جمعہ, 20 ستمبر 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
37
مضامین
420
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
380267

عورت کی غیرت کفر ہے، سے کیا مراد ہے؟

جديد دور ميں عورت کو دھوکہ ديا جا رہا ہے - عورتوں کو آزادي کے جھوٹے خواب دکھا کر اپنے مذموم مقاصد کے ليے استعمال کيا جا رہا ہے - قدرت نے عورت کو مخصوص کاموں کي انجام دہي کے ليۓ پيدا کيا اور مردوں کو بھي مخصوص کاموں کي انجام دہي کے ليۓ پيدا کيا ہے - يہ جھوٹ ہے کہ عورت اپني حيثيت کے برعکس مرد کا کام کرے اور مرد  عورتوں کے کاموں کو کرنا شروع کر ديں - ہر ايک کي ساخت اور فطري تقاضے ہيں، جو خالق کائنات نے ازل سے عطا کئے گئے ہيں- جہاں تک اس حقيقت کا تعلق ہے يہ قطعي حقيقت ہے کہ مرد نے ہميشہ اسي آغوش کو ظلم و ستم کا نشانہ بنايا، جس آغوش ميں اس نے پرورش پائي اور اسي سينے کو زخمي کيا، جس سے اس کا رشتہ حيات وابستہ رہا-

ان تمام اقوال اور خيالات کے باوجود يورپ کي پہلي جنگ عظيم کے اوائل ميں ہي اہل يورپ نے يہ محسوس کيا کہ وہ چاہے عورت کے بارے ميں جو بھي خيالات رکھتے ہوں، مگر اس کے بغير جنگ ميں کاميابي حاصل کرنا ممکن نہيں ہے- کيونکہ مردوں کي کثير تعداد جنگ کے محاذوں پر مصروف ہو گئي ہے تو اندروني ذمہ دارياں کون نبھائے گا؟ چنانچہ خواتين نے اسلحہ ساز اور ديگر ہر قسم کے کارخانوں ميں جا کر کام کرنا شروع کر ديا- حالات کے تحت عورتوں نے علمِ طب ميں تعليم حاصل کرنا شروع کي، وکالت کے ميدان ميں آئيں، وظائف اور مناصب حاصل کرکے قليل عرصے ميں يہ ثابت کر ديا کہ عورتيں بھي مردوں کے کام حسن و خوبي کے ساتھ انجام دي سکتي ہيں- اسي طرح سرزمين عرب ميں جس قدر اديب، شاعر اور فاضل خواتين پيدا ہوئيں، وہ فراست و شجاعت اور ذہانت کي زندہ مثال تھيں، جو ريگستان عرب ميں مشہور و معروف ہوئيں، حالانکہ يہ وہي سرزمين عرب تھي جہاں عورت کے ساتھ بدترين سلوک کيا جاتا تھا- ليکن اسلام کي روشني پھيلنے کے بعد پورے ملک ميں عورت کي زندگي ميں انقلاب آ گيا-

سب سے پہلے ہم ان دلائل (روايات) كو مستثني كرديں گے جواس بات پر دلالت كرتي ہيں كہ ائمہ معصومين عليہ السلام كے زمانے ميں بھي امامت كي تعيين شوريٰ اور انتخاب كے ذريعے ہوگي۔

ہم ملاحظہ كرتے ہيں كہ شوريٰ كے متعلق بعض روايات ميں شوريٰ كے متعلق حكم يا شوريٰ كي مخالفت سے نہي نہيں پائي جاتي اور ان سے فقط يہ سمجھا جاتا ہے كہ شوريٰ كي ترغيب دلائي جارہي ہے مثلا رسول اكرم سے يہ قول نقل ہوا ہے مظاھرہ اوثقا من المشاور ہ لامظاھرۃ اوثق من المشاورۃ (مشورى سے بڑھ كر كوئي چيز پشت كي مضبوطي كا سبب نہيں)

اس قسم كي روايات (مقصود پر دلالت نہيں كرتيں) چنانچہ واضح ہے ۔اسي طرح شوريٰ كي روايات كي ايك اور قسم وہ ہے جو مشورى كا حكم تو ديتي ہے ليكن مشورہ دينے والوں كي راي كي مخالفت سے منع نہيں كرتي چنانچہ محمد بن حنفيہ كے نام امير المومنين عليہ السلام كي وصيت ميں كيا ہے:

جب وادي تشيع ميں شوريٰ كے متعلق بحث كي جاتي ہے (تو چونكہ حكومت كي شكل و صورت كے بارے ميں بحث زمانہ غيبت ميں ہے) تو ہم ابتداء ہي سے روايات شوريٰ سے ان بعض روايات كو مستثنيٰ كرديتے ہيں جن سے ظاہر ہوتا ہے كہ حتي ائمہ معصومين عليہ السلام كے زمانہ حضور ميں بھي امامت يا قيادت و رہبري كي تعيين انتخاب اور شوري كي بنيادپر ہے گويا حضرت علي عليہ السلام كي امامت كي تكميل بھي شوريٰ اور انتخاب كے ذريعہ ہوئي بطور نمونہ حضر ت علي عليہ السلام كا وہ قول ہے جو نہج البلاغہ ميں حضرت كي طرف سے معاويہ كے نام خط ميں كيا ہے:

(جن لوگوں نے ابوبكر، عمر، اور عثمان كي بيعت كي تھي انہوں نے ميري ہاتھ پر اسي اصول كے مطابق بيعت كي جس اصو ل پر وہ ان كي بيعت كرچكے تھے اوراس كي بنا پر جو حاضر ہے اسے پھر نظر ثاني كا حق نہيں اور جو بروقت موجود نہ ہو اسے رد كرنے كا اختيار نہيں اور شوريٰ كا حق صرف مہاجرين و انصار كو ہے وہ اگر كسي پر ايكا كريں اوراسے خليفہ سمجھ ليں تو اسي ميں اللہ كي رضا و خوشنودي سمجھي جائے گي)) ۔ 42

ولايت فقيہ پر مبنى نظام ميں لوگ كن امور ميں رہبر كى اطاعت كرنے كے پابند ہيں اور ولى فقيہ كى اطاعت كا دائرہ كس حد تك ہے؟ كيا بعض امور ميں اس كى مخالفت كى جا سكتى ہے؟ اور كيا اس كے فيصلے يا نظريئے كو رد كرسكتے ہيں؟اس سوال كے جواب سے پہلے دو تمہيدى مطالب كى طرف توجہ دينا ضرورى ہے- پہلا يہ كہ ولايت فقيہ پر مبتنى سياسى نظام ميں رہبر كا كيا مقام ہے؟ اس كى وضاحت كى جائے- اس كے بعد مختلف قسم كى مخالفتوں اور عدم اتباع كى تحقيق كى جائے-

نظام ولايت ميں رہبر كا مقام

باب دوّم: شوريٰ

بعض علماء اھل سنت نے ”شوريٰ” كي بنياد پر حكومت اسلامي كے قيام كي تصوير پيش كرنے كي كوشش كي ہے يعني ايك ايسي حكومت كہ جس حكومت اسلامي كي روح روان اور بنياد ”شوريٰ” ہو

ايك حيران كن سوال

ابتدائے امر ميں نظريہ (شوريٰ) كو ايك اہم سوال كا سامنا كرنا پڑتا ہے وہ سوال يہ ہے كہ جب اسلام نے شوري كو خشت اول اور ولايت وحكمراني كا سرچشمہ قرار ديتے ہوئے نظام حكومت كے خطوط ترسيم كئے تو فطري طور پر لازم تھا كہ اسلام وسيع سطح پر امت كو اس ثقافت (شوريٰ) كي تعليم ديتا اور امت كو اس اہم اساس كي حدود وقيود سے مكمل طور پرآگاہ كرتا اوراس كي مكمل تفصيلات جزء جزء كركے بيان كرتا كيونكہ موضوع كي اہميت اور غير معمولي ضرورت كا تقاضا يہي تھا ليكن ہميں كتاب و سنت ميں اس امر كي تعليم اور اسے وسيع سطح پر ايك ثقافت ميں تبديل كرنے كے كوئي آثار نہيں ملتے بنابراين اس نومولود نظر كي تفسير كيسے كي جائے؟