???? *ارشد حسین جعفری*

محرم الحرام، هجری قمری سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اس کا نام محرم الحرام اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس مہینے میں جنگ و جدل حرام ہے۔ لیکن یہ وہ مہینہ ہے جس میں سبط نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,  نورِ نظرِ حضرت علی علیہ السلام ، جگر گوشہء بتول ، سیّد الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے با وفاء رفقاء کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا گیا۔ دوسرے الفاظ میں کربلا کا عظیم واقعہ اور پُردرد سانحہ، جو تاریخِ بشریت میں ایک طرف تو حق اور حقانیت کی ترجمانی کرتا ہے جس کو آج مسلمان بالخصوص  پیروانِ مکتبِ ولایت و امامت روزِ عاشور کے طور پہ مناتے ہیں جبکہ اس سانحے کا دوسرا رخ تاریخ عالم و بشریت میں وہ سیاہ دھبّہ ہے جس کو مؤرخین نے نہ چاہتے ہوئے بھی تاریخ کے اوراق پہ ثبت کیا۔ اس سانحہ میں دو  شخصیات کی نہیں بلکہ دو اہم کرداروں کی جنگ  تھی۔ ایک کردار حسینی ہے، جو سراپا عدل ہے، جو خیر ہی خیر ہے، جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دین کی بقاء چاہتا ہے، جو اس کائنات کو برائی سے نجات دینا چاہتا ہے، جو توحید بچانے نکلا ہؤا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ امام عالی مقام نے صحرائے کربلا کے سینہ میں اپنے خون سے لا الہ الا اللہ لکھ کر یہ بتا دیا کہ دین کی اہمیت انسان کی جان سے بھی زیادہ ہے جبکہ دوسری جانب کردارِ یزیدی ہے جو سر تا پا ظلم و بربریت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے جو وحی الہی کو کھیل تماشا سمجھتا ہے ، جو برائی کو برائی نہیں سمجھتا ،جو اپنے محرم کی عصمت دری کرتا ہے ،جو سبط نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو شہید کرکے خوشی محسوس کرتا ہے۔ کربلا انہی دو کرداروں کا نام ہے ۔ لہذا یہ ضروری تھا کہ ہم اس مہینے کے وہ آداب بیان کریں جن کی رعایت تمام حریت پسندوں بالعموم عالمِ اسلام و بالخصوص مکتبِ ولایت و امامت پر ضروری اور لازم  ہے ۔ 

1 *سیاہ لباس پہننا*
 عام دنوں میں سیاہ لباس پہننا فقہی لحاظ سے مکروہ سمجھا جاتا ہے لیکن امام حسین علیہ السلام اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی عزاداری کے وقت ہمیں اس مسئلے میں استثناء حاصل ہیں لہذا بہتر ہے کہ ان ایّام میں سیاہ لباس زیبِ تن کیا جائے۔ پس آداب محرم الحرام میں سے ایک ادب، سیاہ لباس زیب تن کرنا ہے کیونکہ سیاہ لباس پہننا غم واندوہ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
2 *رونا اور رلانا*
حدیثِ قدسی میں خداوند متعال  نےحضرت موسی علیہ السلام سے فرمایا کہ ؎ اے موسی! میرے بندوں میں سے جو بھی شہادت امام حسین فرزند مصطفی پر گریہ کرتا ہے یا رونے کی شکل بناتا ہے اور اس عظیم مصیبت پر تعزیت پیش کرتا ہے تو وہ ہمیشہ بہشت میں  رہے گا۔(1)
3 *مجالس و عزاداری برپا کرنا*
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے مجالس برپا کرنے کے عمل کو پسند کرتا ہوں لہذا اپنی مجالس میں ہمارے امر کو زندہ رکھو۔ خداوند متعال رحمت نازل کرے اس شخص پر جو ہمارے امر کو زندہ رکھتا ہے۔(2)
4 *لذتوں سے پرہیز کرنا*
محرم الحرام کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ انسان دنیاوی لذات سے پرہیز کرے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ عاشور کے دن ان کاموں کو ترک کردیں جو لذت بخش ہیں، آداب سوگواری کو برپا کریں اور زوال تک کھانے پینے سے پرہیز کریں، اس کے بعد اتنا کھانا تناول کریں جو عام طور پر سوگواران تناول کرتے ہیں۔(3)
5 *مجالس میں با وضو جانا*
اس مہینے کے آداب میں سے ایک اہم ادب مجالس سید الشہداء میں با وضو شرکت کرنا ہے ۔
6 *ماتم کرنا*
محرم الحرام کا مہینہ اہل بیت علیہم السلام کے لۓ غم اور مصیبت کا مہینہ ہے لہذا شیعیان حضرت علی علیہ السلام پر لازم ہے کہ وہ بھی اس مہینہ میں شہداء کربلا  اور سید الشہداء کی شہادت کے اس عظیم مصیبت پر غمگین ہوں ۔ چونکہ روایت میں نقل ہؤا ہے کہ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب محرم کا مہینہ آتا تھا تو کوئی بھی میرے پدر بزگوار کو ہنستے نہیں دیکھتا تھا اور ایسے ہی امام موسی کاظم علیہ السلام ہمیشہ غمگین رہتے تھے تا روز عاشور اور روز عاشور امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر گریہ کرتے اور فرماتے کہ آج کے روز (عاشور) امام حسین علیہ السلام کو شہید کردیا گیا۔(4)
7 *عاشور کے دن تعطیل*
مسلمانوں کو بالخصوص مؤمنین کو اس عظیم مصیبت کے دن اپنے کام کاج پر نہیں جانا چاہیے کیونکہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص عاشور کے دن تعطیل کرتا ہے یعنی کسبِ مال اور مزدوری پہ نہیں جاتا ہے تو خداوند متعال اس شخص کی دنیاوی واخروی حاجات کو پوری کرتا ہے اور جو عاشور کے دن غم واندو میں گزارتا ہے خداوند متعال کل روز قیامت اس کو خوشحال کرے گا۔(5)
8 *اخلاص کی رعایت*
 آدابِ محرم الحرام میں سے ایک ادب جس کی رعایت ضروری ہے اخلاص اور خالص نیت کے ساتھ مجالس میں شرکت کرنا ہے۔ لہذا مجالس و عزاداری کو فقط ایک رسم و عادت سمجھ کر انجام نہیں دینا چاہیے بلکہ خلوص نیت اور خداوند متعال کی رضا کے حصول کے لۓ انجام دینا چاہئے اور ریا و لوگوں کی خوشنودی سے پرہیز مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
9 *تسلیت دینا*
کسی کو اس کی مصیبت پر تعزیت پیش کرنا مستحب عمل ہے ۔ یہ سنّت، اہلِ تشیّع میں رائج ہے اور مؤمنین ایک دوسرے کی مصیبت میں آپس میں ایک دوسرے کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہمارے شیعہ امام حسین علیہ السلام کی اس عظیم مصیبت پر اس جملے کی تکرار سے ایک دوسرے کو تعزیت پیش کرتے ہیں؛ وہ جملہ یہ ہے”اَعظَمَ اللهُ اُجُورَنا بمُصابنا بالحُسَین (علیه السلام ) وَ جَعَلَنا وَ اِیاکُم مِنَ الطالبینَ بثاره مع وَلیهِ الاِمام المَهدی مِن الِ مُحَمَدٍ علیهمُ السَلامُ.» 
ترجمہ: خداوند متعال امام حسین علیہ السلام پر سوگواری و عزاداری کی وجہ سے ہمارے اجر میں اضافہ کرے اور ہمیں امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی ہمراہی میں امام کے خون کا بدلہ لینے والوں میں سے قرار دے۔(6)
10 *زیارت کرنا و پڑھنا*
علقمہ بن خضرمی امام باقر علیہ السلام سے درخواست کرتے ہیں کہ مجھے ایک دعا تعلیم فرما دیں جو میں دور اور نزدیک سے پڑھ سکوں تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اے علقمہ ! جب بھی دعا پڑھنا چاہو تو اٹھ کر دو رکعت نماز بجا لاؤ اور اس کے بعد زیارت عاشورا پڑھ لیا کرو۔ پس اگر زیارت پڑھ لو گے تو گویا تم نے ان کلمات و الفاظ سے دعا کی ہے جو ملائکہ ، امام حسین کے زائر کے لیے دعا کرتے ہوئے استعمال کرتے ہیں اور خداوند متعال تمہارے لیے سو ہزار ہزار (دس کروڑ)درجات لکھے گا یا بلند کرے گا ، اور تم اس شخص کے مانند ہو گے جو امام حسین کے ہمراہ شہادت پا چکا ہو ، تا کہ امام حسین کے اصحاب و انصار کے درجات میں شریک ہو جائیں اور تم صرف اور صرف ان شہیدوں کے زمرے میں قرار پاؤ گے اور انہی شہیدوں کے عنوان سے پہچانے جاؤ گے جو امام حسین کے ہمراہ شہید ہوئے ہیں ، تمہارے لیے ہر نبی اور ہر رسول کی زیارت کا ثواب لکھا جائے گا اور ان تمام لوگوں کا ثواب آپ کے لیے لکھا جائے گا جنہوں نے امام حسین کی شہادت کے دن سے اب تک آپ کی زیارت کی ہے۔-(7)
منابع۔
1 : مستدرک سفینة النجاة ، ج 7 ، ص 235
2 : وسائل الشيعة ج 10 ، ص 235
3:  ميزان الحكمة ج 8  ص3782
4:  امالى شيخ صدوق ج 2 ، ص 128
5: امالى شيخ صدوق ص129
6 : سفينة البحار ج 2، ص 188
7 : مصباح المتهجد ص714