چھاپیے
مشاہدات: 1992

جب انسان کو نیند آرھی ھو اور اس وقت بھی جب اس نے پیشاب اور پاخانہ روک رکھا ھو نماز پڑھنا مکروہ ھے ان کے علاوہ دوسرے مکروھات بھی مفصل کتابوں میں بیان کئے گئے ھیں ۔



وہ صورتیں جن میں واجب نمازیں توڑی جا سکتی ھیں 

اختیاری حالت میں واجب نماز کا توڑنا احتیاط واجب کی بنا پر حرام ھے لیکن مال کی حفاظت اور مالی یا جسمانی ضرر سے بچنے کے لئے نماز توڑنے میں کوئی حرج نھیں بلکہ ظاھراً وہ تمام اھم دینی اور دنیاوی کا م جو نمازی کو پیش آئیں ان کے لئے نماز توڑنے میں کوئی حرج نھیں ۔

*    اگر انسان اپنی جان کی حفاظت یا کسی ایسے شخص کی جان کی حفاظت جس کی جان کی حفاظت واجب ھو یاایسے مال کی حفاظت جس کی نگھداشت واجب ھو اور وہ نماز توڑے بغیر ممکن نہ ھو تو انسان کو چاھئے کہ نماز توڑ دے ۔

*    جس شخص کے لئے نماز کا توڑنا ضروری ھو اگر وہ نماز ختم کرے تو وہ گناھگار ھو گا لیکن اس کی نماز صحیح ھے اگر چہ احتیاط مستحب یہ ھے کہ دوبارہ نماز پڑھے ۔

http://www.al-hadj.com

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn