جمعرات, 14 نومبر 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
39
مضامین
428
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
402853

 حکومت اور علما کا مدارس کی رجسٹریشن سمیت متعدد معاملات پر پہلے ہی کشیدگی کا شکار تعلق مختلف بینکوں میں 200 سے زائد غیر رجسٹرڈ مدارس کے اکاؤنٹس کے منجمد کئے جانے کے بعد مزید سنگین ہو گیا ہے۔ ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بینکوں نے یہ قدم اسٹیٹ بینک کی ہدایات کی روشنی میں اٹھایا ہے جو اس نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت کی اختیار کردہ پالیسی کے سلسلے میں مدارس کے مالی ذرائع معلوم کرنے کیلیے جاری کی ہیں تاکہ دہشت گردوں کی فنڈنگ روکی جا سکے۔ مرکزی بینک کے حکم پر فوری عمل کرتے ہوئے تمام بینکوں نے مدارس کے نئے اکاؤنٹس کھولنے کا سلسلہ بند کر دیا ہے تاوقتیکہ وہ وزارت مذہبی امور کے متعارف کردہ نئے ضوابط کے تحت رجسٹریشن نہیں کرا لیتے۔

وزارت داخلہ کے ایک افسر نے رازداری کی شرط پر بتایا کہ مدارس کے مالی ذرائع بتانے اور نئے میکنزم کے تحت رجسٹریشن سے انکار نے نئی پالیسی کے تحت ان کے اکاؤنٹس کی نگرانی کرنے کا ہمارا کام پیچیدہ بنا دیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کی نہایت اہم شق کے تحت ملک بھر میں 5 ملین روپے کے حامل 211 مشکوک کھاتوں کو منجمد کیا گیا ہے جن میں سے اکثر اکاؤنٹس مدارس کیلیے کام کرنے والے افراد کے ہیں۔ اس دوران 32 ایسے مدارس کو بھی سیل کیا گیا جن کے بارے میں شبہ تھا کہ انھیں غیر ملکی فنڈ ملتے ہیں۔ منجمد اکاؤنٹس، نئے اکاؤنٹس نہ کھلوانے اور مدارس کی رجسٹریشن جیسے مسائل حل کرنے کیلیے تمام 5 مکاتب فکر کے نمائندوں نے وزیر مذہبی امور سردار یوسف، سینئر صوبائی افسران اور وزارت داخلہ کے ذمے داران سے گزشتہ ہفتے ملاقات کی لیکن کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچا جا سکا۔

وفاق المدارس کے ترجمان عبدالقدوس محمدی نے بتایا کہ ایک پرائیویٹ بینک نے 7 ماہ چکر لگوانے کے بعد میرے مدرسے کا اکاؤنٹ کھولنے سے انکار کر دیا حالانکہ میرا مدرسہ رجسٹرڈ ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اگر حکومت مدرسوں کو ان کے ناموں سے اکاؤنٹ کھولنے دے تو مالی ذرائع تک پہنچنا آسان ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں اتحاد تنظیمات المدارس پاکستان کا ایک وفد جلد گورنر اسٹیٹ بینک سے ملاقات کرے گا۔ مسئلہ حل نہ ہوا تو مدارس اپنے نمائندوں کے کھولے ہوئے انفرادی اکاؤنٹس کے ذریعے لین دین کا موجودہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔

اسٹیٹ بینک کے مرکزی ترجمان عابد قمر کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی شرائط و ضوابط پوری کرنے اور ضروری معلومات مہیا کرنیوالے کسی بھی شخص یا ادارے پر کسی بھی بینک میں نیا اکاؤنٹ کھولنے پر کوئی پابندی نہیں اور اس سلسلے میں ہماری پالیسی شفاف ہے۔ اسلام آباد کے ایک نجی بینک کے سینئر منیجر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ مدارس کے نمائندے عموماً اکاؤنٹ کے سلسلے میں بنیادی معلومات مثلاً فنڈز کے ذرائع، اثاثوں کی تفصیل، گاڑیوں کی تعداد اور دیگر ضروری تفصیلات فراہم نہیں کرتے جو ان کے اکاؤنٹ کھولے جانے میں رکاوٹ بنتا ہے جبکہ ہمیں کسی بھی مشکوک کام سے سختی سے گریز کا حکم ہے۔

 

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn