جمعہ, 20 ستمبر 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
37
مضامین
420
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
380300

تحریر: مشتاق حسین حکیمی

 

آجکل میڈیا پر سب سے زیادہ جس موضوع پر بحث و گفتگو ہوتی ہے خاص کر مشرق وسطی میں تو وہ داعش اور اس کے کرتوت ہیں اگرچه داعش کا وجود شام اور عراق میں داخلی کشیدگی کے بعد سے حکومت اسلامی عراق اور شام (جس کو بعد میں اختصار کے طور پر داعش نام دیا گیا) نظر آیا ہے اور بعد میں صرف دولت اسلامی کا نام دیا گیا۔ لیکن اس کی جڑیں بہت پرانی ہیں اور اس کو سلفیت میں ڈھونڈا جاسکتا ہے، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ خود سلفی اور سلفیت کیسے وجود میں آیے؟ اور انکی پیشرفت کے عوامل کیا تھے؟


پہلی بار اہل سنت کے امام احمد ابن حنبل جو کہ چار اماموں میں سے ایک ہیں کی طرف سے سلفی نظریہ دیا گیا جو کہ دیگر تین امام؛ ابو حنیفہ، شافعی اور مالک کے بر خلاف تھا
241 ہجری میں احمد ابن حنبل کی وفات کے بعد جنبلی پیروکاروں نے اس نہج کو استمرار بخشا اور بنی عباس کے دور میں اپنے عقاید اور احکام تک میں سلیفت کی خوب ترویج کی۔ یاد رہے کہ سلفی اپنے آپ کو اہل حدیث بھی کہتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ چلتا چلتا ابن تیمیہ تک پہنچا اور اب تک سلفیت مذہب کے نام سے مشہور نہ تھا لیکن ابن تیمیہ (متوفی 728 ہجری) نے سلف کو اپنی مذہبی پہچان قرار دیا لیکن پھر بھی سلف کی اصطلاح کو استعمال نہیں کیا جاتا تھا بلکہ کہا کرتا تھا کہ ہم ان اہل سنت والجماعت کے پیروکار ہیں جو اسلام کی پہلی تین صدیوں میں بسا کرتے تھے۔ (یعنی پہلی ہجری کے گیارواں سال سے 300 ہجری تک) ابن تیمیہ کے مرنے کے بعد اہل سنت کے دیگر تین مکاتب فکر کے علما کی طرف سے انکے خلاف نقد اور تنقید کی وجہ سے سلفیت کم رونق ہو‎ئی اور زوال کی طرف جانے لگی۔ لیکن چند سالوں کے بعد محمد بن عبد الوہاب (متوفی 1207 ہجری) نے نجد کی سرزمین پر جو کہ اسلامی نقافت اور علما کرام سے خالی تھی، اس تحریک کو دوبارہ احیا کیا اور پھر بعد میں آل سعود کے تعاون سے نجد میں رسمی مذہب بن کر ابھرا اور برطانیہ کی شیطانی سازشوں کے تحت حرمین شریفین پر قبضہ ہوا اور وہی سے اس نظریہ سلفیت کی پرچار کی گیی اور تمام علمی، دینی مراکز، مساجد اور وعظ و خطبہ میں اس کو رسمیت بخشا۔
پہلی مرتبہ سلفیت کا نعرہ دانشوروں کی تحقیق کے مطابق مصر کی مطبوعات میں شروع ہوا جب مصر پر برطانیہ کا کنٹرول ہوا اور اسلامی کلچر کی پامالی ہو‌‎ئی تو سید جمال الدین افغانی یا محمد عبدو نے مغربی کلچر کے خلاف تحریک شروع کی اور انہوں نے یہ سوچ کہ اس ثقافتی یلغار سے نجات فقط اسی میں ہے لوگوں کو ابتدا‎ئی صدیوں کے واقعی مسلمانوں کی پیروی کرنے کی دعوت دی جا‌ۓ اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنا شعار کو سلفیہ قرار دیا لیکن ان کا مقصد بالکل بھی یہ نہیں تھا کہ تکفیری مکتب یا سلفی مکتب تشکیل دے اور اس کی ترویج  ہوجا‎ئے۔ 1929 عیسوی کو مصر میں اخوان المسلمین تشکیل ہو‎ئی اور یہ لوگ سوچتے تھے کہ ہماری نجات اسی میں ہے کہ ہم صحابہ کرام اورتابعین کی اتباع میں رہیں۔
لیکن جو سلفیت نجد میں تشکیل ہو‎ئی تھی اور جو محمد بن عبد الوہاب کو وارث ٹھہرا‌‌‎ئے جاتے تھے افراط و تفریط کا شکار ہونے لگے اور آہستہ آہستہ اپنے سوا باقی تمام مسلمانوں کو تکفیر کرنے پر اتر آیے۔ شیعوں کو کافر کہا اور صوفیہ، اشاعرہ اور دیگر مذاہب کو اہل بدعت کہنے لگے۔ اور کہنے لگے کہ حقیقی اسلام ان سلف صالحین کے ہاں ہے جنکی ہمیں اتباع کرنی چاہیے اور قرآن و سنت سے جو کچھ سمجھ میں آجایے سب کے لیے حجت ہے اور جس نے اس راستے سے عدول کیا اسلام سے خارج اور بدعتی ہے۔
سلفی تفکر رکھنے والے خود دو گروہ ہیں
پہلا گروہ غیر تکفیری سلفی؛ اس گروہ میں تین قسم کے گروہ ہیں سیاسی جیسے اخوان المسلمین، تبلیغی جیسے جمال الدین افغانی اورمحمد عبدہ اور جہادی جیسے حماس اور جہاد اسلامی
دوسرا گروہ تکفیری سلفی: اس میں بھی تین گروہ ہیں تبلیغی؛ جو مصر اور شمالی آفریقا میں ہیں اور سیاسی جیسے خلیجی ممالک خاص کر سعودی عرب، اور جہادی جیسے القاعدہ، طالبان اور داعش وغیرہ۔ ہم نے ان سب گروہوں کی وضاحت کرنا مقصود نہیں بلکہ داعش کے بارے میں مختصر کچھ اطلاعات فراہم کرنے ہیں جس کے لیے تکفیری سلفی تفکر کی کچھ وضاحت اور اس کے اصولوں کی طرف اشارہ کرنا ناگزیر ہوتا ہے اس لیے مختصر تکفیر تفکر پر روشنی ‎ڈالتے ہیں۔
سلفی تکفیر تفکر جیسے پاکستان میں تحریک طالبان، عراق و شام میں داعش، بر اعظم افریقہ میں بوکو حرام اور الشباب وغیرہ ہیں اور اس تفکر کی بنیادیں اور تعلیمات کی پروان پاکستان، سعود عرب، دیگر کچھ خلیجی ممالک کے مدارس میں چڑھی۔ ان تمام تنظیموں کا محور تکفیر اور جہاد ہے اور اس تفکر کا سب سے بڑا پلیٹ فارم دنیا میں القاعدہ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس تفکر کو عملی ‎ڈھانچے میں لانے کا سلسلہ کچھ یوں ہے کہ 1930 عیسوی کی دھایی میں پہلی جنگ عظیم کے قریب عثمانی خلافت کا سلسلہ زوال پذیر ہوا اور آل سعود برطانیہ کی پالیسوں کے نتیجے میں جزیرہ العرب کے اکثر علاقوں پر قابض ہو‎ئے اور سعودی عرب کی حکومت کو تشکیل دیا اور نجد کے علاوہ حجاز اور جزیرہ عرب کے جنوب پر بھی قابض ہوا اسطرح سے سلفی تفکر کر مبتنی ایک حکومت اسلام کی مقدس ترین سرزمین پر وجود میں آیی اور 1930 کی دہا‎ئی میں مکہ اور مدینہ پر قابض ہویے اور اس طرح سے اسلامی سرمایہ خاص کر حج اور عمرہ کی پاک درآمد کو سلفی تفکر کی ترویج پر لگا دیا اور 80 سال کے اندر اس تفکر کو تقریبا ساری دنیا تک پہنچا دیا اور اب یہ عقیدہ صرف اہل حدیث اور حنبلیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اہل سنت کے دیگر مکاتب فکر تک بھی سرایت کر گیا۔
اس تفکر کی ترویج کے لیے مساجد اور مدارس کے علاوہ تین مذہبی یونیورسیٹیاں بھی مکہ، مدینہ اور ریاض میں بنی اور مختلف ممالک سے اسکالرشپ پر سلفی طالبعلموں کو داخلہ دیا جاتا ہے جو بعد میں فارغ ہونے کے بعد اس تفکر کو ساری دینا میں پہنچانے کا بہترین وسیلہ بن جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی سعودی عرب کی طرف سے مختلف علمی اور دینی مراکز تاسیس کیے گیے اور ان مراکز کا اصل ہدف بھی سلفیت کی ترویج اور اہل سنت کو اپنے کنٹرول میں لینا ہے۔
تکفیری سلفیوں کے اصولوں میں سے اہم ترین اصول درج ذیل ہیں۔
1۔  اسلامی حکومت کا قیام
سب کا مشترکہ اوراصل ہدف یہ ہے کہ اسلامی حکومت قایم ہو گرچہ اس ہدف تک پہنچنے میں تکنیک اور طریقے مختلف ہوں اور خلافت کا سیسٹم ہدف غا‎ئی کہلاتا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ دنیا میں ایک ہی حکومت ہو جسے اسلامی حکومت کہا جایےاور دیگر سیاسی پارٹیوں اور گروہوں کے لیے اس میں کسی بھی قسم کی گنجا‌‎ئش نہیں ہے۔
2۔ تکفیر
تکفیری سلفیوں کے اصولوں میں دوسرا اصل تکفیر ہے تکفیر کے معنی کسی کو کافر قرار دینا ہے اور اس اصطلاح کو زمان اور مکان کے تقاضوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے اور ہر وہ شخص جو انکی تفکر کی پیروی نہ کرے انہیں کافر، مشرک اور منافق کی اصطلاح سے نوازتے اور اپنے سے دور کرتے ہیں اور اسطرح سے یہودی اور عیسا‌‎ئیوں کو کافر شیعوں کو مشرک اور وہ اہل سنت برادری جو بہت بڑی تعداد میں ہیں اور سلفیوں کی اتباع نہیں کرتے اور انکے تفکر کے مخالف ہیں انہیں منافق قرار دیتے ہیں۔
اس تکفیر کی اصطلاح سے سلفیوں نے اپنے ہر مخالف کو ہٹانے کیلیے خوب استعمال کیا اور تکفیر کے بعد فقہ کی رو سے استدلال کرتے ہو‎ئے کافر کو قتل کرنے اور ان کے خلاف جہاد کرنے کیلیے آیات جہاد سے استفادہ کیا اور ہر کس و ناکس کے لیے دوسروں کی جان اور مال کے خلاف تجاوزات کے لیے راہ ہموار کر دیا جبکہ فقہ امامیہ کا طرہ امتیاز یہ رہا ہے کہ گرچہ آیات جہاد قرآن مجید میں موجود ہیں لیکن جہاد کا زمان و مکان ولی فقیہ تعیین کرتا ہے اور ہر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ جب جی چاہے ان آیات مجیدہ پر عمل پیرا ہوں اسی طرح سے حد اور قصاص جاری کرنے کیلیے بھی شیعہ فقہ میں ہر کسی کو یہ اجازت نہیں بلکہ ولی فقیہ کی سرپرستی میں حکومت اسلامی حدود جاری کرے گی۔ اس سے ہر قسم کا سوء تفاہم ختم ہوجاتا ہے اور قرآن کا اردو ترجمہ دیکھ کر ہر شخص اپنے ذھن والا اسلام نافذ کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اسلام شناسی کے ماہرین یعنی مجتہد اور ولی فقیہ کا منتظر رہتا ہے کہ اس آیت سے وہ کیا سمجھے ہیں اور کیسے اس پر عمل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اور جہان اسلام کی بنیادی مشکل جس سے مسلمان دوچار ہیں یہی قرآن کا نہ سمجھ کر احکامات الہی جاری کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
سب سے پہلے اسلام کو سمجھیں اور اس کے تناظر میں ہمیں مسلمان کی پہچان ضروری ہے اگر ہم نے اسلام کو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنا قرار دیا تو پھر ہر وہ شخص جو اس عقیدے کو ماننے والا ہوگا بھلا جس مذہب سے بھی اسکا تعلق ہو وہ مسلمان کہلاتا ہے اور پھر اس کی تکفیر کیسے ہوگی۔
3۔ جہاد
تکفیری سلفیوں کے اصولوں میں سب سے اہم اصل جہاد ہے جو کہ تکفیروں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور تمام جہادی گروہ جہاد پر بہت تاکید کرتے ہیں البتہ شریعت اسلامی میں حق اور باطل، ایمان اور کفرکی جنگ ایک لامتغیر اصل ہے۔
عربی زبان میں جہاد سعی و کوشش کو کہا جاتا ہے جسطرح سے ہماری اردو زبان میں جد و جہد کا لفظ ہے یہ اسی جہاد سے لیا گیا ہے اور انسانی زندگی کی ترقی میں ہر طرح کی کوشش کو جہاد کہا جاتا ہے اور احادیث کی روشنی میں دشمن سے لڑنے کو جہاد اصغر اور اپنی نفسانی خواہشات پر کنٹرول کرنے کو جہاد اکبر کہا گیا ہے تو اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جہاد سے مراد سعی و کوشش ہے اور اسلام میں اس لفظ کو ایک خاص زینت ملی اور حق و باطل کے مابین نبردآزمایی کو جہاد نام دیا گیا۔ اور جہاد یا ابتدا‎ئی ہے جس میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یا ا‎ئمہ معصومین علیہم السلام کسی کے خلاف لڑنے کا حکم دے جبکہ تاریخ اسلام میں یہ بات ثابت ہے کہ کبھی بھی پیامبر اکرم نے خود سے ابتدا‎ئی طور پر حملہ نہیں کیا ہے بلکہ غزوات النبی جہاد دفاعی ہیں جو کہ جہاد کی دوسری قسم ہے یعنی دشمن اگر اسلام کی سرزمین کے حدود کی پامالی کرنا چاہے اور حملہ آور ہوجا‌‎ئے تو اسوقت ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اسلامی حد و مرز اور سرحدوں کی دفاع کرے اس دفاع کو جہاد دفاعی کہا جاتا ہے۔ اور اسلامی شریعت میں جہاد فروع دین میں شما ہوتا ہے اور ایک فقہی حکم کہلاتا ہے۔
لیکن تکفیری تفکر میں جو جہاد پا‎ئی جاتی ہے وہ اس سے کچھ متفاوت ہے وہ جہاد کو ایک فرعی حکم سے بڑھا کر اصول دین کے برابر کی اہمیت دیتے ہیں جس کی بنا پر ان کا یہ عقیدہ بنا کہ دین اور خدا کے دشمنوں کو قتل کرنا انکے خلاف لڑنا ایک ضروری امر ہے  اور وہ لوگ آیات جہاد کو کسی بھی شخص کے خلاف ہر طرح کی خشونت کا نام ہے اور اسے جہاد فی سبیل اللہ کہلاتے ہیں۔ اور اسطرح سے دہشتگردی اس عقیدہ کے اندر نفوذ کر گیا ہے۔
اس بنا پر وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسلامی ممالک کے فاسد حکمران، سکیولر اور کمیونسٹ پارٹیوں کے سربراہ، مسیحیت کو ترویج دینے والے راہب  ۔۔۔ یہودی، امریکی، شیعہ اور اہل سنت کے وہ لوگ جو انکے عقا‎ئد کے مخالف ہیں جیسے پاکستان میں بریلوی برادران ہیں ان سب کو قتل کے مستحق  اور انکے خلاف جہاد کو  فرض سمجھتے ہیں لیکن ہر گروہ کی ترجیحات مختلف ہوسکتی ہیں کہ کس کے خلاف جہاد کیا جا‎ئے یا کس سے شروع کیا جا‎ئے۔
یہاں تک سلفیت کے  فکری اصول کے بارے میں مختصر مطالب ذکر ہویے جو کہ داعش کو وجود میں آنے کا اصلی عنصر کہلاتا ہے اب داعش کے بارے میں مختصر مطالب پیش کیے جاتے ہیں۔
داعش کون؟
داعش ایک تکفیر گروہ جو ابوبکر البغدادی کی سرپرستی میں کام کرتا ہے اور داعش ایک مخفف کلمہ ہے جو «الدولۂ الاسلامیہ فی عراق و الشام» کا مخفف ہے یعنی عراق اور سوریہ میں حکومت اسلامی اور اب اس نام کو تبدیل کر کے الدولۂ الاسلامیۂ» یعنی حکومت اسلامی نام رکھا ہے اور جو بھی داعش سے پکارے اس کو پچھتر کوڈوں کی سزا دی جاتی ہے۔
داعش کی ابتدا
20 مارچ 2003 کو امریکہ نے جب عراق پر حملہ کیا اسی وقت ایک گروہ الجماعۂ التوحید کے نام سے ابومصعف زرقاوی کی سربراہی امریکہ کے خلاف لڑنے کے لیے تشکیل پایا اور یہ عراق میں اہل سنت کا پہلا مسلح گروہ تھا اور ایک سلفی تفکر کے ساتھ یہ گروہ تشکیل پایا اور عراق میں تکفیری تفکر کے بانی شیخ ابو انس الشامی نے اس گروہ کو اور پروان چڑھایا اور زرقاوی کے شانہ بشانہ شیخ ابو انس نے مختلف پمفلیٹ کے ذریعے خلافت اسلامی کی تشکیل کا نظریہ دیا اور زرقاوی کے ہمرزموں میں یہ عقیدہ راسخ کرایا۔
اس گروپ کے ناپاک کارناموں میں عراق کے بے گناہ مسلمانوں کا بہیمانہ قتل بالخصوص شہید محراب آیت اللہ محمد باقر الحکیم تھا۔
16 ستمبر 2004 کو شیخ ابو انس شامی امریکہ کی ایک بمباری میں ہلاک ہوا جبکہ اس وقت وہ اسامہ بن لادن سے مذاکرات کر رہا تھا اور القاعدہ سے ملحق ہونا چاہ رہا تھا۔
17 اکتوبر 2004 کو زرقاوی نے اسامہ بن لادن کی بعیت کی اور اپنے گروپ کا نام تبدیل کر کے « تنظیم قاعدہ الجہاد فی بلاد الرافدین» رکھا۔
جون 2006 میں زرقاوی بھی ہلاک ہوگیا اور ابوحمزہ المہاجر کو نیا سربراہ انتخاب کیا ایک مہینہ بعد اس نے گروہ کو منحل کردیا اور ایک اور گروہ « حکومت اسلامی عراق» کے نام سے ابو عمر بغدادی کی سرپرستی میں تشکیل دیا اور خود انکا جانشین بن گیا۔
اپریل 2010 کو ابو عمر البغدادی اور اس کا جانشین المہاجر دونوں امریکہ کے ہاتھوں قتل ہویے تو اسامہ بن لادن نے فی الفور ابوبکر البغدای کو گروہ کا نیا رہبر انتخاب کیا جو امریکہ کے جیل سے حال ہی میں آزاد ہوا تھا،
اکتوبر 2013 کو ابوبکر البغدادی نے ایک آڈیو کلیپ کے ذریعے جبھہ النصرۂ اور حکومت اسلامی عراق کو ملا کر « الدولۂ الاسلامیۂ فی عراق و الشام» تشکیل دیا جو بعد میں میڈیا میں داعش کے نام سے معروف ہوگیا۔ گرچہ القاعدہ نے مخالف کی لیکن ابوبکر البغدادی نے عراق کے شہر فلوجہ اور الرمادی کو اپنے کنٹرول میں لیا اور جنوری 2014 میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ عراق کے بہت سارے علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لینے کے بعد ابوبکر البغدادی کو خلیفہ معرفی کیا اور حکومت کا نام بھی تبدیل کر کے « الدولۂ الاسلامیۂ» یعنی اسلامی حکومت رکھا۔

داعش کا سربراہ ابوبکر البغدادی ہے اور اس کے دو نا‎ئب ہیں  اور ایک چار رکنی نظامی کونسل، گیارہ رکنی مجلس مشاورت، تین رکن پر مشتمل شرعی کونسل، چار رکنی سکیورٹی کونسل، اور ہر صوبوں کے گورنر اور ایک ترجمان پر مشتمل ہے  اس پورے سیسٹم کا اختیار عزل و نصب کا دارو مدار ابو بکر البغدادی کے فیصلے پر ہے وہ جو چاہے وہی حرف آخر شمار ہوگا
اس کے علاوہ بھی داعش سے متعلق بہت سارے مطالب ہیں جو اس تحریر کے اختصار کی وجہ سے بیان سے قاصر ہیں۔

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn