اتوار, 09 مئی 2021

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
51
مضامین
460
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
575422
comintour.net
stroidom-shop.ru
obystroy.com
лапароскопия паховой грыжи



تحریر: منظوم ولایتی

ہر شخص کا ایک اپنا دائرہ کار ہوتا ہے۔اس سے باہر کا وہ مکلف نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی وہ ہر کام کرسکتا ہے۔قرآن مجید نے بھی اس چیز کو بیان فرمایا ہے۔لا یُکلّفُ اللہُ نفساٙٙ الا وسعٙھا۔  قومی اور  اجتماعی سطح کے مسائل کا حل ہمیشہ بڑی سطح کے لوگ ہی کرسکتے ہیں۔ایسے میں لیڈرز کی ذمہ داریاں "دو چند" ہی کیا "کئی چند" ہوجاتی ہیں۔

پچھلی کئی دہائیوں سے امت مسلمہ کے لیے درپیش  مسائل میں سے ایک  اہم  ترین مسئلہ فلسطین اور قدس  کا ہے۔ استعماری طاقتوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں ایک تاریخی تسلسل ہے۔ جن میں  سرفرہرست  قبلہ اول  و انبیاء کی سرزمین اور مسلمانوں کےوطن پر باہر سے آئے ہوئے صیہونیوں کا قبضہ،لاکھوں افراد کو بے گھر،شہید اور ظلم کے پہاڑ توڑنا اور  بچےبوڑھے،خواتین اور دیگر بے گناہوں پر کئے گئے مظالم ہیں۔  جو ہر باشعور اور باغیرت انسان کی ضمیر کو جھنجوڑنے کے لیے کافی ہیں۔

1948ء میں امریکہ،برطانیہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے گٹھ جوڑ سے  وجود میں لائی جانے والی اس ناجائز ریاست اسرائیل  اور اس کی تاریخ اور سیاہ کارناموں سے امت مسلمہ کی نئی نسل کا آگاہ ہونا ناگزیر اور ازحد ضروری ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ان بیتی گئی دہائیوں میں بدقسمتی سے قدس کے ایشو پر امت مسلمہ کے بہت کم رہنماء سنجیدہ پائے گئے ہیں۔ جن میں امام خمینی اور قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سرفہرست ہیں۔ ہم اپنی اس مختصر تحریر میں ان دو عظیم رہنماوں کے قدس کے حوالے سے بیانات خلاصةٙٙ قارئین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔

امام خمینی کا ایک تاریخی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے قدس اور مسئلہ فلسطین کو پوری امت اسلامیہ سے مربوط کر کے پوری دنیا کی توجہ قدس کی طرف مبذول کرائی۔ اور اس سلسلے میں بہت سے اقدامات اٹھائے۔ ان میں سے ایک اہم قدم رمضان المبارک کے  جمعۃ الوداع کو "عالمی یوم القدس" قرار دے کر تمام مسلمانوں کو اسرائیل کی ناجائز ریاست کے خلاف نفرت اور قدس اور فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن قرار دینا ہے۔

امام خمینی رحمة اللہ علیہ اپنے ایک بیان میں فرماتے ہیں:  "یوم القدس ایسا روز ہے کہ تمام بڑی طاقتوں کو آگاہ کر دینا چاہئے کہ اب اسلام تمہارے خبیث آلہ کاروں کی وجہ سے تمہارے تسلط میں نہیں رہے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ اسرائیل  صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہئے بیت المقدس مسلمانوں کی ملکیت ہے اور مسلمانوں کا قبلہ اول ہے ۔لہٰذا اسرائیل کی نابودی اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار ہمدردی انسانیت کا تقاضا ہے"۔

قائد اعظم محمد علی جناح سنہ 1948ء میں اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈبن گوریان کے ٹیلیگرام  کے جواب میں فرماتے ہیں:
"دنیا کا ہر مسلمان مرد و زن بیت المقدس پر یہودی تسلط کو قبول کرنے کی بجائے جان دے دے گا. مجھے توقع ہے کہ یہودی ایسے شرمناک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ میری خواہش ہے کہ برطانیہ اور امریکا اپنے ہاتھ اٹھا لیں اور پھر میں دیکھوں کہ یہودی بیت المقدس پر کیسے قبضہ کرتے ہیں۔ عوام کی آرزوؤں کے خلاف پہلے ہی پانچ لاکھ یہودیوں کو بیت المقدس میں بسایا جا چکا ہے۔میں جاننا چاہوں گا کہ کیا کسی اور ملک نے انہیں اپنے ہاں بسایا ہے۔۔؟ اگر تسلط قائم کرنے اور استحصال کا سلسلہ جاری رہا تو پھر نہ امن قائم ہوگا اور نہ جنگیں ختم ہونگی"۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادی، امام علی رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ اور امام محمد تقی جواد علیہ السلام کی پھپھو ہیں۔ آپ کی ولادت یکم ذیقعد 173 ھجری قمری اور دوسری روایت کے مطابق 183 ھجری قمری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ اور دوسری روایت کے مطابق خیزران تھا۔ آپ امام موسی کاظم علیہ السلام کی سب سے بڑی اور سب سے ممتاز صاحبزادی تھیں۔ ممتاز عالم دین شیخ عباس قمی اس بارے میں لکھتے ہیں: "امام موسی کاظم علیہ السلام کی

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کی زندگی پر ایک نظر

 

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادی، امام علی رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ اور امام محمد تقی جواد علیہ السلام کی پھپھو ہیں۔ آپ کی ولادت یکم ذیقعد 173 ھجری قمری اور دوسری روایت کے مطابق 183 ھجری قمری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ اور دوسری روایت کے مطابق خیزران تھا۔ آپ امام موسی کاظم علیہ السلام کی سب سے بڑی اور سب سے ممتاز صاحبزادی تھیں۔ ممتاز عالم دین شیخ عباس قمی اس بارے میں لکھتے ہیں: "امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادیوں میں سب سے بافضیلت سیدہ جلیلہ معظمہ فاطمہ بنت امام موسی کاظم علیہ السلام تھیں جو معصومہ کے نام سے مشہور تھیں"۔ آپ کا نام فاطمہ اور سب سے مشہور لقب معصومہ تھا۔ یہ لقب انہیں امام ھشتم علی رضا علیہ السلام نے عطا فرمایا تھا۔ اگرچہ زمانے نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی مسلسل گرفتاریوں اور زودھنگام شہادت کے ذریعے آپ سے باپ کی محبت چھین لی تھی لیکن بڑے بھائی کے شفقت بھرے ہاتھوں نے آپ کے دل پر غم کے بادل نہیں آنے دیئے۔ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا بچپن سے ہی اپنے بڑے بھائی امام علی رضا علیہ السلام سے سخت مانوس تھیں، انہیں کے پر مھر دامن میں پرورش پائی اور علم و حکمت اور پاکدامنی اور عصمت کے اس بے کران خزانے سے بہرہ مند ہوئیں۔ آپ کے مزید القاب میں طاہرہ، عابدہ، رضیہ، تقیہ، عالمہ، محدثہ، حمیدہ اور رشیدہ شامل ہیں جو اس عظیم خاتون کے فضائل اور خوبیوں کا ایک گوشہ ظاہر کرتے ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیعیان اہل بیت س کا ایک گروہ کافی دور سے امام موسی کاظم علیہ السلام کی زیارت کیلئے آیا لیکن آپ شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اس گروہ میں شامل افراد امام علیہ السلام سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتے تھے جو انہوں نے لکھ کر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کو سونپ دیئے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے ان تمام سوالات کے جوابات لکھ کر دوسرے دن انہیں واپس کر دیئے۔ واپس جاتے ہوئے اس گروہ کی امام موسی کاظم علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے اس واقعے کی خبر امام علیہ السلام کو دی۔ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے وہ سوالات اور جوابات دکھاو۔ جب امام علیہ السلام نے ان سوالات اور جوابات کو دیکھا تو فرمایا: "ابوھا فداھا" یعنی ایسی بیٹی کا باپ اس کے صدقے جائے۔ 200 ھجری قمری میں امام علی رضا علیہ السلام کو زبردستی مرو لائے جانے اور تقریباً ایک سال تک اہل بیت س کا آپ سے بے خبر رہنے پر حضرت فاطمہ معصومہ س کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اپنے بھائی کی خیریت سے واقفیت کی خاطر آپ 201 ھجری قمری میں مدینہ سے ایران کی طرف روانہ ہو گئیں۔ اس سفر میں آپ کے ساتھ جو پیش آیا اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات موجود نہیں ہیں لیکن تاریخ میں ذکر ہوا ہے کہ جب آپ ایران کے شہر "ساوہ" پہنچیں تو سخت بیمار ہو گئیں۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ وہ قریب ہی دوسرے شہر "قم" کا رخ کریں۔ جب حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے قم آنے کی خبر سعد اشعری کے خاندان تک پہنچی تو انہوں نے آپ کا استقبال کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں میں سے ایک شخص موسی بن خزرج رات کو ہی اس مقصد کیلئے گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ وہ سب سے پہلے حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور ان کی اونٹنی کی مہار تھام کر انہیں قم تک لے آیا۔

 

محسن اسلام حضرت ابو طالب علیہ السلام کے چار فرزند تھے۔ حضرت جعفر ؑ،حضرت عقیل ؑ، حضرت علی ؑاور حضرت طالب ؑ۔ حضرت مسلم علیہ السلام حضرت عقیل ؑ کے بیٹے تھے۔ جو حضرت علی ؑ اور جناب ام البنین ؐ کے داماد تھے۔ یعنی علمدار حسینی حضرت عباس ؑ کی ہمشیرہ جناب مسلم ابن عقیل سے منسوب تھیں۔ آپ انتہائی شجاع و بہادر ہو نے کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانی خصوصیات کے مطابق انتہائی متقی و پرہیز گار ، دیندار اور امام حسین ؑ سے محبت کر نے والے ، شیدا اور وفادار تھے۔ امام حسین ؑ کو جناب مسلم ابن عقیل ؑ پر مکمل اعتماد و اعتبار تھا اور اسی اعتماد کی بنا پر امام حسین ؑ نے جناب مسلم ؑ کو اپنا سفیر بنا کر کوفہ بھیجا تھا۔ جہاں تک مسلم ؑ کی شجاعت و بہادری کا سوال ہے امام حسین ؑ کے پاس تین طاقتیں ایسی تھیں کہ اگر کربلا میں یہ تینوں قوتیں یکجا ہو گئی ہو تیں تو شائد جنگِ کر بلا کا انداز ہی دوسرا ہو تا۔ ان میں ایک شخصیت جناب محمد حنفیہ کی تھی دوسری جناب مسلم ابن عقیل ؑ کی اور تیسری جناب عباسِ علمدار کی مگر چوں کہ امام حسین ؑ کا مقصد جنگ نہیں بلکہ دین اسلام کی بقاء کے لئے قربانیاں پیش کر نا تھا لہٰذا امام عالی مقام نے ان تینوں طاقتوں کو تقسیم کر دیا۔ جناب محمد حنفیہ کو مدینہ منورہ میں ہی چھوڑ دیا اور جناب مسلم ابن عقیل ؑ کو اپنا سفیر و نائب بنا کر کو فہ بھیج دیا۔ صرف جناب عباس ؑ ابن علی ؑ کو اپنے ساتھ کربلا لے گئے۔

امام حسین ؑ کو جناب مسلم ابن عقیل پر مکمل اعتماد تھا جیسا کہ امام حسین ؑ کے ان خطوط سے بھی ظاہر ہے جو انھوں نے معززین کو فہ کے ان خطوط کے جوابات میں لکھے تھے جو اہلِ کوفہ نے انھیں کو فہ تشریف لا نے کے لئے تحریر کئے تھے۔ اہل کوفہ نے لکھا تھا کہ ’’ہم بلا امام ہیں آپ تشریف لے آئیں۔ ہم آپ کے منتظر ہیں۔ اگر آپ تشریف نہ لا ئے تو یوم حشر آپ ہمارے اعمال کے ذمہ دار ہوں گے۔ ہم نے اتمام حجت کر دیا ہے۔‘‘

امام حسین ؑ نے مومنین کو فہ کو خط لکھا کہ ’’چونکہ تم نے اتمام حجت کی بات کی ہے لہٰذا منجانب اللہ مجھ پر فرض ہے کہ میں تمہاری دعوت کو قبول کروں۔ مقد مہ کے طور پر میں اپنے برادرِ عم (چچا زاد بھائی) اور اپنے معتمد خاص مسلم ؑ ابن عقیل ؑ کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں۔ اگر مسلم ؑ نے مجھے لکھا کہ جو کچھ تم نے لکھا تھا تم اس پر قائم ہو تو میں بہت جلد تمہارے پاس آجا ئوں گا۔ ‘‘ امام حسین ؑ کے اس خط سے جناب مسلم ؑکا معتمد خاص ہو نا مسلم الثبوت ہے۔

 

تحریر: سید عابد حسین 

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

الم (1) ذلِكَ الْكِتابُ لا رَيْبَ فيهِ هُدىً لِلْمُتَّقينَ (2)

قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کا امکان نہیں اور یہ کتاب تحریف سے بھی پاک ہے۔ اس عظیم کتاب کو خدا نے بشریت کی هدایت کے لئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا۔هر چیز کی بهار هوتی هے قرآن کی بهار ماه مبارک رمضان هے۔ اسی مبارک مهینے میں قرآن مجید شب قدر کی رات نازل ہوا۔ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذي أُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَ بَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى‏ وَ الْفُرْقانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَ مَنْ كانَ مَريضاً أَوْ عَلى‏ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لا يُريدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلى‏ ما هَداكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (سوره بقره 185) اِنَّا أَنْزَلْناهُ في‏ لَيْلَةِ الْقَدْرِ (سوره قدر1)

روایات میں تاکید هوئی هے که شب قدر رمضان مبارک کے آخری عشره کی راتوں میں سے ایک رات هے. مجمع البیان میں ابی بکر س روایت نقل کیے هی که شب قدر کو آخری عشره میں تلاش کرے اس مهینے میں زیاده سے زیاده قرآن مجید کی تلاوت  کی تاکید کی گئی هے ۔یهاں ایک سوال ذهنون میں آجاتا هے که آیا اس کتاب کو 23 سال کے عرصے میں نازل نهیں کیا گیا ؟ پس کیسے شب قدر کی ایک رات میں نازل هوئی ؟اس حوالے سے تفاسیر کی کتابوں کا مطالعه کرے تو معلوم هو جاتا هے که قرآن کریم دو طریقوں نازل هوا هے)نزول تدریجی و نزول دفعی یعنی لوح محفوط سے بيتالمعمور په( اس کی طرف اشاره خود قرآن کریم میں ملتا هے که ایک دفعه تنزیل کا لفظ استعمال هوا هے ایک دفعه انزال کا لفط استعمال هوا هے ۔تنزیل نزول تدریجی کو کها جاتا هے اور انزال نزول دفعی کو کها جاتا هے۔ دونوں الفاظ کی طرف قرآن  کریم  میں اشاره هوا هے۔ مفسرین کے درمیان زیاده تر بحث نزول دفعی کے حوالے سے هے, علامه طباطبائی تفسیر المیزان میں فرماتے هیں: قرآن حامل دو وجود هے وجود ظاهری و وجود باطنی که بغیر کسی تجزیه,الفاظ اور تفصیل سے تها جو یکدفعه  شب قدر کی رات قلب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل هوا اور وجود ظاهری به تدریج 23 سال کے عرصے میں نازل هوا۔جو قرآن آجکل همارے هاتھوں  میں هے  یہ وہی کلام اللہ ہے جس میں کسی قسم کی تحریف نهیں هوئی هے۔  بحیثیت مسلمان همارا اعتقاد هے کہ قرآن کریم ميں کسی صورت بھی تحربف ممکن نهیں هے۔ شہید مرتضی مطہری کتاب آشنائی با قرآن میں  لکھتے ہیں: اگر ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرے تو تین بنیادی چیزیں  اور تین اصولوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں : 

پہلا اصل: انتساب ہے یعنی بغیر کسی شک و شبہ کے جو آج کل قرآن مجید کے نام سے تلاوت ہوتی ہے عین وہی کتاب اللہ ہے جو پرسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا تھا اور بشریت کیلئے پیش کئے ہیں۔ اس کی گواهی اسی کتاب میں موجود هے۔ 

)علمائے شیعہ اس بات پہ اجماع رکھتے ھیں قرآن

میں تحریف نھی ھوئی ھے کچھ ضعیف روایات کو بنیاد بنا کر شیعوں پہ تحریف قرآن

کے قائل ھونے کا الزام اور تھمت لگانا قابل قبول نھی قرآن خود تحریف نہ ھونے کی

گواہی دے رھا ھے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون(

دوسرا اصل: اس کے مطالب ہیں یعنی قرآن کہیں سے لیا نہیں بلکہ جدید مطالب بیان کرتے ہیں۔  

تیسرا اصل: بنیاد قرآن  کا الہٰی هونا  ہے  یعنی معارف قرآن ماورائے  ذہن بشریت ہے جس سے فکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فیض پہنچاتے رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف حامل وحی پروردگار تھے۔ آپ صلی علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کو ایجاد نہیں کیا بلکہ توسط روح القدس یا جبرائیل علیہ السلام پروردگار کی اذن سے آپ کو عطا کیا گیا۔ اس میں تمام بشریت کے لئے  هدایت موجود هے۔  تاریکی سے روشنی کی طرف رهنمائی کرتا هے قرآن اپنی تعریف میں کہتا ہے کہ قرآن نازل ہو ہے کہ  لوگوں کو ظلمت سے نور کی طرف لے جانے کے لئے۔ 

روی عن القاضی نور اللہ عن الصادق علیہ السلام : 

ان اللہ حرما و ھو مکہ الا ان رسول اللہ حرما و ھو المدینۃ اٴلا و ان لامیر الموٴمنین علیہ السلام حرما و ھو الکوفہ الا و ان قم الکوفۃ الصغیرۃ اٴلا ان للجنۃ ثمانیہ ابواب ثلاثہ منہا الی قم تقبض فیہا امراٴۃ من ولدی اسمہا فاطمۃ بنت موسی علیہا السلام و تدخل بشفاعتہا شیعتی الجنۃ باجمعہم ۔ 

امام صادق علیہ السلام سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا: ""خداوند عالم حرم رکھتا ہے اور اس کا حرم مکہ ہے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ) حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم مدینہ ہے۔ امیر المومنین علیہ السلام حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم کوفہ ہے۔ قم ایک کوفہ صغیر ہےجنت کے آٹھ دروازوں میں سے تین قم کی جانب کھلتے ہیں ، پھر امام علیہ السلام نے فرمایا :میری اولاد میں سے ایک عورت جس کی شہادت قم میں ہوگی اور اس کا نام فاطمہ بنت موسیٰ ہوگا اور اس کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔۔ 

 

قال الصادق علیہ السلام من زارھا عارفا بحقہا فلہ الجنۃ 

امام صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں کہ جس نے معصومہ علیہا السلام کی زیارت اس کی شان ومنزلت سے آگاہی رکھنے کے بعد کی وہ جنت میں جا ئے گا 

 

اٴلا ان حرمی و حرم ولدی بعدی قم 

امام صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں آگاہ ہو جاوٴ میرا اور میرے بیٹوں کا حرم میرے بعد قم ہے ۔ 

 

حضرت معصومہ علیہا السلام امام رضاعلیہ السلام کی نظر میں

 

 عن سعد عن الرضا علیہ السلام قال : یا سعد من زارھا فلہ الجنۃ ۔ 

 ثواب الاٴعمال و عیون اخبار الرضا علیہ السلام: عن سعد بن سعد قال : ساٴلت ابا الحسن الرضا علیہ السلام عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر علیہا السلام فقال : من زارھا فلہ الجنۃ 

سعد امام رضاعلیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے سعد جس نے حضرت معصومہ علیہا السلام کی زیارت کی اس پر جنت واجب ہے ۔ 

”ثواب الاعمال“ اور ”عیون الرضا “ میں سعد بن سعد سے نقل ہے کہ میں نے امام رضاعلیہ السلام سے سیدہ معصومہ علیہا السلام کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا حضرت معصومہ علیہا السلام کی زیارت کا صلہ بہشت ہے 

 

کامل الزیارۃ : عن ابن الرضا علیہ السلام قال: من زار قبر عمتی بقم فلہ الجنۃ 

امام جوادعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ جس نے میری پھوپھی کی زیارت قم میں کی اس کے لئے جنت ہے

 

حضرت معصومہ علیہا السلام کا مقام و منزلت

 

اب یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ معصومہ علیہا السلام کو معصومہ کا لقب کس نے دیا؟ 

معصومہ کا لقب حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنی بہن کو عطا کیا۔ آپ اس طرح فرماتے ہیں: 

 

من زار المعصومۃ (سلام اللہ علیہا)بقم کمن زارنی 

جس نے معصومہ علیہا السلام کی زیارت قم میں کی وہ اس طرح ہے کہ اس نے میری زیارت کی

اب جب کہ یہ لقب امام معصوم علیہ السلام نے آپ کو عطا فرمایا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ان کی ہم رتبہ ہیں ۔ 

امام رضاعلیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ وہ شخص جو میری زیارت پر نہیں آسکتا وہ میرے بھائی کی زیارت شہرری میں اور میری بہن کی زیارت قم میں کرے تووہ میری زیارت کا ثواب حاصل کرلے گا