بدھ, 23 ستمبر 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
48
مضامین
453
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
524591

 

  

۱سوال: مستحب قربانی کے بارے میں کیا احکام و مستحبات ہیں؟

جواب: مستحب اضحیہ یا قربانی کے بعض احکام یہ ہیں۔۔

۱۔ قربانی کرنا مستحب تاکیدی ہے ہر اس شخص کے لیے جس کے لیئے ممکن ہو۔ اور وہ شخص جو قربانی کرنے کی قدرت تو رکھتا ہو مگر اسکو قربانی کا جانور نہ ملے اس کے لیئے مستحب ہے کہ اسکی قیمت صدقہ میں دے، اورچونکہ بازار میں جانوروں کی قیمت مختلف ہوتی ہیں تو کم سے کم قیمت ادا کردینے سے مستحب ادا ہو جائے گا۔

۲۔ کوئی شخص اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے ایک ہی حیوان کی قربانی دے سکتا ہے،جیسا کہ قربانی میں شراکت کی جا سکتی ہے خاص طور پر جب کہ جانوروں کی قلت ہو اور قیمتیں زیادہ ہوں۔

۳۔ قربانی کا افضل و بہترین وقت ( یوم نحر) قربانی کے روز طلوع شمس کہ بعد سے نماز عید کے ادا کرلینے تک ہے جبکہ اسکا آخر وقت، منیٰ میں چار روز تک اور غیر منیٰ میں تین دن تک باقی رہتا ہے ۔اگرچہ احوط و افضل تو یہ ہے کہ منیٰ میں پہلے تین دنوں میں جبکہ غیر منیٰ میں پہلے دن ہی قربانی کردینی چاہیئے۔

۴۔ اضحیٰ کی قربانی کے جانور میں شرط ہے کہ وہ ان تین جانوروں میں سے ہو( اونٹ، گائے،بھیڑ) اور اونٹ وہی کافی ہوگا جو پانچواں سال مکمل کرچکا ہو، جبکہ گائے اور بکرے کا دو سالہ مکمل ہونا شرط ہے البتہ بھیڑ یا دنبہ سات ماہ مکمل کیا ہوا کافی ہے۔

۵۔ مستحب قربانی میں وہ شرائط و صفات واجب نہیں ہیں کہ جو ھدی واجب میں شرط ہیں ۔پس کانا، لنگڑا کان کٹا یا سینگ ٹوٹا ،خصی،یا لاغر جانور کی قربانی دینا جایز ہے۔ اگرچہ احوط(احتیاط سے قریب تر) اور افضل یہ ہے کہ اسکہ اجزاء سلامت ہوں اور موٹا ھو۔جبکہ مکروہ ہے اپنے پالتو جانور ہی کی قربانی کی جائے۔

۶۔ جو شخص قربانی کرے اسکہ لیے جایز ہے کہ وہ قربانی کا ایک تہائی حصہ اپنے لیے مخصوص کرلے یا اپنے اہل خانہ کو کھلانے کہ لیے رکھ لے۔ اسی طرح ایک تہائی حصہ مسلمانوں میں سے جسکو چاہے دے دے،اور احوط و افضل یہ ہے کہ باقی تیسرے حصہ کو فقرای مسلمین پر صدقہ کرے۔

۷۔ مستحب ہے کہ قربانی کی کھال کو بھی صدقہ کردے اور کھال کو اجرت کے بدلے قصائی کو دے دینا مکروہ ہے البتہ اس کھال کو جائے نماز بنا لینا یا بیچ کر گھر کی کوئی چیز خریدلینا جایز ہے

۸۔ اضحیہ یا قربانی عقیقہ سے مجزی ہے پس جو شخص قربانی کرے اس سے عقیقہ کرنا مجزی ہوجائے گا۔

مسئلہ ۲۲۱۲: حلال گوشت جانور کو درج ذیل شرائط کے ساتھ ذبح کیاجائے تو اس کا گوشت کھانا حلال ہے خواہ وہ جانور پالتو ہو یا جنگلی۔ البتہ جس جانور کے ساتھ کسی انسان نے وطی کرلی ہو تو اس کا گوشت بلکہ اس کے بچہ کا گوشت بھی کھانا حرام ہے۔ اسی طرح نجاست کھانے والے جانور کا گوشت بھی حرام ہے ہاں اگر نجاست کھانے والے جانور کو شریعت کے حکم کے مطابق معین مدت تک پاک غذا کھلائیں تو اس گوشت کھانا حلال ہے۔

مسئلہ ۲۲۱۳: وحشی و جنگلی حلال گوشت جانور جیسے ہرن، پہاڈی بکری، چکور و غیرہ اسی طرح وہ پالتو حلال گوشت جانور جو بعد میں جنگلی ہوجائے جیسے پالتو اونٹ گائے بھاکر جنگلی ہوجائے اگر ان کو اسلحہ سے شکار کریں (ان شرائط کے ساتھ جو بعد میں بیان ہوں گے۔) تو حلال ہے لیکن پالتو حلال گوشت جانور شکار کرنے سے حلال نہیں ہوت اسی طرح جنگلی حلال گوشت جانور جو تربیت کرنے سے پالتو ہوجائے وہ بھی شکار سے حلال نہیں ہوتا۔

مسئلہ۲۲۱۴:۔ جنگلی حلال گوشت جانور شکار سے اس وقت حلال ہوتا ہے جب اس میں بھاگنے کی طاقت برقرار ہو اسلئے مرن کا وہ بچہ جو بھاگ نہ سکتا ہو اور چکور کا وہ بچہ جو اڑنہ سکتا ہو شکار کرنے سے حلال نہیں ہوتا۔

مسئلہ ۲۲۱۵:۔ وہ حلال گوشت حیوان جو مچھلی کی طرح خون جہندہ نہ رکھتا ہو اگر خود ہی پانی میں مرجائے تو پاک ہے لیکن اس کا گوشت حرام ہے۔

مسئلہ ۲۲۱۶:۔ جو حرام گوشت جانور خون جہندہ نہ رکھتا ہو جیسے سانپ وہ ذبح کرنے سے حلال تو نہیں ہوگا لیکن اس کا مردہ پاک ہے۔

مسئلہ ۲۲۱۷:۔ سور، کتا ذبح کرنے یا شکار کرنے سے پاک نہیں ہوتا اور ان کا گوشت بھی حرام ہے۔ البتہ درندہ و گوشت خوار حیوان حرام گوشت جیسے بھیڑیا، چیتا و غیرہ اگر ان کو شرعی طریقہ سے ذبح کیاجائے یا اسلحہ سے شکار کیاجائے تو پاک ہے۔ لیکن گوشت حرام ہی رہے گا یہی صورت اس وقت بھی ہے جب شکاری کتے سے ان کا شکار کیاجائے۔

مسئلہ ۲۲۱۸:۔ ہاتھی،، ریچھ ،بندر، چوہا اور وہ جانور جو سانپ اور مگر مچھ (گوہ) کی طرح زمین کے اندر زندگی بسر کرتے ہیں تو ان میں جو خون جہندہ رکھتے ہوں اگر خو د بہ خود مرجائیں تو نجس ہیں لیکن اگر ان کو ذبح کیاجائے یا شکار کیاجائے تو پاک ہیں۔

مسئلہ ۲۲۱۹:۔ اگر زندہ حیوان کے پیٹ سے مردہ بچہ پیدا ہو یا باہر نکالا جائے تو اس کا گوشت کھانا حرام ہے۔

مسجد کی زمین ، اندرونی اور بیرونی چھت اور اندرونی دیوار کو نجس کرنا حرام ھے اور جس شخص کو پتہ چلے کہ ان میں سے کوئی مقام نجس ھو گیا ھے تو ضروری ھے کہ اس کی نجاست کو فوراً دور کرے اور احتیاط مستحب یہ ھے کہ مسجد کی دیوار کے بیرونی حصے کو بھی نجس نہ کیا جائے اور اگر وہ نجس ھو جائے تو نجاست کا ھٹانا لازم نھیں لیکن اگر دیوار کا بیرونی حصہ نجس کرنا مسجد کی بے حرمتی کا سبب ھو تو قطعاً حرام ھے اور اس قدر نجاست کا زائل کرنا کہ جس سے بے حرمتی ختم ھو جائے ضروری ھے ۔

*    اگرکوئی شخص مسجد کو پاک کرنے پر قادر نہ ھو یا اسے ایسی مدد کی ضرورت ھو جو دستیاب نہ ھو تو مسجد کا پاک کرنا اس پر واجب نھیں لیکن یہ سمجھتا ھو کہ اگر دوسرے کو اطلاع دے گا تو یہ کام ھو جائے گا تو ضروری ھے کہ اسے اطلاع دے ۔

*    ائمہ اھل بیت علیھم السلام میں سے کسی امام کا حرم نجس کرنا حرام ھے ۔ اگر ان کے حرموں میں سے کوئی حرم نجس ھو جائے اور اس کا نجس رھنا اس کی بے حرمتی کا سبب ھو تو اس کا پاک کرنا واجب ھے بلکہ احتیاط مستحب یہ ھے کہ خواہ بے حرمتی نہ ھوتی ھو تب بھی پاک کیا جائے ۔

بارہ چیزیں نماز کو باطل کرتی ھیں اور انھیں مبطلات نماز  کھا جاتا ھے :



(۱) نماز کے دوران نماز کی شرطوں میں سے کوئی شرط مفقود ھو جائے مثلاً نماز پڑھتے ھوئے متعلقہ شخص کو پتہ چلے کہ جس کپڑے سے اس نے ستر پوشی کی ھے وہ غصبی ھے ۔

(۲)نماز کے دوران عمداً یا سھواً یا مجبوری کی وجہ سے انسان کسی ایسی چیز سے دو چار ھو جو وضو یا غسل کو باطل کر دے مثلا ً اس کا پیشاب خطا ھو جائے اگر چہ احتیاط کی بنا ء پر اس طرح نماز کے آخری سجدے کے بعد سھواً یا مجبوری کی بناء پر ھو تاھم جو شخص پیشاب یا پاخانہ نہ روک سکتا ھو اگر نماز کے دوران اس کا پیشاب یا پاخانہ نکل جائے اور وہ اس طریقے پر عمل کرے جو احکام وضو کے ذیل میں بتا یا گیا ھے تو اس کی نماز باطل نھیں ھو گی اور اسی طرح اگر نماز کے دوران مستحاضہ کو خون آجائے تو اگر وہ استحاضہ سے متعلق احکام کے مطابق عمل کرے تو اس کی نماز صحیح ھے ۔

جب انسان کو نیند آرھی ھو اور اس وقت بھی جب اس نے پیشاب اور پاخانہ روک رکھا ھو نماز پڑھنا مکروہ ھے ان کے علاوہ دوسرے مکروھات بھی مفصل کتابوں میں بیان کئے گئے ھیں ۔



وہ صورتیں جن میں واجب نمازیں توڑی جا سکتی ھیں 

اختیاری حالت میں واجب نماز کا توڑنا احتیاط واجب کی بنا پر حرام ھے لیکن مال کی حفاظت اور مالی یا جسمانی ضرر سے بچنے کے لئے نماز توڑنے میں کوئی حرج نھیں بلکہ ظاھراً وہ تمام اھم دینی اور دنیاوی کا م جو نمازی کو پیش آئیں ان کے لئے نماز توڑنے میں کوئی حرج نھیں ۔

*    اگر انسان اپنی جان کی حفاظت یا کسی ایسے شخص کی جان کی حفاظت جس کی جان کی حفاظت واجب ھو یاایسے مال کی حفاظت جس کی نگھداشت واجب ھو اور وہ نماز توڑے بغیر ممکن نہ ھو تو انسان کو چاھئے کہ نماز توڑ دے ۔