منگل, 28 ستمبر 2021

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
55
مضامین
468
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
626505
comintour.net
stroidom-shop.ru
obystroy.com
лапароскопия паховой грыжи

???? *مــبــاهــلــه : اهل بیت علیهم السلام کی شان اور ناصبیوں کی بے بسی*


✍️ _تحریر: عباس حسینی_

 

♦️ مباہلے کا واقعہ تاریخ اسلام کا ایسا عظیم واقعہ ہے جس سے اسلام کی سربلندی اور ان افراد کی سچائی ہمیشہ کے لیے امر ہوگئی جنہیں رسول گرامی اسلامﷺ اپنے ساتھ نجران کے عیسائیوں سے مباہلے کے لیے  لے کر گئے تھے۔ لیکن چونکہ اس واقعے سے اہل بیت کرام علیھم السلام کی ایسی شان اور عظمت ثابت ہوتی ہے جو ان کے دشمنوں اور ناصبی افراد سے برداشت نہیں ہوتی، لہذا ہر کچھ عرصے بعد اس حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان بے چاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے بڑوں کے فضائل بیان کرنے سے تو رہے، لہذا  حسد میں آکر یہ طریقہ ڈھونڈ لیا کہ دوسروں کی شان گھٹا لو تاکہ اپنوں کے برابر لایا جاسکے۔ لیکن کیا کریں ان بے چاروں کی بے بسی کہہ لیں، خود ان کی معتبر ترین کتابوں میں اہل بیت کرام علیھم السلام کی اتنے فضائل بیان ہوئے ہیں کہ جن کا شمار بھی مشکل امر ہے۔ اگرچہ اصولی طور پر ہمارے لیے ہمارے عقائد کا ہماری اپنی کتابوں سے ثابت ہونا کافی ہے، لیکن  الحمد للہ مذہب شیعہ کے تمام اصول قرآن اور عقل کے علاوہ خود اہل سنت کی معتبر ترین کتابوں سے بھی  ثابت ہیں۔

 

⁉️ مباہلے کے حوالے سے عام طور پر جو دو اشکال کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں۔

1️⃣ مباہلہ یہودیوں کے ساتھ تھا، عیسائیوں کے ساتھ نہیں۔ شیعوں نے امام حسن اور امام حسین علیھما السلام کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے اسے عیسائیوں کے ساتھ جوڑ لیا۔ جبکہ جس وقت رسول اللہﷺ مدینے آئے اور مباہلہ ہوا اس وقت مدینے کے اطراف میں عیسائی تھے ہی نہیں۔

2️⃣ مباہلے کا واقعہ حسنین علیھما السلام کی پیدائش سے قبل کا واقعہ تھا۔ لہذا اس میں پنجتن کی شرکت مشکوک ہے۔ پھر یہ لوگ نتیجہ لیتے ہیں کہ اہل بیت میں صرف پنجتن پاک کا ہونا ثابت نہیں۔

 

❣️ *پہلا مطلب:* مباہلہ عیسائیوں کے ساتھ  تھا  اور ہجرت کے نویں سال یہ واقعہ پیش آیا۔

♦️ *ابن جریر طبری* اپنی تفسیر میں: جو بھی تجھ  سے اے محمدﷺ، مسیح عیسی بن مریم کے بارے مجادلہ کرے، پس کہہ دیجیے۔۔۔ جھگڑا اس بات کا تھا کہ عیسی خدا کا عبد ہے یا خدا کا بیٹا؟  "ما جائک من العلم" سے مراد بھی یہ ہے کہ جب ثابت ہوچکا کہ عیسی خدا کا عبد اور رسول ہے اس کے باوجود کوئی نہ مانے تب مباہلہ کرنا۔ اور ساتھ ہی رسول گرامی کی یہ حدیث بھی نقل کی ہے جس میں آپ نے فرمایا: اےکاش میرے اور نجران کے نصاری کے درمیان کوئی حجاب ہوتا اور میں انہیں نہ دیکھتا اور وہ مجھے نہ دیکھتے۔ (تفسیر طبری، ج3، ص 209، 210)

♦️ *آلوسی:* نجران کے نصاری کا وفد اگر تم سے عیسی کے بارے میں مجادلہ کرے۔۔ (روح المعانی، ج 2، ص 179)

♦️ *رشید رضا تفسیر المنار میں:* آیت مباہلہ کے حوالے سے متعدد طرق سے نقل ہوا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔۔ (تفسیر المنار، ج 11، ص 19)

♦️ *فخر رازی:* فمن حاجک فیه میں ضمیر حضرت عیسی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پچھلی آیتوں میں بیان ہوچکا کہ عیسائیوں کی یہ بات غلط ہے کہ حضرت عیسی خدا کے بیٹے ہیں۔ آدم جو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے خدا کے بیٹے نہیں ہو سکتے تو عیسی کیسے خدا کے بیٹے ہو سکتے ہیں؟ اس حقیقت کے باوجود کوئی تمہارے ساتھ ضد کرے تو اسے مباہلے کی دعوت دو۔ آیت کی تفسیر میں وجہ رابع بیان کرتے ہوئے پھر نصاری کے قول کے باطل ہونے پر فخر رازی نے دلیل پیش کی ہے۔ دوسرے مسئلے کے بیان میں نجران کے نصاری کا پورا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 248)

ان سب کے علاوہ آیت مباہلے سے ماقبل 6 آیات(آل عمران55 تا 60) کوئی غور سے پڑھ لیں وہ آیات کے سیاق کے تحت اس قطعی نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ مباہلے والی آیت بھی مسیحیوں سے ہی متعلق ہے۔ یہودیوں کا اس پورے صفحے پر کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے۔

 

*دوسرا مطلب:* مباہلہ میں رسول اللہﷺ، علی فاطمہ حسن اور حسین علیھم السلام کو لے کر گئے۔

♦️ *رشید رضا:* روایت آئی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان ہستیوں کو اپنے ساتھ مباہلے کے لیے چن لیا۔ میں دعا کروں گا، آپ لوگ آمین کہیں۔ مسلم اور ترمذی اور ان دونوں کے علاوہ دوسروں  کی سعد سے روایت ہے: جب یہ آیت نازل ہوئی رسول اللہﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو بلایا اور فرمایا: اے اللہ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔ رشید رضا اپنے استاد سے نقل کرتے ہیں: روایات اس بات پر متفق ہیں کہ نبی اکرم نے مباہلے کی خاطر علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو چن لیا۔"نساء" کا لفظ صرف فاطمہ کے لیے، انفسنا کا لفظ صرف امام علی کے اوپر اطلاق ہوا ہے۔(تفسیر المنار،ج 11، ص 20)

♦️ *آلوسی:* رسول اللہﷺ مباہلے کے لیے اپنے ساتھ علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو لے کر گئے۔(ج 2، ص 181)

♦️ *فخر رازی:* مباہلےمیں پنجتن پاک کی شرکت کے حوالے سے روایات نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: جان لو یہ روایت وہ ہے جس کی صحت پر اہل تفسیر اور حدیث کے درمیان گویا اتفاق ہے۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 247) فخر رازی اسی آیت کے ذیل میں چوتھا مسئلہ بیان کرتے ہوئے یوں لکھتا ہے: یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ حسن اور حسین علیھما السلام رسول اللہﷺ کے بیٹے تھے۔ جب بیٹوں کو بلانے کا کہا تو آپ حسن اور حسین علیھما السلام کو لے کر آئے، پس ضروری ہے کہ یہ دونوں آپ کے بیٹے ہوں۔ پھر اس مطلب پر قرآن سے شواہد لاتے ہیں۔(تفسیر کبیر، ج 8، ص 248) آخر میں آیت کے حوالے سے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے فخر رازی دوبارہ لکھتے ہیں: رسول اللہﷺ کا اپنے ساتھ اپنے بیٹوں (حسن اور حسین علیھما السلام) اور اپنی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیھا کو لانا اس بات کی نشانی تھی کہ آپ کو اپنی حقانیت پر مکمل یقین تھا اور دشمن کو اس کام سے روکنے میں زیادہ موثرتھا۔ (تفسیر کبیر، ج 8، ص 249)

تفسیر ابن کثیر میں بھی یہی بات لکھی گئی ہے کہ مباہلے کے لیے پیامبر اکرمﷺ پنجتن پاک کو لے کر گئے۔ (تفسیر القرآن العظیم (تفسیر ابن کثیر)، ج 2، ص 47)

 

???? اہل سنت کی معتبر ترین حدیث کی کتابوں سے بھی کچھ حوالے ملاحظہ فرمائیں:

????*صحیح مسلم:* ‏‏‏‏‏‏ولما نزلت هذه الآية:‏‏‏‏ فقل تعالوا ندع ابناءنا وابناءكم سورة آل عمران آية 61، ‏‏‏‏‏‏دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، ‏‏‏‏‏‏وفاطمة، ‏‏‏‏‏‏وحسنا، ‏‏‏‏‏‏وحسينا، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اللهم هؤلاء اهلي. (کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 6220)

جب یہ آیت اتری  :(نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُم) بلائیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو۔ یعنی آیت مباہلہ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو، پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔

 

???? *سنن ترمذی* کی روایت بھی ملاحظہ ہو(سنن ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ آل عمران،    حدیث 2999):

لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت"تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم"  نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں“۔ 

 

???? *مستدرک* کے مولف حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب معرفت علوم حدیث  جلد 1، ص 50 پر لکھا ہے:

وقد تواترت الأخبار في التفاسير عن عبد الله بن عباس وغيره أن رسول الله (صلی الله عليه وآله﴾ أخذ يوم المباهلة بيد علي وحسن وحسين وجعلوا فاطمة وراءهم ثم قال هؤلاء أبناءنا وأنفسنا ونساؤنا فهلموا أنفسكم وأبناءكم ونساءكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين.

(تفاسیر میں عبد اللہ بن عباس اور دیگر سے یہ روایات متواتر طور پر نقل ہوئی ہیں کہ رسول اللہﷺ مباہلے کے دن علی، حسین اور حسین علیھم السلام کے ہاتھ پکڑ کر تشریف لائے۔ سیدہ فاطمہ ان کے پیچھے پیچھے تھیں۔ پھر آپ نے فرمایا: یہ ہمارےبیٹے ، ہمارے نفس اور ہماری خواتین ہیں۔ تم بھی اپنے بیٹوں، نفسوں اور خواتین کو لے آو تاکہ ہم مباہلہ کریں اور جھوٹے پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

 

‼️ یہ فقط چند نمونے ہیں، ورنہ اگر تفصیل میں جانا چاہیں تو ان مطالب کے اثبات پر صرف اہل سنت کی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ چند جلد کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ قاضی نور اللہ شوشتری نے اپنی کتاب احقاق الحق میں اہل سنت کے 60 بزرگان کے نام لیے ہیں جنہوں نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ آیت مباہلہ کے مصداق اہل بیت کرام (رسول گرامی اسلام، امام علی، امام حسن، امام حسین اور سیدہ فاطمہ علیہم السلام)ہیں۔ 

انصاف اور عقل رکھنے والے لوگ خود فیصلہ کر لیں۔ ان تمام حقائق کے باوجود اہل بیت کرام علیهم السلام کے فضائل سے کوئی جلتا ہے اور مسلمہ فضائل کا انکار کرتا ہے اس کا کوئی علاج نہیں۔

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn