ہفتہ, 27 نومبر 2021

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
63
مضامین
468
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
642913
comintour.net
stroidom-shop.ru
obystroy.com
лапароскопия паховой грыжи



تحریر: منظوم ولایتی

ہر شخص کا ایک اپنا دائرہ کار ہوتا ہے۔اس سے باہر کا وہ مکلف نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی وہ ہر کام کرسکتا ہے۔قرآن مجید نے بھی اس چیز کو بیان فرمایا ہے۔لا یُکلّفُ اللہُ نفساٙٙ الا وسعٙھا۔  قومی اور  اجتماعی سطح کے مسائل کا حل ہمیشہ بڑی سطح کے لوگ ہی کرسکتے ہیں۔ایسے میں لیڈرز کی ذمہ داریاں "دو چند" ہی کیا "کئی چند" ہوجاتی ہیں۔

پچھلی کئی دہائیوں سے امت مسلمہ کے لیے درپیش  مسائل میں سے ایک  اہم  ترین مسئلہ فلسطین اور قدس  کا ہے۔ استعماری طاقتوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں ایک تاریخی تسلسل ہے۔ جن میں  سرفرہرست  قبلہ اول  و انبیاء کی سرزمین اور مسلمانوں کےوطن پر باہر سے آئے ہوئے صیہونیوں کا قبضہ،لاکھوں افراد کو بے گھر،شہید اور ظلم کے پہاڑ توڑنا اور  بچےبوڑھے،خواتین اور دیگر بے گناہوں پر کئے گئے مظالم ہیں۔  جو ہر باشعور اور باغیرت انسان کی ضمیر کو جھنجوڑنے کے لیے کافی ہیں۔

1948ء میں امریکہ،برطانیہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے گٹھ جوڑ سے  وجود میں لائی جانے والی اس ناجائز ریاست اسرائیل  اور اس کی تاریخ اور سیاہ کارناموں سے امت مسلمہ کی نئی نسل کا آگاہ ہونا ناگزیر اور ازحد ضروری ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ان بیتی گئی دہائیوں میں بدقسمتی سے قدس کے ایشو پر امت مسلمہ کے بہت کم رہنماء سنجیدہ پائے گئے ہیں۔ جن میں امام خمینی اور قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سرفہرست ہیں۔ ہم اپنی اس مختصر تحریر میں ان دو عظیم رہنماوں کے قدس کے حوالے سے بیانات خلاصةٙٙ قارئین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔

امام خمینی کا ایک تاریخی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے قدس اور مسئلہ فلسطین کو پوری امت اسلامیہ سے مربوط کر کے پوری دنیا کی توجہ قدس کی طرف مبذول کرائی۔ اور اس سلسلے میں بہت سے اقدامات اٹھائے۔ ان میں سے ایک اہم قدم رمضان المبارک کے  جمعۃ الوداع کو "عالمی یوم القدس" قرار دے کر تمام مسلمانوں کو اسرائیل کی ناجائز ریاست کے خلاف نفرت اور قدس اور فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن قرار دینا ہے۔

امام خمینی رحمة اللہ علیہ اپنے ایک بیان میں فرماتے ہیں:  "یوم القدس ایسا روز ہے کہ تمام بڑی طاقتوں کو آگاہ کر دینا چاہئے کہ اب اسلام تمہارے خبیث آلہ کاروں کی وجہ سے تمہارے تسلط میں نہیں رہے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ اسرائیل  صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہئے بیت المقدس مسلمانوں کی ملکیت ہے اور مسلمانوں کا قبلہ اول ہے ۔لہٰذا اسرائیل کی نابودی اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار ہمدردی انسانیت کا تقاضا ہے"۔

قائد اعظم محمد علی جناح سنہ 1948ء میں اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈبن گوریان کے ٹیلیگرام  کے جواب میں فرماتے ہیں:
"دنیا کا ہر مسلمان مرد و زن بیت المقدس پر یہودی تسلط کو قبول کرنے کی بجائے جان دے دے گا. مجھے توقع ہے کہ یہودی ایسے شرمناک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ میری خواہش ہے کہ برطانیہ اور امریکا اپنے ہاتھ اٹھا لیں اور پھر میں دیکھوں کہ یہودی بیت المقدس پر کیسے قبضہ کرتے ہیں۔ عوام کی آرزوؤں کے خلاف پہلے ہی پانچ لاکھ یہودیوں کو بیت المقدس میں بسایا جا چکا ہے۔میں جاننا چاہوں گا کہ کیا کسی اور ملک نے انہیں اپنے ہاں بسایا ہے۔۔؟ اگر تسلط قائم کرنے اور استحصال کا سلسلہ جاری رہا تو پھر نہ امن قائم ہوگا اور نہ جنگیں ختم ہونگی"۔



مزید بر آن ایں کہ قیام پاکستان کے بعد تقسیم فلسطین کے اقوام متحدہ کے فیصلے پر قائد اعظم نے تنقید کرتے ہوئے بی بی سی کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ:
برصغیر کے مسلمان تقسیم فلسطین کے متعلق اقوام متحدہ کے ظالمانہ,ناجائز اور غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف شدید ترین لب و لہجے میں احتجاج کرتے ہیں. ظاہر ہے کہ برصغیر کے مسلمان امریکہ یا کسی اور ملک کی مخالفت مول نہیں لینا چاہتے،لیکن حس انصاف ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم فلسطین میں اپنے عرب بھائیوں کی ہر ممکن طریقہ سے مدد کریں۔”

اسی طرح سے قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ جملہ بھی سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے :اسرائیل ایک ناجائز ریاست ھےاوریہ مسلمانوں کے دل میں خنجرگھونپنے والی بات ہے جسے ہم تسلیم نہیں کریں گے۔

آج بھی ہم پاکستانیوں کو یہ افتخار حاصل ہے کہ ہمارے گرین پاسپورٹ پر لکھا ہوا ہوتا ہے :
 "This Passport is  valid for all countries  of the world except  Israel"
یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے  دنیا کے تمام ممالک کیلیے کارآمد ہے"۔
یہ بظاہر مختصر مگر جامع جملہ ہی دنیا کیلیے پاکستانی قوم کا عملی پیغام ہے کہ ہم اسرائیلی ناجائز ریاست کو قبول نہیں کرتے!! آیا ایسا نہیں؟؟

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn