چھاپیے 
مجمع طلاب روندو, مشتاق حسین حکیمی, قرباني,

اللہ تعالي کے حکم سے جب خليل الرحمن نے اپنے بيٹے حضرت اسماعيل کو ذبح کرنے کے لئے مني لے گئے اور بيٹے کے گلے پر خنجر رکھ کر گلا کاٹنے لگا ليکن تيز چاقو کام نہيں کر رہا ہے حضرت ابراہيم نے چاقو سے کہا اے چاقو تم ميرے ساتھ کيوں نہيں ديتے کاٹو اس گلے کو تاکہ ميري قرباني قبول ہوجائے اس وقت چاقو نے کہا  اللہ کے خليل مجھے گلا کاٹنے کا حکم دے رہے ہيں جبکہ اللہ تعالي نہ کاٹنے کاـ
اس قرباني کے بدلے دنبہ آيا  اور يہ سنت آج تک باقي رہي اور کروڑوں مسلمان عيد الاضحي پر قرباني کرتے ہيں اور سنت ابراہيمي کو پورا کرتے ہيں


قرباني کا فلسفہ بھي کم از کم اتنا ہے کہ غريبوں کي مدد ہوجائے اور ان کے گھر بھي کبھي گوشت پکے اور اسي قرباني کے بہانے رشتہ دار ايک دوسرے کے ہاں جائيں اور صلہ رحمي انجام پائے اور ايک دوسروں سے محبت اور الفت بڑھ جائےـ
ليکن
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل اس سنت حسنہ کا چہرہ بگڑتا جارہا ہے آئے دن اس ميں خرافات کا اضافہ کيا جاتا ہےـ جس جانور کي قرباني کو غريبوں کي تسکين قرار ديا تھا وہ آج کل غربيوں کے دل پر خنجر ہے کيونکہ دن ميں کئي ايسے جانور جو ايک ہفتہ يا دس دن بعد قرباني ہونے ہيں انہيں غريبوں کے دروازے سے گزارے جاتے ہيں اور اسطرح سے زينت کئے گئے ہيں کہ غريب کبھي اپنے بچے کو نہيں کرسکا ہےـ
جس قرباني کو صلہ رحمي کا سبب قرار ديا تھا آج رشتہ دار طبقاتي اختلاف کي وجہ سے سب برابر کي قرباني تو نہيں کرسکتے ہيں اس وجہ سے يا تو قرضے کر کے دوسرے کے برابر کي قرباني لاکر دکھانا ہوگا يا رشتہ داروں سے رابطہ کاٹنا ہوگا!
دوسري بات يہ ہے کہ قرباني اسلامي اقدار ميں سے ہے اور اسلامي احکام کے مطابق اس کي رعايت ہوني چاہيے اور اسے منانا چاہيے اپني من پسند چيزوں کو اس ميں نہيں ملانا چاہيے، اور اسلام ميں تو نيکي اور خيرات کو چھپا کر کرنے کي تاکيد ہوئي ہے اور دکھاوے کي چيزيں اسلام ميں قبول نہيں ليکن آجکل قرباني فخرفروشي اور اپني برتري اور مالداري دکھانے اور رياکاري کا سبب بني ہے اور ريا کا کوئي بھي نيک عمل قبول نہيں ہے ان اعمال ميں سے ايک قرباني ہے جسے آجکل دکھاوے اور اپني برتري ثابت کرنے کے ليے کي جاتي ہےـ اور رياکاري کي انتہائي حد تک پہنچي ہےـ
يہ کہاں کا انصاف ہے کہ کئي دنوں سے اس جانور کو نہلا دھلا کر زينت کر کے اس طرح سے پھرايا جائے اور ڈھنڈورا پيٹا جائے کہ ميں قرباني کر رہا ہوں اور وہ بھي اتنے من کا بيل!! يہ اسلامي تعليمات کي روشني ميں رياکاري ہے اور رياکاري کا اسلام سے دور کا بھي واسطہ نہيں ہےـ جب ہم اپنے اس انا اور اس غرور کو نہيں مارسکتے ہيں اور اگر قرباني کو جس طرح سے اميرالمومنين علي عليہ السلام رات کي تاريکي ميں اپنا چہرہ چھپا کر مستحقوں تک مالي امداد پہنچاتے تھے، اس طرح نہ ہو بلکہ پوري دنيا کو پتہ چلانے کے بعد قرباني کريں تو يہ قرباني، جانور يا اپني انا کي نہيں، اسلامي اقدار پر قرباني نہيں، ابراہيم کي سنت نہيں بلکہ اسلامي اقدار کي قرباني ہے، اپنے وسومات کي بجا آوري!
اس سے بھي عجيب حرکت تو يہ ہے کہ بعض عورتيں قرباني کے جانور کو تزيين کرکے اس کو بھرے مجمعے لاکر خود رقص کريں اور ديندار معاشرے کے مسلمان مزے لے ليں اور وہ رقاصہ داد ليتي رہےـ اس قرباني کو آپ کيا نام دينگے، ميرے قلم ميں اس کے ليے کسي قسم کے عنوان کے انتخاب کرنے کي طاقت نہيں بس يہ نہ تو اسلام ہے اور نہ ہي قرباني بلکہ بے ديني اور لاديني ہےـ
خدارا! قرباني کو قرباني رہنے ديں، رياکاري کرتے ہوئے قرباني کرنے سے نہ کرنا بہتر ہے چونکہ جس مقصد کے حصول کے ليے قرباني کي جاتي تھي اب وہ مقصد مدنظر نہيں تو اپنے مال کا ضياع کے سوا کچھ نہيں ملے گا، بلکہ کسي ہمسايہ اور غريب کي دل آزاري ہوجائے تو مال کے ضياع کے علاوہ يہ گناہ بھي ساتھ ميں شامل ہوگاـ
قرباني حضرت ابراہيم کي سنت ہے اس کو اسي طرح سے انجام ديں، شيطاني حرکات اور شيطاني امور کو اس ميں شامل نہ کريں اور يہي قرباني ہے جو حضرت اسماعيل عليہ السلام کي ياد ميں منايي جاتي ہےـ

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn