جمعرات, 29 ستمبر 2022

تازه‌ ترین عناوین

آمار سایت

مہمان
1790
مضامین
472
ویب روابط
6
مضامین منظر کے معائنے
734623


حضرت زینب سلام اللہ علیہا امام علی(علیہ السلام) اور حضرت زہرا(سلام اللہ علیہا) کی بیٹی ہیں جو سنہ 5 یا 6 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ امام حسین(علیہ السلام) کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں اور 10 محرم الحرام سنہ 61 ہجری کو جنگ کے خاتمے کے بعد اہل بیت(علیھم السلام) کے ایک گروہ کے ساتھ لشکر یزید کے ہاتھوں اسیر ہوئیں اور کوفہ اور شام لے جائی گئیں۔ انھوں نے اسیری کے دوران، دیگر اسیروں کی حفاظت و حمایت کے ساتھ ساتھ، اپنے غضبناک خطبوں کے توسط سے بےخبر عوام کو حقائق سے آگاہ کیا۔ حضرت زینب(سلام اللہ علیہا) نے اپنی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے تحریک عاشورا کی بقاء کے اسباب فراہم کئے۔ تاریخی روایات کے مطابق سیدہ زینب(سلام اللہ علیہا) سنہ 63 ہجری کو دنیا سے رخصت ہوئیں اور دمشق میں دفن ہوئیں۔

آپ کی ولادت:
حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے معتبر ترین روایت کے مطابق آپ کی ولادت ۵ جمادی الاول سن ۶ ہجری کو مدینہ میں ہوئی۔

رسول خدا ص کا گریہ کرنا:
جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کے موقع پر علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر تشریف لائے تو آپ نے نومولود بچی کو اپنی آغوش میں لیا۔ اس کو پیار کیا اور سینے سے لگایا۔ اس دوران علی علیہ السلام  و فاطمہ سلام اللہ علیہا نے دیکھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونچی آواز سے گریہ کر رہے ہیں۔ جناب فاطمہ س نے آپ ص سے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ ص نے فرمایا: "بیٹی، میری اور تمہاری وفات کے بعد اس پر بہت زیادہ مصیبتیں آئیں گی"۔

والدین

حضرت زینب(س) کے والد گرامی امیرالمؤمنین علی(علیہ السلام) اور آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ) ہیں۔

اسم مبارک

روایات میں ملتا ہے کہ جب حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت مبارک ہوئی تو پیغمبر اکرم ص مدینہ میں نہیں تھے۔ لہذا حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے حضرت امام علی علیہ السلام کو کہا کہ آپ اس بچی کیلئے کوئی نام انتخاب کریں۔ آپ نے جواب دیا کہ رسول خدا ص کے واپس آنے کا انتظار کر لیا جائے۔ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس آئے تو حضرت علی علیہ السلام نے انہیں یہ خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اس بچی کا نام آپ انتخاب کریں۔ آپ (ص) نے فرمایا کہ اس کا نام خدا انتخاب کرے گا۔ اسی وقت جبرئیل نازل ہوئے اور خدا کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا کہ "خدا نے اس بچی کا نام "زینب" رکھا ہے۔
القاب

ثانیِ زہرا، عالمہ غیر معلمہ، نائبۃ الزھراء، عقیلہ بنی ہاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغری، محدثہ، زاہدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء۔
کنیت

حضرت زینب(ع) کی کنیتوں میں ام کلثوم اور ام المصائب معروف و مشہور ہیں

حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی شادی:
آپ کی شادی ۱۷ ہجری میں اپنے چچا کے بیٹے عبداللہ ابن جعفر ابن ابیطالب سے ہوئی۔ عبداللہ حضرت جعفر طیار کے فرزند تھے اور بنی ہاشم کے کمالات سے آراستہ تھے۔ آپ کے چار فرزند تھے جنکے نام محمد، عون، جعفر اور ام کلثوم ہیں۔

امام علی (ع)، قرآن کی نظرمیں

حضرت علی(ع) کے متعلق قرآن کریم میں متعدد آیات نا زل ھو ئی ھیں ، قرآن نے رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعد آپ(ع) کواسلام کی سب سے بڑی شخصیت کے عنوان سے پیش کیا ھے ،اللہ کی نگاہ میں آپ(ع) کی بڑی فضیلت اوربہت اھمیت ھے ۔متعدد منابع و مصادر کے مطابق آپ(ع) کی شان میں تین سو آیات نازل ھو ئی ھیں[1] جو آپ(ع) کے فضل و ایمان کی محکم دلیل ھے۔

یہ بات شایان ذکر ھے کہ کسی بھی اسلا می شخصیت کے سلسلہ میں اتنی آیات نازل نھیں  ھوئیں آپ کی شان میں نازل ھونے والی آیات کی مندرجہ ذیل قسمیں ھیں :

۱۔وہ آیات جو خاص طور سے آپ کی شان میں نازل ھوئی ھیں ۔

۲۔وہ آیات جو آپ(ع) اور آپ(ع) کے اھل بیت(ع)کی شان میں نازل ھو ئی ھیں ۔

۳۔وہ آیات جو آپ(ع) اور نیک صحابہ کی شان میں نازل ھو ئی ھیں ۔

 ۴۔وہ آیات جو آپ(ع) کی شان اور آپ(ع) کے دشمنوں کی مذمت میں نازل ھو ئی ھیں ۔

ھم ذیل میں ان میں سے کچھ آیات نقل کر رھے ھیں :
آپ(ع) کی شان میں نازل ھونے والی آیات

آپ(ع)کی فضیلت اورعظیم الشان منزلت کے بارے میں جوآیات نازل ھوئی ھیں ھم ان میں سے ذیل میں بعض آیات پیش کرتے ھیں :

۱۔اللہ کا ارشاد ھے :”انماانت منذرولکل قوم ھاد“۔[2]

”آپ کہہ دیجئے کہ میں صرف ڈرانے والا ھوں اور ھر قوم کے لئے ایک ھادی اور رھبر ھے “۔

طبری نے ابن عباس سے نقل کیا ھے کہ جب یہ آیت نازل ھو ئی تو نبی نے اپنا دست مبارک اپنے سینہ پر رکھ کر فرمایا:”اناالمنذرولکل قوم ھاد “،اور آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے علی(ع) کے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ھوئے فرمایا:”انت الھادي بک یھتدي المھتدون بعدي“۔[3]

”آپ ھا دی ھیں اور میرے بعد ھدایت پانے والے تجھ سے ھدایت پا ئیں گے “۔

۲۔خداوند عالم کا فرمان ھے :”وتعیھااذن واعیة“۔[4]

”تاکہ اسے تمھارے لئے نصیحت بنائیںاور محفوظ رکھنے والے کان سُن لیں“۔


سوال: اہل سنت کی کتابوں میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ) سے نزدیک ترین فرد کے عنوان سے کس شخص کو شناخت کرایا گیا ہے؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: اہل سنت کے یہاں بعض موجود احادیث سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ) سے قریب ترین شخص کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔
۱۔انس بن مالک کا بیان ہے کہ میں ایک روز رسول اسلام (ص) کی خدمت میں ایک بھنا ہوا پرندہ لے کر حاضر ہوا، رسول اسلام (ص)نے فرمایا بسم اللہ کہہ کر اس میں سے کچھ تناول فرمایا اس کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور عرض کی بار الہا ! تو اپنے اور میرے نزدیک بہترین شخص کو میرے پاس بھیج دے ، اسی اثناء میں اچانک علی( علیہ السلام ) تشریف لائے اور دروازہ پر دستک دی میں نے دروازہ پر جا کر پوچھا کہ تم کون ہو تو انھوں نے جواب دیا میں علی(علیہ السلام) ہوں ، میں نے ان سے کہا کہ پیغمبر اسلام (ص)اس وقت مشغول ہیں ، انس بیان کرتا ہے کہ رسول اسلام (ص)نے دوسرا لقمہ لیا اور وہی دعا کی، پھر دوبارہ دق الباب ہوا میں نے پوچھا کون ہے کہا میں علی ہوں ، میں نے دوبارہ کہدیا کہ رسول اسلام (ص)کام میں مشغول ہیں اس کے بعد رسول اسلام پھر ایک اور لقمہ تناول فرمایا اور وہی دعا کی، اسی وقت بار دیگر دق الباب ہوا میں نے پوچھا کون ہے ۔انہوں نے دوبارہ بلند آواز سے فرمایا میں علی ہوں اسی اثناء میں پیغمبر اسلام (ص)نے فرمایا اے انس دروازہ کھولو ، انس بیان کرتے ہیں کہ علی (علیہ السلام) گھر میں داخل ہوگئے تو رسول اسلام (ص)نے میری اور علی (علیہ السلام )کی طرف نظریں اٹھاکے دیکھا اور علی (علیہ السلام )سے مخاطب ہو کر فرمایا میں حمد خاص کرتا ہوں اپنے پروردگار کی جو میں نے اس سے چاہا تھا اسنے مجھے دیدیا ۔ میں ہر لقمہ پر خدا سے دعا کررہا تھا کہ اے پروردگاراپنے اور میرے نزدیک اپنی مخلوق میں سے بہترین اورمحبوب ترین شخص کو میرے پاس بھیجدے اور ، تم وہی شخص ہو جس کو میں بلانا چاہتا تھا (۱)
اس حدیث شریف کواحمد بن حنبل نے اپنی کتاب فضائل الصحابہ میں (۲) ترمذی نے سنن ترمذی میں (۳) طبرانی نے المعجم الکبیر میں ّ(۴) حاکم نے اپنی کتاب المستد رک الصحیحین میں (۵) اور اسی طرح دوسرے لوگوں نے نقل کیاہے ۔
اس حدیث کا سلسلہ سنداتنا معتبر ہے کہ اہلسنت کے بعض علماء نے صراحت سے اس حدیث کی سند کو صحیح بتایا ہے جیسا کہ حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب (مستدرک ) اور ذھبی نے اپنی کتاب (تذکر ة الحفاظ) میں اس حدیث کے صحیح ہو نے کی تصریح کی ہے ۔
یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ علی (علیہ السلام) اللہ تعالی کے نزدیک محبوب ترین مخلوق ہیں اور علی (علیہ السلام ) کی یہ برتری اور فضیلت عام ہے جس میں انبیاء (علیہم السلام)کو بھی شامل ہے خصوصاً بعض روایات میں اس طرح سے وارد ہوا ہے (اللھمّ اتینی باحبّ خلقک الیک من الاولین و لآخرین )(۶)اے پروردگار اولین اورآخرین مخلوق میں جو تیرا محبوب ترین بندہ ہو اس کو میرے پاس بھیجدے ۔
۲۔سبط ابن جوزی نے اپنی کتاب تذکرة الخواص میں صحیح سند کے ساتھ سلمان سے نقل کیا ہے کہ رسول خد ا (ص) نے فرمایا :
کنتُ انا وَ علی بن ابی طالب نوراً بین یداللہ تعالی قبل ان یخلق آدم باربعة الآف عاماً فلما خلق آدم قسّم ذٰلک النور فجزءٌ انا و جزءٌ علی (۷)

 

حال و هوای حرم حضرت «فاطمه معصومه سلام الله علیها» در شب وفات ایشان

حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہاکی مبارک نسل سے فاطمہ نامی ایک پر برکت بیٹی ہیں جو معصومہ اور کریمۂ اہل بیت کے القاب سے معروف ہیں ۔

والد بزرگوارحضرت امام موسی کاظم ؑاور والدہ گرامی روایات کی روسے وہی حضرت امام رضاؑکی والدہ گرامی ہیں۔ مورّخین نے حضرت معصومہ کی ولادت

با سعادت کی صحیح تاریخ یکم ذیقدہ الحرام ۱۷۳ھ ق قمری (مدینہ منوّرہ) لکھی ہے اس بزرگوار خاتون نے ایسے ماحول میں پرورش پائی جس میں تمام اخلاقی فضائل موجودتھے۔ عصمت وعفت اور علم وحکمت اس خاندان کی نمایاں صفات شمار ہوتی ہیں۔حضرت معصومہ (ع) کی اخلاقی اور علمی خصوصیات کی بنا پر علمائے دین اس امر کے معتقد ہیں کہ حضرت امام موسی کاظم ؑ کی اولاد میں حضرت امام رضاؑکے بعد کوئی ایک بھی حضرت معصومہ کا ہم مرتبہ نہیں ہے۔ حضرت معصومہ (ع) اس قدر متقی و پرہیزکار تھیں کہ حضرت ؑ کی زیارت میں نقل ہوا ہے: ‘‘السلام علیک ایتھاالطاھرۃالحمیدۃ الکبری الرشیدۃ التّقیّۃ النّقیّۃ المرضیّۃ ’’ اس مقدس بی بی کےمزید فضائل میں شفاعت کرنے کا رتبہ و مقام ہے ۔لہٰذا روایات اور دینی آثار میں حضرتؑ کےشفیعہ ہونے کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ حضرت امام صادقؑ فرماتے ہیں:حضرت(فاطمہ معصومہؑ)کی شفاعت کی برکت سے میرے تمام شیعہ جنّت میں داخل ہوجائیں گے۔حضرت معصومہ ؑ اپنے مہربان بھائی کی پناہ و سرپرستی میں زندگی بسر کر رہی تھیں، حضرت ؑکی مدینہ سےہجرت اور خراسان میں مقیم ہو جانے کے بعد حضرت کی ہمشیرہ گرامی اپنے مہربان بھائی کے دیدار وزیارت کے لیے مدینہ سے مروکی راہی ہوگئیں لیکن راستے میں ہی قم میں داخل ہونے کے بعد ۱۷ دن بیمار رہنے کےبعد جہان جاودانی کو سفر کر گئیں۔ حضرت معصومہؑ کے پیکراقدس کو تشییع کرنے کے بعدنہایت عزت و احترام کے ساتھ بابلان میں دفن کردیاگیا۔

امام حسن عسکری (ع) نے سن ۲۳۲ھ،ق میں مدینہ میں ولادت پائی آپؑ اپنے بابا کی طرح عباسی خلفاء کے حکم کے مطابق سامراء کے عسکر نامی محلہ میں

 

(ع) نے خفیہ طور پر سیاسی سرگرمیاں انجام دیں نمونہ کے طور پر امام (ع) کے قریبی چاہنے والے عثمان بن سعید تیل بیچنے کے بہانے سرگرمی کیا کرتے اور امامؑ کے شیعہ تمام رقومات شرعی ان کے ذریعہ امامؑ تک پہنچاتے۔

 

امام حسن عسکری (ع) کا ایک موقف شیعوں کی مالی امداد اور حمایت میں پوشیدہ ہے بعض اوقات ایسا ہوتا کہ آپؑ کے چاہنے والوں میں جب کوئی تنگدستی کی شکایت کرتا تو آپؑ اس کی مشکلات کو دور کرتے امامؑ کا یہ قدم رکاوٹ بنتا تھا کہ وہ مالی مشکلات کی وجہ سے کہیں عباسی حکومت کا طرفدار نہ بن جائے اور اس کے سامنے ہاتھ پھیلانا شروع کر دے۔ ابو ہاشم جعفری کہتے ہیں: میں مالی حالات کا شکار ہو گیا میں سوچ رہا تھا کہ اپنی مالی مشکلات کا تذکرہ امام (ع) کو خط لکھ کر ارسال کروں لیکن مجھے شرم  محسوس ہو رہی تھی لیکن جب میں اپنے گھر پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ امامؑ نے سو درہم بھیجے ہیں اور ایک خط میں انہوں نے تحریر کیا کہ جب بھی تمہیں ضرورت محسوس ہو تو شرم نہ کرنا ہم سے مطالبہ کرنا اور خدا کی مدد سے تم اپنی مراد حاصل کر لو گے۔ امام حسن عسکری (ع) کی منجملہ سیاسی سرگرمیوں میں سے ایک یہ تھی کہ آپؑ نے شدید دباؤ اور سختیوں کے باوجود اپنے چاہنے والوں کو سیاسی تقویت پہنچائی کیونکہ شیعوں کے بڑی بڑی شخصیات سیاسی دباؤ کا شکار تھیں لہذا امام (ع) انہیں صبر و تحمل کی تلقین کرتے ہوئے سیاسی اور اجتماعی ذمہ داریوں کی جانب متوجہ کیا کرتے۔ امام (ع) نے علی بن حسین بن بابویہ کو ایک خط میں لکھا: ہمارے شیعہ میرے بیٹے کے ظہور تک مسلسل غم و اندوہ کا شکار رہیں گے میرا بیٹا وہ ہے جس کے بارے میں رسول خداؐ نے بشارت دی کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہے۔ امام حسن عسکری (ع) کی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ دیگر ائمہؑ کی نسبت خدا کی جانب سے عطا کردہ علمی صلاحیتوں کو زیادہ واضح کرتے کیونکہ آپؑ کی زندگی کے حالات کافی ناسازگار تھے بالخصوص جب امام ھادی علیہ السلام کو سامراء منتقل کیا گیا تو آپؑ شدید کنٹرول میں تھے جس کے نتیجہ میں بہت سے شیعوں کے دلوں میں بھی شک و تردید پیدا ہو گیا لہذا امام (ع) ان کی ہدایت اور گمراہوں سے ان کی نجات کے لئے بعض مزید علمی صلاحیتوں اور غیبی امداد کا سہارا لیتے۔ امام (ع) کی کاوشوں کا ایک نمونہ یہ تھا کہ آپؑ کا زمانہ ایسا تھا جس میں ہر طرف سے مختلف قسم کی افکار اسلامی معاشرہ کو دھمکا رہی تھیں لیکن آپؑ نے اپنے آباء و اجداد کی طرح ایک لمحہ بھی غفلت نہیں برتی اور اسلام مخالف تمام قسم کے منحرفانہ مکاتب فکر منجملہ صوفیوں، غالیوں، واقفیوں وغیرہ کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کی سازشوں پر پانی پھیر دیا۔ تاریخ کے اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسن عسکری (ع) کا زمانہ عباسی حکومت کا بدترین دور شمار ہوتا ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ حکام زمانہ کی عیش و عشرت کی وجہ سے بہت سی اسلامی اقدار کا خاتمہ ہو چکا تھا لہذا اگر امام (ع) کی مسلسل تلاش و کوشش نہ ہوتی تو عباسی حکومت کی سیاست کی وجہ سے اسلام کا خاتمہ ہو جاتا اگرچہ امام (ع) پر عباسی حکومت کا مکمل کنٹرول تھا لیکن اس کے باوجود بہت سے اسلامی مقامات پر امام (ع) کے اپنے نمائندے پائے جاتے تھے اور اس کے نتیجہ میں آپؑ مسلمانوں کے حالات سے باخبر رہتے تھے بہت سے شہروں میں مساجد اور دینی مراکز امام (ع) کے حکم سے تعمیر کئے گئے، منجملہ شہر قم میں مسجد امام حسن عسکری (ع)۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام (ع) اپنی امامت اور اپنے نمائندوں کے ذریعہ لوگوں کی تمام قسم کی مشکلات اور کمیوں کو دور کرنے کے درپے تھے۔ امام حسن عسکری (ع) کے دور میں سیاسی دباؤ اور محدودیت کی دو وجہیں تھیں ایک وجہ عراق میں شیعوں کے لئے حالات سازگار ہو رہے تھے اور وہ عباسی خلفاء کی حکومت کو جائز نہیں سمجھتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ امامت الہی امام علی (ع) کے بیٹوں میں باقی ہے اور دوسری جانب سے اس زمانہ میں صرف امام عسکری (ع) ہی تھے جو اس خاندان کی ممتاز شخصیت تھی، عباسی حکومت کو معلوم تھا کہ مھدی موعود (عج) امام حسن عسکری (ع) کی نسل سے ہوں گے لہذا ان کی کوشش تھی امام (ع) کے بیٹے کو قتل کردیں لہذا سخت دباؤ اور سختیوں میں امام (ع) پر مکمل کنٹرول رکھے ہوئے تھی۔

 

منبع: hawzah.net