بدھ, 17 جولائی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
416
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
350798

امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے اندر عبادت کرنے والوں کی تین اقسام بیان فرماتے ھیں۔

”اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَغْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَۃُ التُّجَّارِ وَ اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَہْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الْعَبِیْدِ، وَ اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ شُکْراً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الاٴحْرَارِ“۔[1]

”کچھ لوگ خدا کی عبادت کے انعام کے لالچ میں کرتے ھیں یہ تاجروں کی عبادت ہے اور کچھ لوگ خدا کی عبادت خوف کی وجہ سے کرتے ھیں یہ غلاموں کی عبادت ہے اور کچھ لوگ خدا کی عبادت خدا کا شکر بجالانے کی کے لئے کرتے ھیں یہ آزاد اور زندہ دل لوگوں کی عبادت ہے“۔

 اس فرمان میں امام علیہ السلام نے عبادت کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے ۔

تحریر: مشتاق حسین حکیمی

 

آجکل میڈیا پر سب سے زیادہ جس موضوع پر بحث و گفتگو ہوتی ہے خاص کر مشرق وسطی میں تو وہ داعش اور اس کے کرتوت ہیں اگرچه داعش کا وجود شام اور عراق میں داخلی کشیدگی کے بعد سے حکومت اسلامی عراق اور شام (جس کو بعد میں اختصار کے طور پر داعش نام دیا گیا) نظر آیا ہے اور بعد میں صرف دولت اسلامی کا نام دیا گیا۔ لیکن اس کی جڑیں بہت پرانی ہیں اور اس کو سلفیت میں ڈھونڈا جاسکتا ہے، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ خود سلفی اور سلفیت کیسے وجود میں آیے؟ اور انکی پیشرفت کے عوامل کیا تھے؟

اکيسويں صدي ميں لوگ يکے پس از ديگرے ستاورں پر اپني کمند ڈالنے کي کوشش کر رہے ہيں مريخ پر انسان بسانے کي کوششيں کر رہے ہيں، اور دوسري طرف ديکھا جائے تو اس ترقي يافتہ دور ميں لوگ پير مرشدوں کي درباروں کا چکر کاٹنے ميں اپنا ٹائم اور اپني پونجي داو پر لگائے بيٹھے ہيں۔
پاکستان کے پرنٹ ميڈيا ہوں يا ديواري ميڈيا گو کہ شہر کي ہر گلي کوچہ ميں ايسے اشتہارات ديکھنے کو ملتے ہيں جس ميں ہر طرح کا کالا جادو، اور مختلف مشکلات کا حل، کاروبار ميں ناکامي، عشق ميں شکست، لا اولاد اور اولاد نرينہ تک کي گارنٹي شدہ نسخوں کے بارے ميں لکھا ہوتا ہے۔
اسي سلسلے کي ايک مختصر جھلک سرگودھا سانحہ ہے جس ميں ايک نام نہاد پير نے 20 لوگوں کو گناہوں سے پاک کرنے کے بہانے موت کے گھاٹ اتار ديا۔

اللہ تعالي کے حکم سے جب خليل الرحمن نے اپنے بيٹے حضرت اسماعيل کو ذبح کرنے کے لئے مني لے گئے اور بيٹے کے گلے پر خنجر رکھ کر گلا کاٹنے لگا ليکن تيز چاقو کام نہيں کر رہا ہے حضرت ابراہيم نے چاقو سے کہا اے چاقو تم ميرے ساتھ کيوں نہيں ديتے کاٹو اس گلے کو تاکہ ميري قرباني قبول ہوجائے اس وقت چاقو نے کہا  اللہ کے خليل مجھے گلا کاٹنے کا حکم دے رہے ہيں جبکہ اللہ تعالي نہ کاٹنے کاـ
اس قرباني کے بدلے دنبہ آيا  اور يہ سنت آج تک باقي رہي اور کروڑوں مسلمان عيد الاضحي پر قرباني کرتے ہيں اور سنت ابراہيمي کو پورا کرتے ہيں

 

 

امام خمینیؒ کی عظمت و شخصیت ایک ایسے پہاڑ کی مانند ہے کہ جس کی چوٹی تمام بلندیوں کو سرکرتی ہو، وہ عرفان کی بلندیوں پر ایسے فائز تھے کہ ان تک دسترس حاصل کرنا مشکل ہے اس کے باوجود وہ ہماری نظروں سے اوجھل نہیں تھے۔ آپ کی ہمہ جہت شخصیت وکمال تک پہنچنے کے لئے ہمارے پاس طاقت کہاں؟ اور ہماری کوتاہ فکرہمیں اس بات کا احساس عجز دلاتی ہے کہ ہم آپ کے وجود کی گہرائیوں تک پہنچ سکیں۔آپ کی ذات گرامی عظیم الشان رفعتوں اور عظمتوں سے بھی بلند و بالا تھی جتنا جنتا جس کے ظرف کی وسعت تھی اتنا ہی اس نے اس دریائے حکمت و معرفت سے حاصل کیا ہے۔وہ ایسے اعلیٰ کردار کے مالک تھے کہ ان کے دل میں محبت الٰہی کی شمع روشن تھی سب کچھ رکھنے کے باوجود ان کی زندگی ایک سادہ ترین انسان کی سی زندگی تھی۔ ان تمام مرحلوں میں آپ کے طرز زندگی میں ذرہ بھر فرق نہ آیا بلکہ جوں جوں وسائل ملتے گئے آپ کے زہد و تقویٰ میں اور اضافہ ہوتا گیا آپ نے ہمیشہ ہی انسانی خدمت اور دین الٰہی کے احیاء و بقاء کے لئے کام کیا جو بھی ہاتھ میں آیا مستحقوں کو دے دیا۔