پیر, 20 مئی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
406
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
324850

خلاصہ: قرآن کو صحیح سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ  وہ آیت جس کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں اس کے بارے میں پوری معلومات ہوں کہ وہ کہا پر نازل ہوئی، کس وقت اور کن حالات میں نازل ہوئی، صرف آیت کے ظاہری الفاظ کو دیکھ کر اس کے معنی کو صحیح طریقہ سے سمجھا نہیں جا سکتا۔

     آج کے اس دور میں جہاں ہر کوئی اپنی بات کو منوانےکے درپے ہے اور اس کے لئے قرآن کو بھی اپنی شخصی اور ذاتی مفادات کے لئے استعمال کررہا ہے، اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کی آیت کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے، قرآن کو اس کے صرف اور صرف ظاہری الفاظ کے ذریعہ سمجھ کر۔ اور اس کام کے لئے قرآن کی آیات کی تفسیر کو بھی دیکھنا ضروری  نہیں سمجھ رہا ہے۔

جہانی سازی ( GLOBALIZATION )ایک عالمی تحریک ہے ، آج یا کل سب کو اس کا سامنا کرنا ہے۔ یہ سلسلہ سب کو اپنے موقف میں نظر ثانی کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔

عالم اسلام بھی اس دنیا کا ایک عظیم پیکر ہونے کی وجہ سے ، امریکہ کے بنائے ہوئے اس عالمی منصوبہ کے خطر ناک نتائج اور نقصانات کی زد میں ہے ۔

اس تحریر میں پہلے جہانی سازی کی تعریف پیش کی گئی ہے ، خاص کر وہ تعریف جو مغربی طاقتوں خصوصا امریکہ نے پیش کی ہے ، جس میں غربی سیویلائزیشن کے علاوہ ہر تہذیب و تمدن کو ختم کرنے اور ساری دنیا پر امریکی طرز کی تہذیب کو تھوپنے پر زور دیا گیا ہے ۔

اس وضاحت کے بعد ایسی جہانی سازی کے خطر ناک نتائج اور نقصانات کی طرف روشنی ڈالی گئی ہے اور پھر اس جہانی سازی کی راہ کی رکاوٹوں کو بیان کیا گیا ہے جس کی وجہ سے امریکہ کو اپنے مستکبرانہ مقاصد کی تکمیل میں خاصی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس میں سے سب سے اہم عالم اسلام ہے ، اور اسلام کا عالمی حکومت کا تصور ، یہیں سے اس مسئلہ کو لے کر عالم اسلام کے مسائل شروع ہوتے ہیں ، مقالہ نگار کی خاص تاکید انھیں مسائل اور اس کے حل کی جانب ہے لہٰذا پہلے عالم اسلام کی موجودہ حالت کی وضاحت کرتے ہیں پھر مرحلہ وار ان مسائل کے حل کے لئے چند حکمت عملی بیان کرتے ہیں تاکہ عالمی پیمانہ پر تمام اسلامی مملک مل کر اس بھیانک یلغار کے خطر ناک نتائج اور اس کے نقصانات کی روک تھام کر سکیں۔۔۔

 رہبر انقلاب اسلامی سے عالمی وحدت اسلامی کانفرنس کے شرکاء سمیت ہزاروں افراد کی ملاقات

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے اعلیٰ حکام، تیسویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے شرکاء، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام سے ملاقات میں فرمایا کہ آج خطے میں دو طرح کے ارادے ایک دوسرے کے مد مقابل صف بستہ ہوگئے ہیں، " ارادہ وحدت" اور " ارادہ فرقہ واریت"، اور اس نازک صورتحال میں " قرآن کریم اور پیغمبر اعظم ص کی الہی تعلیمات پر تکیہ کرنا"، وحدت بخش معالجے کے عنوان سے دنیائے اسلام کی تمام تر مشکلات کے لئے راہ حل ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مبارک باد دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ پیغمبر اسلام ص کے وجود مقدس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ پروردگار کریم نے قرآن مجید میں بشریت کو اتنی عظیم نعمت عطا کرنے پر احسان جتایا ہے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای قرآن کرین کی اصطلاح " رحمۃ للعالمین" پر استناد کرتے ہوئے، پیغمبر اکرم ص کی تعلیمات کو تمام بنی نوع انسان کے لئے نجات راہ قرار دیا اور مزید فرمایا کہ انسانیت کے دشمن اور دھونس و دھمکی جمانے والے ان باسعادت تعلیمات کے مخالف ہیں اور اسی وجہ سے خداوند متعال قرآن کریم میں حکم دیتا ہے کہ انکی پیروی اور کفار و مشرکین کی سازشوں سے اجتناب کرتے ہوئے ان سے جہاد کرو اور ان سے سختی سے پیش آئو۔