بدھ, 17 جولائی 2019

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
35
مضامین
416
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
350811

 

اسلام آباد(غلام عباس سے)دیامر بھاشا ڈیم کے آدھے بجلی گھروں کو خیبرپختونخواہ سے گلگت بلتستان کے علاقے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جب دیامر بھاشا ڈیم کی فزیبلٹی تیار کی جا رہی تھی تو اس وقت صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے بعض بااثر افسروں اور سیاستدانوں کی ایماءپر تمام بجلی گھر صوبہ سرحد کے علاقے میں تعمیرکرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ ڈیم دیامر کے علاقے میں تعمیر کیا جانا تھا اس طرح زمینیں دیامر کی ڈوب رہی تھیں جبکہ بجلی گھروں کی تمام تر رائیلٹی صوبہ خیبرپختونخواہ کو دینے کا انتظام کیا گیا اس ظالمانہ اقدام پر گلگت بلتستان کے عوام نے زبردست احتجاج کیا۔ ذرائع کے مطابق ڈیم کی رائیلٹی کے حوالے سے گلگت بلتستان کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو ختم کرنے کیلئے بعض بجلی گھروں کو صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقے سے گلگت بلتستان کے علاقے میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں رائیلٹی کا تھوڑا بہت حصہ گلگت بلتستان کو ملے گا۔دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر اور اس کی خاطر زمین کے حصول سے متعلق اُمور کا جائزہ لینے کے لیے وزارتی کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر برائے اُمورکشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمد برجیس طاہر کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر اُمور کشمیر کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات پرویزرشید،وفاقی وزیر پلانگ احسن اقبال ، وفاقی وزیر برائے بین الاقوامی الصوبائی اُمور ریاض حسین پیر زادہ ،وفاقی سیکرٹری پانی وبجلی یونس ڈھاگہ ،وفاقی سیکرٹری اُمورکشمیر عابد سعید،چیرمین واپڈا ظفرمحمود ،چیف سیکرٹری گلگت بلتستان طاہر حسین سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وزارتی کمیٹی کو بریف کرتے ہوئے متعلقہ حکام نے بتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرکے لیے مطلوبہ زمین کا زیادہ تر حصہ حاصل کر لیا ہے اور اس ضمن میں 46 ارب روپے اب تک انتہائی صاف و شفاف نظام کے تحت ادا کر دیے گئے ہیں۔ حکام نے آگاہ کیا کہ بھاشا ڈیم ریزروائرکی زمین مکمل طور پر حاصل کی جاچکی ہے اور اس کے علاوہ دیگرزمین کے حصول کا عمل بھی جلد شروع ہو جائے گا۔اجلاس میں وفاقی وزیر اُمور کشمیر نے کہا کہ قومی اہمیت کے اس منصوبے سے متعلق تمام معاملات کا باغور جائزہ لے کر اس کے اوپر جلد پیش رفت کی جائے تاکہ ڈیم کی عملی تعمیر کا عمل جلد سے جلد شروع کیا جاسکے۔اجلا س میں وفاقی وزراءنے ڈیم کی تعمیر سے متعلق اعتماد سازی کے منصوبوں پر جلد پیش رفت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اعتماد سازی سے متعلق منصوبوں یعنی کیڈٹ کالج کی تعمیر،صحت ،تعلیم پانی کی فراہمی اور دیگر متعلقہ فلاحی منصوبوں کی تعمیر میں حائل رکاوٹوں کو دور کر کے جلد تعمیر شروع کی جائے۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ڈیم کی تعمیر میں حائل مسائل کو جلد از جلد دورکیا جائے اور اس ضمن میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہ کی جائے گی۔

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn