جمعرات, 05 اگست 2021

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
53
مضامین
467
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
603093
comintour.net
stroidom-shop.ru
obystroy.com
лапароскопия паховой грыжи

???? *مــبــاهــلــه : اهل بیت علیهم السلام کی شان اور ناصبیوں کی بے بسی*


✍️ _تحریر: عباس حسینی_

 

♦️ مباہلے کا واقعہ تاریخ اسلام کا ایسا عظیم واقعہ ہے جس سے اسلام کی سربلندی اور ان افراد کی سچائی ہمیشہ کے لیے امر ہوگئی جنہیں رسول گرامی اسلامﷺ اپنے ساتھ نجران کے عیسائیوں سے مباہلے کے لیے  لے کر گئے تھے۔ لیکن چونکہ اس واقعے سے اہل بیت کرام علیھم السلام کی ایسی شان اور عظمت ثابت ہوتی ہے جو ان کے دشمنوں اور ناصبی افراد سے برداشت نہیں ہوتی، لہذا ہر کچھ عرصے بعد اس حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان بے چاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے بڑوں کے فضائل بیان کرنے سے تو رہے، لہذا  حسد میں آکر یہ طریقہ ڈھونڈ لیا کہ دوسروں کی شان گھٹا لو تاکہ اپنوں کے برابر لایا جاسکے۔ لیکن کیا کریں ان بے چاروں کی بے بسی کہہ لیں، خود ان کی معتبر ترین کتابوں میں اہل بیت کرام علیھم السلام کی اتنے فضائل بیان ہوئے ہیں کہ جن کا شمار بھی مشکل امر ہے۔ اگرچہ اصولی طور پر ہمارے لیے ہمارے عقائد کا ہماری اپنی کتابوں سے ثابت ہونا کافی ہے، لیکن  الحمد للہ مذہب شیعہ کے تمام اصول قرآن اور عقل کے علاوہ خود اہل سنت کی معتبر ترین کتابوں سے بھی  ثابت ہیں۔

 

⁉️ مباہلے کے حوالے سے عام طور پر جو دو اشکال کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں۔

1️⃣ مباہلہ یہودیوں کے ساتھ تھا، عیسائیوں کے ساتھ نہیں۔ شیعوں نے امام حسن اور امام حسین علیھما السلام کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے اسے عیسائیوں کے ساتھ جوڑ لیا۔ جبکہ جس وقت رسول اللہﷺ مدینے آئے اور مباہلہ ہوا اس وقت مدینے کے اطراف میں عیسائی تھے ہی نہیں۔

2️⃣ مباہلے کا واقعہ حسنین علیھما السلام کی پیدائش سے قبل کا واقعہ تھا۔ لہذا اس میں پنجتن کی شرکت مشکوک ہے۔ پھر یہ لوگ نتیجہ لیتے ہیں کہ اہل بیت میں صرف پنجتن پاک کا ہونا ثابت نہیں۔

 

❣️ *پہلا مطلب:* مباہلہ عیسائیوں کے ساتھ  تھا  اور ہجرت کے نویں سال یہ واقعہ پیش آیا۔

♦️ *ابن جریر طبری* اپنی تفسیر میں: جو بھی تجھ  سے اے محمدﷺ، مسیح عیسی بن مریم کے بارے مجادلہ کرے، پس کہہ دیجیے۔۔۔ جھگڑا اس بات کا تھا کہ عیسی خدا کا عبد ہے یا خدا کا بیٹا؟  "ما جائک من العلم" سے مراد بھی یہ ہے کہ جب ثابت ہوچکا کہ عیسی خدا کا عبد اور رسول ہے اس کے باوجود کوئی نہ مانے تب مباہلہ کرنا۔ اور ساتھ ہی رسول گرامی کی یہ حدیث بھی نقل کی ہے جس میں آپ نے فرمایا: اےکاش میرے اور نجران کے نصاری کے درمیان کوئی حجاب ہوتا اور میں انہیں نہ دیکھتا اور وہ مجھے نہ دیکھتے۔ (تفسیر طبری، ج3، ص 209، 210)

♦️ *آلوسی:* نجران کے نصاری کا وفد اگر تم سے عیسی کے بارے میں مجادلہ کرے۔۔ (روح المعانی، ج 2، ص 179)

♦️ *رشید رضا تفسیر المنار میں:* آیت مباہلہ کے حوالے سے متعدد طرق سے نقل ہوا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔۔ (تفسیر المنار، ج 11، ص 19)

♦️ *فخر رازی:* فمن حاجک فیه میں ضمیر حضرت عیسی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پچھلی آیتوں میں بیان ہوچکا کہ عیسائیوں کی یہ بات غلط ہے کہ حضرت عیسی خدا کے بیٹے ہیں۔ آدم جو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے خدا کے بیٹے نہیں ہو سکتے تو عیسی کیسے خدا کے بیٹے ہو سکتے ہیں؟ اس حقیقت کے باوجود کوئی تمہارے ساتھ ضد کرے تو اسے مباہلے کی دعوت دو۔ آیت کی تفسیر میں وجہ رابع بیان کرتے ہوئے پھر نصاری کے قول کے باطل ہونے پر فخر رازی نے دلیل پیش کی ہے۔ دوسرے مسئلے کے بیان میں نجران کے نصاری کا پورا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 248)

ان سب کے علاوہ آیت مباہلے سے ماقبل 6 آیات(آل عمران55 تا 60) کوئی غور سے پڑھ لیں وہ آیات کے سیاق کے تحت اس قطعی نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ مباہلے والی آیت بھی مسیحیوں سے ہی متعلق ہے۔ یہودیوں کا اس پورے صفحے پر کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے۔

 

*دوسرا مطلب:* مباہلہ میں رسول اللہﷺ، علی فاطمہ حسن اور حسین علیھم السلام کو لے کر گئے۔

♦️ *رشید رضا:* روایت آئی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان ہستیوں کو اپنے ساتھ مباہلے کے لیے چن لیا۔ میں دعا کروں گا، آپ لوگ آمین کہیں۔ مسلم اور ترمذی اور ان دونوں کے علاوہ دوسروں  کی سعد سے روایت ہے: جب یہ آیت نازل ہوئی رسول اللہﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو بلایا اور فرمایا: اے اللہ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔ رشید رضا اپنے استاد سے نقل کرتے ہیں: روایات اس بات پر متفق ہیں کہ نبی اکرم نے مباہلے کی خاطر علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو چن لیا۔"نساء" کا لفظ صرف فاطمہ کے لیے، انفسنا کا لفظ صرف امام علی کے اوپر اطلاق ہوا ہے۔(تفسیر المنار،ج 11، ص 20)

♦️ *آلوسی:* رسول اللہﷺ مباہلے کے لیے اپنے ساتھ علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو لے کر گئے۔(ج 2، ص 181)

♦️ *فخر رازی:* مباہلےمیں پنجتن پاک کی شرکت کے حوالے سے روایات نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: جان لو یہ روایت وہ ہے جس کی صحت پر اہل تفسیر اور حدیث کے درمیان گویا اتفاق ہے۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 247) فخر رازی اسی آیت کے ذیل میں چوتھا مسئلہ بیان کرتے ہوئے یوں لکھتا ہے: یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ حسن اور حسین علیھما السلام رسول اللہﷺ کے بیٹے تھے۔ جب بیٹوں کو بلانے کا کہا تو آپ حسن اور حسین علیھما السلام کو لے کر آئے، پس ضروری ہے کہ یہ دونوں آپ کے بیٹے ہوں۔ پھر اس مطلب پر قرآن سے شواہد لاتے ہیں۔(تفسیر کبیر، ج 8، ص 248) آخر میں آیت کے حوالے سے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے فخر رازی دوبارہ لکھتے ہیں: رسول اللہﷺ کا اپنے ساتھ اپنے بیٹوں (حسن اور حسین علیھما السلام) اور اپنی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیھا کو لانا اس بات کی نشانی تھی کہ آپ کو اپنی حقانیت پر مکمل یقین تھا اور دشمن کو اس کام سے روکنے میں زیادہ موثرتھا۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 249)

تفسیر ابن کثیر میں بھی یہی بات لکھی گئی ہے کہ مباہلے کے لیے پیامبر اکرمﷺ پنجتن پاک کو لے کر گئے۔ (تفسیر القرآن العظیم (تفسیر ابن کثیر)، ج 2، ص 47)

 

???? اہل سنت کی معتبر ترین حدیث کی کتابوں سے بھی کچھ حوالے ملاحظہ فرمائیں:

????*صحیح مسلم:* ‏‏‏‏‏‏ولما نزلت هذه الآية:‏‏‏‏ فقل تعالوا ندع ابناءنا وابناءكم سورة آل عمران آية 61، ‏‏‏‏‏‏دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، ‏‏‏‏‏‏وفاطمة، ‏‏‏‏‏‏وحسنا، ‏‏‏‏‏‏وحسينا، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اللهم هؤلاء اهلي. (کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 6220)

جب یہ آیت اتری  :(نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُم) بلائیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو۔ یعنی آیت مباہلہ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو، پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔

 

???? *سنن ترمذی* کی روایت بھی ملاحظہ ہو(سنن ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ آل عمران،    حدیث 2999):

لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت"تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم"  نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں“۔ 

 

???? *مستدرک* کے مولف حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب معرفت علوم حدیث  جلد 1، ص 50 پر لکھا ہے:

وقد تواترت الأخبار في التفاسير عن عبد الله بن عباس وغيره أن رسول الله (صلی الله عليه وآله﴾ أخذ يوم المباهلة بيد علي وحسن وحسين وجعلوا فاطمة وراءهم ثم قال هؤلاء أبناءنا وأنفسنا ونساؤنا فهلموا أنفسكم وأبناءكم ونساءكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين.

(تفاسیر میں عبد اللہ بن عباس اور دیگر سے یہ روایات متواتر طور پر نقل ہوئی ہیں کہ رسول اللہﷺ مباہلے کے دن علی، حسین اور حسین علیھم السلام کے ہاتھ پکڑ کر تشریف لائے۔ سیدہ فاطمہ ان کے پیچھے پیچھے تھیں۔ پھر آپ نے فرمایا: یہ ہمارےبیٹے ، ہمارے نفس اور ہماری خواتین ہیں۔ تم بھی اپنے بیٹوں، نفسوں اور خواتین کو لے آو تاکہ ہم مباہلہ کریں اور جھوٹے پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

 

‼️ یہ فقط چند نمونے ہیں، ورنہ اگر تفصیل میں جانا چاہیں تو ان مطالب کے اثبات پر صرف اہل سنت کی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ چند جلد کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ قاضی نور اللہ شوشتری نے اپنی کتاب احقاق الحق میں اہل سنت کے 60 بزرگان کے نام لیے ہیں جنہوں نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ آیت مباہلہ کے مصداق اہل بیت کرام (رسول گرامی اسلام، امام علی، امام حسن، امام حسین اور سیدہ فاطمہ علیہم السلام)ہیں۔ 

انصاف اور عقل رکھنے والے لوگ خود فیصلہ کر لیں۔ ان تمام حقائق کے باوجود اہل بیت کرام علیهم السلام کے فضائل سے کوئی جلتا ہے اور مسلمہ فضائل کا انکار کرتا ہے اس کا کوئی علاج نہیں۔

???? غــدیــر کی اهــمــیــت 

ہجر ت کے دسویں سال پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حج کا ارادہ کیا اور اپنے حج پر جانے کی سب کو خبر کی ۔
بہت سے گروہ مدینہ آگئے تاکہ مناسک حج آپ کے ساتھ بجالائیں اور آپ کی پیروی کریں ۔
حجة الوداع، حجة الاسلام، حجة البلاغ، حجة الکمال اور حجة التمام(۱) یہ وہ نام ہیں جو ہجرت کے بعد پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اس آخری حج کے رکھے گئے ۔
چوبیس یا پچیس ذی قعدہ کو شنبہ کے روز (جب ماہ ذی الحجہ کاچاند نظر آنے میں پانچ یا چھے روز باقی تھے)غسل اور لباس احرام باندھ کر مدینہ سے پیدل روانہ ہوتے ہیں اور اپنی بیویوں کو بھی اونٹوں کے کجاؤں پر سوار کرکے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔
تمام اہل بیت، مہاجرین و انصار اور عربوں کے دوسرے بہت سے قبائل آپ کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوتے ہیں(۳) ۔
آبلہ یا گرمی کی بیماری پھیلنے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو آپ کی ہمراہی نصیب نہ ہوسکی لیکن اس کے باوجود اس قدر اژدھام تھا جس کی تعداد خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ، حجة الوداع کے حاجیوں کی تعداد ۹۰ ہزار یا اس سے بھی زیادہ بیان ہوئی ہے ۔
حج کے وقت اس اژدھام میں اور اضافہ ہوجاتا ہے ، اہل مکہ نیز یمن کی ایک جماعت حضرت علی بن ابی طالب(علیہ السلام) کی ہمراہی میں آپ کے ساتھ مکہ پہنچی(۴) ۔
مناسک حج کو انجام دینے کے بعد تمام حاجی مدینہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ، راستہ میں ایک جگہ کانام جحفہ ہے جہاں سے مدینہ، مصر اور عراق کا راستہ الگ الگ ہوجاتا ہے اور اسی کے نزدیک ایک تالاب واقع ہے جس کا نام ”غدیر خم“ ہے ۔
اٹھارہ ذی الحجہ کو جمعرات (۵)کے روز جب یہ یہ قافلہ اس تالاب کے پاس پہنچتا ہے تو خداوند عالم کی طرف سے جبرئیل ا مین نازل ہوتے ہیں : ”یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک“ (۶) ۔
ائے پیغمبر ! جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کو کامل طور سے لوگوں تک پہنچا دو ۔
خداوندعالم نے حکم دیا کہ حضرت علی (علیہ السلام) کو چراغ ہدایت اور دین کاعلمبردار معین کردو اور سب کو آپ کی ولایت اور اطاعت کا حکم دو ۔
رسول گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حکم دیا : جو لوگ آگے چلے گئے ہیں ان کو روکا جائے اور چو پیچھے رہ گئے ہیں ان کا انتظار کیا جائے ۔
گرمی کا دن بہت زیادہ گرم تھا ، حاجیوں نے اپنی عبا کا آدھا حصہ سر پر اور آدھاحصہ اپنے پیروں کے نیچے رکھ رکھا تھا اور ایک درخت پر کپڑا ڈال کر اس کے ذریعہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر سایہ کررکھا تھا ، نماز ظہر کا وقت قریب ہو اتو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے نماز پڑھائی ۔
نماز کے بعد حاجیوں(۸)کے درمیان کجاؤں کے منبر پر تشریف لے گئے(۹) اوربلند آواز میں خطبہ ارشاد فرمایا : ”الحمد للہ و نستعینہ و نومن بہ، و نتوکل علیہ، و نعوذ باللہ من شرور انفسنا، و من سیئات اعمالنا، الذی لاھادی لمن اضل، ولا مضل لمن ھدی ،و اشھد ان لا الہ الا اللہ،و ان محمدا عبدہ و رسولہ“۔

جس چیز نے واقعہ غدیر کو جاویدانہ قرار دیا اور اس کی حقیقت کو ثابت کیا ھے وہ اس روز کا ”عید“ قرار پانا ھے۔ روز غدیر، عید شمار ھوتی ھے، اور اس کے شب و روز میں عبادت، خشوع و خضوع، جشن اور غریبوں کے ساتھ نیکی نیز خاندان میں آمد و رفت ھوتی ھے ، اور مومنین اس جشن میں اچھے کپڑے پھنتے اور زینت کرتے ھیں۔

جب مومنین ایسے کاموں کی طرف راغب ھوں تو ان کے اسباب کی طرف متوجہ ھوکر اس کے روایوں کی تحقیق کرتے ھیں اور اس واقعہ کو نقل کرتے ھیں، اشعار پڑھتے ھیں، جس کی وجہ سے ھر سال جوان نسل کی معلومات میں اضافہ ھوتا ھے، اور ھمیشہ اس واقعہ کی سند اور اس سے متعلق احادیث پڑھی جاتی ھیں، جس کے بنا پر وہ ھمیشگی بن جاتی ھیں۔ عید غدیر سے متعلق دو طرح کی بحث کی جاسکتی ھے:

۱۔ شیعوں سے مخصوص نہ ھونا

یہ عید صرف شیعوں سے مخصوص نھیں ھے۔ اگرچہ اس کی نسبت شیعہ خاص اہتمام رکھتے ھیں؛ مسلمانوں کے دیگر فرقے بھی عید غدیر میں شیعوں کے ساتھ شریک ھیں، غیر شیعہ علماء نے بھی اس روز کی فضیلت اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی طرف سے حضرت علی علیہ السلام کے مقام ولایت پر فائز ھونے کی وجہ سے عید قرار دینے کے سلسلہ میں گفتگو کی ھے؛ کیونکہ یہ دن حضرت علی علیہ السلام کے چاھنے والوں کے لئے خوشی و مسرت کا دن ھے چاھے آپ کو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کا بلا فصل خلیفہ مانتے ھوں یا چوتھا خلیفہ۔

بیرونی ”الآثار الباقیة “ میں روز غدیر کو ان دنوں میں شمار کرتے ھیں جس کو مسلمانوں نے عید قرار دیا ھے [1]ابن طلحہ شافعی کہتے ھیں:

”حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے اشعار میں روز غدیر خم کا ذکر کیا ھے اور اس روز کو عید شمار کیا ھے، کیونکہ اس روز رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے آپ کو اپنا جانشین منصوب کیا اور تمام مخلوقات پر فضیلت دی ھے۔“[2]

نیز موصوف کہتے ھیں:

”لفظ مولا کا جو معنی بھی رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے لئے ثابت کرنا ممکن ھو وھی حضرت علی علیہ السلام کے لئے بھی معین ھے، اور یہ ایک بلند مرتبہ، عظیم منزلت، بلند درجہ اور رفیع مقام ھے جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے حضرت علی علیہ السلام سے مخصوص کیا، لہٰذا اولیائے الٰھی کے نزدیک یہ دن عید اور مسرت کا روز قرار پایا ھے۔“[3]

تاریخی کتب سے یہ نتیجہ حاصل ھوتا ھے کہ امت اسلامیہ مشرق و مغرب میں اس دن کے عید ھونے پر متفق ھیں، مصری، مغربی اور عراقی (ایرانی و ھندی) اس روز کی عظمت کے قائل ھیں، اوران کے نزدیک روز غدیر نماز، دعا، خطبہ اور مدح سرائی کا معین دن ھے ،اور اس روز کے عید ھونے پر ان لوگوںکا اتفاق ھے[4]


    حضرت امام صادقؑ کا ارشاد ہے : اِنَّ زِیَارَتُهَا تعدل الجنة ۔ان کی زیارت کا صلہ اور اجر جنت ہے ۔

یہ بات قابل غور ہے کہ چودہ معصومینؑ کی زیارت کے بعد جتنی ترغیب آپ کی زیارت کے بارے میں دلائی گئی ہے اتنی ترغیب ائمہ کے کسی اور فرزندیاکسی بھی ولی خدا کے بارے میں نہیں ملتی ۔تین معصوم شخصیتوں نے آپکی زیارت کی تاکید فرمائی ہے ،جن روایات میں آپکی زیارت کی فضیلت بیان ہوئی ہے ان میں سے بعض تو آپکی ولادت سے قبل امام معصوم سے صادر ہوئی ہیں ،یہاں تک کہ بعض روایات تو آپ کے والد بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کی ولادت سے قبل بیان ہوئی ہیں ۔
شیخ صدوق نے صحیح سند کے ساتھ حضرت امام رضاؑ سے روایت کی ہے کہ : مَنْ زَارَهَا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّة، جو ان کی زیارت کرے گا اسے جنت یقینانصیب ہوگی ۔
حضرت امام محمدتقیؑ کا ارشاد ہے : مَنْ زَارَ عَمَّتِی بِقُم فَلَهُ الْجَنَّة، جس شخص نے بھی قم میں میری پھو پھی کی زیارت کی وہ جنتی ہے ۔
حضرت امام صادقؑ کا ارشاد ہے : اِنَّ زِیَارَتُهَا تعدل الجنة ۔ان کی زیارت کا صلہ اور اجر جنت ہے ۔
حضرت امام رضاؑ کا ارشاد ہے :یا سعد«مَنْ زَارَهَا فَلَهُ الْجَنَّة أوْ هُوْ مِنْ اَهْلِ الْجَنَّة» ۔ ائے سعد جو شخص بھی ان کی زیارت کرے گا اس کا اجر جنت اور وہ اہل بہشت میں سے ہوگا ۔