جمعہ, 20 ستمبر 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
37
مضامین
420
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
380329

اللہ تعالي کے حکم سے جب خليل الرحمن نے اپنے بيٹے حضرت اسماعيل کو ذبح کرنے کے لئے مني لے گئے اور بيٹے کے گلے پر خنجر رکھ کر گلا کاٹنے لگا ليکن تيز چاقو کام نہيں کر رہا ہے حضرت ابراہيم نے چاقو سے کہا اے چاقو تم ميرے ساتھ کيوں نہيں ديتے کاٹو اس گلے کو تاکہ ميري قرباني قبول ہوجائے اس وقت چاقو نے کہا  اللہ کے خليل مجھے گلا کاٹنے کا حکم دے رہے ہيں جبکہ اللہ تعالي نہ کاٹنے کاـ
اس قرباني کے بدلے دنبہ آيا  اور يہ سنت آج تک باقي رہي اور کروڑوں مسلمان عيد الاضحي پر قرباني کرتے ہيں اور سنت ابراہيمي کو پورا کرتے ہيں


قرباني کا فلسفہ بھي کم از کم اتنا ہے کہ غريبوں کي مدد ہوجائے اور ان کے گھر بھي کبھي گوشت پکے اور اسي قرباني کے بہانے رشتہ دار ايک دوسرے کے ہاں جائيں اور صلہ رحمي انجام پائے اور ايک دوسروں سے محبت اور الفت بڑھ جائےـ
ليکن
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل اس سنت حسنہ کا چہرہ بگڑتا جارہا ہے آئے دن اس ميں خرافات کا اضافہ کيا جاتا ہےـ جس جانور کي قرباني کو غريبوں کي تسکين قرار ديا تھا وہ آج کل غربيوں کے دل پر خنجر ہے کيونکہ دن ميں کئي ايسے جانور جو ايک ہفتہ يا دس دن بعد قرباني ہونے ہيں انہيں غريبوں کے دروازے سے گزارے جاتے ہيں اور اسطرح سے زينت کئے گئے ہيں کہ غريب کبھي اپنے بچے کو نہيں کرسکا ہےـ
جس قرباني کو صلہ رحمي کا سبب قرار ديا تھا آج رشتہ دار طبقاتي اختلاف کي وجہ سے سب برابر کي قرباني تو نہيں کرسکتے ہيں اس وجہ سے يا تو قرضے کر کے دوسرے کے برابر کي قرباني لاکر دکھانا ہوگا يا رشتہ داروں سے رابطہ کاٹنا ہوگا!
دوسري بات يہ ہے کہ قرباني اسلامي اقدار ميں سے ہے اور اسلامي احکام کے مطابق اس کي رعايت ہوني چاہيے اور اسے منانا چاہيے اپني من پسند چيزوں کو اس ميں نہيں ملانا چاہيے، اور اسلام ميں تو نيکي اور خيرات کو چھپا کر کرنے کي تاکيد ہوئي ہے اور دکھاوے کي چيزيں اسلام ميں قبول نہيں ليکن آجکل قرباني فخرفروشي اور اپني برتري اور مالداري دکھانے اور رياکاري کا سبب بني ہے اور ريا کا کوئي بھي نيک عمل قبول نہيں ہے ان اعمال ميں سے ايک قرباني ہے جسے آجکل دکھاوے اور اپني برتري ثابت کرنے کے ليے کي جاتي ہےـ اور رياکاري کي انتہائي حد تک پہنچي ہےـ
يہ کہاں کا انصاف ہے کہ کئي دنوں سے اس جانور کو نہلا دھلا کر زينت کر کے اس طرح سے پھرايا جائے اور ڈھنڈورا پيٹا جائے کہ ميں قرباني کر رہا ہوں اور وہ بھي اتنے من کا بيل!! يہ اسلامي تعليمات کي روشني ميں رياکاري ہے اور رياکاري کا اسلام سے دور کا بھي واسطہ نہيں ہےـ جب ہم اپنے اس انا اور اس غرور کو نہيں مارسکتے ہيں اور اگر قرباني کو جس طرح سے اميرالمومنين علي عليہ السلام رات کي تاريکي ميں اپنا چہرہ چھپا کر مستحقوں تک مالي امداد پہنچاتے تھے، اس طرح نہ ہو بلکہ پوري دنيا کو پتہ چلانے کے بعد قرباني کريں تو يہ قرباني، جانور يا اپني انا کي نہيں، اسلامي اقدار پر قرباني نہيں، ابراہيم کي سنت نہيں بلکہ اسلامي اقدار کي قرباني ہے، اپنے وسومات کي بجا آوري!
اس سے بھي عجيب حرکت تو يہ ہے کہ بعض عورتيں قرباني کے جانور کو تزيين کرکے اس کو بھرے مجمعے لاکر خود رقص کريں اور ديندار معاشرے کے مسلمان مزے لے ليں اور وہ رقاصہ داد ليتي رہےـ اس قرباني کو آپ کيا نام دينگے، ميرے قلم ميں اس کے ليے کسي قسم کے عنوان کے انتخاب کرنے کي طاقت نہيں بس يہ نہ تو اسلام ہے اور نہ ہي قرباني بلکہ بے ديني اور لاديني ہےـ
خدارا! قرباني کو قرباني رہنے ديں، رياکاري کرتے ہوئے قرباني کرنے سے نہ کرنا بہتر ہے چونکہ جس مقصد کے حصول کے ليے قرباني کي جاتي تھي اب وہ مقصد مدنظر نہيں تو اپنے مال کا ضياع کے سوا کچھ نہيں ملے گا، بلکہ کسي ہمسايہ اور غريب کي دل آزاري ہوجائے تو مال کے ضياع کے علاوہ يہ گناہ بھي ساتھ ميں شامل ہوگاـ
قرباني حضرت ابراہيم کي سنت ہے اس کو اسي طرح سے انجام ديں، شيطاني حرکات اور شيطاني امور کو اس ميں شامل نہ کريں اور يہي قرباني ہے جو حضرت اسماعيل عليہ السلام کي ياد ميں منايي جاتي ہےـ

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn