جمعہ, 20 ستمبر 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
37
مضامین
420
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
380329

مسجد کی زمین ، اندرونی اور بیرونی چھت اور اندرونی دیوار کو نجس کرنا حرام ھے اور جس شخص کو پتہ چلے کہ ان میں سے کوئی مقام نجس ھو گیا ھے تو ضروری ھے کہ اس کی نجاست کو فوراً دور کرے اور احتیاط مستحب یہ ھے کہ مسجد کی دیوار کے بیرونی حصے کو بھی نجس نہ کیا جائے اور اگر وہ نجس ھو جائے تو نجاست کا ھٹانا لازم نھیں لیکن اگر دیوار کا بیرونی حصہ نجس کرنا مسجد کی بے حرمتی کا سبب ھو تو قطعاً حرام ھے اور اس قدر نجاست کا زائل کرنا کہ جس سے بے حرمتی ختم ھو جائے ضروری ھے ۔

*    اگرکوئی شخص مسجد کو پاک کرنے پر قادر نہ ھو یا اسے ایسی مدد کی ضرورت ھو جو دستیاب نہ ھو تو مسجد کا پاک کرنا اس پر واجب نھیں لیکن یہ سمجھتا ھو کہ اگر دوسرے کو اطلاع دے گا تو یہ کام ھو جائے گا تو ضروری ھے کہ اسے اطلاع دے ۔

*    ائمہ اھل بیت علیھم السلام میں سے کسی امام کا حرم نجس کرنا حرام ھے ۔ اگر ان کے حرموں میں سے کوئی حرم نجس ھو جائے اور اس کا نجس رھنا اس کی بے حرمتی کا سبب ھو تو اس کا پاک کرنا واجب ھے بلکہ احتیاط مستحب یہ ھے کہ خواہ بے حرمتی نہ ھوتی ھو تب بھی پاک کیا جائے ۔

بارہ چیزیں نماز کو باطل کرتی ھیں اور انھیں مبطلات نماز  کھا جاتا ھے :



(۱) نماز کے دوران نماز کی شرطوں میں سے کوئی شرط مفقود ھو جائے مثلاً نماز پڑھتے ھوئے متعلقہ شخص کو پتہ چلے کہ جس کپڑے سے اس نے ستر پوشی کی ھے وہ غصبی ھے ۔

(۲)نماز کے دوران عمداً یا سھواً یا مجبوری کی وجہ سے انسان کسی ایسی چیز سے دو چار ھو جو وضو یا غسل کو باطل کر دے مثلا ً اس کا پیشاب خطا ھو جائے اگر چہ احتیاط کی بنا ء پر اس طرح نماز کے آخری سجدے کے بعد سھواً یا مجبوری کی بناء پر ھو تاھم جو شخص پیشاب یا پاخانہ نہ روک سکتا ھو اگر نماز کے دوران اس کا پیشاب یا پاخانہ نکل جائے اور وہ اس طریقے پر عمل کرے جو احکام وضو کے ذیل میں بتا یا گیا ھے تو اس کی نماز باطل نھیں ھو گی اور اسی طرح اگر نماز کے دوران مستحاضہ کو خون آجائے تو اگر وہ استحاضہ سے متعلق احکام کے مطابق عمل کرے تو اس کی نماز صحیح ھے ۔

جب انسان کو نیند آرھی ھو اور اس وقت بھی جب اس نے پیشاب اور پاخانہ روک رکھا ھو نماز پڑھنا مکروہ ھے ان کے علاوہ دوسرے مکروھات بھی مفصل کتابوں میں بیان کئے گئے ھیں ۔



وہ صورتیں جن میں واجب نمازیں توڑی جا سکتی ھیں 

اختیاری حالت میں واجب نماز کا توڑنا احتیاط واجب کی بنا پر حرام ھے لیکن مال کی حفاظت اور مالی یا جسمانی ضرر سے بچنے کے لئے نماز توڑنے میں کوئی حرج نھیں بلکہ ظاھراً وہ تمام اھم دینی اور دنیاوی کا م جو نمازی کو پیش آئیں ان کے لئے نماز توڑنے میں کوئی حرج نھیں ۔

*    اگر انسان اپنی جان کی حفاظت یا کسی ایسے شخص کی جان کی حفاظت جس کی جان کی حفاظت واجب ھو یاایسے مال کی حفاظت جس کی نگھداشت واجب ھو اور وہ نماز توڑے بغیر ممکن نہ ھو تو انسان کو چاھئے کہ نماز توڑ دے ۔

نماز کے شکیات کی ۲۲ قسمیں ھیں ۔ ان میں سے سات اس قسم کے شک ھیں جو نماز کو باطل کرتے ھیں اور چہ اس قسم کے شک ھیں جن کی پرواہ نھیں کرنی چاھئے اور باقی نو اس قسم کے شک ھیں جو صحیح ھیں ۔

وہ شک جو نماز کو باطل کرتے ھیں 



جو شک نماز کو باطل کرتے ھیں وہ یہ ھیں :

(۱) دو رکعتی واجب نماز مثلاً نماز صبح اور نماز مسافر کی رکعتوں کی تعدا دکے بارے میں شک البتہ نماز مستحب اور نماز احتیاط کی رکعتوں کی تعداد کے بارے میں شک نماز کو باطل نھیں کرتا ۔

(۲) تین رکعتی نماز کی تعداد کے بارے میں شک ۔

(۳) چار رکعتی نماز میں کوئی شک کرے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ھے یا زیادہ پڑھی ھیں ۔

(۴) چار رکعتی نماز میں دوسرے سجدہ میں داخل ھونے سے پھلے نمازی شک کرے کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ھیں یا زیادہ پڑھی ھیں ۔

جمعہ کی نماز صبح کی طرح دو رکعت ھے ۔ اس میں اور صبح کی نماز میں فرق یہ ھے کہ اس نماز سے پھلے دو خطبے بھی ھیں ۔ جمعہ کی نماز، واجب تخیری ھے ۔ اس سے مراد یہ ھے کہ جمعہ کے دن مکلف کو اختیار ھے کہ اگر نماز جمعہ کی شرائط موجود ھوں تو جمعہ کی نماز پڑھے یا ظھر کی نماز پڑھے ۔ لھذا اگر انسان جمعہ کی نماز پڑھے تو وہ ظھر کی نما ز کی کفایت کرتی ھے ( یعنی پھر ظھر کی نماز پڑھنا ضروری نھیں )۔

جب جمعہ کی ایک ایسی نماز قائم ھو جو شرائط کو پورا کرتی ھو اور نماز قائم کرنے والا، امام وقت یا اس کا نائب ھو تو اس صورت میں نماز جمعہ کے لئے حاضر ھونا واجب ھے اور اس صورت کے علاوہ حاضر ھونا واجب نھیں ھے ۔ پھلی صورت میں حاضری کے وجوب کے لئے چند چیزیں معتبر ھیں :

( ۱) مکلف مرد ھو ۔ جمعہ کی نماز میں عورتوں کے لئے حاضر ھونا  واجب نھیں ھے ۔

(۲) آزاد ھونا ۔ لھذا غلاموں کے لئے جمعہ کی نماز میں حاضر ھونا واجب نھیں ھے ۔

(۳) مقیم ھونا ۔ لھذا مسافر کے لئے جمعہ کی نماز میںحاضر ھونا واجب نھیں ھے ۔

(۴) بیمار اور اندھا نہ ھونا ۔

(۵) بوڑھا نہ ھونا ۔