چھاپیے
مشاہدات: 1774

مسجد کی زمین ، اندرونی اور بیرونی چھت اور اندرونی دیوار کو نجس کرنا حرام ھے اور جس شخص کو پتہ چلے کہ ان میں سے کوئی مقام نجس ھو گیا ھے تو ضروری ھے کہ اس کی نجاست کو فوراً دور کرے اور احتیاط مستحب یہ ھے کہ مسجد کی دیوار کے بیرونی حصے کو بھی نجس نہ کیا جائے اور اگر وہ نجس ھو جائے تو نجاست کا ھٹانا لازم نھیں لیکن اگر دیوار کا بیرونی حصہ نجس کرنا مسجد کی بے حرمتی کا سبب ھو تو قطعاً حرام ھے اور اس قدر نجاست کا زائل کرنا کہ جس سے بے حرمتی ختم ھو جائے ضروری ھے ۔

*    اگرکوئی شخص مسجد کو پاک کرنے پر قادر نہ ھو یا اسے ایسی مدد کی ضرورت ھو جو دستیاب نہ ھو تو مسجد کا پاک کرنا اس پر واجب نھیں لیکن یہ سمجھتا ھو کہ اگر دوسرے کو اطلاع دے گا تو یہ کام ھو جائے گا تو ضروری ھے کہ اسے اطلاع دے ۔

*    ائمہ اھل بیت علیھم السلام میں سے کسی امام کا حرم نجس کرنا حرام ھے ۔ اگر ان کے حرموں میں سے کوئی حرم نجس ھو جائے اور اس کا نجس رھنا اس کی بے حرمتی کا سبب ھو تو اس کا پاک کرنا واجب ھے بلکہ احتیاط مستحب یہ ھے کہ خواہ بے حرمتی نہ ھوتی ھو تب بھی پاک کیا جائے ۔

*    اگر مسجد کی چٹائی نجس ھو جائے تو ضروری ھے کہ اسے دھو کر پاک کریں اور اگر چٹائی کا نجس ھونا مسجد کی بے حرمتی شمار ھوتی ھو اور وہ دھونے سے خراب ھوتی ھو اور نجس حصے کا کا ٹ دینا بھتر ھو تو ضروری ھے کہ اسے کاٹ دیا جائے ۔

*    احتیاط واجب یہ ھے کہ مسجد کی سونے کے ذریعے زینت نہ کریں اور احتیاط مستحب یہ کہ مسجد کو انسان اور حیوان کی طرح جانداروں کی تصویروں سے بھی نہ سجایا جائے ۔

*    اگر مسجد ٹوٹ پھوٹ بھی جائے تب بھی نہ تو اسے بیچا جا سکتا ھے اور نہ ملکیت اور سڑک میں شامل کیا جا سکتا ھے ۔

*    مسجد کے دروازوں ، کھڑکیوں اور دوسری چیزوں کا بیچنا حرام ھے اور اگر مسجد ٹوٹ پھوٹ جائے تب بھی ضروری ھے کہ ان چیزوں کو اسی مسجد کے مرمت کے لئے استعمال کیا جائے اور اگر اس مسجد کے کام کی نہ رھی ھوں تو ضروری ھے کہ کسی دوسری مسجد کے کام میں لایا جائے اور اگر دوسری مسجدوں کے کام کی بھی نہ رھی ھوں تو انھیں بیچا جا سکتا ھے اور جو رقم حاصل ھو وہ بصورت امکان اسی مسجد کی مرمت پر ورنہ کسی دوسری مسجد کی مرمت پر خرچ کی جائے ۔

*    مسجد کا تعمیر کرنا اور ایسی مسجد کی مرمت کرنا جو مخدوش ھو مستحب ھے اور اگر مسجد اس قدر مخدوش ھو کہ اس کی مرمت ممکن نہ ھو تو اسے گرا کر دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ھے بلکہ اگر مسجد ٹوٹی پھوٹی نہ ھو تب بھی اسے لوگوں کی ضرورت کی خاطر گرا کر وسیع کیا جا سکتا ھے ۔

*    مسجد کو صاف ستھرا رکھنا اور اس میں چراغ جلانا مستحب ھے اور اگر کوئی شخص مسجد میں جانا چاھے تو مستحب ھے کہ خوشبو لگائے ،پاکیزہ لباس پھنے اور اپنے جوتے کے تلوؤں کے بارے میں تحقیق کرے کہ کھیں نجاست تو نھیں لگی ھوئی نیز یہ کہ مسجد میں داخل ھوتے وقت پھلے دایاں پاؤں اور باھر نکلتے وقت پھلے بایاں پاؤں رکھے اور اسی طرح مستحب ھے کہ سب لوگوں سے پھلے مسجد میں آئے اور سب سے بعد میں نکلے ۔

*    جب کوئی شخص مسجد میں داخل ھو تو مستحب ھے کہ دو رکعت نماز تحیّت و احترام مسجد کی نیت سے پڑھے اور اگر واجب نماز یا کوئی اور مستحب نماز پڑھے تب بھی کافی ھے ۔

*    اگر انسان مجبور نہ ھو تو مسجد میں سونا ، دنیاوی کاموں کے بارے میں گفتگو کرنا اور کوئی کام کاج کرنا اور ایسے اشعار جن میں نصیحت اور کام کی کوئی بات نہ ھو مکروہ ھے نیز مسجد میں تھوکنا ، ناک کی آلائش پھینکنا اور بلغم تھوکنا بھی مکروہ ھے بلکہ بعض صورتوں میں حرام ھے اور اس کے علاوہ گمشدہ ( شخص یا چیز ) کو تلاش کرتے ھوئے آواز بلند کرنا بھی مکروہ ھے ۔ لیکن اذان کے لئے آواز بلند کرنے کی ممانعت نھیں ھے ۔

*    دیوانے کو مسجد میں داخل ھونے دینا مکروہ ھے اور اسی طرح اس بچے کو بھی داخل ھونے دینا مکروہ ھے جو نمازیوں کے لئے باعث زحمت ھو یا احتمال ھو کہ وہ مسجد کو نجس کر دے گا ۔ ان دو صورتوں کے علاوہ بچے کو مسجد میں آنے دینے میں کوئی حرج نھیں ۔ اس شخص کا مسجد میں جانا بھی مکروہ ھے جس نے پیاز ، لھسن یا ان سے مشابہ کوئی چیز کھائی ھو کہ جس کی بُو لوگوں کو ناگوار گزرتی ھو ۔

http://www.al-hadj.com

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn