بدھ, 17 جولائی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
416
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
350848

 امام حسین علیہ السلام کی شہادت

سرکار سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے جب فقط تین یا چار ساتھی رہ گئے تو آپ نے اپنا یمنی لباس منگوایا جو مضبوط بناوٹ کا صاف و شفاف کپڑا تھا اسے آپ نے جا بجا سے پھاڑ دیا اور الٹ دیا تاکہ اسے کوئی غارت نہ کرے ۔[1] اور[2]اس بھری دوپہر میں آپ کافی دیر تک اپنی جگہ پر ٹھہرے رہے۔ 

دشمنوں کی فوج کا جو شخص بھی آپ تک آتا تھا وہ پلٹ جاتا تھا کیونکہ کوئی بھی آپ کے قتل کی ذمہ داری اور یہ عظیم گناہ اپنے سر پر لینا پسند نہیں کر رہا تھا۔

جناب زینبِ کبریٰ کا خطبہ دربارِ یزید میں

خطبات حضرت زینب(سلام اللہ علیہا)

غلام مرتضیٰ انصاری

زینب ہجومِ عام سے کرنے لگی خطاب                          باطل کا کھل رہا ہے بھرم، شام آگئی

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے۔ اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پراور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بےت پر۔اما بعد ! بالاخر برا ہے انجام ان لوگوں کا جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا۔اے یزید!کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کر دئیے ہیں اور کیا آلِ رسول (ص) کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز اور رسوا ہوئے ہیں۔ کیا تےرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے۔ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے اور ناک بھوں چڑھاتا ہوا مسرت و شاد مانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے۔ اور زمامداری کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور ذرا دم لے ۔

کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے جو انہیں مہلت دی ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے۔ بلکہ ہم نے اس لئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں۔اور ان کے لئے خوفناک عذاب معین و مقرر کیا جا چکا ہے۔

پاکستان کا تصور پیش کرنے والے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال دنیا بھر میں حریت و آزادی کے لئے برسر پیکار تحریکوں کے لئے امام حسین ع و کربلا کو آئیڈیل قرار دے کر امام حسینؑ کی عزادری کو ظلم و طاغوت کے خلاف سب سے بڑا جہاد

پاکستان کا تصور پیش کرنے والے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال دنیا بھر میں حریت و آزادی کے لئے برسر پیکار تحریکوں کے لئے امام حسین ع و کربلا کو آئیڈیل قرار دے کر امام حسینؑ کی عزادری کو ظلم و طاغوت کے خلاف سب سے بڑا جہاد قرار دیتے ہیں۔

جس طرح امام خمینی نے بھی فرمیا تھا۔ کہ دنیا ہمیں رونی والی قوم یعنی عزاداری کرنے والے کہہ کر تمسخر اڑاتے تھے لیکن انہیں آنسووں سے ہم نے صدیوں پر محیط امریکی پٹھو شہنشاہی نظام کا خاتمہ کردیا، ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہے وہ کربلا و امام حسینؑ کی مرہون منت ہے۔۔ علامہ اقبال رح بھی اپنے آپ اور مسلمانوں کے لئے کربالا اور امام حسین ع کا غم آئیڈئل؛ قرار دیتے ہیں۔ یہاں علامہ اقبال کے مختلف اشعار کا ان کے کتب سے حوالہ کے ساتھ تحریر کیا جارہا ہے۔

مسئله گریه نیست. مسأله، مسئله تباکى نیست. مسأله، مسئله سیاسى است که ائمه ما با همان دید الهى که داشتند، مى‏خواستند که این ملتها را با هم بسیج کنند و یکپارچه کنند.

عصر خبر :حجت الاسلام و المسلمین علی محمد فرهاد زاده کارشناس مسائل مذهبی در گفت و گو با خبرنگار پایگاه اطلاع رسانی آستان در خصوص مقوله دعا در معارف دینی و مذهبی گفت: دعا از مباحث و مفاهیم پرمعنایی در دین اسلام برخوردار است.این جایگاه به اندازه ای پر منزلت و رفیع است که خداوند در آیه هایی از قرآن می فرماید:"اگر دعای انسان نبود پروردگارتان هیچ توجه و توفیقی به شما نمی کرد." بنابراین دعا انسان را در مسیر کمال قرار می دهد و یکی از اهرم های اساسی و اصلی برای رسیدن به ترقی است.

امام خمینی(س) رهبر کبیر انقلاب اسلامی ایران درباره فلسفه سوگواری و عزاداری در ماه محرم برای سیدالشهدا(ع) می فرماید: در آن وقت، یکى از حرفها که هى رایج بود، مى‏گفتند: «ملتِ گریه»؛ براى اینکه مجالس روضه را از دستشان بگیرند. اینکه همه مجالس روضه را آن وقت تعطیل کردند، آن هم به دست کسى که خودش در مجالس روضه مى‏رفت و آن بازیها را در مى‏آورد، قضیه مجلس روضه بود یا از مجلس روضه آنها یک چیز دیگر مى‏فهمیدند و آن را مى‏خواستند از بین ببرند؟ قضیه عمامه و کلاه بود یا از عمامه یک چیز دیگرى آنها مى‏فهمیدند و روى آن میزان عمامه را با آن مخالفت مى‏کردند؟ آنها فهمیده بودند که از این عمامه یک کارى مى‏آید که نمى‏گذارد اینها این را که مى‏خواهند، عمل کنند و از این مجالس عزادارى یک کارى مى‏آید که نمى‏گذارد اینها کارشان را انجام بدهند. (صحیفه امام، ج‏13، ص 323).

کربلا ایک ایسی عظیم درسگاہ ہے جس نے بشریت کو زندگی کے ہر گوشہ میں درس انسانیت دیا ہے اور ہر صاحب فکر کو اپنی عظمت کے سامنے جھکنے پر مجبور کردیا ہے۔ روز عاشورکی تعلیمات ہر انسان کے لیے ابدی زندگی کا سرمایا ہیں کہ جن میں سے چند ایک کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جاتا ہے:

۱: حریت اور آزادی

تحریک کربلاکا سب سے اہم درس آزادی، حریت اور ظلم و استبداد کے آگے نہ جھکنا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: موت فی عز خیر من حیاۃ فی ذل۔ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔ اور ظالم کی بیعت قبول نہ کرتے ہوئے فرمایا: لا و اللہ ، لا اعطیھم یدی اعطاہ الذلیل و لا اقر اقرار العبید۔خدا کی قسم، اپنا ہاتھ ذلت کے ہاتھوں میں نہیں دوں گا اور غلاموں کی طرح تمہارے آگے نہیں جھکوں گا۔