جمعرات, 05 اگست 2021

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
53
مضامین
467
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
603101
comintour.net
stroidom-shop.ru
obystroy.com
лапароскопия паховой грыжи


سوال : امام رضا (علیہ السلام) نے امامت کے عہدہ کی تعریف میں کیا فرمایا ہے؟


جواب : امام رضا (علیہ السلام) نے عبدالعزیز بن مسلم سے فرمایا: امت کے درمیان کیا لوگ امامت کے مقام و منزلت کو جانتے ہیں جو امام کو انتخاب کرنے کا اختیار ان کو دیا جائے؟ یقینا امامت کی منزلت بہت بلند، اس کی شان بزرگ، اس کی جگہ اتنی بلند و بالا ہے کہ لوگ اپنی عقلوں کے ذریعہ اس تک نہیں پہنچ سکتے اور اپنی رائے اور اپنے انتخاب کے ذریعہ امام کو منصوب نہیں کرسکتے ۔
یقنا امامت کا مقام ایسا ہے کہ خداوندعالم نے نبوت اور خلت کے بعد تیسرے مرتبہ میں حضرت ابراہیم کو امام بنایا اور ان کو اس فضیلت سے مشرف کیا اور ان کے نام کو بلند کرتے ہوئے فرمایا : یقینا میں نے تمہیں لوگوں کا امام بنایا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خوش ہو کر خداوند عالم سے عرض کیا : اور میری اولاد سے بھی؟ تو خدا نے فرمایا: میرا عہدہ اور وعدہ ظالمین تک نہیں پہنچ سکتا ۔
پس کون ہے جو امام کو پہچان سکے اورکون ہے جس کے لئے امام کا انتخاب کرنا ممکن ہو؟
ھیھات ! ھیھات ! یہاں پرامام کے فضائل کو بیان کرنے سے عقلیں دنگ اور پریشان ہیں، آنکھوں میں نور نہیں، بزرگ چھوٹے ، حکماء حیران و پریشان، عقلمندوں کی فکریں چھوٹی اورخطیب بیکارہوگئے اور ا ن سب نے اپنے عجز و ناتوانی کا اعتراف کرلیا، کس طرح وہ امام کی حقیقت اور اس کے اوصاف کو بیان کرسکتے ہیں؟
ممکن نہیں ہے کس طرح اور کہا ں سے؟ جب کہ وہ صفت بیان کرنے والوں سے بلند اور آسمان میں ستاروں کی جگہ پر ہے، وہ کہاں اور انسان کاانتخاب کہاں؟وہ کہاں اورانسان کی عقلیں کہاں؟ وہ کہاں اور اس کے جیسا کہاں؟

_________________

۱۔ اصول کافی، ج۱، ص ۱۹۸۔ ۲۰۳۔
۲۔ غلی اصغر رضوانی، امام شناسی و پاسخ بہ شبھات(۱)، ص ۶۴۔

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn