جمعرات, 09 جولائی 2020

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
46
مضامین
445
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
495674

 

 

 

 

صلح امام حسن علیه السلام پر اجمالی نظر: 

     ارشد حسین  

 
 اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں امن اور جہاد دونوں کا تصور پایا جاتا ہے لیکن کن حالات اور شرائط میں جنگ لڑنی ہے اور کن حالات میں امن قائم کرنا ہے یہ ہادیان دین ہی فیصلہ کرسکتے ہیں کیونکہ آئمۂ علیہم السلام کا یہ وظیفہ ہے اور وہ اپنے وظیفے کا مکمل علم رکھتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے لیکن امن اور جھاد دین مبین اسلام کے دو مضبوط ستون ہیں جن پر اسلام کی بلند و بالا عمارت قائم ہے ۔ 

صلح  حضرت امام حسن علیہ السلام اور قیام حضرت امام حسین السلام ان دو ستون ( امن اور جھاد  ) کی ترجمانی اور عکاسی کرتے ہیں جسکی طرف رسول مکرم اسلام (ص) نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا الحسن والحسين امامان قاما أو قاعدا،، امام حسن اور امام حسین علیہما السلام  دونوں امام ہیں چاہیں وہ جنگ کریں یا صلح کریں۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس جملے سے ہی حضرت امام حسن مجتبی کی صلح اور حضرت سید الشہداء کی اس عظیم نہضت اور تحریک کی پوزیشن واضح ہوجاتی ہے لیکن ہم اپنے قارئین کے لۓ کچھ وضاحت کرینگے تاکہ حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کے صلح  کے متعلق مؤمنین کے ذہنوں میں ابھام نہ رہے۔

سب سے پہلے یہاں مناسب سمجھتا ہوں کہ حضرت امام حسن علیہ السلام اور امیر شام کا ایک مختصر تعارف قارئین کے لۓ ذکر کروں تاکہ ہمارے قارئین کو معلوم ہو کہ امیر شام کس طرح کا انسان تھا ۔ 

حضرت امام حسین کون ہیں: 

اگرچہ حضرت امام حسن علیہ السلام کی شخصیت کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن یہاں امام کا ایک اجمالی تعارف مقصود ہے اس خاطر امام کا اجمالی تعارف۔ پیش خدمت ہے۔ 
حضرت امام حسن مجتبی (ع) حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت زہراء (س) کے پہلے فرزند ، پیغمبر اسلام (ص) کے دوسرے جانشین برحق و پہلے  نواسہ رسول خدا (ص) اور امام حسین (ع) کے پہلے بھائی ہیں۔ آپ خداوند کی طرف سے امام برحق اور مفروض الطاعة ہیں یعنی آپ کی اطاعت تمام مخلوقات پر واجب ہے۔

معاویہ (امیر شام) کون تھا:

معاویہ ابو سفیان کا بیٹا ، ماں ہند  ہے جس نے سید الشہداء حضرت حمزہ کا سینہ چیر کر انکا کلیجہ چھپایا ۔ معاویہ وہ تاریخ کا وہ سیاہ دبہ ہے جس نے اپنی حکومت کے خاطر ہزاروں مسلمانوں کا خون بہایا اور اسلام کی نامور شخصیات مثل حجربن عدی  محمد بن ابی بکر ، مالک اشتر جیسے جلیل القدر اصحاب امام علی (ع) کو قتل کیا ۔ یہ وہ شخص ہے جس نے حضرت علی علیہ السلام  سے بغاوت کیا جو کہ مسلمانوں کا خلیفہ تھے ۔ یہ وہی معاویہ ہے جس نے امام حسن علیہ السلام کی بیوی جعدہ بنت اشعث کے ذریعے امام کو زہر دلوایا اور امام علیہ السلام کو شہید کیا ۔

حضرت امام حسن علیہ السلام کے صلح کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے ہمیں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصول اور قوانین جوکہ جنگ اور صلح کے متعلق ہیں کو سمجھنا ضروری ہے جن میں سے ایک صلح ہے۔ پھر حضرت علی (ع) کی روش کو سمجھنا ضروری ہے جو کہ عین روش رسول(ص) ہے اور پھر صلح کی اسلام اور شریعت محمدی میں حیثیت اور شرائط کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ 

جب ہم رسول اللہ(ص) کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آپ (ص) نے تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے  ایک ایسا صلح کیا کہ جو آپ کے بعض اصحاب کے لۓ باعث تعجب اور نارضگی کا سبب بنا  لیکن دو سال بعد تصدیق کی کہ صلح پیامبر درست اقدام تھا۔ پس پیامبر (ص) نے کفار مکہ سے صلح کیا جو کہ صلح حدیبیہ کے نام سے معروف اور مشہور ہے۔ 

حضرت رسول خدا (ص) کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بھی یہی روش رہی ہے کہ امیر المؤمین علیہ السلام نے کبھی جنگ کی اور کبھی جنگ نہیں کی جب خلافت جو کہ آپ کا حق تھا آپ سے غصب کیا گیا اس وقت آپ نے جنگ نہیں کی حتی حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے ایک دن مولا علی علیہ السلام سے سوال کیا ما لك يابن أبي طالب إشتملت شملة الجنين وقعدت حجرة الظنين کہ اے ابو طالب کے بیٹے کیوں مثل اس  بچہ کی طرح  ہوگئے ہو جو رحم مادر میں اپنے ہاتھ و پاؤں کو روکے رکھا ہوا ہوتا ہے اور کیوں گوشہ نشین ہوگئے ہو۔ تم وہی مرد ہو جس نے بڑی بڑی جنگیں فتح کیں اور بڑے بڑے پہلوانوں کو دھول چھٹائی اور انہوں نے میدان سے فرار کو اپنی نجات سمجھی جبکہ ابھی خاموش ہو تو امام علیہ السلام نے یہی جواب دیا تھا کہ اس وقت میرا وظیفہ جنگ کرنا تھا اور ابھی خاموشی میرا وظیفہ ہے یہاں تک کہ حضرت کی زندگی کے 25 سال گزر جاتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے مصالحت کو جنگ پر ترجیح دی کیونکہ شرائط کا یہی تقاضا تھا۔ پس صلح فقط امام حسن( ع ) کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ پیغمبر (ص) اور مولا علی (ع) نے بھی مختلف مواقع میں صلح کی ہے

صلح کا معنی اور حیثیت:

صلح فقهاء کی اصطلاح میں هدنه و مهادنة کو کہتے ہیں جس کے معنی مصالحہ اور جنگ نہ کرنے کے ہیں۔ محقق نے شرایع الاسلام میں یوں کہا ہےکہ المهادنة وهي المعاقدة على ترك الحرب مدة معينة صلح ایک ایسا پیمان ہے جس میں مدہ خاص تک ایک دوسرے سے جنگ نہیں کرتے۔

پس صلح اسلام میں جائز ہے لیکن اس کی شرائط ہیں جو زمان اور مکان کے لحاظ سے تبدیل ہوتے ہیں اگر شرائط صلح میسر ہوں تو آئمۂ علیہم السلام صلح کو ترجیح دیتے ہیں جیساکہ حضرت رسول خدا ، حضرت علی اور امام حسن علیہم السلام اقدام کیا لیکن اگر شرائط صلح نہ ہوں اور جنگ اور جھاد کی شرائط ہوں تو آئمۂ علیہم السلام جھاد اور جنگ کرتے ہیں اور ان شرائط کی تشخیص خود امام دیتا ہے۔

ایک شبہ اور اس کا جواب

بعض لوگ ایک شبہ ایجاد کرتے ہیں اور اکثر سادہ لوح مؤمنین بھی اس شبہ کا شکار ہوجاتے ہیں  کہ امام حسن (ع) طبیعت کے لحاظ سے صلح پسند تھے اور امام حسین (ع) طبیعت کے لحاظ سے جنگجو تھے جس کا نتیجہ یہ نکالتے ہیں امام حسن (ع) نے صلح کی جبکہ امام حسین (ع) نے جنگ کی ہے۔

جواب

 اس کے جواب میں یہ عرض کروں کہ یہاں طبیعت کی بات نہیں ہے بلکہ وظیفہ کی بات ہے اور امام اپنے وظیفہ شناس ہوتا ہے اور اپنے وظیفے کو ہر صورت انجام دیتا ہے چاہے وہ صلح کی  صورت میں ہو یاجنگ کی صورت میں ، چاہیے حکومت کی قیام صورت میں ہو یا تلوار کو نیام میں رکھنے کی صورت میں امام چونکہ اپنے زمانے کا بھی امام ہوتا ہے تو امام (ع) شرائط اور حالات کے تقاضوں کے مطابق اپنے وظیفے کا پابند ہوتا ہے ۔ اگر امام حسن (ع) کے زمانے میں حضرت امام حسین (ع) ہوتے تو وہ بھی صلح کرتے چونکہ حالات کا تقاضا یہی تھا ایسی طرح اگر امام حسن (ع) امام حسین (ع) کے زمانے میں ہوتے تو امام حسن( ع) قیام کرتے چون واہاں حالات کا یہی تقاضا تھا۔

پس صلح امام حسن مجتبی علیہ السلام ایک ایسا اقدام تھا جو اس زمانے کے حالات و شرائط کا تقاضا تھا ۔ امام علیہ السلام نے اس صلح کے ذریعے وہ مقاصد حاصل کیے جو جنگ سے کبھی حاصل نہیں ہونے تھے اور امام علیہ السلام نے صلح کے ذریعے امیر شام کو وہ شکست دی کہ رہتی دنیا یاد رکھے گی۔

منابع: 1

۔  آثار شہید مطھری رحمت اللہ علیہ

2۔ صلح  الحسن (ع)  لشیخ أحمد محمد إسماعيل، الناشر ، دار الهادي 

 

 

 

امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے اندر عبادت کرنے والوں کی تین اقسام بیان فرماتے ھیں۔

”اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَغْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَۃُ التُّجَّارِ وَ اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَہْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الْعَبِیْدِ، وَ اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ شُکْراً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الاٴحْرَارِ“۔[1]

”کچھ لوگ خدا کی عبادت کے انعام کے لالچ میں کرتے ھیں یہ تاجروں کی عبادت ہے اور کچھ لوگ خدا کی عبادت خوف کی وجہ سے کرتے ھیں یہ غلاموں کی عبادت ہے اور کچھ لوگ خدا کی عبادت خدا کا شکر بجالانے کی کے لئے کرتے ھیں یہ آزاد اور زندہ دل لوگوں کی عبادت ہے“۔

 اس فرمان میں امام علیہ السلام نے عبادت کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے ۔

اللہ تعالي کے حکم سے جب خليل الرحمن نے اپنے بيٹے حضرت اسماعيل کو ذبح کرنے کے لئے مني لے گئے اور بيٹے کے گلے پر خنجر رکھ کر گلا کاٹنے لگا ليکن تيز چاقو کام نہيں کر رہا ہے حضرت ابراہيم نے چاقو سے کہا اے چاقو تم ميرے ساتھ کيوں نہيں ديتے کاٹو اس گلے کو تاکہ ميري قرباني قبول ہوجائے اس وقت چاقو نے کہا  اللہ کے خليل مجھے گلا کاٹنے کا حکم دے رہے ہيں جبکہ اللہ تعالي نہ کاٹنے کاـ
اس قرباني کے بدلے دنبہ آيا  اور يہ سنت آج تک باقي رہي اور کروڑوں مسلمان عيد الاضحي پر قرباني کرتے ہيں اور سنت ابراہيمي کو پورا کرتے ہيں

تحریر: مشتاق حسین حکیمی

 

آجکل میڈیا پر سب سے زیادہ جس موضوع پر بحث و گفتگو ہوتی ہے خاص کر مشرق وسطی میں تو وہ داعش اور اس کے کرتوت ہیں اگرچه داعش کا وجود شام اور عراق میں داخلی کشیدگی کے بعد سے حکومت اسلامی عراق اور شام (جس کو بعد میں اختصار کے طور پر داعش نام دیا گیا) نظر آیا ہے اور بعد میں صرف دولت اسلامی کا نام دیا گیا۔ لیکن اس کی جڑیں بہت پرانی ہیں اور اس کو سلفیت میں ڈھونڈا جاسکتا ہے، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ خود سلفی اور سلفیت کیسے وجود میں آیے؟ اور انکی پیشرفت کے عوامل کیا تھے؟

اکيسويں صدي ميں لوگ يکے پس از ديگرے ستاورں پر اپني کمند ڈالنے کي کوشش کر رہے ہيں مريخ پر انسان بسانے کي کوششيں کر رہے ہيں، اور دوسري طرف ديکھا جائے تو اس ترقي يافتہ دور ميں لوگ پير مرشدوں کي درباروں کا چکر کاٹنے ميں اپنا ٹائم اور اپني پونجي داو پر لگائے بيٹھے ہيں۔
پاکستان کے پرنٹ ميڈيا ہوں يا ديواري ميڈيا گو کہ شہر کي ہر گلي کوچہ ميں ايسے اشتہارات ديکھنے کو ملتے ہيں جس ميں ہر طرح کا کالا جادو، اور مختلف مشکلات کا حل، کاروبار ميں ناکامي، عشق ميں شکست، لا اولاد اور اولاد نرينہ تک کي گارنٹي شدہ نسخوں کے بارے ميں لکھا ہوتا ہے۔
اسي سلسلے کي ايک مختصر جھلک سرگودھا سانحہ ہے جس ميں ايک نام نہاد پير نے 20 لوگوں کو گناہوں سے پاک کرنے کے بہانے موت کے گھاٹ اتار ديا۔