چھاپیے 
مجمع طلاب روندو, جعلي پير مشتاق حسین حکیمی, توبه,

اکيسويں صدي ميں لوگ يکے پس از ديگرے ستاورں پر اپني کمند ڈالنے کي کوشش کر رہے ہيں مريخ پر انسان بسانے کي کوششيں کر رہے ہيں، اور دوسري طرف ديکھا جائے تو اس ترقي يافتہ دور ميں لوگ پير مرشدوں کي درباروں کا چکر کاٹنے ميں اپنا ٹائم اور اپني پونجي داو پر لگائے بيٹھے ہيں۔
پاکستان کے پرنٹ ميڈيا ہوں يا ديواري ميڈيا گو کہ شہر کي ہر گلي کوچہ ميں ايسے اشتہارات ديکھنے کو ملتے ہيں جس ميں ہر طرح کا کالا جادو، اور مختلف مشکلات کا حل، کاروبار ميں ناکامي، عشق ميں شکست، لا اولاد اور اولاد نرينہ تک کي گارنٹي شدہ نسخوں کے بارے ميں لکھا ہوتا ہے۔
اسي سلسلے کي ايک مختصر جھلک سرگودھا سانحہ ہے جس ميں ايک نام نہاد پير نے 20 لوگوں کو گناہوں سے پاک کرنے کے بہانے موت کے گھاٹ اتار ديا۔



ستم بالائے ستم تو يہ ہے کہ جہالت کي وہ انتہا اس سانحے ميں نظر آرہي ہے کہ ڈنڈے مارے جارہے ہيں چھرياں ماري جارہي ہيں اور سہتے جا رہے ہيں۔ وہ بھي فخر کے ساتھ۔
ديکھنا يہ ہے کہ ہمارا سماج آئے دن اس تنزلي کي طرف کيوں جارہا ہے؟ سماج تنزلي کا شکار ہے يا تنزلي کي طرف دھکيلا جارہا ہے اس پر گفتگو کي ضرورت ہے ليکن في الحال اس حوالے سے کچھ کہنا مقصود نہيں ہے۔ اس مختصر تحرير ميں يہ لکھنا مقصود ہے کہ ان جيسے جعلي پيروں کے چنگل ميں کون لوگ پھنستے ہيں؟ کيوں پھنستے ہيں؟ کيسے پھنستے ہيں؟ اور روک تھام کے ليے ہميں کيا کرنا چاہيے؟
معروف مقولہ ہے غرض مند ديوانہ، يا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ جب انسان کسي بھي وجہ سے اپنے آپ کو بے بس سمجھتا ہے تو ہر اس چيز کا سہارا لينے لگتا ہے جس پر ذرہ برابر بھي اميد کي جاسکے۔
غريب انسان جس کے ہاں دال روٹي کا پيسہ نہيں تو وہ بچے کا علاج کسي ہسپتال سے کسي حاذق طبيب کے ذريعے نہيں کرواسکتا ہے، ايک سرمايہ دار جو زندگي بھر اللہ سے غافل رہا ہے تو اب کاروبار ميں شکست کے بعد اللہ سے مانگنے کا سليقہ نہيں آتا کيونکہ اللہ تعالي سے اس کي اب تک کوئي آشنائي نہيں رہي ہے تو اب کيسے در پر جائے بلکہ يوں کہيں تو شايد بہتر ہے اللہ تعالي کے ايڈرس کا بھي علم نہيں تو يوں بھٹکتے ہوئے ايسے جعلي خداوں کے ہاتھوں اسير ہوجاتا ہے۔ يا وہ ناکام عاشق جس نے خالق کي عشق کے بجائے مخلوق کي عشق ميں اسير ہوا ہے تو وہ معشوق حقيقي کو کيسے کہے کہ ميرے فلاں معشوق سے ملادے۔۔۔۔۔۔ گو کہ ہر شخص کا اللہ تعالي سے رابطہ کم ہونے کي وجہ سے اپنے کو اللہ تعالي سے دور سمجھتا ہے اور پير کے دامن ميں سر رکھديتا ہے۔ اور اپنے مشکلات کا حل ايسے لوگوں سے مانگتا ہے جس نے سالہا سال اپنا منہ ہاتھ تک نہيں دھويا ہے، جس کے بدبودار بدن پر تو مکھي بھي بيٹھنے کو تيار نہيں، صرف يہي نہيں بلکہ بعض دفعہ تو مشکلات کے حل کي تلاش ميں عصمتيں لوٹي جاتي ہيں زندگياں برباد ہوتي ہيں۔
ذہني اور فکري غربت ہو ثقافتي فقر ہو يا مالي اور اقتصادي غربت، حديث نبوي «کاد الفقر ان يکون کفرا» يعني فقر کفر کا باعث بن سکتي ہے» اسي فقر کي وجہ سے لوگ ايسے لوگوں کے اسير ہوجاتے ہيں۔
ضرورت اس امر کي ہے کہ سماج سے اس فقر کو ختم کيا جائے مالي فقر سے کہيں زيادہ فکري اور سماجي فقر ہے وگرنہ تو اکثر اوليا‏‏ اللہ فقير تھے جتنے فقير ہوتے تھے اللہ تعالي کے قريب ہوتے جاتے تھے اسي وجہ سے اکثر آج کل کے جعلي پير بھي اپنے آپ کو فقير اور تنگدست دکھاتے ہيں جبکہ کسي دوسرے شہر ميں کوٹھے اور بنگلے يا بينک بيلنس ہوا کرتے ہيں۔
تو اس فکري فقر اور تنگدستي کو ختم کرنے کے ليے معاشرے ميں شعور اور آگاہي مہم چلانا ہوگا اور يہ ممکن نہيں مگر يہ کہ معاشرہ پڑھا لکھا ہو، العلم نور چونکہ علم نور ہے تو جہالت کے سارے پردے اس کے ذريعے چاک ہوسکتے ہيں معاشرے ميں علم کا جتنا رجحان ہوگا اتنا ہي خرافات کم ہونگے البتہ دنيوي تعليم کے ساتھ ساتھ ديني تعليم کي طرف بھي توجہ دينا ہوگا۔ اگر سانحہ سرگودھا کے شکار ہونے والے افراد کو يہ معلوم ہوتا کہ اللہ تعالي کي طرف سے توبہ نامي ايک دروازہ بھي گناہگاروں کے ليے کھلا ہے، اگر انہيں معلوم ہوتا کہ اپنے کئے ہوئے گناہ کو اللہ کے سوا کسي اور کے پاس بتانا گناہ کبيرہ ہے، اگر انہيں پتہ ہوتا کہ قاتل انسان کبھي اللہ تعالي کا مقرب نہيں ہوسکتا، اگر انہيں پتہ ہوتا کہ جو شخص محرم اور نامحرم کے احکام تک سے آشنا نہيں وہ اللہ والا نہيں بن سکتا، اگر انہيں پتہ ہوتا کہ دوسروں کي ناموس پر ہاتھ اٹھانے والا صالح اور نيک نہيں ہوسکتا اگر انہيں پتہ ہوتا کہ ختمي مرتب محمد مصطفي صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم ائمہ معصومين يا خلفا‏ راشدين نے کبھي کسي کے گناہ پاک کرنے کے ليے ايسا اقدام نہيں کيا ہے تو يہ لوگ اس جعلي پير کے اعمال کے خلاف آواز بلند کرتے ليکن دين سے نا آشنائي اور دوري نے ان کو اس حد تک پست کيا کہ اپنے خلاف انجام پانے والي جرائم پر بھي آواز نہ اٹھاسکے۔
دوسري طرف ايسے کام کي روک تھام کے ليے سخت قانون نگاري اور قانوني اقدامات ہيں، شريعت ميں بھي جادو اور سحر حرام ہے ناموس کي توہين، قتل، ضرب و شتم، دھوکہ، فريب، جھوٹ۔۔۔۔۔ يہ سب کبيرہ گناہوں ميں شمار ہوتے ہيں اور ان کي روک تھام حکومت کي ذمہ داري بنتي ہے ہر وہ گناہ جو سماج اور معاشرے کي بگاڑ ميں شريک ہو گورنمنٹ اس پر اپنا پاور استعمال کرسکتي ہے اور کرنا بھي چاہيے۔
ليکن ايسا کچھ ہوتا ہوا بھي نظر نہيں آتا ہے، ہمارے اخبارات ميں کالے جادو اور عاملوں کے اشتہارات ہر روز چھپتے ہيں اور اس کام ميں تو يہ اخبار والے بھي شريک ہيں۔
لہذا اس کي روک تھام کے ليے سخت کاروائي کي ضرورت ہے چونکہ اسي کے ذريعے عصمت دري، لوٹ مار، سٹے بازي، ميچ فيکسنگ،۔۔۔۔۔۔۔ تمام تر برائيوں کي ايک کڑي ان عاملوں اور جادوگروں سے ملتي ہے لہذا ان کوروکنے کے ليے حکومت اپنا پاور استعمال کرے۔
ليکن افسوس کي بات يہ بھي ہے کہ پوليس افيسر اور ايس ايچ او يہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ کسي نے ايف آئي آر درج نہيں کي۔ نہيں معلوم يہ قانون کي کمزوري ہے يا قانون سمجھنے ميں پرابلم ہے وگرنہ حق تو يہ ہے کہ مدني امور ميں بالکل ايسا ہي ہے کہ جب تک کوئي ايف آئي آر درج نہ کرے عدليہ اور حکومت کو حق نہيں پہنچتا ہے کہ وہ خود کوئي اقدام کرے۔ ليکن اگر فردي اور مدني حقوق سے نکل کر جب جرم کي شکل اختيار کرتا ہے اور اس کام سے معاشرہ متاثر ہوتا ہے تو اس صورت ميں گورنمنٹ کي ذمہ داري بنتي ہے کہ وہ خود مدعي بنے اور ايف آئي آر درج کرے۔ کہيں پر کوئي قتل ہوتا ہے تو مدعي کوئي ہو يا نہ ہو اس گورنمنٹ کي ذمہ داري بنتي ہے کہ وہ خود عوام کا نمايندہ بن کر ايف آئي آر درج کرے، يہ کہاں کا انصاف ہے کہ ايک مظلوم شخص کسي ظالم سے ڈر کر يا کسي اور وجہ سے ايف آئي آر درج نہ کرسکے تو پھر گورنمنٹ کي ذمہ داري بھي ساقط ہوجائے اور وہ کيس ہي ختم ہوجائے
يہ بات بالکل بھي غلط ہے کہ گورنمنٹ مدعي اور ايف آئي آر کي منتظر رہے بلکہ ايسے کريمينل کيسزز ميں خود متعلقہ تھانے کي ذمہ داري بنتي ہے وہ ايف آئي آر درج کرے۔ اور قانون ميں ايسا نہيں ہو قانون کي اصلاح ہوني چاہيے تاکہ غريب اور مظلوم شخص کو بھي اس ملک ميں انصاف مل سکے۔
کئي ايسے کيسزز صرف اس بہانے سے سامنے نہيں آئے کيونکہ ايف آئي آر کسي نے درج نہيں کيا۔ لہذا انصاف کا تقاضا ہے کہ معاشرتي برائياں جو معاشرے کو متاثر کرتي ہيں جيسے قتل، زنا، عصمت دري۔۔۔۔۔ ايسي جرائم کے مرتکب اشخاص کے خلاف عدليہ خود ايف آئي آر درج کرے اور جلد از جلد ان مجروموں کو قرار واقعي سزا دے تو آہستہ آہستہ يہ برائياں معاشرے سے کم ہوسکتي ہيں۔

 تحرير: مشتاق حسين حکيمي

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn