ، پہلا قبلہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا دوسرا حرم ہے یہ فلسطین کے ان دسیوں لاکھ مسلمانوں کی اصل سرزمین ہے جنہیں عالمی استکبار نے غاصب صیہونیوں کے ہاتھوں سنہ 1948 میں اپنے وطن سے جلاوطن کرکے قدس کی غاصب ، صیہونیوں کے تصرف میں دےدیا تھا ۔اس سامراجی سازش کے خلاف فلسطینی مسلمانوں نے شروع سے ہی مخالفت کی اور ان مظلوموں کی قربانی اور صبر و استقامت کے سلسلے میں پوری دنیا کے حریت نواز ، بیدار دل انسانوں نے حمایت کی اور اسی وقت سے فلسطین کا مسئلہ ایک سیاسی ۔ فوجی جد وجہد کے عنوان سے عالم اسلام کے سب سے اہم اور تقدیرساز مسئلے کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے ۔اسلامی ایران کی ملت و حکومت نے بھی ، اسلامی انقلاب کی پرشکوہ کامیابی کے بعد سے غاصب صیہونیوں کے پنجۂ ظلم سے قدس کی آزادی کے مسئلے کو اپنا اولین نصب العین قراردے رکھا ہے اور ماہ مبارک کے آخری جمعہ کو روز قدس قراردے کر اس دن کو ستمگران تاریخ کے خلاف حریت و آزادی کے بلند بانگ نعروں میں تبدیل کردیا ہے ۔اسلامی انقلاب کے فورا" بعد حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے صیہونیوں کے پنجۂ ظلم سے قدس کی آزادی کے لئے اس دن کو روز قدس اعلان کرتے ہوئے اپنے تاریخی پیغام میں فرمایا تھا : میں نے سالہائے دراز سے ، مسلسل غاصب اسرائیل کے خطرات سے مسلمانوں کو آگاہ و خبردار کیا ہے اور اب چونکہ فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے خلاف ان کے وحشیانہ حملوں میں شدت آگئی ہے خاص طور پر جنوبی لبنان میں وہ فلسطینی مجاہدین کو نابود کردینے کے لئے ان کے گھروں اور کاشانوں پر پیاپے بمباری کررہے ہیں میں پورے عالم اسلام اور اسلامی حکومتوں سے چاہتا ہوں کہ ان غاصبوں اور ان کے پشتپناہوں کے ہاتھ قطع کردینے کے لئے آپس میں متحد ہوجائیں اور ماہ مبارک کے آخری جمعہ کو جو قدر کے ایام ہیں فلسطینیوں کے مقدرات طے کرنے کے لئے ، روز قدس کے عنوان سے منتخب کرتا ہوں تا کہ بین الاقوامی سطح پر تمام مسلمان عوام فلسطینی مسلمانوں کے قانونی حقوق کی حمایت و پشتپناہی کا اعلان کریں ۔میں پورے عالم کفر پر مسلمانوں کی کامیابی کے لئے خداوند متعال کی بارگاہ میں دعاگو ہوں ۔اور اس اعلان کے بعد سے ہی روز قدس ، قدس کی آزادی کے عالمی دن کی صورت اختیار کرچکا ہے اور صرف قدس سے مخصوص نہیں رہ گیا ہے بلکہ عصر حاضر میں مستکبرین کے خلاف مستضعفین کی مقابلہ آرائی اور امریکہ اور اسرائیل کی تباہی و نابودی کا دن بن چکا ہے ۔روز قدس دنیا کی مظلوم و محروم تمام قوموں اور ملتوں کی تقدیروں کے تعین کا دن ہے کہ وہ اٹھیں اور عالمی استکبار کے خلاف اپنے انسانی وجود کوثابت کریں اور جس طرح ایران کے عوام نے انقلاب برپا کرکے وقت کے سب سے قوی و مقتدر شہنشاہ اور اس کے سامراجی پشتپناہوں کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا اسی طرح دنیا کے دیگر اسلامی ملکوں کے عوام بھی اپنے انسانی حقوق کی بحالی کے لئے انقلاب برپا کریں اور صیہونی ناسور کو دنیائے اسلام کے قوی و مقتدر پیکر سے کاٹ کر کوڑے دان میں پھینک دیں ۔روز قدس جرات و ہمت اور جواں مردی و دلیری کے اظہار کا دن ہے مسلمان ملتیں ہمت و جرات سے کام لیں اور مظلوم و محروم قدس کو سامراجی پنجوں سے نجات عطا کریں ۔روز قدس ان خیانتکاروں کو بھی خبردار کرنے کا دن ہے جو امریکہ کے آلۂ کار کی حیثیت سے غاصب قاتلوں اور خونخوار بھیڑیوں کے ساتھ ساز باز میں مبتلا ہیں اور ایک قوم کے حقوق کا خود ان کے قاتلوں سے سودا کررہے ہیں ۔روز قدس صرف روز فلسطین نہیں ہے پورے عالم اسلام کا دن ہے ، اسلام کا دن ہے قرآن کا دن ہے اور اسلامی حکومت اور اسلامی انقلاب کا دن ہے ۔اسلامی اتحاد اور اسلامی یکجہتی کا دن ہے ۔اگر اپنی اسلامی یکجہتی کی بنیاد پر لبنان کے حزب اللہی صیہونی طاقتوں کے خلاف 33 روزہ جنگ میں سرخرو اور کامیاب ہوسکتے ہیں تو فلسطینی مجاہدین بھی اگر خیانتکاروں کو اپنی صفوں سے نکال کر اتحاد و یکجہتی سے کام لیں اور پوری قوت کے ساتھ غاصب صیہونیوں کے خلاف میدان میں نکل آئیں تو یقینا" کامیابی و کامرانی ان کے قدم چومے گي کیونکہ خدا نے وعدہ کیا ہے " اگر تم نے اللہ کی مدد کی تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثبات قدم عطا کردے گا ۔" اب وقت آچکا ہے کہ دنیا کے مسلمان ایک ہوجائیں مذہب اور اعتقادات کے اختلافات کو الگ رکھ کر حریم اسلام کے دفاع و تحفظ کے لئے اسلام و قرآن اور کعبہ ؤ قدس کے تحفظ کے لئے ، جو پورے عالم اسلام میں مشترک ہیں وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک اور ایک ہوجائیں اور کفار و منافقین کو اسلامی مقدسات کی پامالی کی اجازت نہ دیں تو کیا مجال ہے کہ دو ارب سے زائد مسلمانوں کے قبلۂ اول پر چند لاکھ صیہونیوں کا تصرف ، قتل عام اور غارتگری کا سلسلہ باقی رہ سکے ۔ دشمن مذہب و مسلک اور قومی و لسانی تفرقے ایجاد کرکے اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کررہا ہے اب بھی وقت ہے کہ مسلمان ملتیں ہوش میں آئیں اور اسلامی بیداری و آگاہی سے کام لے کر ، فلسطینی مجاہدین کے ساتھ اپنی حمایت و پشتپناہی کا اعلان کریں ۔فلسطین کے محروم و مظلوم نہتے عوام ، صیہونیوں کے پنجۂ ظلم میں گرفتار لاکھوں مرد وعورت ، وطن سے بے وطن لاکھوں فلسطینی رفیوجی ،غیرت و حمیت سے سرشار لاکھوں جوان و نوجوان ہاتھوں میں غلیل اور سنگریزے لئے فریاد کررہے ہیں ،چیخ رہے ہیں ،آواز استغاثہ بلند کررہے ہیں کہ روئے زمین پر عدل و انصاف کی برقراری کا انتظار کرنے والو ، فلسطینی مظلوموں کی مدد کرو قدس کی بازیابی کے لئے ایک ہوجاؤ ۔ہم فلسطینی ہیں فلسطینی ہی رہیں گے ۔ہم بیت المقدس کو غاصب صیہونیوں سے نجات دلائیں گے، ہم خون میں نہا کر مسلمانوں کے قبلۂ اول کی حفاظت کریں گے ۔بس ہمیں مسلمانوں کی حمایت و پشتپناہی کی ضرورت ہے ۔

عورت کی غیرت کفر ہے، سے کیا مراد ہے؟

جديد دور ميں عورت کو دھوکہ ديا جا رہا ہے - عورتوں کو آزادي کے جھوٹے خواب دکھا کر اپنے مذموم مقاصد کے ليے استعمال کيا جا رہا ہے - قدرت نے عورت کو مخصوص کاموں کي انجام دہي کے ليۓ پيدا کيا اور مردوں کو بھي مخصوص کاموں کي انجام دہي کے ليۓ پيدا کيا ہے - يہ جھوٹ ہے کہ عورت اپني حيثيت کے برعکس مرد کا کام کرے اور مرد  عورتوں کے کاموں کو کرنا شروع کر ديں - ہر ايک کي ساخت اور فطري تقاضے ہيں، جو خالق کائنات نے ازل سے عطا کئے گئے ہيں- جہاں تک اس حقيقت کا تعلق ہے يہ قطعي حقيقت ہے کہ مرد نے ہميشہ اسي آغوش کو ظلم و ستم کا نشانہ بنايا، جس آغوش ميں اس نے پرورش پائي اور اسي سينے کو زخمي کيا، جس سے اس کا رشتہ حيات وابستہ رہا-

ان تمام اقوال اور خيالات کے باوجود يورپ کي پہلي جنگ عظيم کے اوائل ميں ہي اہل يورپ نے يہ محسوس کيا کہ وہ چاہے عورت کے بارے ميں جو بھي خيالات رکھتے ہوں، مگر اس کے بغير جنگ ميں کاميابي حاصل کرنا ممکن نہيں ہے- کيونکہ مردوں کي کثير تعداد جنگ کے محاذوں پر مصروف ہو گئي ہے تو اندروني ذمہ دارياں کون نبھائے گا؟ چنانچہ خواتين نے اسلحہ ساز اور ديگر ہر قسم کے کارخانوں ميں جا کر کام کرنا شروع کر ديا- حالات کے تحت عورتوں نے علمِ طب ميں تعليم حاصل کرنا شروع کي، وکالت کے ميدان ميں آئيں، وظائف اور مناصب حاصل کرکے قليل عرصے ميں يہ ثابت کر ديا کہ عورتيں بھي مردوں کے کام حسن و خوبي کے ساتھ انجام دي سکتي ہيں- اسي طرح سرزمين عرب ميں جس قدر اديب، شاعر اور فاضل خواتين پيدا ہوئيں، وہ فراست و شجاعت اور ذہانت کي زندہ مثال تھيں، جو ريگستان عرب ميں مشہور و معروف ہوئيں، حالانکہ يہ وہي سرزمين عرب تھي جہاں عورت کے ساتھ بدترين سلوک کيا جاتا تھا- ليکن اسلام کي روشني پھيلنے کے بعد پورے ملک ميں عورت کي زندگي ميں انقلاب آ گيا-

سب سے پہلے ہم ان دلائل (روايات) كو مستثني كرديں گے جواس بات پر دلالت كرتي ہيں كہ ائمہ معصومين عليہ السلام كے زمانے ميں بھي امامت كي تعيين شوريٰ اور انتخاب كے ذريعے ہوگي۔

ہم ملاحظہ كرتے ہيں كہ شوريٰ كے متعلق بعض روايات ميں شوريٰ كے متعلق حكم يا شوريٰ كي مخالفت سے نہي نہيں پائي جاتي اور ان سے فقط يہ سمجھا جاتا ہے كہ شوريٰ كي ترغيب دلائي جارہي ہے مثلا رسول اكرم سے يہ قول نقل ہوا ہے مظاھرہ اوثقا من المشاور ہ لامظاھرۃ اوثق من المشاورۃ (مشورى سے بڑھ كر كوئي چيز پشت كي مضبوطي كا سبب نہيں)

اس قسم كي روايات (مقصود پر دلالت نہيں كرتيں) چنانچہ واضح ہے ۔اسي طرح شوريٰ كي روايات كي ايك اور قسم وہ ہے جو مشورى كا حكم تو ديتي ہے ليكن مشورہ دينے والوں كي راي كي مخالفت سے منع نہيں كرتي چنانچہ محمد بن حنفيہ كے نام امير المومنين عليہ السلام كي وصيت ميں كيا ہے:

جب وادي تشيع ميں شوريٰ كے متعلق بحث كي جاتي ہے (تو چونكہ حكومت كي شكل و صورت كے بارے ميں بحث زمانہ غيبت ميں ہے) تو ہم ابتداء ہي سے روايات شوريٰ سے ان بعض روايات كو مستثنيٰ كرديتے ہيں جن سے ظاہر ہوتا ہے كہ حتي ائمہ معصومين عليہ السلام كے زمانہ حضور ميں بھي امامت يا قيادت و رہبري كي تعيين انتخاب اور شوري كي بنيادپر ہے گويا حضرت علي عليہ السلام كي امامت كي تكميل بھي شوريٰ اور انتخاب كے ذريعہ ہوئي بطور نمونہ حضر ت علي عليہ السلام كا وہ قول ہے جو نہج البلاغہ ميں حضرت كي طرف سے معاويہ كے نام خط ميں كيا ہے:

(جن لوگوں نے ابوبكر، عمر، اور عثمان كي بيعت كي تھي انہوں نے ميري ہاتھ پر اسي اصول كے مطابق بيعت كي جس اصو ل پر وہ ان كي بيعت كرچكے تھے اوراس كي بنا پر جو حاضر ہے اسے پھر نظر ثاني كا حق نہيں اور جو بروقت موجود نہ ہو اسے رد كرنے كا اختيار نہيں اور شوريٰ كا حق صرف مہاجرين و انصار كو ہے وہ اگر كسي پر ايكا كريں اوراسے خليفہ سمجھ ليں تو اسي ميں اللہ كي رضا و خوشنودي سمجھي جائے گي)) ۔ 42

ولايت فقيہ پر مبنى نظام ميں لوگ كن امور ميں رہبر كى اطاعت كرنے كے پابند ہيں اور ولى فقيہ كى اطاعت كا دائرہ كس حد تك ہے؟ كيا بعض امور ميں اس كى مخالفت كى جا سكتى ہے؟ اور كيا اس كے فيصلے يا نظريئے كو رد كرسكتے ہيں؟اس سوال كے جواب سے پہلے دو تمہيدى مطالب كى طرف توجہ دينا ضرورى ہے- پہلا يہ كہ ولايت فقيہ پر مبتنى سياسى نظام ميں رہبر كا كيا مقام ہے؟ اس كى وضاحت كى جائے- اس كے بعد مختلف قسم كى مخالفتوں اور عدم اتباع كى تحقيق كى جائے-

نظام ولايت ميں رہبر كا مقام